بے مثل آبائو اجداد رضی اﷲ عنہم

in Tahaffuz, December 2010, علامہ عطاء الرحمن انصاری, متفرقا ت

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات مبارکہ بے مثل و بے نظیر ہے۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ نے آپ کی مدح کرتے ہوئے بیان فرمایا۔
واحسن منک لم ترقط عینی

واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرا من کل عیب

کانک قد خلقت کما تشاء
آپ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے ہرگز نہیں دیکھا اور آپ سے زیادہ جمیل کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔ آپ ہر عیب سے پاک وصاف پیدا کئے گئے، گویا کہ آپ اس طرح پیدا کئے گئے جیسا کہ آپ نے چاہا۔ طبرانی میں حدیث مبارکہ ہے۔ عن عائشہ رضی اﷲ عنہا قالت رسول اﷲﷺ قال لی جبریل قلبت الارض مشارقہا ومغاربہا ولم اجد رجلا افضل من محمدﷺ و لم اجد اب افضل من بنی ہاشم
ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ مجھے جبریل نے بتایا کہ میں نے زمین کے مشارق و مغارب کو کھنگالا پس میں نے کسی مرد کو محمدﷺ سے افضل نہیں پایا اور کسی خاندان کوبنی ہاشم کے خاندان سے افضل نہیں پایا۔ قرآن پاک میں امت محمدیہ کی بے مثلیت کے متعلق ارشاد ہوا۔
کنتم خیر امۃ اخرجت للناس
تم بہترین امت ہو، تمہیں لوگوں میں سے چن لیا گیاہے۔ یعنی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت بے مثل اور چنی ہوئی امت ہے۔ ازواج مطہرات، امہات المومنین رضی اﷲ عنہن کی بے مثلیت کو قرآن نے کچھ اس طرح ارشاد فرمایا ہے۔
یانساء النبی لستن کاحد من النساء
اے نبی کی عورتوں تم کسی بھی دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہو (یعنی بے مثل ہو)
جس طرح آپﷺ بے مثل ہیں، اسی طرح آپ کی نسبت کی برکت سے آپ کی امت بے مثل ہے اور آپ کی ازواج مطہرات بے مثل بیویاں ہیں۔
اسی طرح حضورﷺ کے آبائو اجداد و امہات بے نظیر و بے مثال ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔
عن واثلۃ بن الاسقع قال سمعت رسول اﷲﷺ یقول ان اﷲ اصطفی کنانۃ من ولد اسماعیل واصطفی قریش من کنانہ واصطفی من قریش بنی ہاشم (رواہ مسلم)
حضرت واثلہ ابن اسقع رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فرماتے سنا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے کنانہ کو اولاد اسماعیل سے چن لیا اور قریش کو کنانہ میں سے چن لیا اور قریش میں سے بنی ہاشم کو چن لیا۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں کچھ اس طرح ارشاد فرمایا گیا۔
عن عباس ابن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہما قال قال رسول اﷲﷺ ان اﷲ تعالیٰ حین خلقنی جعلنی من خیر خلقہ ثم حین خلق القبائل جعلنی من خیرہم قبیلۃ حین خلق الانفس جعلنی من خیر انفسہم ثم حین خلق البیوت جعلنی من خیر بیوتہم فانا خیرہم بیتا وخیرہم نفسا
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہما سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اﷲ تعالیٰ نے جب مجھے پیدا فرمایا تو مجھے بہترین مخلوق سے کیا پھر جب قبائل کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر قبیلے میں کیا پھر جب نفوس کو پیدا فرمایا تو مجھے بہترین نفوس میں کیا اور جب خاندانوں کو پیدا فرمایا تو مجھے بہترین خاندان میں رکھا پس میں ان سے خاندان میں بھی افضل ہوں اور ذات میں بھی افضل ہوں اس حدیث کو امام ترمذی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔
شجرہ نسب
آپﷺ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ حصہ ہے جس کی صحت پر تمام اہل سیر اور اہل انساب کا اتفاق ہے جوکہ حضرت عدنان پر منتہی ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جو حضرت عدنان سے اوپر حضرت ابراہیم علیہ السلام پر منتہی ہوتا ہے۔ اس دوسرے حصے کو کسی نے قبول کیا ہے اور کچھ نے توقف کیا ہے جبکہ تیسرا حصہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوپر سے شروع ہوکر حضرت آدم علیہ السلام پر منتہی ہوتا ہے۔ سلسلۃ الذہب یعنی شجرہ پاک سید لولاکﷺ سیدنا مولانا محمدﷺ بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خذیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔
عام قاعدہ کلیہ ہے کہ لوگ اپنے آبائو اجداد کی نسبت کی بناء پر اپنے آپ کو معزز اور شریف گردانتے ہیں اور ان کے کارناموں پر فخر کرتے ہیں اور دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں لیکن آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات مقدسہ اس حوالے سے بھی جدا اور ممتاز نظر آتی ہے۔ یہ نسبت مصطفی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فیض ہے کہ آپ کے آبائو اجداد کو اﷲ تعالیٰ نے ہر زمانے میں جداگانہ امتیازات اور خصوصیات سے نوازا اور ان کو بلند مقام عطا فرمایا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
کم اب علا بابن    کما علا برسول اﷲ عدنان
شیخ جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:
اگر نام محمد را نیا وردے شفیع آدم
نہ آدم یافتے توبہ نہ نوح از غرق نجینا
یعنی اگر حضرت آدم علیہ السلام اسم محمدﷺ کو اپنا سفارشی نہ بناتے تو نہ آدم کی توبہ قبول ہوتی اور نہ حضرت نوح علیہ السلام کو طوفان نوح سے نجات ملتی۔
اہل سنت وجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ کے تمام آبائو اجداد موحد (توحید پرست) تھے۔ جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ میں اصلاب طاہرہ سے ارحام طاہرہ کی طرف منتقل ہوتا آیا ہوں۔ قرآن پاک میں مشرکین کو نجس قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے۔ انما المشرکون نجس یعنی بے شک  مشرک نجس ہیں۔ یہ نجاست ایمان سے ہی دور ہوسکتی ہے۔
ضیاء النبی میں بحوالہ بلوغ الادب فی معرفۃ احوال العرب۔ مذکور ہے۔ وذہب کثیر من العلماء الی ان جمیع اصول النبیﷺ من الآباء والامہات کانو موحدین فی اعتقادہم مومنین بالبعث والحساب و غیر ذالک مما جاء ت بہ الحنفیۃ من الاحکام
کثیر التعداد علماء کی رائے یہ ہے کہ حضور اکرمﷺ کے تمام اصول یعنی آبائو اجداد و امہات اپنے اعتقاد میں توحید کے قائل تھے۔ قیامت اور حساب پر ایمان رکھتے تھے اور ملت حنفیہ کے احکام کو تسلیم کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اﷲ کو تعمیر فرمانے کے بعد دعا کی تھی۔
جیسا تفسیر ابن جریر طبری میں ہے
عن مجاہد واذ قال ابراہیم رب اجعل ہذا البلد آمنا و اجنبی و بنی ان نعبد الاصنام قال فاستجاب لابراہیم ودعوتہ فی ولدہ
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی ’’اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنادے اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا کرنے سے محفوظ رکھ‘‘
تفسیر کبیر میں فرمایا گیا کہ فلا یزال منہم من یوحد اﷲ ویدعو الی توحیدہ
ان کی اولاد میں ہمیشہ ایسے افراد رہیں گے جو اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوں گے اور لوگوں کو توحید کی طرف بلائیں گے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مروی روایات مختلفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے نام لے لے کر اپنے آبائو اجداد کو برا کہنے سے منع فرمایا۔ اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ مومن تھے۔ آپ کے بعض آباء کے بارے میں یہ صراحت بھی آتی ہے کہ وہ بڑی شدت کے ساتھ دین ابراہیم کی تبلیغ کیا کرتے تھے اور لوگوں کو کفر و شرک سے روکا کرتے تھے۔ حسن اخلاق اور صلہ رحمی کے بارے میں زور دیا کرتے تھے۔
صاحب انوار محمدیہ من المواہب اللدنیہ نے حضرت آدم سے لے کر حضرت عبداﷲ تک نور محمدی کے بارے میں ایک وصیت کا ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام کو وصیت فرمائی تھی کہ نور محمدی کو صرف پاکیزہ عورتوں کے سپرد کرنا۔ حضرت شیث علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو یہی وصیت کی۔ اسی نسلا بعد نسل حضرت عبداﷲ تک یہ وصیت پہنچی۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے: ان رسول اﷲﷺ سال ربہ ان یحیی ابویہ فاحیا ہما لہ فآمنا بہ ثم اماتہما قال السہیل واﷲ علی کل شئی قدیر
رسول اﷲﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میرے والدین کو زندہ کیا جائے تو اﷲ تعالیٰ نے آپ کی خاطر انہیں دوبارہ زندہ کیا۔ پھر وہ آپ پر ایمان لائے اور انتقال فرما گئے۔ علامہ سہیلی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ہر چاہے پر قادر ہے۔
شجاعت و بہادری حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آبائو اجداد کی امتیازی خصوصیت ہے۔ سیدنا اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام بہت بہادر تھے۔ ان کی پکڑ بڑی سخت تھی۔ تیر اندازی فرماتے تو نشانہ خطا نہ ہوتا۔ بہترین شہ سوار تھے۔ آپﷺ کے جد اعلیٰ حضرت عدنان رضی اﷲ عنہ کو ایک مرتبہ 80 جوانوں نے گھیر لیا، انہوں نے ان کا تن تنہا مقابلہ کیا یہاں تک کہ زخمی بھی ہوگئے۔ حضرت معد رضی اﷲ عنہ نے چالیس افراد کے ساتھ بنی اسرائیل کے ایک بڑے لشکر کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی۔ حضرت معد کو ’’معد‘‘ اس لئے کہا جاتا تھا کہ وہ ہر وقت جنگ و جدل کے لئے تیار رہتے اور جب بھی کسی کے ساتھ معرکہ آراء ہوتے تو فتح ان کے قدم چومتی۔ آپ ابوالحرب تھے۔
حسان بن عبدالکلال الحمیری نے مکہ مکرمہ پر خانہ کعبہ کو ڈھانے کے لئے چڑھائی کی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جد امجد حضرت فہر بن مالک سے قریش کے قبائل کو جمع کرکے اس کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی اور حسان بن عبدالکلال حمیری کو شکست دے کر اسے جنگی قیدی بنالیا۔ حضرت قصی جن کا نام زید تھا ان کی بہادری اور شرافت سے متاثر ہوکر حلیل بن حنبیہ الخزاعی نے اپنی بیٹے حیی کا نکاح ان سے کردیا۔ ان کے بطن سے حضرت عبد مناف اور حضرت عبدالدار، عبدالعزیٰ اور عبد قصی پیدا ہوئے۔
آقاﷺ کے تمام اجداد کرام کو اﷲ تعالیٰ نے نور نبوی حسن ظاہری سے مالا مال کیا تھا۔ آپ کے اجداد میں کوئی بھی جسمانی عیوب والا اور قبیح صورت نہ تھا۔ آپ کے جد امجد عبد مناف جن کا اصل نام مغیرہ تھا، انتہائی حسین اور جمیل تھے۔ لوگ ان کو ان کے حسن جمال کی وجہ سے قمر البطحاء کہتے تھے۔ حضرت عبدالمطلب اور حرب بن امیہ نے اپنے مابین تنازع کے حل کے لئے نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح کو ثالث مقرر کیا۔ اس نے حرب بن امیہ سے کہا کہ اے ابو عمرو تم اس شخص سے تنافر اور تنازع کرتے ہو جو تم سے قد میں بڑا ہے۔ اس کا سر تمہارے سر سے بڑا ہے اور وہ تم سے زیادہ وجیہ (خوبصورت) ہے۔
حضرت معد جب پیدا ہوئے تو ان کی آنکھوںکے درمیان نور محمدی چمک رہا تھا جسے دیکھ کر ان کے والد کی مسرت کی انتہا نہ رہی اور انہوں نے بہت سارے اونٹ ذبح کرکے دعوت عام دی۔ حضرت مضر بھی بڑے حسین و جمیل تھے۔ نور محمدی کی برکت سے آپﷺ کے والد محترم حضرت عبداﷲ کے حسن و جمال کا یہ عالم تھا کہ نور کی شعاعیں ان کے چہرے سے پھوٹتی تھیں اور اونچے گھرانے کی خواتین خود ان سے نکاح کی درخواست کرتی تھی۔
علماء سیرت لکھتے ہیں کہ  فلقی عبداﷲ فی زمنہ من النساء من العناء مثل ما لقی یوسف فی زمنہ من امراۃ العزیز
یعنی حضرت عبداﷲ کو اپنے زمانے کی عورتوں کی طرف سے انہیں ایسے مشکل اور صبر آزما حالات کا سامنا کرنا پڑا جو حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے زمانے میں عزیز مصر کی بیوی کی طرف سے پیش آئے تھے۔ حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ شرم و حیا کے پیکر تھے۔
فصاحت و بلاغت میں آپﷺ کے آبائو اجداد کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قریش کی لغت افصح اللغات مانی جاتی ہے۔ ان کی فصاحت و بلاغت کے چند نمونے، حکیمانہ اقوال و محاورات عرب پیش خدمت ہے۔
حضرت قصی کے حکیمانہ اقوال: من اکرم لئیما شارکہ فی لئومہ
جس نے کسی کمینے کی تعظیم کی وہ اس کی کمینگی میں حصہ دار ہے
الحسود العدو الخفی حاسد چھپا ہوا دشمن ہے
من طلب فوق حقہ استحق الحرمان جس نے اپنے حق سے زیادہ طلب کیا وہ محرومی کا حقدار ہے
انہوں نے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ اجتنبوا الخمرۃ فانہا تصلح الابدان و تفسد الاذہان
شراب سے اجتناب کرنا کیونکہ یہ بدن کو تو درست کرتی ہے لیکن ذہنوں کو برباد کرتی ہے۔
سفارت کاری میں آپﷺ کے آبائو اجداد اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ حضرت عبد مناف کے صاحبزادگان نے بہترین سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف بادشاہوں سے قریش کے لئے مراعات حاصل کیں تاکہ یہ آزادی کے ساتھ تجارت کرسکیں، ان سے ٹیکس بھی کم لیا جاتا۔ ان کے مال کی حفاظت کی ضمانت دی جاتی، اس طرح یہ خوب نفع کماتے۔ حضرت ہاشم نے باقاعدہ سالانہ دو تجارتی سفروں کا آغاز کیا، ایک سفر سردیوں میں اور ایک سفر گرمیوں میں، جس کا ذکر سورۃ القریش میں بھی آیا ہے۔
حضرت عدنان وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا۔ سیاسی سوجھ بوجھ اور سرداری تو اولاد عدنان کے گھر کی لونڈی تھی۔ ان کے بیٹے حضرت معد نے اپنے تمام خاندان والوں کو اکھٹا کیا اور مکہ مکرمہ میں لاکر آباد کیا، ان کا حکم مانا جاتا تھا۔ حضرت قصی نے دارالندوہ قائم کیا جس کو آج کل پارلیمنٹ ہائوس کہا جاسکتا ہے، وہاں سارے سیاسی فیصلے ہوتے تھے، جھگڑے نمٹائے جاتے اور معاشرتی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا۔ انہوں نے مختلف معاہدات کے ذریعے تمام قبائل کو اکھٹا کردیا، اس وجہ سے ان کو مجمع بھی کہا جاتا ہے۔
المختصر یہ کہ انداز جہاں بانی کی تمام تر خوبیاں میرے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آبائو اجداد میں جمع تھیں اور ان کا ان خصوصیات میں کوئی ان کا مدمقابل نہیں تھا۔ اس لئے میرے آقاﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الائمۃ من القریش، مسلمانوں کے امام قریش میں سے ہوں گے۔