ڈاکٹر اسرار احمد نے 12 جون کو نشر ہونے والے سورۃ النساء کی آیت نمبر 43 کے درس کے ضمن میں QTV پر ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:
’’شراب کی حرمت سے پہلے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے بعض صحابہ کرام علیہم الرضوان کی دعوت کررکھی تھی، جس میں مے نوشی کا بھی انتظام تھا۔ جب یہ سب حضرات کھا پی چکے تو مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو امام بنادیا گیا۔ اس سے نماز میں قل یا ایھا الکفرون کی تلاوت میں بوجہ نشہ سخت غلطی ہوگئی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
یہ حدیث شریف ترمذی اور ابو دائود شریف میں ہے۔ حدیث شریف اپنی جگہ ہے مگر ہمارے چند سوالات ڈاکٹر اسرار احمد سے ہیں
سوال نمبر1: یہ حدیث شریف اپنی جگہ ہے مگر اس حدیث شریف کو سورۃ النساء کے ضمن میں بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ یہ واقعہ شراب کی حرمت سے پہلے کا ہے؟
سوال نمبر 2: حدیث شریف بیان کرکے آپ نے اپنی طرف سے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی ذات پر گستاخانہ تبصرہ کیوں کیا؟
سوال نمبر 3: امام ترمذی اور امام ابودائود نے بھی اس حدیث شریف کو نقل کیا مگر اس پر محدث ہونے کے باوجود اپنی طرف سے کوئی گستاخانہ تبصرہ نہیں کیا؟
سوال نمبر 4: ڈاکٹر اسرار احمدقرآن کی تفسیر بیان کرتے ہیں اور احادیث پر تبصرہ کرتے ہیں، کیا ان کے پاس مفسر قرآن اور شیخ الحدیث ہونے کی کوئی سند ہے؟
سوال نمبر 5: آج اسرار احمد صاحب نے مذکورہ حدیث بیان کرکے اس پر اپنی طرف سے تبصرہ کیا۔ کیا وہ آئندہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے رجم والے واقعات پر بھی گستاخانہ تبصرے کریں گے؟
سوال نمبر 6: سامنے والے صفحہ پر تنظیم اسلامی کے دفتر سے شائع کی گئی پریس ریلیز اسکین شدہ آپ کے سامنے ہے۔ پریس ریلیز 18-6-08 کو شائع ہوئی جبکہ گستاخی 12-6-08 کو کی۔ درمیان کے پانچ دن ڈاکٹر اسرار احمد اپنے گستاخانہ کلمات پر اڑے رہے۔ پھر ایک طبقہ کے شدید احتجاج اور دبائو کے باوجود انہوں نے صرف وضاحت نامہ شائع کیا جوکہ کہیں سے بھی توبہ نامہ نہیں ہے کیا ایسی وضاحت قابل قبول ہوسکتی ہے؟
سوال نمبر 7: ڈاکٹر اسرار احمد کے وضاحت نامہ کے الفاظ جوکہ سامنے اسکین کئے ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:
’’بہرحال میرے نزدیک حضرت علی یا دوسرے جلیل القدر صحابہ کرام کی محبت اور عقیدت ہر مسلمان پر لازم ہے اور میں کبھی ان کی جناب میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ تاہم میرے بیان سے اگر کچھ حضرات کے جذبات کو ٹھیس لگی ہے تو میں ان سے معذرت خواہ ہوں‘‘
محترم قارئین کرام! آپ نے ڈاکٹر اسرار احمد کے وضاحت نامہ کے الفاظ ملاحظہ کئے۔ اس میں کہیں بھی توبہ کا ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے جومعذرت بھی کی ہے وہ بھی ان لوگوں سے کی ہے جن کی دل آزاری ہوئی ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ شان صحابہ میں گستاخی کرنے پر وہ اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگتے۔
لہذا ڈاکٹر اسرار احمد کی لوگوں سے معذرت واضح کررہی ہے کہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کے ڈر سے توبہ نہیں کی بلکہ دبائو کا شکا رہوکر دبائو ڈالنے والوں سے معذرت کی ہے۔ کیا یہ افسوس کی بات نہیں ہے؟
ڈاکٹر اسرار احمد اس حدیث کو پڑھ کر اپنے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف پیدا کریں۔
حدیث شریف: رسول اکرم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جومیرے صحابہ کی شان میںبکواس کرتے ہیں تو کہو کہ تمہاری اس بکواس پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت ہو (بحوالہ: ترمذی شریف جلد دوم)
غیرت ایمانی کا تقاضا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ کریں اور کیو ٹی وی کے مالکان سے بھی گزارش ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے خطابات نشر نہ کریں ورنہ گستاخوں کے ساتھ ساتھ کیو ٹی کے ذمہ داران بھی جوابدہ ہوں گے۔
مسلمانوں کی وہ ادا، جسے دیکھ کر شرمائیں یہود