اے ہمارے محترم قارئین! اب تک کی قسطوں میں تبلیغی جماعت کے حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ کئی معاملات میں ان کے ساتھ شریف دو پارٹیوں (رافضیوں، قادیانیوں) کے خطرناک نظریات کو بھی تفصیلی معلومات کے ساتھ آپ کو پڑھنے کا موقع ملا۔ اس سے قبل قسط نمبر 15 میں آپ رئیس التحریر علامہ ارشد القادری مدیر جام نور دہلی علیہ الرحمہ کا تبلیغی جماعت کے بارے میں حقائق کشا تبصرہ ملاحظہ کیا۔ اب آیئے دوبارہ ’’القول البلیغ‘‘ کے مصنف کی رائے دیکھئے، وہ کہتے ہیں۔
وقد رد کثیر من العلماء علی التبلیغین، وبینوا اخطاء ہم وضلالاتھم وخطرہم علی الاسلام و المسلمین، وقد رائیت من الکتب والرسائل المولفۃ فی ذالک عددا کثیرا، ومن اھمھا کتاب الاستاذ سیف الرحمن احمد الذی تقدم ذکرہ والنقل منہ
وبعض الذین ردواعلی التبیلغین قد صحبوہم سنین کثیرۃ، وخرجوا معہم فی سیاحاتھمالی ہی من محدثات الامور، ثم لما رائوا ما فی دعوتھم واعمالھم من البدع والضلالات والجہالات، فارقوہم، وحذروا منہم و من سیاحتھم واعمالہم المبتدعہ
(القول البلیغ ص 22)
ترجمہ: کثیر علماء نے تبلیغی جماعت والوں کا رد کیا ہے اور ان کی خطائیں اور گمراہیاں بیان کی ہیں اور اسلام و مسلمین کو ان کے خطرات سے آگاہ کی اہے۔ تحقیق میں نے ایسے رسائل و کتب بکثرت دیکھے ہیں جس میں تبلیغی جماعت کا رد کیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں اہم ترین کتاب استاذ سیف الرحمن احمد کی وہ کتاب ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اور اس سے میں نے عبارت بھی نقل کی ہے۔ بعض ایسے افراد نے بھی تبلیغی جماعت کا رد لکھا ہے جو کئی سال تبلیغی جماعت کے رکن رہے اور ان کے ساتھ جماعتوں میں نکلتے رہے جوکہ نئی بدعات میں سے ہے پھر جب انہوں نے ان کی بدعات و جہالات کو دیکھا تو ان سے جدا ہوگئے۔
آگے چل کر حمود بن عبداﷲ بن حمود التویجری نے کہا۔
واما ماذکرہ الساء لمن کثرۃ الاقوال فی التبلیغین بین مویدلھم و مستنکر لاعمالھم
فالجواب عنہ ان یقال، ان الصواب مع المستنکرین لاعمالھم، لانہھا من المحدثات التی لیس علیھا امراء النبیﷺ
عائشۃ رضی اﷲ عنہا، ان رسول اﷲ ﷺ قال من احدث فی امرنا ہذا مالیس منہ فہو رد
وفی روایۃ لاحمد ومسلم والبخاری تعلیقاً مجزوماً بہ، من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فہو رد
قال النووی فی شرح مسلم، قال اہل العربیۃ الردھنا بمعنی المردود ومعناۃ فہو باطل غیر معتد بہ
قال وہذا الحدیث قاعدیہ عظیمیہ من قواعد الاسلام وہومن جوامع کلمہﷺ، فانہ صریح فی رد کل البدع والمخترعات
وقال ایضا وہذا الحدیث ممتا نبعض حفظۃ استعمالۃ فی الباطل المنکرات واشاعۃ الاستدلال بہ، انتہٰی
وفی ہذا الحدیث اوضح دلیل علی المنع من محدثات التبلیغین واعمالہم التی لیس علیہا امر النبیﷺ
وردی الامام احمد ایضا، واہل السنن عن العرباض بن ساریۃ رضی اﷲ عنہ ان رسول اﷲﷺ قال علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیتین تمسکرابھا، وعفوا علیہا بالنواجذ وایاکم ومحدثات الامور، فان کل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالہ
قال الترمذی ہذا حدیث حسن صحیح
وصححہ ایضا ابن حبان والحاکم والذہبی وقال ابن عبدالبر حدیث ثابتت صحیح (القوال البلیغ ص 24)
ترجمہ: سائل نے تبلیغی جماعت والوں کے جو مختلف اقوال ذکر کئے جن میں سے بعض ان کی تائید کرتے اور بعض ان کے اعمال کو مسترد کرتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ درستگی کا ایسے اعمال مستردہ سے ملا ہوا ہونا جو نئے گھڑے ہوئے ہیں یہ تبلیغی جماعت والوں کی اپنی من گھڑت بدعات ہیں جو سنت نبوی نہیں ہیں۔
امام احمد، بخاری ، مسلم، ابو دائود اور ابن ماجہ رحمہم اﷲ نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کیا کہ سرکارﷺ نے فرمایا جس شخص نے اس ہمارے دین میں نئی بات گھڑی، وہ رد ہے۔
امام احمد و مسلم اور بخاری کی ایک تعلیق میں ہے جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے طریقے پر نہ ہو وہ رد ہے۔
امام نووی علیہ الرحمہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں۔ اہل عزیتہ نے رد کا معنی مردود کیا ہے یعنی مطلب یہ ہوگا طریقہ نبویہ اور اس کے قوانین کے خلاف گھڑی ہوئی بات یا عمل باطل ہے۔
اور فرمایا یہ حدیث اسلام کے قواعد میں سے ایک عظیم قانون ہے اور یہ ہر من گھڑت چیز کو شامل ہے (جبکہ اس کی اصل موجود نہ ہو، القادری)
اور یہ بھی فرمایا یہ حدیث قابل حفظ ہے اور بری بدعتوں کے رد میں قابل استعمال ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تبلیغی جماعت والوں کی نئی نئی بدعات اور اختراعات کو رد کرنے کے لئے یہ حدیث واضح دلیل ہے۔
امام احمد، اور مورخین سنن اربعہ نے عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے کہ بے شک رسول اﷲﷺ نے فرمایا تم پر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت لازم ہے۔ اس کو مضبوطی سے پکڑلو اور اپنی من گھڑت باتوں سے بچو، کیونکہ ہر غیر قانونی من گھڑت بری بدعت ہے اور ہر بری بدعت گمراہی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسنصحیح ہے۔
ابن حبان، امام حاکم، امام ذہبی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ ابن عبدالبر فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ثابت ہے۔
اس بحث سے متعلق آخری بات حمود تویجری نے فیصلہ کن انداز میں یوں درج کی ہے۔
وفی ہذا الحدیث اوضح دلیل علی المنع من محدثات التبلیغین واعمالہم التی ہی من محدثات الامور ولم تکن من سنۃ رسول اﷲﷺ ولامن سنۃ الخلفاء الراشدین وانماہی من بدع محمد الیاس الدیوبندی الکاندہلوی ثم الدہلوی، فہو الموسس لجماعۃ التبلیغ فی الہند، وقد خطط لہذہ البدعۃ، ووضع اصولہا الستۃ واشرف علی التھانوی الدیوبندی (ایضا)
ترجمہ و تبصرہ قادری: یہ حدیث تبلیغی جماعت والوں کی ان من گھڑت باتوں کا واضح رد ہے جو انہوں نے سنت نبوی کو چھوڑ کر اور خلفاء راشدین کی سنتوں کو چھوڑ کر اپنے مولویوں سے لے کر اپنائی ہیں۔ ان کے ہاںان کی تبلیغی جماعت کے بانی الیاس کاندھلوی کا طریقہ رائج ہے۔ اس نے اصول ستہ لکھ کر اپنی نئی من گھڑت شریعت ایجاد کی ہے۔ اور اس نے یہ اصول رشید احمد گنگوہی اور اشرف علی تھانوی کے اشارے پر ترتیب دیئے ہیں۔ اس فقیر قادری غفرلہ نے اس اصول ستہ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس میں قواعد شرع کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی ہے اور اپنی ذاتی منفعت کے حصول کے لئے شیعوں کی طرح تقیہ بازی کا سہارا لینے کی اس میں زبردست ترغیب دلائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تبلیغ کے نام پر تخریب کے تمام طریقے اس میں بیان کئے گئے ہیں۔ اس پاکٹ سائز رسالے کو تبلیغی عمومی طور پر اپنے جیب میں رکھتے ہیں اور اس میں دی گئی ہدایات کے مطابق لوگوں کو گمراہ کرنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں اور اس کو اپنی بڑی کامیابی شمار کرتے ہیں۔ الغرض یہ اصول ستہ من گھڑت بدعت ہے اس کا اصول دین سے کماحقہ، تعلق نہیں ہے اور اس کو لائحہ عمل بنانا نقصان و خسارے کا موجب ہے اس لئے اس کی تعلیم سے کنارہ کشی ضروری ہے۔
حمود بن عبداﷲ بن حمود التویجری رقم طراز ہیں
ذکر ذالک الاستاذ سیف الرحمن بن احمد الدھلوی فی ص 8,7 من کتاب المسمٰی نظرۃ، عابرۃ اعتباریۃ حول الجماعۃ التبلیغیہ
وذکر فی ص 5,4 ما ملخصۃ، ان نسب ہذہ الجماعۃ التبلیغیہ یتصل بالشیخ سعید نورسی الکردی الملقب ب (بدیع الزمان)
المولود فی سنۃ ثلاث وتسفین ومئتین والف من الہجرۃ ، والمتوفیٰ فی سنۃ تسع وسبعین وثلاثہ مئۃ والف من الہجرۃ علی وجہ التقریب، فہو صاحب ہذا الفکرۃ البدعیۃ والواضع لاصولھا الستۃ، ولکن شاء اﷲ ان تخمد ہذا الحرکۃ وقت لاشی ہذا الفکرۃ بترکیا قبل ان تاخذ انطلاقہا البارزالشامل
قال الاستاذ والظاہران الشیخ الیاس الہندی لما اتی الی الحجاز، سمع بہذہ الفکرۃ فاقتبتھا الی الہند، فالفکرۃ بترکیا، والنماء والترعرع والتطبیق والانطلاق بالہند، انتہیٰ (القول البلیغ ص 25-24)
ترجمہ: استاذ سیف الرحمن بن احمد دہلوی نے اپنی کتاب میں تبلیغی جماعت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔
اس تبلیغی جماعت کی نسبت شیخ سعید نورسی کردی سے ہے جوکہ 1293ھ میں پیدا ہوا اور 1379ھ میں فوت ہوا۔ اصل میں اس نئی من گھڑت فکر اور تبلیغی جماعت کے اصول ستہ کا بانی وہی ہے۔
استاذ کہتے ہیں ظاہر یہ ہے کہ شیخ الیاس دیوبندی کاندھلوی جب حجاز مقدس حاضر ہوا تو اس نے یہ فکر جدید سنی اور اسے لے کر ہند پہنچا، پھر اس کے ذریعے ہندوستان میں اس نئی من گھڑت فکر کی ترویج ہوئی۔
تبصرہ قادری: اس قسط میں ’’القول البلیغ‘‘ کے اقتباس کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوگئی کہ اصول ستہ ہی تبلیغی جماعت کا اصل نصاب ومعیار ہیں اس میں کیا ہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
پہلا نمبر… کلمہ طیبہ
لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ
اس پر تبلیغی جماعت کا تبصرہ یہ ہے کہ اس کلمہ کے متعلق چار چیزوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔
1۔ اس کے الفاظ صحیح یاد ہوں
2۔ اس کے معنی کاپتہ ہو
3۔ اس کے مطلب کا علم ہو
4۔ اس کے تقاضوں کو معلوم کرکے ان پر عمل کرتا ہو۔
جبکہ عام مشاہدہ یہی ہے کہ اکثر و بیشتر اپنی عمر عزیز کو چلت پھرت میں صرف کرنے والے اس کے صحیح تلفظ تک کی ادائیگی سے بھی محروم ہیں تو اس کے تقاضوں پر عمل خاک کریں گے۔ القادری غفرلہ
دوسرا نمبر… نماز
اس کے بارے میں تبلیغی جماعت والوں کا کہنا ہے کہ کلمہ کے بعد نماز سب اعمال سے افضل ہے اور حدیثوں میں آیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز ہی کا حساب لیا جائے گا۔ جبکہ عام تجربہ یہی ہے کہ تبلیغی جماعت کے نمائندے اپنی چلت پھرت میں لوگوں کو اس کی ترغیب دلانے کے بجائے دین کے لئے محنت کی دعوت دیتے ہیں اور برسہا برس چلت پھرت میں گزارنے کے باوجود بھی یہ لوگ اس افضل ترین عبادت کا صحیح طور طریقہ نہیں سیکھتے اور اس کے ارکان و شرائط تک کو نہیں جانتے بلکہ محض رٹی رٹائی عبارت نماز اور دیکھا دیکھی طریقے کے مطابق ادائیگی پر چلے جارہے ہیں۔
تیسرا نمبر… علم و ذکر
اس نمبرکے بارے میں تبلیغیوں کا کہنا یہ ہے کہ اس میں موجود دونوں چیزوں کی حدیثوں میں بڑی تاکید اور فضیلت آئی ہے۔
جبکہ عام طور پر دیکھا یہ گیا ہ ے کہ تبلیغی جماعت والے علم دین سے کوسوں دور اپنی جہالت کے جال میں پھنسے ہوئے لوگوں کو گمراہی کے گڑھے میں پھینکنے کے لئے ہمہ وقت مصروف کار نظر آتے ہیں اور نہ صرف خود ذکر الٰہی کی مجالس سے محروم ہیں بلکہ لوگوں کو اولیاء کرام کی مجالس ذکر سے برگشتہ کرنے میں لگے رہیں گے۔
چوتھا نمبر… اکرام مسلم
اس نمبر کا حاصل یہ ہے کہ بندوں کے حقوق کا دھیان رکھا جائے اور موقع بموقع ان کو ادا کرنے کی مشق کی جائے اور جس کا جو درجہ ہو، اسی کے موافق اس کے ساتھ برتائو ہو۔ خاص طور پر مسلمان کی عزت اور خدمت کا بہت خیال رکھا جائے۔ کیونکہ مسلمان کے دل میں اﷲ کا نور موجود ہے جو بہرحال عزت اور احترام کے قابل ہے (چھ باتیں ماخوذ منہ ص 27)
جبکہ مجھ سمیت تمام مسلمان جانتے ہیں کہ تبلیغی جماعت والوں کا نظریہ یہ ہے کہ احترام مسلم ظاہری اپنا کر انہیں دھوکہ سے کلمہ پڑھوا لو اور اپنی فتح کا جشن منائو کہ معاذ اﷲ مشرک کو کلمہ  پڑھوالیا اور انبیائے کرام اور اولیائے عظام کے شیدائیوں کو مشرک جان کر ان کی مساجد ومدارس پر قبضے کرکے انہیں اولیاء کرما کے دشمنوں کے حوالے کردیا جائے تاکہ صالحین کا ذکر کرکے معاذ اﷲ ختم ہوکر رہ جائے اور جب انبیاء و اولیاء کا احترام نہیں تو بھلا عام مسلمانوں کے احترام کی ان سے کیا امید کی جاسکتی ہے۔
پانچواں نمبر…اخلاص نیت
اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ہر کام رضائے الٰہی کی خاطر کیا جائے اور اس عمل کے ذریعے کوئی دنیا کا نفع مقصود نہیںبلکہ صرف آخرت کی زندگی سنوارنے کے لئے یہ عمل کیا جارہا ہے۔
جبکہ دنیا بھر کے لوگوں کو علم ہے کہ ان تبلیغیوں کے ہر عمل میں ظاہری نمائش کا پہلو غالب ہے اور اپنی مرکزی ہدایات کے مطابق یہ ہرجائز و ناجائز کام کر گزرتے ہیں اور اس پر راضی ہوتے ہیں۔
چھٹا نمبر… تضریغ وقت
اس کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ دنیا کے دھندوں کو چھوڑ کر آخرت بنانے کے لئے وقت نکالنا۔ اس لئے تبلیغی جماعت کے نمائندے اپنی پوری پوری زندگی راہ دین میں وقف کرکے نکلتے اور پیچھے سے ان کے بال بچے روتے پیٹتے چلاتے رہ جاتے ہیں اور ان کی بیویاں دوسرے خاوند کرلیتیں یا گھروں سے بھاگ جاتی ہیں۔ مگر ان کو پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے من میں دین اسلام کی بہت بڑی خدمت سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔ اس پر ان کو بہت بڑے اجر کی توقع اور دنیا میں امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں کی ریل پیل کی صورت میں اپنی دنیا چمکتی دمکتی نظر آتی ہے اور یہ چیز ان کی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے اور انہیں عذاب الٰہی نظر نہیں آتا اور یہ اپنی کوششوں میں اپنے آپ کو سرخرو ہوتا دیکھتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ ان کی دنیوی و اخروی زندگی کی بربادی کا ذریعہ ہے۔ حقوق اﷲ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی تکمیل ضروری ہے۔ ان کی اہمیت مسلمہ ہے اور انکی ادائیگی میں رضائے الٰہی ہے اور نجات اخروی کے لئے ان کا خیال ضروری ہے۔
واما قول السائل، ہل الصحہ بالخروج مع التبلیغین فی داخل الباد ای البلاد السعودیۃ او فی خارجہا اما لا؟
فجوابہ ان اقوال انی انصح السائل وانصح غیرہ من الذین یحرصون علی سلامۃ دینہم من ادناس الشرک والغوو البدع والخرافات ان لا ینضموا الی التبلیغین، ولا یخرجوہم معہم ابدا، وسواء کان ذالک فی البلاد السعودیۃ اوفی خرجہا، لان اہون مایقال فی التبلیغین انہم اہل بدعۃ وضلالۃ وجہالۃ فی عقائد ہم فی سلوکہم، ومن کانو ابہٰذہ الصفۃ الذمیمۃ، فلاشک ان السلامۃ فی مجانتھم والبعدعنہم
ولقد احسن الشاعر حیث یقول
فلا تصحب اخا اجہل

وایاک وایاۃ
فلا تصحب اکااجھل

حلیما حسین اخاۃ
یقاس المرء بالمرء

اذا ماہو ماشاۃ
وقال آخر واحسن فیما قال
وما ینفع الجرباء قرب صحیحۃ الیھا ولکن الصحیحۃ تجرب
وقد تقدم الحدیث الذی فیہ النص علی ان اہل البدع کلہم فی النار، وانہ لاینجو من النار الا فرقۃ واحدۃ، وہم الذین کانوا علیٰ ماکان علیہ رسول اﷲﷺ واصحابہ رضی اﷲ عنہم
فلایا من الذین ینقمون الی التبلیغین ویخرجون معہم فی سیاحاتھم المبتدعۃ ان یکون لہم نصیب من الوعید الشدید الذی تقدم ذکرہ فی حدیثی عبداﷲ بن عمرو وانس رضی اﷲ عنہم و قد کان السلف الصالح یحذرون من اہل البدع، ویبالغون فی التحذیر منہم، ینہون عن مجالستہم ومصاحبتھم وسماع کلامھم، ویامرون یمجانبتھم ومعاد اتھم وبغضھم وہجرھم
(القول البلیغ ص 31 )
ترجمہ: بہرحال سائل کا یہ پوچھنا کہ میں اسے تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ بلاد سعودیہ یا اس کے علاوہ میں نکلنے کی نصیحت کرتا ہوں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ بھی اپنی سلامتی دین کے حریص ہیںاور چاہتے ہیں کہ شرک، غلو بازی، بدعت و خرافات سے بچ کر رہیں تو وہ اپنے آپ کو تبلیغی جماعت والوں سے دور رکھیں۔ اورکبھی بھی اس جماعت کے ساتھ نہ نکلیں۔ خواہ سعودی عرب میں ہو یا اس کے باہر۔ ان تبلیغی جماعت والوں کے بارے میں کم از کم بات یہ ہے کہ یہ اہل بدعت و گمراہی اور جہالت کے پلندے ہیں۔ ان کے عقیدے اور طریقے دونوں میں گمراہی ہے اور جو ایسی بری صفات والا ہو، اس سے بچنا ضروری ہے۔
شاعر نے خوب بات کہی
فلا تعجب خا الجھل

ویاک وایاۃ
فکم من جاہل اردی

حلیما حسین  اخاۃ
یواس المرء بالمرء

اذا ماہو ماشاۃ
جاہل کو ساتھی مت بنا

اس سے دور رہ اور اسے دور رکھ
بہت سارے جاہل بینکار

حلیم نظر آتے ہیں جب بھائی ہنستے ہیں
بندہ بندے کو اپنے پر قیاس کرتا ہے

جب کہ جیسا وہ اس وقت ہوتا ہے
دوسرا شاعر خوب بات کہہ گیا
وما ینفع الجرباء قرب صحیحۃ       الیھا ولکن الصحیحۃ تجرب
خارش کو تندرست کے قرب نے نفع نہ دیا    البتہ تندرست اسکی صحبت سے خارشی ہوگیا
اس سے پہلے حدیث گزر چکی ہے جس میں اہل بدعت کو ناری کہا گیا اور یہ کہ نجات ولاا گروہ ایک ہے اور وہ لوگ وہ ہیں جو طریق نبوی اور اصحاب کے راستے پر ہیں۔
پس جو لوگ تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ گھومتے پھرتے اور چلے لگاتے ہیں ان کو اس وعید شدید سے ڈر جانا چاہئے کہ کہیں وہ نار جہنم کا شکار نہ ہوجائیں جس کا ذکر حدیث میں ہے۔
اسلاف اہل بدعت سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے اور اس بدعتی ٹولے سے بچنے کی نصیحت میں مبالغہ کرتے تھے اور ان کی مجالس میں بیٹھنے اور ان کا کلام سننے سے منع کرتے تھے اور ان بدعتی لوگوں کے ساتھ نفرت رکھتے اور ان کی مخالفت کرنے کی نصیحت کرتے تھے۔
تنبیہ: اسماعیل بن عبدالرحمن صابونی نے ’’عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ میں کہا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ تبلیغی جماعت والوں بدعتیوں سے اپنے آپ کو بچائیں اور ان کے ساتھ عداوت رکھیں۔ ان کی صحبت سے بچیں۔ ان کے اجتماعات، ان کے کلام سننے، ان سے بحث و مناظڑہ کرنے سے بچیں ان کی آوازیں سننے سے اپنے کانوں کو بچائیں۔ ان کی آوازیں بھدی گھنٹی کی طرح کانوں کو پھاڑنے والی اور دل کو اذیت دینے والی ہیں۔ انسان کو اپنے نفس پر اعتماد کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے چکر میں پھنس کر اپنا ایمان دائو پر لگا بیٹھیں اور ساری محنت تباہ و برباد کر بیٹھے جو شخص ان تبلیغی جماعت والوں کے بارے میں تردد میں ہے اور ان کے ساتھ حسن ظن رکھتا  ہے اسے چاہئے کہ قائد محمد اسلم پاکستانی کی کتاب ’’جماعت التبلیغ‘‘ پڑھے۔
خاتمہ
الحمد ﷲ علی احسانہ، اس وقت فقیر ابو الحسنین مفتی محمد عارف محمود خان رضوی غفرلہ کو اس بات کی بڑی خوشی ہورہی ہے کہ امت مسلمہ کو ’’القول البلیغ‘‘ کے ذریعے تبلیغی جماعت کے پرفریب منظم دھوکے سے بچانے کی سعی کے ساتھ ساتھ رافضیوں اور قادیانیوں کے فتنے سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے کو اب یہاں ختم کیا جارہا ہے جو حضرات ان ’’خطرات ثلثہ‘‘ کے بارے میں تفصیلی معلومات کے شائق ہوں وہ اس سلسلے میں جگہ جگہ ذکر کردہ کتب کا مطالعہ کریں ان شاء اﷲ ان کی خوب تسلی ہوجائے گی۔
وصلی اﷲ تعالیٰ علی حبیبہ محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ و اہل بیتہ اجمعین
خدا ایسی طاقت میرے قلم میں دے
بدمذہبوں کو سدھارا کروں میں