مسئلہ علم غیب پر غیر مقلد مولوی سے قلمی مناظرہ

in Tahaffuz, December 2010, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, علامہ مولانا عدنان سعیدی رضوی

رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کچھ فرشتے رات میں اور کچھ فرشتے دن میں یکے بعد دیگرے آتے رہتے ہیں اور نماز فجر اور نماز عصر میں اکھٹے ہوتے ہیں پھر وہ فرشتے جو تم میں رات بھر رہے اوپر جاتے ہیں تو فیسلھم ربھم وہوا علم بہم کیف ترکتم عبادی فیقولون ترکنا ہم وہم یصلون واتیناہم وہم یصلون (ص 457، صحیح بخاری باب مواقیت الصلوٰۃ باب فضل صلوٰۃ العصر ص 79 ذکر الملائکہ کتاب التوحید باب قول اﷲ عزوجل تعرج الملائکہ والروح اﷲ ص 1105 ج 2 وباب کلام الرب مع صحیح بخاری باب مواقیت الصلوٰۃ کتاب الصلوٰۃ نسائی کتاب الصلوٰۃ)
ان سے ان کا رب سوال کرتا ہے حالانکہ وہ ان کے حال کو خوب جانتا ہے۔ تم نے میرے بندوںکو کس حال میں چھوڑا۔ تو فرشتے عرض کرتے ہیں ہم نے ان کو چھوڑا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ان کے پاس جب گئے تو بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ اب بتائیں کہ پوچھ لینے سے یا جواب دینے سے یہی عقیدہ لازم آتا ہے کہ وہ عالم ماکان ومایکون نہ ہو تو اس حدیث کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جبکہ میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ تو واضح فرما رہے ہیں کہ وہ (اﷲ عزوجل) سوال و جواب کا محتاج نہیں بلکہ ’’وہو اعلم‘‘ وہ خوب جانتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ماکان و مایکون کا علم رکھتے ہوئے بھی پوچھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اب بتایئے کہ اﷲ تعالیٰ عالم ماکان ومایکون ہے یا نہیں؟
سوال نمبر 12: اگر نبیﷺ کو نزول وحی سے پہلے ہی علم عطائی کے ذریعے آپ کی برأت کا علم تھا تو یہ کہنے کا کیا مطلب بنتا ہے کہ اے عائشہ! اگر تجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے تو اﷲ سے مغفرت مانگ اور توبہ کر؟
الجواب: اس کا یہی مطلب بنتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے کہا میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ واﷲ انی لاستغفراﷲ واتوب الیہ فی الیوم اکثر من سبعین مرۃ (صحیح بخاری کتاب الدعوات ص 2 )
اﷲ کی قسم میں اﷲ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں روزانہ ستر مرتبہ سے بھی زیادہ۔ باقی رہا سیدۂ کائنات کا یہ فرمانا کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ میں بری ہوں اور اﷲ جانتا ہے کہ میں بری ہوں تو اس سے کیا مطلب ہے کہ ایک شخص تو کل علی اﷲ کی بناء پر یہ بات کرے اس میں یہ کب اور کہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ تو بے شک جانتا ہے مگر مصطفی کریمﷺ معاذ اﷲ نہیں جانتے۔
سوال نمبر 13: اگر رسول اﷲﷺ بھی ماکان ومایکون کا علم رکھتے ہو۔ اس واقعہ کی حقیقت سے آگاہ ہوتے تو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا جاننے کی نسبت اﷲ کی طرف نہ کرتیں بلکہ آپ کی طرف بھی جاننے کی نسبت کرتیں۔
الجواب: ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ یہ الفاظ مبارکہ تو کل علی اﷲ کی بناء پر مبنی ہیں، ان سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رسول اﷲﷺ معاذ اﷲ کچھ نہیں جانتے۔ آپ نے تو کل علی اﷲ کو بھی نفی علم غیب مصطفیﷺ کی دلیل بنا ڈالا۔ ہاں حضرت سیدہ کائنات رضی اﷲ عنہا معاذ اﷲ رسول اﷲ سے نفی فرماتیں تو آپ بھی اعتراض کرسکتے تھے۔ یہاں سے حضرت طیبہ طاہرہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا تو کل علی اﷲ تو واضح ہورہا ہے مگر نفی علم غیب کے شوشے آپ چھوڑ رہے ہیں۔ حضرت ام المومنین رضی اﷲ عنہا اس الزام سے بری ہیں۔
کاش کہ مولوی صاحب آپ نے اپنی طرف سے پیش کردہ حدیث اور اس کے ترجمہ ہی کی لاج رکھی ہوتی، متن حدیث بھی آپ کو مستحضر نہیں رہا تو اس میں آقا کریمﷺ کا کیا قصور ہے کہ آپ نے مصطفی کریمﷺ کے علوم کو ہی حدف تنقید بنانا شروع کردیا ہے۔ اصل واقعہ تو یہ ہوا کہ جب آقا کریمﷺ نے حضرت امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ اور حضرت بریرہ رضی اﷲ عنہا سے مشورہ فرما کر فارغ ہوئے تو اگلی تحریر آپ کے ہی کئے ہوئے ترجمہ کی ہم اقتباس پیش کرتے ہیں۔ غور سے ملاحظہ کریں آپ (مولوی عبدالماجد) نے لکھا ہے فرماتی ہیں (یعنی سیدہ کائنات رضی اﷲ عنہا) کہ رسول اﷲﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں سے کہا کہ عبداﷲ بن ابی بن سلول کے بارے میں مجھے معدور جانیں اور میرا تعاون کریں۔ منبر پرکھڑے رسول اﷲ نے فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت کون مجھے معذور جانتا ہے۔ ایسے شخص سے جس کی تکلیف کا سلسلہ میرے گھر تک پہنچ گیاہے۔ اﷲ کی قسم ہے میں اپنی گھر والی کو بھلائی پر دیکھتا ہوں اور جس شخص کا وہ ذکر کرتے ہیں اس کے بارے میں خیر کا پہلو معلوم ہے (بلفظہ ترجمہ مولوی عبدالماجد ص 5,6)
اس منبر اقدس والے واقعہ کے بعد آپ نے لکھا ہے کہ فرماتی ہیں (یعنی سیدہ کائنات) میں اس دن بھی روتی رہی، میرے آنسو نہ تھمتے تھے۔ نیند قریب تک نہ آتی تھی۔ پھر آئندہ رات بھی روتی رہی اور نیند نہ آتی تھی۔ الخ تحریر مولوی عبدالماجد ص 6,7، اس کے بعد وہ عبارت ہے جسے آپ نے ہدف تنقید بنایا ہے۔ ایسے موڑ پر اس عبارت کہ ’’اے عائشہ (رضی اﷲ عنہا) اگر تجھ سے کچھ ہوا ہے تو توبہ کر‘‘ پر اعتراض کرنا تو خود نفس نبوت پر معاذ اﷲ اعتراض کرنا ہے کہ دو دن پہلے رسول اﷲﷺ منبر اقدس پر قسم کھا کر سیدہ کائنات کی برأت کا اعلان فرما رہے ہیں اور پھر دو ہی دن بعد نعوذ باﷲ… ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ کہ نہ اپنی کھائی ہوئی قسم کا پاس رہ جاتا ہے نہ لوگوں (یعنی صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین) کے سامنے گواہی اور صفائی یاد رہتی ہے۔ گھر کے باہر میرے آقا ومولیٰ کریمﷺ قسم کھا کر جو کچھ فرما آتے ہیں گھر آکر عین اس کے خلاف کرتے ہیں۔ نعوذ باﷲ من ذالک الہفوات الرزیلۃ الوہابیہ… میں پوچھتا ہوں ملا جی کل کوئی مستشرق آپ سے یہ سوال کرے کہ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ نبی کریمﷺ صادق اور امین تھے۔ جبکہ آپ نے منبر اقدس پر چڑھ کر اﷲ کی قسم کھا کر اپنی اہلیہ مبارکہ کی برأت فرمائی پھر دو دن بعد اپنی ہی کھائی ہوئی قسم پر بھی نعوذ باﷲ اعتماد نہ رہا۔ نیز باہر مجمع عام میں قسماً کچھ فرماتے ہیں اور گھر میں آکر اس کے برعکس فرماتے ہیں کیا نبی کی یہی شان ہوتی ہے۔ کیا ایسے شخص کو صادق اور امین کہا جاتا ہے؟ تو بتایئے کہ آپ کیا جواب دیں گے؟ یہاں آپ عدم علمی کا بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ وہ کہہ سکتا ہے کہ جب عدم علمی تھی تو قسم کھا کر برأت کیوں فرمائی؟ اور جب برأت فرمادی تو گھر آکر مشکوک کیوں ہوگئے؟ ملا جی ذرا سوچ سمجھ کر جواب دیں۔ کیا آپ نبیﷺ کی ذات مقدسہ پر عدم علمی کے بہانے نفس نبوت پر میزائل تو نہیں داغ رہے؟ کیا نبی کی یہی شان ہوتی ہے کہ کسی مسئلہ میں خود ہی جب تشکیک کا شکار ہوں تو لوگوں کے سامنے قسم کھا کر ایک موقف بیان کردیں مگر اپنی نجی محفل میں وہی تشکیک کے نظریات ہی لے بیٹھیں؟ ملا جی آپ نے اتنا بھی نہ سوچا کہ جس پر اتنا بڑا الزام ہے ان کا نظریہ کیا ہے؟ سیدہ کائنات ام المومنین فرماتی ہیں کہ جب آقا کریمﷺ نے ارشاد فرمایا اے عائشہ (رضی اﷲ عنہا) مجھے آپ کے بارے میں ایسے ایسے بات پہنچی ہے اگر تو بے گناہ ہے تو عنقریب رب ذوالجلال تیری برأت کا اظہار فرمائے گا اور اگر تونے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو اﷲ تعالیٰ سے مغفرت طلب کر اور اس سے توبہ کر، کیونکہ بندہ جب گناہ کا اعتراف کرے اور پھر توبہ کرے تو اﷲ جل شانہ بھی اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ فرماتی ہیں جب رسول اﷲﷺ نے اپنی گفتگو مکمل کی تو میرے آنسو تھم گئے۔ یہاں تک کہ میں ان میں سے ایک قطرہ بھی محسوس نہیں کرتی تھی۔ ترجمہ حدیث افک از مولوی عبدالماجد اہلحدیث ص 7… اب بتایئے ملا جی کہ آپ کے منہ میں کیا رہا؟ ہم نے اوپر آپ کا ہی ترجمہ نقل کردیا ہے۔ ملا جی چاہئے تو یہ تھا کہ اس موقع پر مزید رنج و غم اور رونے کا اضافہ ہوتا کہ نبیﷺ بھی ہیں اور شوہر بھی ہیں… معاذ اﷲ جب ان کو بھی اعتماد نہ رہا اور توبہ استغفار کی ترغیب دے رہے ہیں، گویا ان کے نزدیک بھی میری پاک دامنی مشکوک ہے (نعوذ باﷲ) مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ جب سیدہ کائنات کے آنسو تھم گئے، دل کو قرار و سکون آگیا۔ کیا آپ نے سوچا ایسا کیوں ہوا؟ نہیں ہرگز نہیں اس لئے کہ آپ کو تو نبیﷺ کو بے علم ثابت کرنا ہے۔ اور بے علمی پر دلیلیں دینی ہیں، آپ کے پاس اتنی فرصت کہاں کہ
عظمت مصطفیﷺ کے بارے میں ایسا سوچ سکیں، سیدہ کائنات فرماتی ہیں۔ واﷲ ماظننت ان ینزل فی شانی وحیا (صحیح بخاری) اﷲ کی قسم مجھے پختہ یقین تھا کہ اﷲ میری شان میں وحی نازل کرے گا اور مسلم شریف کے الفاظ یہ ہیں واﷲ حینئذ اعلم انی بریۃ وان اﷲ مبرئی یبراتی (مسلم ج 2ص )
سبحان اﷲ یہ ہیں مقربان بارگاہ عزوجل کے مبارک عقائد کہ سیدہ کائنات کا یہ عقیدہ تھا کہ وہ حق پر ہیں اور اﷲ جل شانہ، اس حق کو ضرور آشکار فرمائے گا۔ مگر کب ایسا ہوگا اور مزید صبرواستقلال پر کتنا گامزن رہنا ہے یہ ابھی مستور تھا کہ میرے آقا ومولیٰ کریمﷺ نے بھی اسی عقیدہ مبارکہ کی تائید فرمادی کہ اﷲ جل شانہ تجھے بری فرمادے گا تو لسان نبویﷺ کو سمجھ گئیں کہ ایسا اب جلدازجلد ہوکر رہے گا۔ کیونکہ سیدہ کائنات ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا بھی یہی عقیدہ مبارکہ تھا۔ سیدہ طیبہ طاہرہ فرماتی ہیں ’’قلت مااری ربک الا یسارع فی ہواک‘‘ (صحیح بخاری کتاب التفسیر) میں نے عرض کیا میں یہی دیکھتی ہوں کہ اﷲ تعالیٰ آپ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے اور اتنا تو کفار کی بیویاں بھی مانتی تھیں ’’فواﷲ مایکذب محمد‘‘ (بخاری کتاب المناقب) اﷲ کی قسم محمد مصطفیﷺ کی بات جھوٹی نہیں ہوتی۔ سیدہ طیبہ طاہرہ رضی اﷲ عنہا مزاج شناس رسولﷺ تھیں، سمجھ گئیں کہ اب وقت آگیا ہے، کے گھٹا ٹوپ اندھیرے اب یک لخت حق کی ضیا پاشیوں میں بدل گئے ہیں۔ اب منافقت اپنی موت آپ مرچکی ہے۔ نوید حق کی صبح طلوع ہوگئی ہے اور رحمت خداوندی کے نزول کا وقت آپہنچا ہے تو حضرت سیدہ کائنات کے مبارک آنسو تھم گئے کہ حق ظاہر ہوا چاہتا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا کہ اسی گفتگو کے دوران ہی وحی نازل ہوگئی۔ سیدہ کائنات کی پاک دامنی عقائد اسلام میں داخل ہوگئی۔
سوال نمبر 14: اگر حضرت عائشہ بھی علم غیب رکھتیں تو حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام نہ بھولتیں، اس سے معلوم ہوا کہ علم غیب تو ایک طرف جس چیز کا ان کو علم تھا، وہ بھی غم کی وجہ سے ذہن سے غائب ہوگئی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ میرے سلسلہ میں وحی کے حوالے سے ایک مہینہ انتظار کرتے رہے، اگر آپ کو علم ماکان ومایکون کے تحت پہلے ہی اس چیز کا علم عطا کردیا گیا تھا، تو پھر آپ کے مہینہ وحی کے انتظار کرنے کا کیا مطلب ہے؟
الجواب: خیر آپ نے یہ تو تسلیم کرلیا کہ باوجود علم کے کسی چیز کا ذہن سے نکل جانا عدم علمی کو مستلزم نہیں ہوتا۔ تو پھر اعتراض ہی کیوں؟ اور ہم غیر نبی پر علم غیب ماکان ومایکون کے مدعی ہی کب ہیں؟ اب رہی اس سوال کی دوسری شق کہ باوجود علم کے مہینہ بھر وحی کا انتظار کیوں فرمایا؟ کیونکہ جناب (عبدالماجد اہلحدیث) کا مطالعہ حدیث نہ ہونے کے برابر ہے، اس لئے ایسے فضول سوالات کی بھرمار کررہے ہیں۔ ذرا صحیح بخاری کی یہ حدیث مبارکہ بھی ملاحظہ کرلیں کہ حضرت سیدنا اکبر رضی اﷲ عنہ نے کفار مکہ کے ظلم و ستم دیکھے تو مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمانے کا ارادہ فرمالیا اور اس کا اظہار جب اپنے آقا ومولیٰ کریمﷺ کے سامنے کیا تو میرے آقا ومولیٰﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم ذرا ٹھہر جائو کیونکہ مجھے بھی اجازت ملنے والی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عرض کی۔ میرے ماں باپ قربان۔ کیاآپ کو بھی ہجرت کی امید ہے۔ فرمایا ہاں۔ پس حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ عنہ بھی رسول اکرمﷺ کے ساتھ کے لئے رکے رہے اور ان کے پاس جو دو اونٹنیاں تھیں، انہیں چار مہینے تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے (بخاری شریف کتاب المناقب باب الہجرۃ النبیﷺ) بالاخر چار ماہ کے بعد وہ وقت آگیا میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ تشریف لے آتے ہیں اور فرماتے ہیں۔ فانی قد اذن لی فی الخروج۔ کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے اور آخرکار ہجرت فرمائی۔ اس حدیث مبارکہ میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ نے ارشاد فرمایا۔
فقال النبیﷺ للمسلمین انی رایت دار ہجرتکم ذات نخل مین الابتین وہما الحرتان فہاجر من ہاجر قبل المدینہ
نبیﷺ نے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمہاری ہجرت کا وہ مقام دکھا دیا گیا ہے، وہاں کھجوروں کے درخت ہیں اور وہ دو سنگستانوں کے درمیان واقع ہے۔ پھر جس نے بھی ہجرت کی وہ مدینہ منورہ ہی گیا۔
مولوی صاحب اس واقعہ کو بار بار پڑھیں کہ میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ کو ہجرت کا علم پہلے ہے۔ مقام ہجرت بھی ملاحظہ فرماچکے ہیں مگر ہجرت 4 ماہ بعد فرماتے ہیں۔ جس طرح اس واقعہ میں باوجود علم کے رکے رہنا حکمت و حکم الٰہی کے لئے تھا، واقعہ افک میں بھی باوجود علم کے صبر کرنا حکم و حکمت الٰہی کی بناء پر تھا۔ یہاں بے شمار حکمتوں میں جسے اﷲ اور اس کا رسولﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، ایک حکمت یہ بھی تھی کہ ہجرت جن حالات میں جائز ہوتی ہے، ابھی وہ وقت آنا ہے تاکہ آنے والی نسلیں یہ سمجھ سکیں کہ ہجرت کن حالات میں ثابت ہوتی ہے مگر میرے آقا ومولیٰ کریمﷺ صبرواستقلال کی مثال قائم فرمادیتے ہیں اس طرح واقعہ افک میں بھی باوجود علم کے صبر واستقلال کا وہ مظاہرہ فرمایا کہ جو کسی کے بس میں نہ تھا۔ ہم ابھی لمحہ فکریہ میں اسی موضوع پر بحث کریں گے۔ بہرحال یہ مسئلہ اظہر من الشمس ہوگیا کہ وحی کا انتظار عدم علمی کو مستلزم نہیں۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں