اسلام اور جہاد کی حقانیت

in Tahaffuz, December 2010, متفرقا ت

٭ ممبئی (بھارت) میں ایس ٹی زیوئیر کالج میں امریکی صدر اوباما نے بروز اتوار (7-11-10) کو اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام عظیم مذہب ہے جس کے ماننے والے ایک ارب سے زائد افراد ہیں۔ اسلام امن، رواداری اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ چند مٹھی بھر عناصر کی وجہ سے اسلام کا تصور خراب ہورہا ہے۔ اسلام کوموجودہ دور میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ چند دہشت گردوں کی وجہ سے اسلام کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ مسلمانوں کی اکثریت امن پسند ہے، اسلام میں جہاد کے وسیع معنی ہیں۔
امریکی صدر اوباما کے بیان پر مختصر تبصرہ
اسلام اور جہاد کی اس سے بڑی حقانیت کی دلیل اور کیا ہوگی کہ غیر بھی اسلامی اسٹیٹ میں نہیں بلکہ ایک ہندو اسٹیٹ اور لبرل اسٹیٹ میں کھڑے ہوکر اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ واقعی عالم یہودیت کتنا ہی اسلام کو بدنام کرے اور دہشت گرد مذہب ثابت کرنے کی کوشش کرے مگر اسلام حقیقت میں عظیم، امن پسند اور انصاف کا درس دینے والا مذہب ہے۔
امریکی صدر اوباما نے جہاد کے وسیع معنی کرتے ہوئے جہاد کی حقانیت کو تسلیم کیا اور جہاد کے وسیع معنی کہہ کر ان نام نہاد مسلمانوں کے چہرے پر تھوکا ہے جو مساجد، مزارات، بازاروں اور سیکورٹی اداروں میں جاکر خودکش حملے کرکے بے قصور مسلمانوں کو خون میں نہلا کر اسے جہاد سمجھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ایسے خارجیوں اور ظالموں کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین
الغرض کہ عالم یہودیت کتنی ہی کوشش کرلے مگر دین پاک مصطفیﷺ ہمیشہ بلند رہے گا۔ کیونکہ یہ حق مذہب ہے اور حق کی شان یہ ہوتی ہے کہ اسے جتنا مٹانے اور دبانے کی کوشش کی جائے، وہ اتنا ہی بلند ہوتا ہے۔
نور حق شمع الٰہی کو بجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون