حضور نبی پاک، صاحب لولاکﷺ کے والدین کریمین کے شان ایمان کے بارے میں اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کا رسالہ ’’شمول الاسلام لاصول الکرام‘‘ طالب عرفان کو حقائق سے آشنا کردیتا ہے۔ جس میں آپ نے متعدد دلائل سے نبی کریمﷺ کے والدین کریمین کے ایمان کو ثابت کیا ہے۔ زیر نظر مضمون اس کے ضروری حصے کی تلخیص ہے۔
پہلی دلیل
(1) قرآن مجید کی رو سے یہ طے ہے کہ ایک مسلمان، کافر و مشرک سے بہرحال بہتر ہے اگرچہ غلام ہی کیوں نہ ہو۔
(2) صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ ہر قرن وطبقے میں روئے زمیں پر کم از کم سات مسلمان ضرور رہے ہیں۔
(3) صحیح بخاری اور دیگر کتب احادیث کی روایات سے ثابت ہے کہ حضور اقدسﷺ جن سے پیدا ہوئے، وہ لوگ ہر زمانے میں خیار قرن یعنی بہترین طبقے سے تعلق رکھتے تھے تو واجب ہوا کہ مصطفی کریمﷺ کے آبائو امہات ہر قرن و ہر طبقے میں انہی بندگان صالح و مقبول میں سے ہوں ورنہ معاذ اﷲ قرآن عظیم میں ارشاد حق جل وعلا اور صحیح بخاری میں ارشاد مصطفیﷺکے مخالف ہوگا۔
یہ دلیل امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ و قدس سرہ سے افادہ فرمائی ہے۔
دوسری دلیل
(1) قرآن مجید میں طے کردیا گیا ہے کہ کافر تو ناپاک ہی ہیں۔
(2) احادیث کریمہ میں بیہقی، زرقانی اور کتاب الشفاء وغیرہ میں حضور نبی اکرمﷺ نے بیان فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ مجھے ہمیشہ پاک مردوں (کرم والی پشتوں) سے پاک بیبیوں کے طہارت والے شکموں میں منتقل فرماتا یہاں تک کہ مجھے میرے ماں باپ سے پیدا کیا۔ تو ضروری ہے کہ حضورﷺ کے آبائے کرام طاہرین اور امہات کرام طاہرات سب اہل ایمان و توحید ہوں کہ بنص قرآن عظیم کسی کافر و کافرہ کا کرم و طہارت سے حصہ نہیں۔ یہ دلیل امام فخر الدین رازی نے افادہ فرمائی اور امام جلال الدین سیوطی و دیگر اکابر نے اس کی تائید و تصویب کی۔
تیسری دلیل
امام فخر الدین آیہ کریمہ ’’وتقلبک فی الساجدین‘‘ کے تحت فرماتے ہیں کہ حضور اقدس کا نور پاک ساجدوں سے ساجدوں کی طرف منتقل ہوتا رہا تو یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ سب آبائے کرام مسلمین تھے۔ امام سیوطی، امام ابن حجر اور علامہ زرقانی و دیگر اکابر نے اس کی تائید و تصویب کی نیز ابو نعیم اس کی تائید کرتے ہوئے ایک روایت حضرت عبداﷲ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں۔ یہ امر پیش نظر رہے کہ قرآن مجید تمام وجوہ (طرق و جہات) سے قابل استدلال ہے اور اس حوالے سے کوئی تاویل دوسری تاویل کی نفی نہیں کرتی۔ اس پر علماء کا عمل گواہ ہے۔
چوتھی دلیل
(1) قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے حبیب کریمﷺ سے فرمایا کہ عنقریب تجھے تیرا رب اتنا دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا۔
(2) صحیح مسلم مں حدیث قدسی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ہم تجھے تیری امت کے بارے میں راضی کردیں گے اور تیرا دل برا نہ کریں گے۔
(3) صحیح مسلم کی بیشتر احادیث کریمہ میں ابوطالب پر عذاب جہنم کی کیفیت اور ان پر حضورﷺ کا ترحم فطری مذکور ہے۔ مثلا فرمایا کہ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتا۔ اسی طرح فرمایا کہ میں نے اس سے آگ میں ڈوبا ہوا پایا تو کھینچ کر ٹخنوں تک کی آگ میں کردیا۔ نیز فرمایا کہ دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب پر ہے۔
غوروفکر کا مقام ہے کہ حضورﷺ کے جذبہ ترحم کی وجہ قرابت داری ہے یا احسان مندی؟ احسان مندی اس لئے باطل ہے کہ قرآن مجید کی رو سے کافر کا ہر عمل بعد موت باطل ہے۔ اب رہی قرابت داری تو کیا والدین کریمین سے زیادہ قرب ابو طالب کو حاصل ہے؟ یقینا نہیں۔ اگر معاذ اﷲ والدین کریمین کافر ہوتے تو یہ سارا جذبہ ترحم بلکہ اس سے بھی زیادہ والدین کے حق میں منقول ہوتا اور سب سے ہلکے عذاب کی روایت ان کے بارے میں ہوتی۔ ازروئے قربت بھی اور اس لحاظ سے بھی کہ ان تک دعوت اسلام پہنچی ہی نہیں تھی، حالانکہ ایسا نہیں تو مان لیجئے کہ سرکار عالی مرتبتﷺ کے والدین کریمین مومن و صالح تھے۔
پانچویں دلیل
سنن نسائی میں ہے کہ حضور اکرمﷺ نے حضرت عبدالمطلب کی صاحبزادی کو آتے دیکھ کر باز پرس کی اور ارشاد فرمایا کہ اگر تم ان کے ساتھ قبرستان جاتیں تو اس وقت تک جنت نہ دیکھتیں جب تک عبدالمطلب نہ دیکھتے۔
اس حدیث پاک سے حضرت عبدالمطلب کا جنتی ہونا ثابت ہے۔ اس سلسلے میں پہلے چار اصول مذکور ہیں جن سے استدلال کرکے نتیجہ مرتب کیا جاسکتا ہے۔ اصول ملاحظہ ہوں۔
1۔ کوئی معصیت مسلمان کو جنت سے محروم نہیں کرسکتی، مسلمان کا جنت میں جانا واجب شرعی ہے۔
2۔ کافر کا جنت میں جانا محال شرعی ہے کہ ابدالآباد تک کبھی ممکن ہی نہیں۔
3۔ نصوص کو ظاہر پر محمول کرنا واجب اور بے ضرورت تاویل ناجائز ہے۔
4۔ عصمت، نوع بشر میں خاصہ انبیاء علیہم السلام ہے باقی سب سے گناہ ممکن ہے۔
زیر نظر حدیث میں مذکور خاتون اگر قبرستان جاتیں تو جزاء جہنم قرار پاتی تو یہ حدیث حضرت عبدالمطلب کے ایمان یا کفر پر مشروط ہے۔ یعنی اگر حضرت عبدالمطلب کافر ہوتے تو وہ دائما جہنمی قرار پاتیں جبکہ مومن یا مومنہ پر دخول جنت واجب شرعی ہے۔ لہذا حضرت عبدالمطلب کو مومن ماننا واجب ہے۔
چھٹی دلیل
(1) قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ عزت تو اﷲ و رسول اور مسلمان ہی کے لئے ہے، مگر منافقوں کو علم نہیں۔ اسی طرح فرمایا گیا کہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار (متقی) ہے۔ ان دو آیات کریمہ کی رو سے عزت و کرامت مسلمان ہونے پرمنحصر ہے۔
(2) کسی عزت دار شخص کے لئے کسی لیئم و ذلیل کی اولاد سے ہونا باعث عزت و تعریف نہیں لہذا کافر آباء واجداد پر فخر کرنا حرام ہے۔ مسند امام احمد میں رسول اﷲﷺ کی حدیث پاک کی رو سے کفار آبائو اجداد کی طرف فخر ومباہات کے طور پر اپنی نسبت کرنے والا جہنمی ہے۔
(3) حضور نبی اکرم نور مجسمﷺ سے روز حنین اور دیگر غزوات کے موقع پر ایسے رجز منقول ہیں جن میں اپنے آبائو امہات پر فخر کا اظہار پایا جاتا ہے۔ مثلا
انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب
انا النبی العواتک من بنی سلیم
حضورﷺ کی جدات میں کم از کم نو خواتین کا نام عاتکہ تھا، جن میں سے تین یا چار بنی سلیم سے تھیں۔ ان رجزیہ کلمات سے آپ کے اجداد و امہات کا ایمان بالبداہت ثابت ہوتا ہے۔ نیز آپ نے اپنے فضائل و مداح کے بیان میں اکیس پشت تک اپنا شجرہ نسب مبارکہ بیان کرکے فرمایا میں نسب میں سب سے افضل ہوں۔
ساتویں دلیل
(1) سورہ نوح کی آیت کریمہ انہ لیس من اہلک یہ تمہارے اہل (گھر والوں) سے نہیں، نے مسلم و کافر کا نسب منقطع فرمادیا۔ لہذا کافر و مسلم شرعا ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے یعنی ایک دوسرے کے ترکے سے حصہ نہیں پاتے۔
(2) رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں نحن بنو نضر بن کنانۃ لا ننتفی من ابینا (ہم نضر بن کنانہ کے بیٹے ہیں، ہم اپنے باپ سے اپنا نسب جدا نہیں کرتے) آپ کا ارشاد گرامی ان کے ایمان کی دلیل ہے۔
آٹھویں دلیل
نبی اکرمﷺ نے اکیسویں پشت میں حضرت عدنان تک اپنا شجرہ نسب بیان کرکے فرمایا کہ جب بھی لوگوں میں دو گروہ ہوئے، اﷲ نے مجھے بہتر گروہ میں کیا، میں اپنے والدین سے ایسا پیدا ہوا کہ زمانہ جاہلیت کی کوئی بات مجھ تک نہ پہنچی۔ میں آدم سے لے کر اپنے والدین تک خالص نکاح صحیح سے پیدا ہوا۔ میرا نفس کریم تم سب سے بہتر ہے اور میں نسب اور والد کے لحاظ سے تم سب سے زیادہ بہتر ہوں۔
(ملحوظ ہو کہ اس حدیث کے مخاطبین میں وہ صحابہ بھی شامل ہوں گے جن کے والدین نے بھی اسلام قبول کیا۔)
نویں دلیل
صحابی رسولﷺ حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ کے والد زید بن عمرو (جو قبل اسلام وفات پاچکے تھے) کے بارے میں نبی مکرم رسول محتشمﷺ فرماتے ہیں کہ اﷲ عزوجل نے زید بن عمرو کو بخش دیا اور ان پر رحم فرمایا کہ وہ دین ابراہیم پر فوت ہوئے۔ نیز ان ہی کے بارے میں ایک اور حدیث میں ہے کہ سرکارﷺ نے فرمایا کہ میں نے اسے جنت میں ناز کے ساتھ دامن کشاں دیکھا۔
سطور سابقہ میں مذکور (بحوالہ دلیل ثامن) حدیث پاک کا اطلاق حضرت سعید بن زید پر بھی ہوتا ہے جس کے ضمن میں حضور اکرمﷺ کے والد گرامی کا حضرت سعید بن زید کے والد گرامی سے بہتر ہونا لازم ہے جبکہ حضرت زید بن عمرو کا جنتی ہونا خود حدیث سے ثابت ہے۔
دسویں دلیل
حضرات ابوین کریمین کا انتقال عہد اسلام سے پہلے تھا تو اس وقت تک وہ صرف اہل توحید تھے بعدہ رب العزت نے اپنے نبی کریمﷺ کے صدقے ان پر اتمام نعمت کے لئے اصحاب کہف کی طرح انہیں زندہ کیا کہ انہوں نے حضور اقدسﷺ پر ایمان لاکر شرف صحابیت پاکر آرام فرمایا۔
اگرچہ حدیث احیاء کی غایت ضعیف ہے مگر حدیث ضعیف دربارہ فضائل مقبول ہے بلکہ امام ابن حجر مکی نے فرمایا کہ متعدد حفاظ حدیث نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اس میں طعن کرنے والے کی بات کو قابل التفات نہیں جانا ہے۔
گیارہویں دلیل
امام ابن حجر مکی فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں توقف کرنے والے علماء نے کیا خوب فرمایا کہ حضورﷺ کے والدین کریمین کو کسی نقص کے ساتھ ذکر کرنے سے بچو کہ اس سے رسول اکرم سید عالمﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ مردوں کو برا کہہ کر زندوں کو ایذاء نہ دو تو عاقل کو چاہئے کہ ایسی جگہ سخت احتیاط سے کام لے اور نبی کریمﷺ کے لئے قابل ایذاء بات نہ کہے۔