امام ایک بابرکت نام ہے۔ اس لفظ کے زبان پر آتے ہی امام اولین و آخرین کی طرف ذہن جاتا ہے۔ منصب امامت سمجھنے کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ نبی پاکﷺ نے اپنی ظاہری حیات طیبہ میں یہ منصب خود سنبھالا۔ منصب امامت اسلامی مناصب میں اہم ترین منصب ہے۔ نبی اکرمﷺ سے اس منصب کی فضیلت میں بہت سے اقوال ہیں۔ فرمان مصطفیﷺ ہے کہ مسجد میں موجود لوگوں میں افضل ترین شخص امام ہے پھر موذن (کنزالعمال ج 7)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا تمہارے امام تمہارے شفیع ہوں گے (دارقطنی) اسی طرح ایک اور جگہ پر آپﷺ نے فرمایا مسجد میں سب سے اچھی جگہ وہ ہے جو امام کے پیچھے ہے اور اﷲ کی رحمت جب نازل ہوتی ہے تو اس کی ابتداء امام سے ہوتی ہے۔ یقینا منصب امامت بہت عظیم الشان منصب ہے۔
مگر افسوس صد افسوس! آج کل ہمارے معاشرے میں امام اور موذن صاحبان کو وہ عزت نہیں دی جاتی جس کے وہ حقدار ہیں۔ جتنا اعلیٰ ان کا درجہ، عظیم الشان مرتبہ، جتنا خوبصورت ان کا منصب ہے، اس کے مطابق ان کو احترام نہیں دیا جاتا۔ جس رسولﷺ پر ہمارا ایمان ہے، اس رسولﷺ کے ارشادات میں امام اور موذن کا مقام اور مرتبہ واضح ہے۔ کتنے شرم کی بات ہے ان لوگوں کے لئے جو امیروں، سیاسی لیڈروں کے آگے پیچھے تو فقیروں کی طرح گھومتے ہیں مگر جو امام ان کی ٹوٹی پھوٹی نمازوں کا ضامن ہوتا ہے، اﷲ اور ان کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتا ہے، جو ان کو اسلامی احکام سے آگاہی فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے، اس کی وہ عزت نہیں کرتے۔ گویا کہ اس کو پانچ وقتہ نماز پڑھنے کا ملازم سمجھتے ہیں۔ آج کل ہم موذن صاحبان کے ساتھ جو برتائو کیاجاتا ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ان کو ایک نوکر، ملازم، چوکیدار سے زیادہ کچھ نہیںسمجھا جاتا۔ جو لوگ امام اور موذن کو حقیر جانیں اور پھر ان کو اپنا مقتدیٰ، پیشوا اور امام بھی کہیں تو ان کی نماز کی قبولیت کا کیا عالم ہوگا؟ یہ ان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ مسئلہ اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے جس کو امام بنایا جائے، اس کو اپنے سے بہتر جاننا ضروری ہے۔ اگر حقیر یا کم تر جانا تو نماز نہیں ہوئی۔ آج کے جدید دور میں لوگ امام بھی ایسا تلاش کرتے ہیں جسے نہ صرف دین کا ہر مسئلہ ازبر یاد ہو بلکہ دنیاوی علوم پر بھی مہارت رکھتا ہو۔ کمیٹی کے ہر حکم پر لبیک کہنے والا ہو۔ مہنگائی اگرچہ کتنی بھی ہو، بیوی بچوں کے علاوہ بوڑھے والدین کے ساتھ تین چار ہزار روپے تنخواہ پر گزارا کرنا جانتا ہو، کم کھاتا، کم سوتا مگر شعلہ بیانی کرسکتا ہو۔ جس کی آواز میں اتنی کشش ہو کہ نمازی حضرات کمیٹی والوں کی داد دیئے بغیر رہ نہ سکیں۔ ایسا امام کہ چوبیس گھنٹے حاضر رہے۔ بھلا کیوں جناب؟
ارے! امام صاحب کو تین چار ہزار روپے جو تنخواہ ملتی ہے، اس میں صرف پانچ وقتہ نمازیں ہی نہیںبلکہ محلے کے بچوں کو صبح و شام پڑھانا، رات کے کسی وقت محلے میں کسی کا انتقال ہوجائے، امام صاحب کو نیند سے اٹھ کر میت کا تختہ، مسجد کی دریاں، مردے کی چارپائی و دیگر اہم چیزیں فراہم کرنا علاوہ ازیں اگر کسی کو آدھی رات جنات حملہ آور ہوجائیں یا کسی کی طبیعت بگڑ جائے تو جھاڑ پھونک کے لئے امام صاحب کا حاضر ہونا ضروری ہے۔ دن کے کسی وقت بھی کسی کو مسجد سے کوئی چیز لینی ہو تو امام یا پھر موذن صاحب کا موجود ہونا لازمی ہے۔ جن مساجد کی کمیٹی کے حضرات امام و موذن کے ساتھ یہ ناقابل برداشت سلوک کرتے ہیں، بتائیں یہ ذمہ داریاں قرآن و حدیث نے عائد کی ہیں؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا اس معزز طبقے کے ساتھ زیادتی نہیں۔ اکثر مساجد میں دیکھا گیا ہے کہ مسجد کی کوئی چیز چوری ہوجائے یا کام نہ کرے مثلا پنکھا، موٹر وغیرہ تو اس کا جوابدہ بھی امام کو ہی ہونا پڑتا ہے۔ اکثر مساجد میں امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ فاتحہ پر مسجد میں شریک ہوکر فاتحہ خوانی کرے۔اگر عملا شریک نہ ہو تو تو وہابی، اگر مجبورا شریک نہ ہو تو فسادی اور شریک ہوجائے، کھانا نہ کھائے تو دیوبندی اور کھانا کھالے تو پیٹو۔
امام صاحب سے یہ توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ دس، بیس قرآن پاک فاتحہ میں شامل کرے، گویا کہ فارغ ٹائم میں اس کا یہی کام رہ گیا ہے۔ یونہی نماز جنازہ کا معاملہ ہے گوکہ فرض کفایہ ہے مگر امام صاحب کا نہ صرف نماز جنازہ پڑھانا بلکہ نماز کے بعد امام صاحب کا قبرستان تک جانا گویا کہ واجب ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں امام صاحب کا ماہر عملیات، ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ امام امام نہیں۔ یونہی نکاح کا معاملہ ہے، لاجواب نکاح خواں وہ ہے جو نکاح پڑھاتے ہوئے دولہا سے کچھ نہ پوچھے، حتی کہ کلمہ نماز کی بات بھی نہ کرے۔ اسی طرح دیہی علاقوں اور شہری مضافات میںامام صاحب کا اچھا قصاب ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا غسال ہونا بھی ضروری ہے۔
یاد رکھئے! شرعی اعتبار سے امام کی ذمہ داری پانچ وقتہ نماز پڑھانا اور موذن کی ذمہ داری اذان دینا، اسی طرح امام اور موذن صاحب کی تنخواہ کا مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں جتنی ان معزز حضرات کو تنخواہیں دی جاتی ہیں، اس سے زیادہ تو ایک ان پڑھ مزدور کی ہوتی ہے اور اسی طرح رہائش کا مسئلہ ہے۔ اکثر مقامات پر امام و موذن کے لئے چٹائیوں کا مکان یا اسٹور والا کمرہ مقرر ہوتا ہے جس میں دریاں، لائوڈ اسپیکر، جھاڑو، میت کی چارپائی بھی بطور تبرک رکھی جاتی ہے۔ آخر میں سارے مسلمانوں بالخصوص مساجد کی کمیٹیوں کے ذمہ داران سے صرف اتنا کہنا ہے کہ اس معزز طبقے کے ساتھ اس طرح سلوک آپ کو زیب دیتا ہے؟ یہ بھی کسی کا لخت جگر ہیں۔ کسی ماں کی آنکھ کا تارا ہے۔ کسی کی امیدوں کا سہارا ہے، خدانخواستہ کل اگر یہی سلوک آپ کے بچوں کے ساتھ ہوجائے تو لمحہ فکریہ ہے۔