دوستی: اس قبیلے کے اور بھی الفاظ ہیں جیسے یاری، رفاقت وغیرہ۔ اسی طرح اس کے اصل لفظ دوست کے بھی بہت سے ہم جنس ہیں۔ جیسے یار، حبیب، رفیق، ساتھی، ہمجولی، ہم نفس، ہمدم، ہمنوا، سکھی، سہیلی، ہم جلیس، ہم صغیر، ہمراز وغیرہ۔ اس سلسلے میں سوالات اٹھتے ہیں کہ دوستی کیا چیز ہے؟ دوستی کی ضرورت کیا ہے؟ اور دوستی کی اہمیت کیا ہے؟
دوستی کیا چیز ہے؟ اس سے تو ہم بخوبی واقف ہیں کہ اگر جان پہچان، شناسائی زیادہ ہوجائے اور ایک دوسرے سے غھل مل جائیں تو ہم دوستی کی حدود میں داخل ہوجاتے ہیں۔ لیکن دوستی کے مراتب بہت سے ہوتے ہیں۔ معمولی دوستی، گہری دوستی، ایک جان دو قالب، ہم پیالہ و ہم نوالہ وغیرہ۔ دوستی کی ضرورت کیا ہے؟ اس سلسلے میں یہ کہنا کافی ہوگا کہ انسان ایک سماجی جانور ہے اور اپنے ہم جلسوں کی صحبت میں رہنا اس کی فطرت ہے اور ایسا کچھ انسان ہی کے ساتھ نہیں بلکہ اکثر حیوانوں کے ساتھ بھی ہے۔ سوائے معدودے چند کے سبھی جھنڈ میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ مگر ایک ساتھ رہنے کا مطلب دوستی نہیں ہوتا بلکہ دوستی کا مطلب اس سے زیادہ ہے یعنی گہری شناسائی۔ صرف شناسائی دوستی کے زمرے میں نہیں آتی۔ کیونکہ شناسائی کثیر لوگوں سے ہوتی ہے جبکہ دوستی صرف چند لوگوں سے۔ جہاں تک آدمی کے تعلقات کا سوال ہے یہ بہت طرح کے ہوسکتے ہیں لیکن سبھی تعلقات دوستی کے زمرے میں نہیں آتے۔ اس طرح صحبت، مصاحبت، شناسائی، آشنائی، ملاقات بات، جان پہچان، صاحب سلامت وغیرہ جیسے تعلقات کو بھی دوستی نہیں کہا جاسکتا تو پھر دوستی کی تعریف ہم کس طرح کرسکتے ہیں۔ جواب ہے دوستی تب ہوتی ہے جب ہمارے دل مل جاتے ہیں، ہمارے دماغ مل جاتے ہیں ۔یعنی ایسے لوگ جو ہم کو کسی نہ کسی وجہ سے بھانے لگتے ہیں اور ہم ان کی طرف مائل ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں، دوست کہلانے کے مستحق ہیں۔ گویا دوست ایک دوسرے کے مزاج شناس ہوتے ہیں۔ دوستی کے پیدا ہونے کی وجہ بھی اکثر یہی ہوتی ہے ’’مزاج و معیار کی ہم آہنگی‘‘ صحیح معنوں میں دوستی کی تعریف ہوسکتی ہے۔ مزاج و معیار کی ہم آہنگی، خلوص ، ایک دوسرے کے لئے ایثار و قربانی کا جذبہ یعنی دوست کے مفاد پراپنے مفاد قربان کردینے کی تڑپ، پھر سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس طرح کے تعلقات خالصتا بے غرض ہوسکتے ہیں؟ تو کہا جاسکتا ہے کہ شاید ہی کوئی دوستی مندرجہ بالا پیمانے پر کھری اترتی ہو۔ الا فرضی افسانوی کے۔ حالانکہ مثالیں تو بہت سی دی جاتی ہیں مگر عملا شاید ایسا ناممکن اور غیر فطری ہے۔ اس لئے کہ اکثر دوستی ان حدود میں نہیں رہ پاتی۔ متوازن نہیں رہ پاتی۔ بتدریج اس میں اغراض و مقاصد شامل ہونے لگتے ہیں اور جب یہ اغراض و مقاصد پورے نہیں ہوپاتے تو آپس میں چپقلش شروع ہوجاتی ہے جیسا کہ اس شعر سے ظاہر ہے
ولیکن ہوی چوں بغایت رسید… شود دوستی سر بسر دشمنی
(جب خواہشات اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہیں تو دوستی سراسر دشمنی میں بدل جاتی ہے)
اور خلش بڑھتے بڑھتے دوستی میں دراڑ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ دوستی صحیح معنوں میں متذکرہ بالا پیمانے پر اترے، اس کے لئے ضروری ہے کہ فریقین متوازن اور پختہ اذہان کے ہوں اور ان باتوں کو سمجھتے ہوئے دوستی کو برقرار رکھنے کے لئے غرض کو اس میں شامل نہیں کرتے ہوں۔ پھر سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایسی دوستی کی آدمی کو ضرورت ہے؟ تو جواب ہے کہ ضرورت تو ہے اور اس لئے ہے کہ ہر آدمی اس بات کا خواہاں رہتا ہے کہ کوئی ایسا ملے جس سے وہ کھلے دل سے اپنے جذبات کا اظہار کرسکے، کوئی ایسا ملے جو اس کی باتوں کو توجہ اور دلچسپی سے سنے اور مفید مشوروں سے نوازے، کوئی ایسا ہو جس سے وہ اندرونی معاملات پر تبادلہ خیال کرسکے۔ تو پھر سوال ہوگا کہ کیاکوئی ایسا مل بھی سکتا ہے؟ تو جواب ہوگا کہ عملا تقریبا ناممکن ہے کیونکہ پھر اس میں اغراض و مقاصد کی شمولیت ہونی تقریبا ناگزیر ہے۔ چونکہ زندگی کی بنیاد معاملات پر ہے اور دوستی میں معاملات عموما کچے رہتے ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا ہے ’’حساب دوستاں دردل‘‘ مگر ایسا حساب جو صرف دل تک محدود ہو دراصل دل کاروگ بن جاتا ہے۔
انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ کسی کے کئے ہوئے کو تو بھول جاتا ہے مگر اپنے کئے ہوئے کو شاید ہی بھول پاتا ہے۔ پھر دوستی زندگی میں کیسے پھل پھول سکتی ہے؟
تو پھر سوال ہوگا کہ تب آدمی کیا کرے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی اس طرح کی افسانوی دوستی کی توقع ہی نہ کرے بلکہ دوستی کو اس کی حدود میں رکھے۔ حالانکہ اس کو ایک طرح کی ذہنی خلش رہے گی ضرور مگر اس کو جھیلنا ہوگا۔ کیونکہ انسانی برادری کی بنیاد جن چیزوں پر قائم ہے ان میں اولین چیزوں کو اولیت دی جائے گی اور یہ کہنا بے جا نہیں کہ انسانی برادری کی بنیاد معاملات پر ہے، دوستی پر نہیں اور معاملات کا انحصار انصاف پر مبنی ہوتا ہے اور انصاف کے تقاضے دوستی میں پورے نہیں ہوسکتے کیونکہ دونوں کے پیمانے الگ ہیں، انصاف پرمبنی ہوتا ہے ٹھوس حقائق پر جبکہ دوستی جذبات پر مبنی ہوتی ہے، دوستی کا اصول ہے کہ اس میں غلط اور صحیح نہیں دیکھا جاتا۔ ہر حال میں دوست کی حمایت کرنی ہوتی ہے، اس لئے صحیح معنوں میں تو انسان صرف اپنا دوست ہوسکتا ہے یعنی اپنا مفاد دیکھ سکتا ہے، اپنے مفاد کے ساتھ دوسرے کا بھی مفاد ہو تو اکثر مضائقہ نہیں ہوتا۔ مگر اپنا نقصان کرکے دوسرے کا مفاد دیکھنا صرف فوق البشر لوگوں کا خاصہ ہے۔ یہاں اکثر تو انسان اپنا دوست بھی نہیں ہوتا کہ اپنے مفاد کے خلاف کرتا ہے، اپنے کو ہلاکت میں ڈالتاہے۔
ان سب باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ عملا معاشرے کے لئے افسانوی دوستی بے سود بلکہ مضرت رساں ہے اور اس طرح کی دوستی سے گریز کرنا مناسب ہے۔ ہر دانش مند نے دوستی کی یہی تعریف کی ہے۔ جیسے مارک ٹوئن کہتے ہیں کہ تقریبا سبھی آدمی آپ کی حمایت کریں گے اگر آپ حق پر ہیں۔ اس لئے دوست کا اصل فریضہ ہے کہ وہ آپ کی اس وقت حمایت کرے جب آپ غلطی پر ہوں، یا جیسا کہ اس شعر سے ظاہر ہے
جب دوست کہہ دیا ہے تو پھر خامیاں نہ دیکھ
ٹکڑوں میں جو قبول ہو وہ دوستی نہیں
یا جیسا کہ مقولہ ہے ’’دوستی میں نفع و نقصان نہیں دیکھا جاتا‘ ان سب کے برعکس سماج کی بنیاد معاملات، انصاف اور نفع و نقصان پر ہے اور عملا ان سب کا ہی آدمی خواہاں رہتا ہے۔ اس لئے دوستی زندگی کے ابتدائی دور میں زیادہ ہوا کرتی ہے اور جب آدمی عملی زندگی میں، شعور کی حدوں میں داخل ہونے لگتا ہے تو اس طرح کی دوستی خودبخود کم ہونے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ پختہ عمر میں، شاید ہی کسی کا کوئی اس طرح کا دوست ملتا ہو، اس عمر میں تعلقات ہی رہ جاتے ہیں جومشترکہ اغراض پر مبنی ہوتے ہیں اور عملایہی سودمند ہیں۔ سماجی تعلقات، تجاتی تعلقات، پیشہ ورانہ تعلقات، رسمی تعلقات وغیرہ سبھی کی بنیاد مشترکہ اغراض و مقاصد ہوتے ہیں۔
دوست دو چار نکلتے ہیں کہیںلاکھوں میں
جتنے ہوتے ہیں سوا اتنے ہی کم ہوتے ہیں
جذباتی دوستی جب بگڑنے لگتی ہے تو خطرناک قسم کی دشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔کیونکہ ’’گھر کابھیدی لنکا ڈھائے‘‘ کے مصداق ایسا دشمن آپ کے مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں سے بخوبی واقف ہوتا ہے اورآپ کی دکھتی رگ کو بخوبی چھیڑ سکتا ہے۔ اس طرح کی دوستی میں فریق عیاں ہوتا ہے دوسرے کا استحصال بخوبی کرسکتا ہے۔
ان سب کے نمونے ہمیں عملی زندگی میں اکثر وبیشتر ملتے رہتے ہیں ، جیسے ہم میں سے اکثر دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں کہ تعجب ہے کہ فلاں فلاں میں دانت کاٹی دوستی تھی اور آج وہ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں۔ محبت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے مثلا اکثر سننے کو ملتا ہے کہ دونوں بھائیوں میں کتنی گہری محبت تھی۔ آج ایک دوسرے کی صورت سے بیزار ہیں۔ ان سب مثالوں میں درحقیقت یہی بنیادی نکتہ ہے کہ معاملات ٹھیک نہیں رہے۔ دوستی کی دوسری شکلیں جو درحقیقت سودمند اور پریکٹیکل ہیں وہ ہیں اصولوں کی دوستی اورصحبتیں۔ ایسی صحبتیں جو اصولوں پر مبنی ہوں، جن کا کچھ مقصد، غرض و غایت ہو، جن میں مبہم روحانی جذبات کی گنجائش نہ ہو۔
حالانکہ لوگ کہتے سعادت ہے دوستی
سچ پوچھئے تو ایک حماقت ہے دوستی
ان بن ہوئی کبھی تو کھل جاتے سارے بھید
پوشیدہ یعنی طرز عداوت ہے دوستی
نادان کی دوستی
بے وقوف نہ دوستی کرسکتا ہے نہ دشمنی، نہ محبت کرسکتا ہے نہ نفرت۔ عشق و محبت میں بھی لطف اسی وقت ہے جب کرنے والے فہم و فراست والے ہوں، باشعور ہوں، عقل مند ہوں، تعلیم یافتہ ہوں، ورنہ بے وقوفوں کے لئے یہ سب چونچلے سے زیادہ کچھ نہیں رہ جاتے۔ بے وقوف صرف چونچلے کرتا ہے، وہ زندگی کی ضروریات اور ان کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ وہ صرف آنسو پونچتا ہے یا خواہ مخواہ کی بکواس یا تعریف کرتا ہے جوکہ بے سروپا ہوتی ہیں بے وقوف کے پیار کی مثال بندر کے پیار جیسی ہے جو کبھی کبھی اپنے بچوں کو پیار کرتے کرتے مار تک ڈالتا ہے۔ اس کو اپنے بچے سے پیار بھی اتنی شدت سے ہوتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد بھی وہ ہفتوں اس کو اپنے جسم سے لپٹائے پھرتا ہے۔ بے وقوف کے عشق کا حال یہ ہے کہ معشوق اگر بیمار پڑجائے تو بجائے اس کا علاج کرانے کے صرف تسلی دیتارہتا ہے، دلجوئی کرتا رہتا ہے، ہمدردی جتاتا رہتا ہے، باتیں بناتا رہتا ہے۔
یہ بات سبھی طرح کے عشق پر صادق آتی ہے، عشق الٰہی کے ساتھ بھی یہی بات ہے۔ اﷲ کو بھی بے وقوف کی عبادت سے زیادہ عالم کی عبادت پسند ہے۔ وجہ ہے کہ صرف مشینی عمل سے کسی کو کوئی خاص الفت نہیں پیدا ہوتی۔ جب تک کہ اس میں جذبے کی گرمی نہ ہو، شعور نہ ہو، سمجھ نہ ہو، وہ جو کررہا ہے جانتا نہ ہو کہ کیوں کررہا ہے، اسی کو نیت بھی کہا جاسکتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ عمل کادارومدار نیت پر ہے۔ ظاہر ہے مشین سے، روبوٹ سے الفت پیدا ہونا شاید ممکن نہیں، حالانکہ وہ ہمارے حکم کے تابع ہیں۔ اس موضوع پر بہیترے مقولے ہیں جو ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتے ہیں کہ ’’بے وقوفوں سے تقرب، دوستی ہمیشہ ہی زیاں کا سودا ہوتا ہے‘‘ ’’بے وقوف دوست سے عقلمند دشمن اچھا ہے‘‘ ’’ناداں کی دوستی جی کا جلن‘‘ اس حقیقت پر اتنا زور دینااس لئے ضروری ہے کہ آدمی کی نفسیات بھی کچھ ایسی ہے کہ وہ زیادہ تر بے وقوفوں کی دوستی ہی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اس سے اس کی انا کی تسکین ہوتی ہے، اپنی برتری جتانے کا موقع ملتا ہے، پھر بے وقوف کی سادہ لوحی پر کبھی ترس آتا ہے، تو کبھی مزا آتا ہے، اور دل بستگی ہوتی ہے۔ ناپختہ ہی نہیں پختہ اذہان بھی اس کی احمقانہ باتوں کو بطور دل جمعی اوردل دہی حمایت، بلکہ ان پر آمنا صدقنا کرنے لگتے ہیں، کیونکہ بے وقوف کی ایک اہم خصوصیت ہوتی ہے ہٹ دھرمی۔ اسے کسی شرمندگی، خجالت کا احساس نہیں ہوتا اور باوجود تمسخر کا نشانہ بننے کے اپنی روش پر گامزن رہتا ہے۔ بے وقوف حالانکہ خلوص سے بھرپور ہتا ہے مگر اس خلوص کا کوئی فائدہ نہیں جو حماقت سے بھرا ہو، جیسا کہ ایک بندر نے مکھی اڑانے کے سلسلے میں ناک ہی اڑادی۔