ولاتسئل عن اصحٰب الجحیم O
۱۲۰۔ ولن ترضیٰ عنک الیہودولا النصٰرٰی حتی تتبع ملتھم قل ان ہدی اﷲ ہو الھدیٰ، ولئن اتبعت اہوآء ہم بعد الذی جآء ک من العلم، مالک من اﷲ من ولی ولا نصیر O

اور ڈرانے والا اور نہ پوچھے جائوں گے اہل جہنم کے بارے میں
اور ہرگز نہ خوش ہوں گے تم سے یہود اور نہ عیسائی لوگ، یہاں تک کہ پیروی کرو ان کے دین کی۔ کہہ دو کہ بے شک اﷲ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔ اور بے شک اگر پیروی کرسکتے تم ان کی خواہشوں کی، بعد اس کے جو آملا تم کو علم، نہ ہوتا تمہارے لئے اﷲ والوں سے کوئی یار اور نہ کوئی مددگار

… (اور) اﷲ تعالیٰ کے نافرمانوں کو (ڈرانے والا) بنا کر بھیجا ہے (اور نہ) تو قیامت کے دن تم (پوچھے جائو گے اہل جہنم کے بارے میں) کہ تمہاری تبلیغ کے باوجود انہوں نے کیوں نہ مانا اور کیوں جہنمی ہوئے؟ اور نہ تمہیں سے کسی کو حق ہے کہ کسی کے بارے میں یہ سوال کرے کہ وہ جہنم میں گیا کہ نہیں؟ جب تم نے تبلیغ کردی تو ماننے والا خود ہی جنتی ہوگیا اور جس نے نہ مانا وہ آپ ہی جہنم میں گیا۔ اس بارے میں کسی قسم کا سوال بالکل بیکار ہے۔
(اور) یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ کہنا کہ آپ ہمارے ساتھ مروت برتیں اور اپنی سختیاں ڈھیلی کردیں اور مل جل کر رہیں، رواداری سے کام لیں تو ہم ایک قوم بن کر امن وامان سے رہیں ۔یہ بالکل فریب اور دھوکہ کی باتیں ہیں۔ یاد رکھو! کہ (ہرگز خوش نہ ہوں گے تم سے یہود اور نہ عیسائی لوگ) زندگی بھر قیامت تک (یہاں تک کہ) تم خود ہی (پیروی کرو ان کے دین) اور دھرم (کی) وہ تو اس فکر میں لگے رہیں گے کہ تم کو مرتد بتائیں، شدھی کریں، تو ان کے کلیجے میں ٹھنڈک پڑے۔ ورنہ لاکھ ان سے ملنے کے لئے ناکردنی کرو، وہ کبھی خوش نہ ہوں گے۔ ان سے تم ان کی اس بے جا خواہش کے جواب میں صاف صاف (کہہ دو کہ) تم جس لالچ میں پڑے ہو اس سے منہ دھو رکھو۔ تم گمراہ ہو، تمہارے پاس ہدایت کہاں۔ ہمارے پاس تو اﷲ کی ہدایت موجود ہے اور (بے شک اﷲ کی ہدایت ہی، ہدایت ہے) وہ اس قسم کی بے جا تمنا خواہ تم سے رکھیں، خواہ تمہاری برسر ہدایت امت سے، سب حماقت (اور) نری حماقت ہے۔ امید اس سے رکھی جاسکتی ہے جس سے امید رکھنے کا امکان
ہو۔ تمہاری ذات میں تو اس کا امکان بھی نہیں۔ کیونکہ (بے شک اگر پیروی کرسکتے تم ان کی خواہشوں کی) اور ایسا کرنا عصمت نبوت کی وجہ سے محال نہ ہوتا ، اور یہ پیروی ہوئی کب؟ (بعد اس کے جو آملا تم کو علم) اور یقین جو کسی ذی ہوش انسان سے بھی ممکن نہیں کہ حق پر یقین پاجانے کے بعد گمراہ ہوسکے۔ تو ظاہر ہے کہ (نہ ہوتا تمہارے لئے اﷲ والوں سے) جو اﷲ کی طرف سے آئے ہیں جو نفوس قدسیہ اﷲ کی طرف اور اس کی اجازت سے خلق میں تصرف کرتے رہتے ہیں، بے یاروں کی یاوری کرتے ہیں، بے مددگاروں کی مدد کرتے ہیں اور جن کو قرآن کی زبان میں ’’من اﷲ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ ’’من دون اﷲ‘‘ کہلانے والی ہستیوں سے نہیں ہیں، جو سب کے سب جہنم کے ایندھن ہیں۔ بلکہ وہ ’’من اﷲ‘‘ یعنی اﷲ کی طرف سے ہیں ’’شعائر اﷲ‘‘ یعنی اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی عزت رکھتے ہیں۔ ان جنتیوں اور مقدس طبقہ میں سے (کوئی یار اور نہ کوئی مددگار) کیونکہ کافروں کی یاوری کرنا اور ان کی مدد کرنا ان کا کام ہی نہیں۔ خصوصا قیامت کے دن، کہ وہاں بے یارومددگار رہنا صرف کافروں ہی کے لئے ہے اور تمہارا یہ حال ہے کہ طبقہ ’’من اﷲ‘‘ میں سے فرشتے ہوں، انبیاء ہوں، صدیقین ہوں، شہداء ہوں، صالحین ہوں، سب تمہارے دین کی مدد میں موجود ہیں۔ تو اب تم ان میں سے نہیں رہے کہ جن سے دین کفر کے قبول کرنے کی توقع جائز ہو۔ اب یہود ونصاریٰ نے جو خواہش کی ہے وہ ایک محال سی چیز ہے۔ یہ کتنی بڑی حماقت کی بات ہے