برصغیر کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ اُویسیہ رضویہ بہاولپور

in Tahaffuz, October-November 2010, متفرقا ت, محمد فیاض احمد اُویسی

برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ہی دینی علوم کے ماہرین بھی آئے جنہوں نے اپنے مزاج کے مطابق دینی ادارے قائم کئے، کفر و الحاد اور اتداد کی یلغاریں بھی دین اسلام کو مٹانے کے لئے برابر اٹھتی رہیں، یہاں تک کہ 1857ء کی جنگ آزادی میں تحریک آزادی کی بظاہر ناکامی کے بعد انگریزی استعمار نے جہاں علماء حق کو تختہ مشق ستم بنایا، وہاں دینی تعلیم کے مراکز کی بیخ کنی میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور مسلم قوم کے سلیم الفطرت نوجوانوں کے دلوں اور اذہان و فکر سے اسلام اور اس کی روح کو ختم کرنے کے لئے جدید نظام تعلیم وضع کیا جس کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے مصور پاکستان علامہ اقبال رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا:
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم ایک سازش ہے
فقط دین مصطفیﷺ کے خلاف ان اثرات کو محسوس کرتے ہوئے علماء کرام نے درس نظامی کی طرف توجہ مبذول کرائی تاکہ مسلمانوں کو ان زہریلے اثرات سے نجات دلائی جائے۔ 1864ء میں مجدددین و ملت امام احمد رضا خان رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے والد کی اجازت سے اپنی خانقاہ میں دینی تعلیم کے لئے بریلی میں مدرسہ قائم فرمایا۔ جنگ آزادی کے بعد برصغیر میں اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے یہ سب سے پہلا مدرسہ تھا، دیگر تمام مدارس بعد میں معرض وجود میں آئے مثلا مولوی قاسم نانوتوی کا دارالعلوم دیوبند 1898ء میں قائم ہوا اور اسی طرح سرسید کی تعلیمی تحریک کا آغاز 1875ء میں ہوا۔
اجازۃ الرضویہ کے حوالے سے 1930ء تک اس مدرسہ سے فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد چودہ ہزار تک جاپہنچی تھی۔ اس دارالعلوم سے آج تک لاکھوں آفتاب علوم ظاہری و باطنی سے منور ہوکر پوری دنیا میں جہالت کے اندھیرے کے خلاف برسر پیکار نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد یہ ضرورت تھی کہ یہاں کے قائدین ایک ایسا تعلیمی نظام رائج کریں گے جو بیک وقت دینی و دنیوی تقاضوں کو پورا کرتا ہوا لادینیت کے پھیلتے ہوئے انتشار کا سدباب ہو مگر عملا ایسا نہ ہوا۔ ان دگرگوں حالات کو دیکھتے ہوئے علماء کرام اور اہل اسلام کو دینی علوم کی بقاء کی فکر لاحق ہوئی اور پاکستان میں دینی مدارس کے قیام کا فیصلہ کیا اور بحمداﷲ تعالیٰ ملک بھر میں دینی مدارس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے 1963ء میں حضرت فیض ملت شیخ القرآن و الحدیث علامہ الحاج حافظ محمد فیض احمد اویسی صاحب نے بہاولپور کی سنگلاخ زمین میں اﷲ تعالیٰ اور اس کے پیارے محبوبﷺ کے ارشاد عالیہ کو عام کرنے کی غرض سے جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور کی بنیاد رکھی۔ قبل ازیں آپ ضلع رحیم یار خان کے دور افتادہ علاقہ تحصیل خان پور کی بستی حامد آباد میں مدرسہ منبع الفیوض کے نام سے ادارہ قائم فرما چکے تھے۔ عرصہ دراز تک اس چشمہ فیض مصطفیﷺ سے سینکڑوں تشنگان علم اپنی پیاس بجھاتے رہے۔ آپ کے مرشد کامل پیر طریقت حضرت خواجہ محمد دین اویسی نور اﷲ مرقدہ، سجادہ نشین خانقاہ شریف حضرت خواجہ قبلہ حضور محکم الدین سیرانی صاحب السیر رحمتہ اﷲ علیہ (سمہ سٹہ) نے اپنی درگاہ پر مدرسہ قائم کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا (حضرت موصوف صحیح معنی میں محب العلم و العلماء تھے) مگر حضرت موصوف کی زندگی نے یاری نہ کی اور ملک عدم کو سدھار گئے تو حضرت علامہ اویسی نے اپنے مرشد کریم سے کیا ہوا وعدہ نبھاتے ہوئے بہاولپور کی سرزمین پر قدم رکھا اور اس دھرتی پر جس طرح ظاہری تروتازگی کا کوئی سامان نہ تھا، اسی طرح رشد و ہدایت اور علم کی ہریالی بھی نام کو نہیںتھی۔ یہ بنجر زمین اپنے سینے پر رسول دشمن عناصر کے انگارے لئے جھلس رہی تھی۔ ہر طرف توہین رسالت کا بازار گرم تھا اور تعزر وہ وتو قروہ کے احکامات کے ساتھ عداوت کے طوفان بپا تھے۔ ناموس مصطفیﷺ کے ہر باب کو شرک و بدعت کا نام دے کر بند کیا جارہا تھا۔ تنقیص رسالت اس دور کی سب سے بڑی توحید بن گئی تھی۔ یہ زہر آلود ماحول انتہائی عروج پر تھا کہ قدرت نے ایک بار پھر ارض بہاولپور کو اپنی باران رحمت کے لئے منتخب فرمایا۔ مرد مجاہدین مصطفیﷺ کا بے باک سپاہی خلوص کا پیکر علم و عرفان کا بحر شریعت و طریقت کا آشنا حبیب کبریاﷺ کے مقدس ہتھیاروں سے لیس ہوکر سرزمین بہاولپور میں آوارد ہوا حب نبی کے گزر سے سومنات کے مندروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ ان مذہبی بہروپیوں کا بھانڈا سرراہ پھوڑ دیا۔ آپ کی آمد نے کائنات مذہبی میں انقلاب برپا کردیا۔ دماغوں کی دنیا میں ہلچل مچ گئی۔ آپ نے محبوب خدا سرور انبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ کی الفت و محبت سے دلوں کو منور کردیا اور دلوں کو عشق رسولﷺ کی خوشبو سے مہکا دیا۔ آپ نے عقائد اہلسنت پر ایسے دلائل قاطعہ و براہین ساطعہ قائم فرمائے کہ گندم نما جوفروش کٹھ ملائوں کی کئی سالوں کی محنت پر پانی پھیر دیا اور آپ کی آمد سے علاقہ غلامان مصطفی کے لئے روشنی کا مینار بن گیا اور ابلیسی توحید ابلیس کی آغوش میں سسکیاں لینے لگی۔
مخالفین کے وار: بہاولپور میں پہلے پہل شاہدہ سے مخالفین کی سازشوں کی وجہ سے اہل محلہ نے وہاں سے نقل مکانی پر مجبور کردیا تو محلہ گنج شریف سید محب الدین شاہ صاحب کی مسجد میں پناہ لی لیکن یہاں بھی مخالفین کی شرارت اور بغض نے ٹھہرنے نہ دیا۔ پھر محلہ گاڑی بان جامع مسجد کوثر میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا۔ مخالفین نے طرح طرح کی سازشیں شروع کردیں۔ مصائب کے پہاڑ توڑے، قاتلانہ حملوںکی سازشیں کی گئیں۔ مسجد سے ملحقہ حجروں میں بجلی کی تاریں کاٹ کر پریشان کیا گیا۔ اہل محلہ کو متنفر کرنے کے لئے غلط قسم کی مختلف افواہیں پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ فقیر کو بہاولپور کی درجنوں مساجد میں بسیرا کرنا پڑا، کہیں بھی درس و تدریس کے لئے ٹھہرنے نہ دیا جاتا۔ مقدمات لڑائی جھگڑے بپا رہتے۔ اہل سنت حسب عادت میری داستانیں دیکھتے اور سنتے رہتے بلکہ بہت سے مہربانوں نے حوصلہ شکنی کرتے ہوئے بستر بوریا اٹھا کر واپس جانے پر مجبور کردیا۔ ایک دو سال فقیر کو بہاولپور نے مضمحل رکھا اور مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے۔ ہر طرح کی مشکلات نے منہ کھول کر بہاولپور چھوڑنے پر مجبور کردیا لیکن فقیر نے استقامت سے کام لیا۔ سرزمین بہاولپور کو کہہ دیا کہ یہاں ہم گلستان مصطفی کی بہار دیکھ کر ہی دم لیں گے۔
علامہ اویسی شہاب دہلوی کی نظر میں: برصغیر کے معروف مورخ جن کو مورخ کبیر کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ جناب مسعود الحسن شہاب دہلوی (مرحوم) حضرت علامہ محمد فیض احمد اویسی رضوی علیہ الرحمہ کے تعارف اور آپ کی استقامت کے عینی مشاہدات کا تذکرہ کرتے ہوئے ’’مشاہیر بہاولپور‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ عین اس وقت میں جب بہاولپور بدعقیدہ لوگوں کی گرفت میں تھا۔ مولانا فیض احمد اویسی مسلک اہلسنت کا علم لے کر یہاں آئے اور وہ سرزمین جوکہ یارسول اﷲﷺ کے نعروں کے لئے ترس رہی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے یارسول اﷲ اور صلوٰۃ وسلام کی صدائوں سے گونجنے لگی۔ مولانا اویسی کو شروع شروع میں یہاں دقتیں پیش آئیں۔ ان کے مشن کو ناکام بنانے کے لئے بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ قدم قدم پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر کوئی اور ہوتا تو کبھی کا رفو چکر ہوچکا ہوتا، لیکن یہ جہاں سخت جاں واقع ہوئے ہیں، تو وہاں مسلک کی حقانیت نے انہیں عزم و حوصلہ کی بھی قوت عطا فرمائی کہ مخالفین ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ ان کے تمام حربے ناکام ہوئے اور ان کے قدم اکھڑنے کی بجائے مضبوط تر ہوگئے۔ چنانچہ اس وقت اس کی قائم کردہ مسجد سیرانی اور دارالعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ (جنہیں مسلک اہلسنت کی مرکزی حیثیت حاصل ہے) روز افزوں ترقی پذیر ہیں۔ انہوں نے مکتبہ اویسیہ کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ قائم کردیا ہے جو مسلک اہلسنت کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ادارے کی مطبوعات اہلسنت کے حلقوں میں بہت مقبول ہیں اور بہاولپور میں ہی نہیں بہاولپور سے باہر بھی ان کی کافی مانگ ہے۔ آپ کو قرآن و حدیث تفسیر اور فقہ پر دسترس ہے۔ تحریر و تقریر پر یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ انداز خطابت نہایت دلکش اور دل آویز ہے۔ مترنم آواز میں جب کوئی نقطہ بیان کرتے ہیں تو مجمع وجد میں آجاتا ہے۔ انداز تقریر اگرچہ قدیمی علماء کرام جیسا ہے لیکن کوئی بات استدلال یا توجیہ سے خالی نہیں ہے۔ فیوض الرحمن کے نام سے تفسیر روح البیان کا ترجمہ تحریر کیاہے۔ جسے علمی حلقوں میں کافی پسند کیا گیا ہے۔ اصول و عقائد پر ان کی تصانیف بڑی معرکتہ الآرا ہیں، عقائد کے معاملہ میں مولانا اویسی بڑے متشدد واقع ہوئے ہیں اور اس سلسلہ میں کسی روورعایت کے قائل نہیں۔ جو ان کے عقائد کے خلاف ہیں ان سے میل جول تو دور کی بات ہے مصافحہ تک نہیں کرتے۔ ڈنکے کی چوٹ پر ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ تقریر و تحریر میں ان کے خیالات کا رد بڑے شدومد سے ہوتا ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اگر مولانا اپنے مخالفوں کے ساتھ اتنا سخت رویہ نہ رکھیں تو لوگوں میں ان کا وقار اور احترام کافی بڑھ سکتا ہے اور ان کے خلاف محاذ آرائی بھی بند ہوسکتی ہے لیکن اس سلسلہ میں وہ اپنی ذات کی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ عظمت مصطفیﷺ میں ان کی ذات کیا حقیقت رکھتی ہے جو لوگ اہانت رسولﷺ سے باز نہیں آتے، ان سے وہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ مولانا کے اس رویئے کو کوئی پسند کرے یا نہ کرے لیکن واقعہ یہ ہے کہ مسلک اہلسنت کے حق میں اس رویئے کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہورہا ہے جو لوگ دوسرے مکاتب فکر کے زیر اثر اپنے مسلک کا کھلم کھلا اعلان کرنے سے کترانے لگے تھے، اب ان کا حجاب اٹھ چکا ہے۔ مساجد سے درودوسلام کی آوازیں بھی بلند ہوتی ہیں اور جگہ جگہ محافل میلاد النبیﷺ بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ اس خوش آئند تبدیلی کے علاوہ مولانا اویسی صاحب کے دارالعلوم نے بھی مسلک کی بڑی خدمت انجام دی ہی۔ بہرحال مولانا فیض احمد اویسی صاحب کا دم غنیمت ہے کہ انہوں نے مخالفین کی آندھیوں میں عشق مصطفیﷺ کی جو شمع روشن کی ہے اس کی تابندگی کے پروانوں میں بھی گاہے بگاہے اضافہ ہورہا ہے (مشاہیر بہاولپور)
مولانا محمد منشاء تابش لکھتے ہیں:
فاضل شہیر علامہ مولانا محمد منشاء تابش قصوری جامعہ کے قیام کے متعلق لکھتے ہیں بہاولپور میں مدرسہ اویسیہ کے قیام نے اہلسنت کی طاقت میں اضافہ کیا۔ مخالف پریشان، عاشق شادمان ہوئے۔ اطراف کے شائقین جوق در جوق آپ کی خدمت میں علوم و فنون اسلامیہ سے مرصع ہونے کے لئے حاضر ہوئے۔ آپ نے جانفشانی اور لگن سے کام کیا کہ بہاولپور میں جامعہ اویسیہ رضویہ کو ایک مرکزی مقام حاصل ہوا۔ مخالفین نے پہلے پہل آپ کو پریشان کرنے کی ناکام کوشش کی مگر آپ نے ہر طرح مقابلہ کی ٹھانی۔ اختلافی و علمی مناظروں میں مخالفین کو شکست فاش سے دوچار کیا۔ الحمدﷲ علی منہ و کرمہ اب پورے انہماک اور دلجمعی سے جامعہ کی تعمیر و ترقی کی طرف متوجہ ہیں۔
دارالعلوم کے شعبہ جات
شعبہ حدیث: اس شعبہ میں صحاح ستہ کی معروف کتب، بخاری شریف، مسلم شریف، ترمذی شریف، ابودائود شریف، ابن ماجہ شریف، موطا امام محمد کے علاوہ اسماء الرجال اصول حدیث پر خصوصی نوٹس تیار کرائے جاتے ہیں۔ درس نظامی کایہ آخری شعبہ  ہے۔ حضرت فیض ملت قبلہ اویسی صاحب علیہ الرحمہ اس شعبہ کی اکثر کتب خود پڑھاتے ہیں۔
شعبہ درس نظامی: علوم عربیہ میں یہ شعبہ بہت اہم ہے۔ اس میں صرف،نحو، منطق، فقہ، اصول فقہ، علم میراث، علم العقائد، علم ادب، علم المناظرہ، علم الہندسہ، علم التاریخ، علم فلسفہ اور دیگر علوم متداولہ پڑھائے جاتے ہیں۔ پانچ قابل ترین مدرسین محنت و لگن تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
شعبہ کمپیوٹر: جامعہ میں جدید نظام تعلیم کے لئے اردو، ریاضی، سائنس، کی تعلیم کے علاوہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا انتظام بھی ہے تاکہ طلباء جدید تعلیم سے آراستہ ہوکر باطل قوتوں کا مقابلہ کرسکیں۔
مذکورہ بالا شعبہ جات کے امتحانات بھی دلائے جاتے ہیں۔طلباء کو علمی تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی و روحانی تربیت، نماز پنجگانہ، نماز تہجد کی پابندی کے ساتھ ذکر وذکار پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ عربی بول چال، فن تقریر بھی سکھائے جاتے ہیں۔ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو معقول انعامات دیئے جاتے ہیں۔
شعبہ للبنات: بچیوں کو حفظ و ناظرہ، درس نظامی کی تعلیم کے لئے دو معلمات تدریسی فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
شعبہ حفظ و تجوید: اس شعبہ میں طلباء کو قرآن پاک تجوید و قرأۃ کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے۔
شعبہ اردو: اس شعبہ میں پرائمری تک کی تعلیم کاانتظام ہے۔
دارالافتائ: عوام کے سوالات کے جوابات کے لئے دارالافتاء قائم ہے جہاں پر صاحبزادہ مفتی محمد فیاض اویسی قرآن و حدیث و فقہ حنفیہ کے مستند فتویٰ جات کی روشنی میں فتاوے جاری کرتے ہیں۔ شہر اور مضافات کے علاوہ اندرون ملک و بیرون ملک سے بذریعہ خطوط سوالات آتے ہیں جن کے جوابات روانہ کردیئے جاتے ہیں۔
شعبہ نشر واشاعت: اس شعبہ کے تحت مکتبہ اویسیہ رضویہ کے ذریعہ حضرت فیض ملت قبلہ اویسی علیہ الرحمہ کے سینکڑوں غیر مطبوعہ علمی، درسی، تبلیغی، اصلاحی، رسائل ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوکر دنیا بھر میں پہنچ رہے ہیں۔ قرآن کریم کی مستند تفسیر روح البیان کا اردو ترجمہ فیوض الرحمان بہترین کتابت، اعلیٰ طباعت، مضبوط جلد کے ساتھ گزشتہ 30 سالوں سے شائع ہوکر اردو جاننے والے حضرات کی رہنمائی کررہی ہے۔ اس شعبہ کے تحت جون 1989ء سے ماہنامہ فیض عالم بھی شائع ہوتا ہے جس میں اسلامی، دینی، ادبی، بالخصوص حضرت فیض ملت قبلہ اویسی صاحب علیہ الرحمہ کے ہزاروں غیر مطبوعہ علمی، درسی، مسودہ جات قسط وار شائع ہورہے ہیں جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی ہزاروں لوگ دینی استفادہ کررہے ہیں۔
دینی، درسی کتب بالخصوص علمائے اہلسنت تصانیف کے حصول کے لئے اہل بہاولپور کو دوسرے شہروں میں رابطہ کرنا پڑتا تھا۔ اس شعبہ کے تحت مکتبہ اویسیہ رضویہ کے نام سے کتب خانہ قائم کرنے سے یہ دینی مشکل ختم ہوئی۔
بزم اویسیہ رضویہ… دارالعلوم ہذا میں زیر تعلیم طلباء نے دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی فلاح و بہبود کے لئے بزم قائم کی ہے۔ بزم کے تحت ہر بدھ بعد نماز عشاء بزم تقریر، نعت قرأۃ ہوتی ہے جس میں طلباء بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں تاکہ مستقبل میں دینی، تبلیغی خدمت بہتر انداز میں ادا کرسکیں اور جمعتہ المبارک کے دن شہر و مضافات کی سینکڑوں مساجد میں خطبہ جمعہ، وعظ و تقریر کے لئے جاتے ہیں نیز ربیع الاول شریف میں محافل میلاد، رجب المرجب میں محافل معراج شریف و دیگر مذہبی تہوار کے موقع پر جامعہ کے طلباء شریک ہوکر قرآن و حدیث سے عقائد اہلسنت بیان کرتے ہیں۔
شعبہ دورہ تفسیر القرآن… یوں تو حضرت فیض ملت قبلہ اویسی صاحب نے ملک کے بیشتر شہروں، کوئٹہ، کراچی، حیدرآباد، لاہور، خانیوال، خانپور، دادو سندھ، فیصل آباد، کامونکی، منڈی، بندیال شریف، سبی میں دورہ تفسیر کے کورس کرائے جن میں ہزاروں علماء نے قرآنی علوم مختلف آیات کے مفاہیم، مطالب مستند تفاسیر سے عالمانہ، صوفیانہ سیر پڑھ کر نوٹس تیار کئے۔ دارالعلوم میں بھی ہر سال دورہ تفسیر القرآن کا کورس کرایا جاتا ہے۔ بحمدہ تعالیٰ گزشتہ چالیس سالوں سے یہ کورس بہت زیادہ کامیابی سے جاری ہے۔ ملک کے چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر کے فضلاء کثیر تعداد میں حضور فیض ملت قبلہ اویسی صاحب علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوکر قرآن پاک کا مکمل ترجمہ و تفسیر قرآنی رموز و اسرار بے شمار علمی، فقہی، روحانی موضوعات پر نوٹس تیار کرتے ہیں۔ یہ کورس ایک ماہ کا ہوتا ہے۔ تمام اختلافی مسائل پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے۔ حضرت اویسی صاحب مدطﷲہ، پیچیدہ مسائل پر ایسی سہل گفتگو فرماتے ہیں کہ مبتدی طالب علم بھی بڑی آسانی سے سمجھ جاتا ہے۔
حضرت فیض ملت کا انداز تدریس
ایک مدرس کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اسباق کوپوری ذمہ داری سے پڑھائے۔ اسباق کے مضامین کو دلنشین اور موثر طور پر طلباء کے ذہن میں منتقل کرے۔ طلباء کی علمی ترقی، اخلاقی بلندی، علمی میدان میں کامیابی، دینی علمی خدمات میں فعال کے لئے کوشاں رہے۔ ان کے ذہن وفکر، قلب و مزاج کی اور اخلاق و کردار ہر ایک کی اصلاح کے ساتھ انہیں مردان کار کی صف میں نمایاں مقام پر لاکھڑا کرے۔ یہ خوبیاں حضرت فیض ملت علامہ اویسی صاحب میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ طلباء کے رجحانات سے آگاہی، طلباء مختلف ذوق اور رجحان کے حامل ہوتے ہیں۔ بعض کو شعر و سخن سے دلچسپی ہوتی ہے۔ بعض تقریر و خطابت کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ بعض تجوید و قرأۃ کی مہارت چاہتے ہیں۔ بعض تصنیف و تالیف کا شوق رکھتے ہیں۔ قبلہ اویسی صاحب طلباء کو ان کے رجحانات کے مطابق باریک بینی سے نقاط بیان فرماتے ہیں اور طلباء کو تمام شعبہ جات کے لئے نہ صرف حوصلہ افزائی فرماتے ہیں بلکہ مناسب رہنمائی سے بھی نوازتے ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ طلباء کی صلاحیتوں کو  صحیح رخ پر لگایا جائے اور ہر میدان میں فاضل پیدا ہوں۔ علامہ محمد منشاء تابش قصوری حضرت فیض ملت کی تدریس کے متعلق لکھتے ہیں کہ ااظہار علم کا بڑا شعبہ وتدریس اور تعلیم و تعلم ہے۔ تبلیغ دین کی انجام دہی میں اسے اولیت حاصل ہے۔ مدرس کی خوبیوں میں بنیادی وصف حسن اخلاق ہے۔ قابلیت، محنت تو بعد کی باتیں ہیں مسند تدریس پر وہی استاد کامیاب و کامران نظر آئے گا جو اخلاقی اعتبار سے طلباء پر اثر انداز ہوگا۔ رعب و جلال اور علمیت کا بھاری بھرم تلامذہ کے دل میں ادب و احترام اور محبت و عظمت کا سکہ نہیں بٹھا سکے گا۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض مدرسین نئے نئے طلباء پر سختی کی انتہا کردیتے ہیں اور طلبائایک ایک کرکے اپنی راہ لیتے ہیں اور استاد کے لئے صرف مسندی زینت رہ جاتی ہے اور وہ اپنی اس کمزوری کو دور کرنے کے لئے قطعا توجہ نہیں دیتا۔ آخر کیا ماجرا ہے کہ میرے تلامذہ داغ مفارقت کیوں دے گئے۔ ان خوبیوں کو اگر علامہ اویسی صاحب میں دیکھا جائے تو جوبن پہ نظر آتی ہیں۔ طالب علم سے محبت و شفقت سبق کو احسن طریقہ سے سمجھانا اور پھر سوالات کے جوابات کو ذہن نشین کروانا آپ کا طرہ امتیاز ہے۔ مجھے آپ سے شرف تلمذ حاصل نہیں مگر آپ کے تلامذہ میں سے جن کو بھی راقم السطور جانتا ہے۔ وہ آپ کا نام احترام سے لیتا ہے اور آپ کے انداز تدریس کی تعریف اور آپ کی شفقت کا برملا اظہار بالفاظ شیریں کرتاہے۔ آپ کی عاجزی و انکساری پر رطب اللسان نظر آتا ہے۔ تلامذہ آپ کا اپنا محسن تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے ارشد تلامذہ بھی آپ بہترین شہرت کا سبب ہیں اور آپ کی ذات ان کے حقوق کی محافظ ہے۔ سالہا سال سے مسلسل محنت سے ہزاروں فضلائ، علماء اور حفاظ پیدا ہوئے جن کی فہرست طویل اور شمار سے باہر ہے۔ ان کے اسماء گرامی درج کرنے کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہیں۔
دارالعلوم کی خدمات و خصوصیات
مختصر عرصہ میں قلیل آمدنی کے باوجود دارالعلوم نے ملک وقوم کو بڑے بڑے جید علمائ، مبلغین، قرائ، حفاظ، امت مسلمہ کی صحیح مذہبی رہنمائی کے لئے ایک کثیر جماعت عطا کی ہے جس پر بجا طور پر فخر کیا جاسکتا ہے۔ایسے جید علمائے دین جو مختلف ممالک اسلامیہ میں دینی مدارس قائم کرکے قال اﷲ و قال رسول اﷲ (جل جلالہ،ﷺ) کی جاں پرور صدائوں سے امت مصطفیﷺ کو نئی زندگی عطا کررہے ہیں اور اس کا ثواب ان مخیر حضرات کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا جو دارالعلوم کی مالی و اخلاقی مدد فرما رہے ہیں (آیئے آپ بھی اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر تعاون فرمائیں) دارالعلوم سے فارغ التحصیل علماء پاک فوج میں نائب صوبیدار (خطیب) کی حیثیت سے بھرتی ہوتے ہیں۔ دارالعلوم کا شمار ان مدارس میں ہوتا ہے جن کی اسناد افواج پاکستان میں قبول کی جاتی ہیں۔ دارالعلوم کے سینکڑوں فضلاء پاک فوج میں دینی، مذہبی، تعلیمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ نیز محکمہ اوقاف میں بہت سے فضلاء امامت و خطابت پر فائز ہیں۔ سرکاری و نیم سرکاری تعلیمی اداروں (اسکولز، کالجز، یونیورسٹی) میں بھی دارالعلوم کے تعلیم یافتہ طلباء تدریس کے فرائض احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔
اوقات تعلیم (موسم گرما) برائے اقامتی طلبائ: صبح نماز تہجد تا نماز فجر تلاوت کلام مجید اوراد و  وظائف  اور اسباق یاد کرنا بعد نماز فجر تا 7:30 بجے اسباق سنانا
اقامتی و غیر اقامتی طلباء کے لئے
اسمبلی صبح 7:30 بجے تدریس تا 11:30 بجے بعد نماز ظہر بعد نماز مغرب تا 10 بجے رات بھی برائے مطالعہ کتب/ اسباق کو یاد کرنے کی کلاس لگتی ہے۔
موسم سرما: اسمبلی صبح9 بجے باقی اوقات وہی رہیں گے۔
نوٹ: پنجگانہ نماز باجماعت کی پابندی شرط اولین ہے، کوتاہی ہرگز برداشت نہ ہوگی۔
ضروریات: دارالعلوم میں زیر تعلیم طلباء کے لئے رہائشی کمروں کی تعداد 40 کے قریب ہے۔ دارالعلوم کی تین منزلہ عمارت میں رہائشی کمروں کی ضرورت ہے۔ مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ والدین کے نام اپنے یا بچہ یا رشتہ داروں کے نام کمرہ یا تعلیمی ہال بنوا کر جنت میں محل بک کرالیں۔
لائبریری، دارالعلوم میں زیر تعلیم طلباء کے لئے لائبریری کی اشد ضرورت ہے۔ دینی، اسلامی، درسی، کتب خرید کر صدقہ جاریہ میں حصہ ملائیں۔
مرکزی جامع مسجد سیرانی: یہ بہاولپور میں اہلسنت کی مرکزی مسجد ہے۔ اس کا سنگ بنیاد سیال کے لجپال حضرت قبلہ شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی نور اﷲ مرقدہ، آستانہ عالیہ سیال شریف و محسن اہلسنت قطب وقت حضرت خواجہ بار وسئیں قدس سرہ، ومحب العلم و العلماء سلطان السالکین خواجہ سلطان بالا دین رحمتہ اﷲ علیہ آستانہ عالیہ شاہ پور شریف نے اپنے مبارک ہاتھوں سے رکھا جس کی زمین نے بے شمار اولیاء کاملین علمائے کی مقدس پیشانیوں کے بوسے لئے جس کے منبر پر بیٹھ کر حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے خلیفہ حضرت فیض ملت علامہ اویسی علیہ الرحمہ، عشق رسولﷺ میں ڈوبا ہوا خطاب فرماکر ہزاروں ویراں دلوں کو آباد کررہے ہیں۔ اپنے خطاب میں مسلک اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ، کے حقانیت میں قرآن و سنت سے دلائل کے انبار لگادیتے ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر نو کے لئے جدید نقشہ تیار ہے۔ سیمنٹ، سریا، بجری و دیگر تعمیراتی سامان دے کر فردوس اعلیٰ میں اپنے نام کا عالی شان محل بک کرائیں۔ مالی امداد کرنے والے حضرات بنام مسجد سیرانی اکائونٹ نمبر 1503 مسلم کمرشل بینک عیدگاہ برانچ بہاولپور ارسال کریں۔
مرکز فیض اویسیہ کے قیام کا منصوبہ
جامعہ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان مذہبی، دینی، اشاعتی، منصوبے کا عزم کررکھا ہے جس کے تحت درج ذیل شعبہ جات ہوں گے۔
٭ جدید تقاضوں کے پیش نظر بچوں کو قرآنی تعلیمات کے ساتھ اخلاقی و روحانی تربیت کے ساتھ مختلف شعبہ جات کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
٭ کمپیوٹر کمپوزنگ سینٹر جس میں دینی علوم کے ساتھ طلباء کو جدید سائنسی ٹیکنالوجی کی تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا اور سنی علمائے کرام بالخصوص حضرت فیض ملت کے سینکڑوں غیر مطبوعہ علمی، تحقیقی مضامین کمپوز کئے جائیں گے۔
٭ سنی پریس، دور حاضرہ میں مذاہب باطلہ آئے دن نئے نئے فتنے کھڑے کرکے ملت اسلامیہ کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اشاعتی محاذ پر کام کررہے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں اپنے سچے مذہب کی اشاعت ضروری ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے سنی پریس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لئے بہاولپور شہر میں رقبہ خرید کر منصوبے کا آغاز کرنا ہے۔ لہذا مسلک کا درد رکھنے والے مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ اس کارخیر میں ہماری مالی معاونت فرما کر اﷲ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیبﷺ کی خوشنودی حاصل کریں۔ بذریعہ چیک ڈرافٹ کی صورت میں بنام جامعہ اویسیہ رضویہ اکائونٹ نمبر 1328-2 مسلم کمرشل بینک عیدگاہ برانچ بہاولپور ارسال کریں۔