حمود بن عبداﷲ بن حمود التویجری رقم طراز ہے
وقد رد کثیر من العلمآء علی التبلیغیین، وبینوا اخطاء ہم وضلالاتھم وخطرہم علی الاسلام والمسلمین، وقد رائیت من الکتب والرسائل المولفۃ فی ذالک عدداً کثیراً، ومن اہمما کتاب الاستاذ سیف الرحمن احمد الذی تقدم ذکرہ والنقل منہ
وبعض الذین ردوا علی التبلیغیین قد صحبوہم سنین کثیرۃ، وخرجوا معہم فی سیاحاتھم ہی من محدثات الامور، ثم لمارؤا ما فی دعوتھم واعمالہم من البدع والضلالات والجہالات، فارقوہم، وحذروہم منہم ومن سیاحتھم واعمالہم المبتدعہ (القول البلیغ ص۔ 22,23)
ترجمہ: کثیر علماء کرام نے تبلیغی جماعت والوں کا رد کیا ہے، اور ان کی خطائوں اور گمراہیوں کو ظاہر کردیا ہے اور اسلام ومسلمین کو ان کے خطرے سے آگاہ کردیا ہے۔ تحقیق میں نے ان کے رد میں لکھی ہوئی کثیر کتابیں اور رسائل دیکھے ہیں، ان میں سے اہم ترین کتاب استاذ سیف الرحمن احمد کی کتاب ہے، جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور بعض وہ لوگ بھی ان رد لکھنے والوں میں بدعتوں اور گمراہی و جہالت کو دیکھا تو ان سے جدا ہوگئے اور ان سے بچ نکلے اور ان کے گشتوں اور بدعت بھرے اعمال سے محفوظ رہ گئے۔
تبصرہ قادری: قارئین کرام! اس مذکورہ تبلیغی جماعت کے رد میں اب تک کئی علمائے کرام تصانیف کرچکے اور عرب و عجم کے علماء دین نے ان کی شرارتوں سے آگاہی دلانے کے لئے انتھک محنت کی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس تبلیغی جماعت کے کارندوں نام نہاد مبلغوں نے انہی جہالت وضلالت کے ذریعے ملک و ملت اور دین اسلام کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔ حمود بن عبداﷲ بن حمود التویجری نے اپنی اس کتاب ’’القول البلیغ‘‘ کے حصہ اول میں کہا کہ سائل نے مجھ سے ان کے بارے کیا پوچھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں تو میں یہ کہوں گا کہ ان کے معاملات سنت و شریعت سے جدا ہیں اور بدعتوں، گمراہیوں کو انہوں نے اپنالیا ہے اور نئی باتوں، بری باتوں کو گھڑنا شریعت میں ناپسندیدہ ہے۔
امام احمد، امام بخاری، امام مسلم، ابو دائود، ابن ماجہ رحمہم اﷲ حضرات محدثین ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں:
ان رسول اﷲﷺ قال من احدث فی امرنا ہذا امالیس منہ فہو رد‘‘
امام احمد و بخاری و مسلم رحمہم اﷲ کی ایک دوسری روایت میں ہے
من عمل عملا لیس علیہ امرنا فہو رد
یعنی جو ہمارے دین میں نئی بات اپنی طرف سے پیدا کرے وہ بات رد ہے۔
قال النووی فی شرح مسلم، قال اہل العربیہ، الردھنا بمعنی المردود ومضاہ، فہو باطل غیر معتبدیہ بہ
امام نووی شرح مسلم کہتے ہیں ’’اہل عربی کہتے ہیں اس حدیث میں رد کا معنی مردود اور باطل اور ایسی چیز ہے جو قابل شمار نہ ہو‘‘ اور فرماتے ہیں یہ حدیث ہر بری چیز اور گھڑی ہوئی باتوں کے رد کے لئے ہے۔
اس حدیث میںتبلیغی جماعت کی نئی من گھڑت باتوں کا رد موجود ہے۔ ان کے اکثر اعمال وہ ہیں جو خلاف سنت نبوی ہیں اور نہ ہی وہ باتیں سنت خلفاء راشدین میں سے ہیں بلکہ ان کے امیر محمد الیاس کاندھلوی دیوبندی کی اپنی گھڑی ہوئی باتیں ہیں جو اس نے اپنے شیوخ اشرف علی تھانوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی کے کہنے پر ایجاد کی ہیں اور ان باتوں کو تبلیغی جماعت کے اصول ستہ کہا جاتا ہے۔
استاذ سیف الرحمن بن احمد دہلوی اپنی کتاب کے ص 8,7 پر لکھتے ہیں:
تبلیغی جماعت کی فکر منسوب ہے، شیخ سعید کردی المعروف بدیع الزمان کی طرف، اصل میں یہی شخص اس فکری بدعت کا موجد ہے اس کے بنائے ہوئے چھ اصولوں پر تبلیغی جماعت کاربند ہے اور ظاہر یہی ہے کہ شیخ الیاس ہندی دیوبندی کاندھلوی جب حجاز مقدس میں پہنچا تو اس نے یہاں سے یہ فکر حاصل کی اور پھر ہند میں جاکر تبلیغی جماعت کا سلسلہ اسی اصول ستہ (چھ اصولوں) پر رکھا۔
جبکہ تبلیغی جماعت کے اس طریقے پر تردید خطبہ نبوی میں موجود ہے۔
حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا:
اما بعد فان خیر الحدیث کتاب اﷲ وخیر الہدی ہدی محمد وشر الامور محدثا تھا، وکل بدعۃ ضلالۃ
یعنی بہترین کلام کتاب اﷲ ہے اور بہترین سیرت مصطفی ہے اور برے کام نئی باتیں گھڑلینی ہیں اور ہر بری نئی بات گمراہی ہے۔ بہرحال اب تک کی تقریر سے روز روشن کی طرح یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ تبلیغی جماعت جہالت و ضلالت اور رسوائی و گمراہی کا پلندہ ہے۔ ان کے اپنے من گھڑت چھ اصولوں پر ان کی کہانی کا دارومدار ہے۔ اس کے پیچھے اکابرین دیوبند اشرف علی تھانوی، رشید احمد گنگوہی وغیرہا کا ہاتھ ہے اور اس جماعت کے بانی اول الیاس کاندھلوی نے شیخ کردی کے بناوٹی اصولوں پر اس جماعت کی بنیاد کھڑی کردی اور اس کی نئی من گھڑت فکر کی ترویج کے لئے اس نے اور اس کے ساتھیوں نے دن رات ایک کرکے اولا تو مسلمانان ہند پھر اس کے بعد عرب و عجم کے اہل سنت کو ورغلانے اور ان کو ان کے عقیدہ حقہ سے ہٹانے کے لئے تبلیغی گشتوں، چلوں اور درسوں بیانوں کا سلسلہ زوروشور سے شروع کردیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے حشرات الارض کی طرح تبلیغی جماعت کے مبلغین پھیلتے چلے گئے اور اسلامی کتابوں کے بہانے لوگوں میں اکابرین دیوبند کی لکھی ہوئی وہ کتابیں جن میں اﷲ و رسول کی شان میں کھلم کھلا گستاخیاں قلمبند کی گئی ہیں، ایسی کتابیں تبلیغی جماعت والے تقسیم کرنے لگ گئے اور اس طرح ان تبلیغی لوگوں کے ذریعے وہابیت پھیلنی شروع ہوگئی اور اب تو گھر گھر میں ان کے جراثیم اثر کرتے چلے جارہے ہیں۔ اس لئے ان بدعتوں کے حامیوں اور ان کے شر سے بچنے کے لئے ان تبلیغی وفود اور گشتوں کا اپنے اپنے علاقوں کی مسجدوں میں داخلہ بند کروانے کی ہرممکن کوشش کریں تاکہ آپ کی آنے والی نسلیں ان انسان نما بھیڑیوں کے شکار سے بچ سکیں اور یہ انہیں زہر ملاشربت شہد بنا کر پیش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
حمود بن عبداﷲ بن حمود التویجری رقم طراز ہے:
واما قول السائل، ہل الصحہ بالخروج مع التبلیغین فی داخل البلاد ای البلاد السعودیۃ او فی خارجھا ام لا؟
فجوابۃ ان اقوال: انی انصح السائل وانصح غیرہ من الذین یحرصون علی سلامۃ دینہم من ادناس اشرک والغو والبدع والخرافات ان لاینضمو الی التبلیغیین، ولایخرجوا معھم ابداً وسواء کان ذالک فی البلاد السعودیۃ اوفی خارجھا، لان اہون مایقال فی التبلیغیین انہم اہل بدعۃ وضلالۃ وجہالۃ فی عقائدہم وفی سلوکھم ومن کانوا بہذہ الصفۃ الذمیمۃ، فلاشک ان السلامۃ فی مجانبتھم والبعدعنھم (ص 30)
ترجمہ: سائل کا یہ پوچھنا کہ یہ کیا میں اسے تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ نکلنے کی نصیحت کرتا ہوں بلاد عربیہ میں یا اس کے علاوہ میں یا پھر میں اسے ان کے ساتھ نکلنے سے منع کرتا ہوں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں اس سائل اور اس کے علاوہ جو لوگ بھی اپنے دین کی سلامتی چاہتے ہیں، ان کو تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ نکلنے سے منع کروں گا تاکہ ان کا دین بچ جائے وہ شرک و بدعت اور غلوبازی کا شکار نہ ہوں اور کبھی بھی ان کے ساتھ مت نکلیں، خواہ عرب ممالک میں ہوں یا عجم میں، اس لئے کہ سب سے ہلکی بات تبلیغیوں کے بارے میں یہ ہے کہ یہ اہل بدعت و ضلالت وجہالت ہیں۔ ان کے عقیدوں اور طریقوں میں یہ خرافات موجود ہیں، اور جو شخص ان بری خصلتوں (بدعت و جہالت وضلالت) سے متصف ہو، اس سے دور رہنے میں سلامتی ہے۔
تبصرہ قادری: اس آخری قسط میں اسی سائل کا ذکر ہے جس کے بارے میں ابتدا میں ’’القول البلیغ‘‘ کے مصنف نے کہا تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا ہے کہ آیا میں تبلیغی جماعت کے ساتھ گشت کرنے کے لئے عرب ممالک یا عجم میں جائوں یا نہ جائوں تو اسکے جواب میں مصنف کا کہنا یہ تھا کہ یہ جماعت بدعت و ضلالت اور رسوائی و گمراہی کا پلندہ ہے۔
اب قارئین کرام! اندازہ کیجئے کہ ایسی جماعت کے ساتھ چلّوں میں گھومنے والے کی کیفیت کیا ہوگی اور اس کی صحبت جب ایسے لوگوں کے ساتھ ہوگی تو وہ خود کیسی جہالت و ضلالت کا شکار ہوگا، اس کا اندازہ ہر عقل سلیم رکھنے والا خود کرسکتا ہے۔
ولقد احسن الشاعر حیث یقول
فلا تصحب اخا الجہل    ویاک وایاہ
فکم من جاہل اردی    حلیما حین اخاہ
یقاس المرء بالمرئ    اذاما ہوشاہ
ترجمہ: کسی جاہل ساتھی کی صحبت اختیار مت کر، خود اس سے دور رہ اور اس کو اپنے سے دور رکھ۔ بہت سارے جاہل جب بھائی بنتے ہیں تو بردبار نظر آتے ہیں اس لئے کہ آدمی آدمی کو اپنے آپ پر قیاس کرتا ہے جس کو وہ اسے چاہے۔
وقال آخر واحسن فیما قال
وما ینفع الجرباء قرب صحیحۃ
الیہا ولکن الصحیحۃ تجرب
خارش زدہ کو صحت مند کا قرب نفع نہیں دیتا
ہاں البتہ صحتمند اس کے قرب سے خارش والا ہوجاتا ہے
تفسیر: اسلامی نظریہ کے مطابق کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا کہ ایک سے دوسرے کو لگ جائے، یوں پھر اعتراض ہوگا کہ پہلے کو کہاں سے لگا۔ یہ ایک مثال تھی جو شعر میں بیان ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اچھے کی صحبت برے کو اچھا کم بناتی ہے مگر برے کی صحبت اچھے کو جلد برا بنادیتی ہے (قادری القول البلیغ کے مولف نے اپنی کتاب کے حصہ اولیٰ کے آخر میں ایک درج ذیل تنبیہ رقم کی ہے۔
جو شخص تبلیغی جماعت والوں کے معاملے میں توقف کرتا ہے اور انہیں اچھا جانتا ہے اسے چاہئے کہ وہ قائد محمد اسلم پاکستانی کی کتاب بنام جماعۃ التبلیغ کا مطالعہ کرے۔ اس کتاب میں ان کے اکابرین کے عقائد باطلہ اور اقوال فاسدہ کا ذکر موجود ہے۔ جن کو پڑھ کر یا سنکر اہل ایمان کے دل ہل جاتے ہیں۔
اس کتاب میں محمد اسلم پاکستانی نے کہا جس جماعت کی بنیادیں غلط اقوال و نظریات پر ہو، اس سے دوسروں کی اصلاح کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے۔
اسی طرح خود ’’القول البلیغ‘‘ عربی زبان میں اس جماعت کی حقیقت کا خوب بیان کرتی ہے اور ان کی نقاب کشائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
رئیس التحریر علامہ ارشد القادری مرحوم کی کتاب ’’تبلیغی جماعت‘‘ اس جماعت کی تخریب کاری کے بیان میں اپنی مثال آپ ہے۔
اس کے علاوہ ابوریب ڈاکٹر عبدالرحمن کی ’’جماعۃ التبلیغ‘‘ (عربی) لاجواب کتاب ہے۔
ڈاکٹر محمد سلیم کی کتاب ’’تبلیغی جماعت کی علمی و عملی کمزوریاں‘‘ ناشر دارالحکمت لاہور پاکستان یہ کتاب ایک تبلیغی عالم کے قلم سے لکھی ہوئی وہ حقیقت ہے جس کے جھٹلانے کے لئے تبلیغی جماعت کو اپنی جماعت کا پورا نقشہ تبدیل کرنا پڑے گا یا کوئی نئی تبلیغی جماعت بنانا پڑے گی جس میں یہ علمی و عملی کمزوریاں ناپید ہوں جو موجودہ جماعت میں ہیں۔-
خاتمہ
الحمدﷲ علی احسانہ! آج سے تقریبا دو سال قبل فروری2009ء میں ’’القول البلیغ فی التحزیر من جماعۃ التبلیغ‘‘ مولفہ شیخ حمود بن عبداﷲ بن حمود التویجری المتوفی 1413ھ سے اقتباسات نقل کرکے ان کے تحت ترجمہ و تبصرہ قادری تحریر کرکے قسط وار ’’تبلیغی جماعت کا تعارف‘‘ پیش کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، اس میں تبلیغی جماعت کے کارنامے اور ان کے ساتھ فکری و نظریاتی اتحاد و یگانگت رکھنے والی دو پارٹیوں یعنی قادیانیوں اور شیعوں کا انتہائی مثبت انداز میں دلائل کی روشنی میں بذریعہ حوالہ جات رد پیش کرتے ہوئے یہ سلسلہ 17 قسطوں پر محیط ہوگیا۔ اب اس قسط نمبر 17 پر اس سلسلے کو موقوف کرتے ہیں۔ استدعا ہے کہ تمام قارئین کرام سے بالخصوص حضرات علمائے کرام سے اس سلسلے میں کوئی لغزش و کوتاہی یاشرعی غلطی پائیں تو راقم الحروف کو مطلع فرمائیں تاکہ اس کو کتابی شکل میں چھاپنے سے قبل اس کی تصحیح ہوجائے اور یہ بھی گزارش ہے کہ اس مضمون کے مستقل قاری بالخصوص اور عام مسلمان بالعموم اس سلسلے میں آج تک پیش کردہ کتب کے اصلی حوالہ جات کو ضرور ملاحظہ کیجئے اور ممکن ہو تو ان سب کتابوں کا وسیع النظری سے مطالعہ کیجئے۔

)