حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, December 2010, د ر خشا ں ستا ر ے

مرنے سے پہلے اس نے اپنا سارا ہنر اپنے بیٹے کو سکھادیا تھا۔ اب بیٹے نے باپ کی جگہ لے لی تھی اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جیسے بزرگ بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہے تھے۔ کسی تاریخی روایت سے یہ پتا نہیں چلتا کہ شہاب ساحرکے لڑکے نے کس کے کہنے سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر جادو کیا تھا یا پھر اس قبیح اور ناپاک فعل میں اس کی ذاتی رنجش شامل تھی۔
’’اگر میرے والد محترم پر جادو کیا گیا ہے تو پھر اس کا رد کیا ہے؟‘‘ شیخ بدرالدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ نے خواب میں نظر آنے والے بزرگ سے پوچھا۔
بزرگ نے چند کلمات پڑھے اور شیخ بدرالدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ سے فرمایا ’’ان کلمات کو اچھی طرح یاد کرلو اور پھر شہاب ساحر کی قبر پر جاکر پڑھو انشاء اﷲ سحر باطل ہوجائے گا‘‘
شیخ بدر الدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ نے بزرگ کے بتائے ہوئے کلمات حفظ کرلئے وہ کلمات اس طرح تھے۔
’’اے وہ شخص جو قبر میں رکھ دیا گیا ہے اور آزمالیا گیا ہے، جان لے کہ درحقیقت تیرے لڑکے نے جادو کیا ہے اور تکلیف پہنچائی ہے لہذا اس سے کہہ دے کہ وہ باز آجائے اور اس سحر کو ہم سے دور کردے۔ اگر تو نہیں کہے گا تو اس چیز سے قریب ہوجائے گا جو چیز ہمارے قریب ہے‘‘(ترجمہ)
صبح ہوئی تو شیخ بدرالدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے درویشوں سے رات کا خواب بیان کیا پھر کسی مرید نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں اس خواب کی تفصیل پیش کی۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو طلب فرمایا۔
’’مولانا! نظام الدین ان کلمات کو اچھی طرح یاد کرلو اور حسب ہدایت شہاب ساحر کی قبر پر جاکر ان کلمات کو پڑھو‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ خانقاہ سے باہر آئے اور مقامی لوگوں سے شہاب ساحر کی قبر کے بارے میں پوچھا۔ وہ ایک بدنام شخص تھا، تمام لوگوں نے اس کی قبر کی نشاندہی کردی۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ قبرستان پہنچے اور شہاب ساحر کی قبر کے سرہانے بیٹھ کر بزرگ کے بتائے ہوئے کلمات کا ورد کرنے لگے۔ اگرچہ شہاب ساحر کی قبر پختہ کردی گئی تھی لیکن سرہانے پر کچھ مٹی پڑی ہوئی تھی۔ کچھ دیر تک کلمات کا ورد کرنے کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے مٹی پر ہاتھ مارا،مٹی نرم تھی۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے کریدا۔ آپ کو محسوس ہوا کہ اس مٹی کے نیچے ایک اور مٹی کی تہہ ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے مٹی کو مزید کریدا۔ یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ کسی ٹھوس چیز سے ٹکرایا حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے باہر نکال لیا۔ وہ آٹے کا بنا ہوا ایک چھوٹا سا مجسمہ تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اس پتلے کو غور سے دیکھا اس کے چاروں طرف سوئیاں چبھی ہوئی تھیں اور گھوڑے کے بال مضبوطی سے باندھ دیئے گئے تھے۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ آٹے کے اس پتلے کو پیرومرشد کے حضور لے گئے اور عرض کیا ’’سیدی! یہی ہے سارے فساد کی جڑ‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے مرید خاص کو حکم دیتے ہوئے فرمایا ’’تمام سوئیاں نکال لو اور سارے بال کھول ڈالو‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ ایک ایک سوئی کو نکالتے رہے، دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو سکون محسوس ہورہا تھا پھر جب ساری سوئیاں نکال دی گئیں اور بال کھول دیئے گئے تو چہرہ مبارک سے بیماری کے سارے آثار غائب ہوگئے۔
پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو حکم دیا کہ اس مجسمے کو توڑ دو اور اس کے ساتھ تمام چیزیں دریا میں ڈال دو‘‘
جب یہ بات حاکم اجودھن کو معلوم ہوئی تو اس نے شہاب ساحر کے لڑکے کو گرفتار کیا اور خود اسے لے کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
’’شیخ! آپ کا مجرم موجود ہے اور میری نظر میں یہ شخص واجب القتل ہے‘‘
شہاب ساحر کا لڑکا موت کے خوف سے کانپ رہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
’’شیخ کا حکم ہو تو اسے قتل کردیا جائے‘‘ حاکم اجودھن نے دوبارہ عرض کیا
’’ہرگز نہیں!‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شہاب ساحر کے لڑکے کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا ’’حق تعالیٰ نے مجھے صحت بخش دی اس لئے میں نے بھی اسے شکرانے کے طور پر معاف کردیا، اب اسے کوئی کچھ نہ کہے‘‘
دریا دلی کا یہ مظاہرہ دیکھا تو وہ جادوگر لڑکا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں پر گر کر معافی مانگنے لگا اور ہمیشہ کے لئے اس کافرانہ فعل سے تائب ہوگیا۔
٭…٭…٭
خدمت خلق حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زندگی کا مقصد عظیم تھا، فرمایا کرتے تھے کہ اس کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آپ کا مشہور قول ہے کہ دشمنوں کو نیک مشورے سے شکست دو اور دوستوں کو تواضع سے اپنا گرویدہ بنائو۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ اجودھن میں ایک منشی تھا جو حاکم کی ایذا رسانیوں کے سبب اپنی زندگی سے بیزار رہتا تھا۔ ایک بار وہ منشی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حاکم اجودھن کے مظالم کی داستان سنا کر عرض کرنے لگا۔
’’شیخ! وہ مجھے ناحق ستاتا ہے۔ میں اس کے آگے ہاتھ جوڑتے جوڑتے تھک گیا مگر وہ باز نہیں آتا۔ میں اس سے جس قدر رحم کی بھیک مانگتا ہوں، وہ اسی قدر ظلم میں اضافہ کردیتا ہے۔ آپ اس سے میری سفارش کردیجئے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے ایک خادم کو حاکم اجودھن کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا۔ ’’میں نہیں جانتا کہ اس شخص کا کیا معاملہ ہے مگر پھر بھی تم میری خاطر منشی پر رحم کرو‘‘
حاکم اجودھن نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے خادم کی گفتگو سنی مگر کوئی جواب نہیں دیا۔
کچھ دن بعد وہ منشی پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور گریہ وزاری کرنے لگا ’’شیخ! حاکم اجودھن پر آپ کی سفارش کا ذرا برابر بھی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ مجھے پہلے سے زیادہ ستانے لگا ہے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے منشی کو مخاطب کرکے فرمایا ’’میں نے حاکم اجودھن سے تیری سفارش کی مگر اس نے نہیں سنی۔ ایسا لگتاہے کہ کبھی کسی نے تجھ سے کسی مظلوم کی سفارش کی ہوگی اور تو نے اپنے کان بند کرلئے ہوں گے‘‘
منشی حیرت زدہ رہ گیا اور پھر یہ کہتا ہوا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی بارگاہ سے اٹھ گیا ’’میرے لئے دعا فرمایئے۔ آج کے بعد سے کسی کو رنج نہیں پہنچائوں گا اور جہاں تک ممکن ہوگا، مخلوق خدا کی خدمت کروں گا۔ خواہ وہ میرا دشمن ہی کیوں نہ ہو، میں اس کی دلجوئی سے بھی منہ نہیں موڑوں گا‘‘
دوسرے دن حاکم اجودھن نے منشی کو طلب کیا منشی کو یقین تھا کہ اس ظالم نے ایذا رسانی کا کوئی نیا زاویہ تلاش کیا ہوگا مگر اس بار وہ خوف زدہ نہیں تھا بے باکی کے ساتھ حاکم اجودھن کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ستمگر خلاف عادت مسکرا رہا تھا۔
’’آئو! میرے بھائی آئو!‘‘ حاکم اجودھن نے ایک معمولی منشی کو اس طرح خوش آمدید کہا کہ جیسے وہ اپنے کسی ہم مرتبہ امیر کا استقبال کررہا ہو۔
منشی حیرت و پریشانی کے عالم میں حاکم اجودھن کے قریب جاکر کھڑا ہوگیا
’’بیٹھ جائو!‘‘ ظالم کا لہجہ یکسر بدلا ہوا تھا
منشی حاکم اجودھن کے اس سلوک و ظلم کی نئی چال سمجھ رہا تھا… مگر جب حاکم کی طرف سے اصرار ہوا تو وہ ڈرتے ڈرتے قریب کی کرسی پر بیٹھ گیا۔
پہلے حاکم نے منشی کی مزاج پرسی کی پھر آہستہ لہجے میں بولا ’’تمہیں شیخ کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
’’شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے بغیر یہ بگڑا ہوا کام کس طرح بنتا؟‘‘ منشی نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا
’’تم یہ تو سچ کہتے ہو کہ شیخ کی توجہ کے بغیر بات بنتی نہیں‘‘ حاکم اجودھن نے اعتراف کیا اور پھر منشی کو گھوڑے کے ساتھ ایک قیمتی خلعت پیش کرتے ہوئے بولا ’’اب تم میری طرف سے اپنا دل صاف کرلو‘‘
اس کے بعد حاکم اجودھن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ کے دست حق پرست پر توبہ کرلی۔
٭…٭…٭
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کے خلیفہ اکبر حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی روایت ہے کہ اجودھن کے اطراف میں ایک گائوں تھا جہاں ایک مسلمان روغن گر (تیلی) رہتا تھا۔ سیاسی اغراض کے پیش نظردیپال پور کے حاکم نے اس گائوں کو تباہ کردیا۔ مقامی باشندوں کے گھر جلادیئے گئے اور ان کا مال و متاع لوٹ لیا گیا۔ روغن گر کی بیوی نہایت حسین و جمیل عورت تھی۔ وہ اپنی شریک حیات سے بے اندازہ محبت کرتا تھا۔ اتفاق سے اس پر کسی فسادی کی نظر پڑگئی اور وہ عورت کو مال غنیمت سمجھ کر لے گیا۔ روغن گر نے بستی بستی اور کوچہ کوچہ اپنی بیوی کو تلاش کیا مگر ناکام رہا۔ یہاں تک کہ بیوی کے غم میں اس کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ آخر گائوں والوں نے رحم کھا کر اسے مشورہ دیا
’’تیرے دکھ کا علاج بس ایک شخص کے پاس ہے‘‘
’’مجھے اس کا پتا بتائو‘‘ روغن گر زاروقطار رونے لگا ’’میں اس کے پیروں پر سر رکھ دوں گا اور اس سے اپنے کھوئے ہوئے صبر و قرار کی بھیک مانگوں گا‘‘
’’تو بابا کے پاس چلا جا وہی تیرے درد کی دوا دے سکتے ہیں‘‘ گائوں والوں نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
روغن گر اس حالت میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حضور پہنچا کہ اس کی آنکھیں ویران تھیں، بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرے سے وحشت برس رہی تھی۔ خانقاہ کے خادموں نے اسے پاگل ہی سمجھا مگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا حکم تھا کہ جو شخص زیادہ پریشان نظر آئے اسے زیادہ اہمیت دی جائے۔ نتیجتاً اسے فورا ہی حضرت شیخ کی خدمت میں پیش کردیا گیا۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا اصول تھا کہ جب بھی کوئی پریشان حال شخص آتا، آپ سب سے پہلے اس کے لئے کھانا منگواتے۔ روغن گر کی حاضری کے وقت بھی ایسا ہی کیا گیا۔ خادم نے اس کے سامنے کھانا لاکر رکھا تو وہ نہا یت شکستہ لہجے میں کہنے لگا۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں