ایک نظر سیلاب کی وجوہات پر

in Tahaffuz, October-November 2010, بنت فضل بیگ مہر, متفرقا ت

وطن عزیز پاکستان کے کئی علاقے سیلاب کی زد میں آئے۔ بے شمار گائوں بالکل تباہ ہوگئے۔ ان علاقوں میں رہنے والے کئی افراد سیلاب کے بے رحم تھپیڑوں کی نذر ہوچکے ہیں اور جو افراد زندگی کی جنگ جیت چکے ہیں وہ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوکر کھلے آسمان تلے یا خالی خیموں میں نہایت کسمپرسی کی عالم میں دال روٹی کی جنگ لڑنے لگے… کئی دنوں تک ان بے چاروں کے پاس دال روٹی تو بہت دور کی بات… دال روٹی کے لئے دو برتن تک نہیں تھے… ایک سوکھے نوالے کے لئے ترستے رہے اور ان کے بچے بھوک کی شدت سے بلبلاتے رہے… ان میں جو بیمار تھے، ان کو دوا میسر نہ تھی… یہ بے گھر افراد سر چھپانے کے لئے سائبان ڈھونڈتے رہ گئے… جبکہ دوسری جانب امدادی کیمپ جگہ جگہ لگ گئے اور امداد بھی نظرآنے لگی… سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لئے دینے والوں نے کھلے دل سے امداد دی اور اکھٹی کرنے والوں نے دونوں ہاتھوں سے امداد وصول کی۔ مگر وہ جو اس امداد کے مستحق اور منتظر تھے، ان میں سے بعض تک تھوڑی بہت امداد پہنچ گئی اور بعض انتظار ہی کرتے رہ گئے۔
دیکھا جائے تو نہ صرف ملکی امداد بلکہ غیر ملکی امداد بھی ملی۔ مگر حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ یہ ساری امداد آخر کہاں چلی گئی اور اگر امداد پہنچائی گئی ہے تو کن لوگوں تک پہنچائی گئی…؟ سیلاب متاثرین کے نام پرجو امداد دھڑا دھڑ وصول کی گئی… سچ تو یہ ہے کہ اس امداد کا چوتھا حصہ بھی صحیح طرح مستحقین تک نہیں پہنچایا گیا…!! امداد اکھٹی کرنے والوں کو تو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ انہیں صرف عوام کے سامنے ہی نہیں بلکہ اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں بھی جواب دہ ہونا ہے۔
قارئین! یہ سرسری جائزہ تو تھا امداد کا… اور اب نظر ڈالتے ہیں سیلاب کی وجوہات پر… پاکستان کی تاریخ کے اوراق پر 2005ء میں آنے والا شدید زلزلہ اور اس زلزلے میں ہونے والی تباہی بھی رقم ہے۔ اور اب پانچ سال کے بعد شدید سیلاب اور اس سیلاب میں ہونے والی تباہی بھی رقم ہوگئی۔ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتا ہوا تیزی کے ساتھ بڑھنے والے سیلاب کے بارے میں کسی نے سوچا کہ آخر ہم اس ناگہانی آفت کی زد میں کیوں آئے…؟؟
بکھر کر رہ گئیں کیوں اپنی عظمت کی وہ تصویریں
ہمیں اب اپنے بارے میں بہت کچھ سوچنا ہوگا
کیا کبھی چند گھڑیاں تنہائی میں بیٹھ کر ہمارے سیاسی لیڈروں نے اپنا محاسبہ کیا کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے تھا اور ہم کیا کررہے ہیں… ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والے اسلام کا نعرہ تو بلند کرتے ہیں مگر اسلامی اصولوں کے نفاذ کے لئے عملی طور پر کچھ نہیں کرتے… یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں ہر جگہ گناہوں کے بازار گرم ہیں اور برائیاں جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی ہیں۔
برائیوں کی یہ آگ غریبوں کی نہیں۔ امیروں کی لگائی ہوئی ہے۔ کیا نائٹ کلبوں کی، سنیما گھروں کی، لاہوری مجروں کی، شراب خانوں کی، قمار بازی کے اڈوں کی، حسن کے بازاروں کی، رشوت کے لین دین کی، سودی کاروبار کی، قتل وغارت گری کی، ظلم و بربریت کی، فحاشی و عریانی کی، الغرض ہر ہر برائی کی سرپرستی و نگرانی دولت مندوں نے نہیں کی…؟؟ اور آج برائیاں اور جرائم ہیں کہ حد سے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ پورا ملک اس آگ کی لپیٹ میں ہے۔
معلوم ہوئے ہم کو بہت سے تیرے قصے
ہر بات تیری ہم سے اچھالی نہیں جاتی
اے کاش! اپنے کرتوتوں کی طرف خود ہی نظر ہوجاتی… یاد رکھئے کہ برائیاں جب حد سے بڑھنے لگتی ہیں تو پھر زلزلے بھی آتے ہیں اور سیلاب بھی چڑھتے ہیں… سابقہ قوموں سے اگر ایک گناہ ہوتا تھا تو وہ عذاب میں گرفتار ہوجاتے تھے… اور دیکھا جائے تو ان کا ایک گناہ ہمارے اندر موجود ہے۔پھر بھی ہم عذاب کی لپیٹ میں نہیں آتے کیونکہ ہم امت محمدیﷺ ہیں… ہاں البتہ جب گناہ بڑھ جائیں تو اس طرح کے سیلاب اور زلزلے مسلمانوں کو جھنجھوڑنے کے لئے آتے رہتے ہیں۔ تاکہ مسلمان غفلت کی نیند سے جاگ جائیں۔ گناہوں سے سچی توبہ کرلیں اور برائیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔
ہمارے وطن عزیز میں کیا کچھ نہیں ہورہا… لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے اور سرعام کیا اور کروایا جارہا ہے، اسے برائی ہی نہیں سمجھا جاتا۔ اسلامی اصولوں کی سرعام خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ مگر کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا… آپ خود سوچیں اور غوروفکر کریں کہ جو کام ہمارے ہاں ہورہے ہیں یا کروائے جارہے ہیں کیا ان کاموں کی اسلام میں اجازت دی گئی ہے… آیئے وطن عزیز میں ہونے والی برائیوں میں سے چند برائیوں کا تذکرہ مختصر وضاحت کے ساتھ کرتے ہیں… رشوت کے بارے میں… کیا رشوت کے لین دین کی اسلام نے اجازت دی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں دی مگر اس کے باوجود یہ برائی عام ہے۔ ایک قابل اور باصلاحیت شخص اپنی محنت اور لگن سے اپنے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسے پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا۔ مگر ایک نااہل شخص رشوت اور سفارش کے بل بوتے پر پہنچ جاتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ رشوت لینے اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔
سود کے بارے میں… اسلام میں سود کا سختی سے منع کیا گیا ہے۔ مگر اس کے باوجود سود کا کاروبار عروج پر ہے۔ بے شمار لوگ سود میں جکڑے ہوئے ہیں۔ سود کے استعمال کا ایک مہذب انداز ’’کریڈٹ کارڈ‘‘ کی صورت میں اپنایا جاتا ہے… ہماری زیادہ تر بینکاری سود پر چل رہی ہے… سود کے استعمال سے مال کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔ شراب کے بارے میں… شراب کا استعمال پانی کی طرح کیا جارہا ہے، جبکہ شراب حرام ہے۔ اس کے باوجود امیروں کی تقریبات میں باقاعدہ شراب کا دور چلتا ہے اور جام سے جام ٹکرائے جاتے ہیں اور اس پر ان کی دیدہ دلیری تو دیکھئے… بقول شاعر:
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے
ان شرابیوں کے نزدیک گویا شراب پینا کوئی جرم ہی نہیں ہے… گانے باجے موسیقی کو روح کی غذا سمجھا جاتاہے۔ ہر طرف بے حیائی، فحاشی اور عریانیت کی بھرمار ہے۔ بدکاریوں کے اڈے سرعام چل رہے ہیں… غریبوں کے پاس تو کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بے چارے ایسی جگہوں کا رخ کیسے کرسکتے ہیں۔ ان برائی کے بازاروں میں تو صرف امیروں کی چلتی ہے۔ امیر چاہیں تو ان بدکاریوں کے اڈوں کو بند کروا سکتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر وہ ان جگہوں پر جانابند کردیں گے تو یہاں کی رونقیں خود بخود ختم ہوجائیں گی۔ ان بازاروں کا نام و نشان تک مٹ جائے گا… مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کی جان، عزت اور مال محفوظ نہیں… کہیں خودکش دھماکے ہیںاور کہیں ٹارگٹ کلنگ میں جانیں ضائع ہورہی ہیں … اور کہیں کاروکاری کے الزام میں قتل و غارت گری کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ کیا ان سب باتوں کی اسلام اجازت دیتا ہے…؟؟
چند ماہ پہلے ہونے والے سانحہ سیالکوٹ کی طرف نظر کریں تو رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں… چنگیز اور ہلاکو خان نے بھی اس طرح کے مظالم شاید نہ ڈھائے ہوں… پولیس اور عوام کی موجودگی میں بچوںکو نہایت بے دردی کے ساتھ وحشیانہ انداز میں ڈنڈوں سے مارا گیا اور بچے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ہمیں گولی ماردو مگر اس طرح نہ مارو… ان بچوں کو جان سے مارنے کے بعد بھی سکون نہ ملا اور وحشیوں نے بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے پائپ کے ساتھ الٹا لٹکادیا… غیروں نے جب سنا ہوگا تو کیا کہا ہوگا کہ واہ پاکستانی قوم کہ اپنوں کے ہاتھوں اپنے بھی محفوظ نہیں…!!
اور ستم بالائے ستم کہ قانون کے محافظوں کی موجودگی میں یہ سب کچھ کیا گیا… ہائے افسوس! کہیں تو قانون کے محافظوں کی موجودگی میں دن دہاڑے بچوں کو جان سے مارا جاتا ہے اور کہیں قانون کے محافظ دوسروں کے ساتھ مل کر عورت کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیتے ہیں۔
ہمارے ہاں نہ تو پچاس سالہ عورت کی عزت محفوظ ہے اور نہ پانچ سالہ بچی کی عزت محفوظ ہے… 20 جولائی 2010ء کے ریاست اخبار کی رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ شہر میں قانون کے 2 محافظ دیگر تین افراد کے ساتھ مل کر 50سالہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی… وڈیروں کے ڈیروں میں غریب ہاریوں کی بیٹیوں کی عصمت دری کی جاتی ہے… اور ان وڈیروں کی نجی جیلوں میں ظلم و تشدد کا ہر کھیل روزانہ کھیلا جاتا ہے … کیا کیا نام دوں اس وحشت و بربریت اور درندگی کو… کس کس برائی کا ذکر کروں… وہ جو کہتے ہیں کہ سیلاب سے فلاں فصل تباہ ہوگئی اور اتنا نقصان ہوگیا… ارے کیا کبھی ان مظلوم غریب ہاریوں کے بارے میں سوچا جن کی بیٹیوں کی عزتیں تباہ و پامال کی جاتی ہیں۔ وہ جن کو کاروکاری کے الزام میں قتل کردیا جاتا ہے اور پھر دفن کرکے ان کی قبر کا نام و نشان مٹانے کے لئے ان کی قبروں پر گندگی کا ڈھیر لگادیا جاتا ہے… ہائے مسلمان تیری بے بسی… برائی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا… بلکہ بے گناہ انسان کو ختم کردیاجاتا ہے۔
اے کاش برائی کا خاتمہ کیا جاتا تو ناگہانی آفتوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا… یہ سیلاب گناہوں کا نتیجہ ہے… پھر کہتے ہیں کہ یہ سیلاب تو پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا سیلاب ہے۔
ارے ذرا غور تو کرو پاکستانی خود بھی تو پاکستان کی تاریخ میں کیسے کیسے واقعات رقم کررہے ہیں… اور جب آنکھیں بند کرکے برائیاں کرو گے تو کھلی آنکھوں سے سیلاب تو دیکھنا پڑے گا…!!
اپنے کرتوتوں کی طرف نظر کرو… اپنی حرکتوں کا محاسبہ کرو… اپنے گریبانوں میں جھانکو… اور اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوکر سچی توبہ کرلو…!
پاکستان کو تباہی کی طرف لے جانے والو! ہوش کے ناخن لو… اپنے دن سنگین جرم اور راتیں رنگین جرم میں گزارنے والو! ابھی بھی وقت ہے… سدھر جائو… اب بھی کچھ نہیں بگڑا…!!
سچ سننے سے اذیت ہوتی ہے مگر سچے کبھی باطل کی حمایت نہیں کرتے… بابا بلھے شاہ رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ
سچ آکھیاں بھانبڑ مجدا
اس کا مطلب ہے سچ بولنے سے آگ بھڑک اٹھتی ہے، مگر سچ کا اپنا مزہ ہے۔ سچ بول کر دل کو سکون ملتا ہے…
ہمارے حکمرانوں اور رہنمائوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ عوام کے مسائل کو جانیں، ان کی مشکلات کا حل نکالیں۔ حکمرانوں کو ان مشکلات کا حل نکالنے کے لئے کچھ صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں گی۔خلفائے راشدین کے دور پر نظر ڈالئے۔ وہ اپنے فرائض کو سرانجام دیتے وقت اپنی ذات کو کبھی پیش نظر نہیں رکھتے تھے اور عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائے رکھتے تھے۔ خواہ اس میں کتنی ہی دقتیں درپیش کیوں نہ ہوتیں… حکمرانوں کو چاہئے کہ سیلاب متاثرین کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز پاکستان سے برائیوں کا بھی خاتمہ کریں… کیونکہ جب تک برائیاں ختم نہیں ہوں گی، بڑھتے سیلاب کو کوئی روک نہیں سکتا… سیلاب کی وجوہات ممکن ہے کچھ اور ہوں مگر ہماری اپنی برائیاں بھی ان وجوہات میں شامل ہیں…
برائیوں کے خاتمے کے لئے سب قدم سے قدم ملاکر چلیں۔ انشاء اﷲ عزوجل کامیابیاں خود آگے بڑھ کر ہمارے قدم چومیں گی۔