حیات وخدمات مفسراعظم پاکستان علامہ فیض احمد اُویسی رضوی علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, October-November 2010, شخصیات, محمد عتیق رضا

مفسر اعظم پاکستان چار ہزار سے زائد کتب کے مصنف استاذ الاستذہ حضرت علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی رضوی علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت 1351ھ بمطابق 1932ء کو ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کے گائوں حامد آباد میں مولانا نور محمد علیہ الرحمہ کے گھر ہوئی۔ آپ کے والد گرامی نے آپ کا نام فیض احمد رکھا جو کہ اسم مسمیٰ ثابت ہوئے۔ آپ کا تعلق قبیلہ لاڑ سے تھا جوکہ حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کی اولاد سے ہیں جوکہ تبلیغ دین کے لئے برصغیر آئے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔آپ کا خاندان پہلے سندھ میں آباد تھا۔ بعد میں رحیم یار خان منتقل ہوا۔
آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔ 1942ء میں ترنڈہ میر خان کے اسکول سے پرائمری پاس کیا۔ پھر حافظ جان محمد، حافظ سراج احمد اور حافظ غلام یٰسین صاحبان سے حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ 1947ء میں پہلی مرتبہ نماز تراویح میں قرآن مجید سنایا۔ 27 ویں شب کو تکمیل ہوئی۔ اسی شب پاکستان معرض وجود میں آیا۔
ستمبر 1947ء میں درس نظامی شروع کیا۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا اﷲ بخش علیہ الرحمہ، مولانا خورشید احمد علیہ الرحمہ، مولانا عبدالکریم علیہ الرحمہ اور سراج الافقہاء مولانا سراج احمد مکھن بیلوی علیہ الرحمہ شامل ہیں۔ 1952ء میں محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد علیہ الرحمہ (فیصل آباد) سے دورہ حدیث شریف پڑھا اور سند فراغت حاصل کی۔
جامعہ رضویہ فیصل آباد سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے آبائی گائوں حامد آباد میں ’’مدرسہ منبع الفیوض‘‘ کی بنیاد رکھی۔ جہاں سے کثیر طلباء نے اکتساب فیض کیا۔1963ء میں حامد آباد سے بہاولپور منتقل ہوئے۔ مختلف مساجد کو دارالعلوم والارشاد بنایا۔ 1963ء میں ایک قطعہ زمین خرید کر جامع مسجد سیرانی اور جامعہ اویسیہ رضویہ کی بنیاد رکھی۔ جہاں پر شعبہ حفظ، درس نظامی، دورہ حدیث، دارالافتاء قائم فرمایا۔ سینکڑوں علماء نے جامعہ اویسیہ رضویہ سے اکتساب کیا آج خدمت دین متین میں مشغول ہیں۔ اس وقت مرکزی دارالعلوم کی 20 سے زائد شاخیں خدمت دین میں مصروف عمل ہیں۔ 1961ء میں آپ نے دورہ تفسیر القرآن کا آغاز فرمایا۔ خانپور، بہاولپور، خانیوال، فیصل آباد، بندیال شریف، میانوالی، لاہور، مریدکے، کامونکی، گوجرانوالہ، خیرپور میرس، دادو سندھ، خیرپور میرس، لاڑکانہ، حیدرآباد، کراچی ، سبی اور کوئٹہ میں 71 سے زائد مرتبہ دورہ تفسیر القرآن پڑھایا جس میں مجموعی طور پر 6000 سے زائد علماء نے علم تفسیر حاصل کیا۔
تدریس کے علاوہ آپ تقریر میں بھی یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ آپ کی تقریر قرآن و سنت کے دلائل سے مزین عام فہم ہوتی تھی۔ عوام و خواص سبھی استفادہ کرتے۔ چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر آپ کی خطابت کی دھوم تھی۔ اپنے دلائل قاہرہ سے مدمقابل کا رد کرنے کا جو ملکہ آپ کے پاس تھے وہ آپ ہی کا خاصہ تھا۔ گھنٹوں خطاب فرماتے لیکن کیا مجال ہے کہ سننے والے اکتاہٹ محسوس کرتے۔ آپ نے زمانہ طالب علمی ہی سے تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع فرمادیا۔ پہلی کتاب ’’کارآمد مسائل‘‘ کے نام سے طبع ہوئی۔ 1998ء تک کی کتب کے لئے شائع کی گئی فہرست کے مطابق آپ کی کتب کی تعداد 3101 ہے جبکہ یہ سلسلہ 2010ء تک جاری و ساری رہا اور تصنیفات کی تعداد 4000 سے متجاوز ہوگئی۔ ان میں فیوض الرحمن ترجمہ روح البیان 12 جلدیں، فضل المنان فی تفسیر آیات القرآن (عربی) 10 جلدیں، تفسیر فیض القرآن اردو 10 جلدیں، فیض الرسول فی اسباب النزول 10 جلدیں، شرح حدائق بخشش 25 جلدیں، شرح مثنوی مولانا روم 25 جلدیں، الفیض الجاری شرح صحیح بخاری 10 جلدیں، احادیث موضوعہ 5 جلدیں، مواعظہ اویسیہ 10 جلدیں، اللمعات شرح مشکوٰۃ 5 جلدیں، کشکول اویسی 10 جلدیں، فیصلہ ہشت مسئلہ 10 جلدیں، فتاویٰ اویسیہ 10 جلدیں، شرح دارمی 8 جلدیں، رسائل اویسیہ 5 جلدیں، رازونیاز 5جلدیں، خواتین کا اسلامی نصاب 5جلدیں، تفسیر اویسی 15 جلدیں، ترجمہ و حاشیہ مسلم شریف 10 جلدیں، ترجمہ و حاشیہ ترمذی شریف 5 جلدیں، بیاض اویسی 5 جلدیں، اویسی نامہ 5 جلدیں، شرح دار قطنی 10 جلدیں، الاحادیث السنیہ فی الفتاویٰ الرضویہ 5 جلدیں، نعم الحامی شرح جامی 10 جلدیں قابل ذکر ہیں۔
سلف الصالحین کے طریقے کے مطابق سلسلہ اویسیہ میں حضرت خواجہ محمد دین اویسی حنفی علیہ الرحمہ (خانقاہ شریف) سے بیعت ہوئے سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں حضرت مفتی اعظم ہند شاہ مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔ آپ روایتی انداز میں پیری مریدی نہ فرماتے بلکہ آپ کو دیکھ کر سلف کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے آپ کو 4 بیٹے اور ایک بیٹی عطا فرمائی۔ چاروں بیٹے حافظ قرآن اور عالم دین ہیں۔ ایک صاحبزادے مفتی محمد صالح اویسی علیہ الرحمہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ بقیہ بقید حیات ہیں اور خدمت دین میں مصروف ہیں۔
ظاہری زندگی کے آخری دو سال آپ بستر علالت پر رہے لیکن اس کے باوجود نماز باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا فرماتے۔
15 رمضان بمطابق 26 اگست بروز جمعرات بوقت صبح آپ کا وصال ہوا۔ رات گیارہ بجے مرکزی عیدگاہ بہاولپور میں آپ کی نماز جنازہ آپ کے صاحبزادہ مفتی محمد فیاض احمد اویسی رضوی کی اقتداء میں ادا کی گئی۔ قائد اہلسنت علامہ پروفیسر سید مظہر سعید کاظمی صاحب نے دعا کروائی۔ ہزاروں اشک بار آنکھوں کے سامنے آپ کو جامعہ اویسیہ رضویہ میں دفن کیا گیا۔
انا ﷲ و انا الیہ راجعون