کیا مزارات پرحاضری، عقیدت مندی قبر پرستی کہلاتی ہے

in Tahaffuz, December 2010, ا سلا می عقا ئد, سید ارشد سعید کاظمی, عقا ئد ا ہلسنت

انک لاتسمع الموتیٰ
اس آیت کریمہ سے متعلق بعض لوگوں نے ایسا کلام کیا جس کی حقیقت حباب اور سراب سے زیادہ بے وقعت ہے مثلا آیت مذکورہ کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ’’بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے‘‘ لیکن کسی صاحب شعور سے یہ بات مخفی نہیں کہ ’’لاتسمع الموتیٰ‘‘ آپ مردوں کو نہیں سکتے۔ میں ’’سکتے‘‘ کسی بھی لفظ کا ترجمہ نہیں کیونکہ ’’تسمع‘‘ جس کا صدر ’’اسماع‘‘ ہے اس کا معنی ’’سناسکنا‘‘ نہیں بلکہ ’’سنانا‘‘ ہے۔ پس آیت کریمہ کا ترجمہ یوں ہوا ’’یقینا آپ مردوں کو نہیں سناتے‘‘ اور اس ترجمہ پر کسی قسم کا اعتراض نہیں۔
مزید براں یہ کہ آیت کافروں کے لئے نازل ہوئی لیکن اسے مومنین پر چسپاں کرنے کی بھیانک سازش کی گئی۔ آپ خود سورۂ نمل کی آیت 81-80 کو ملا کر پڑھیں تو بات واضح ہوجائے گی کہ نہ سنانا کافروں کے لئے ہے اور مومنین کے لئے سنانا ثابت ہے۔ آیات ملاحظہ ہوں۔
انک لاتسمع الموتیٰ ولا تسمع الصم الدعآء اذا ولو مدبرین ومآانت بہاد العمی عن ضلالتہم ان تسمع الامن یومن بایاتنا فہم مسلمون (سورہ نمل آیت 81-80)
ترجمہ: بے شک آپ نہیں سناتے مردوں کو اور انہیں سناتے بہروں کو پکار جب وہ پیٹھ پھیرے جارہے ہوں اور نہ آپ راہ پر لانے والے ہیں اندھوں کو ان کی گمراہی سے، آپ نہیں سناتے مگر ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں تو وہی مسلمان ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیات زندہ لوگوں سے متعلق ہیں یا مردہ سے، اگر کہا جائے کہ ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس دارفانی سے رحلت کرکے عالم برزخ میں پہنچ گئے تب یہ آیات انبیائے کرام اور اولیائے عظام کے لئے بعد الممات سننے کا ثبوت فراہم کررہی ہیں۔ وہ اس طرح کہ ان آیات میں دو قسم کے لوگوں کا بیان ہوا ایک وہ جنہیں سنانا ثابت نہیں اور وہ کافر ہیں۔ دوسرے وہ حضرات ہیں جن کے لئے سنانا ثابت ہے اور وہ مسلمان ہیں۔
پس اہل حق کا بھی یہی کہنا ہے کہ انبیاء و اولیاء کی قبور پر حاضر ہوکر ان سے گزارشات کرنابالکل جائز ہے کیونکہ قرآن مجید میں مومنین کے لئے سنانا ثابت ہے۔ اس لئے وہ ہماری پکار ملاحظہ فرماتے ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ ان آیات میں ان لوگوں کا بیان نہیں جو حقیقتاً اس دنیا سے کوچ کرگئے بلکہ کافروں کو مردہ بہرے اور اندھوں سے تعبیر کرکے یہ بات واضح کردی کہ یہ لوگ احکام الٰہی اور فرامین رسول کبریا سے نافرمانی اور روگردانی میں مردوں، اندھوں اور بہروں کی مانند ہوچکے ہیں کہ انہیں حق کی پکار کسی طرح بھی نافع نہیں تو ہمارا کلام ان آیات سے متعلق نہیں کیونکہ ہمارا کلام تو اس بارے میں ہے کہ انبیاء و اولیاء قبروں میں جانے کے بعد بھی سنتے ہیں حالانکہ یہ آیات زندہ لوگوں سے متعلق ہیں پس دونوں صورتیں ہمارے مدعا کے خلاف نہیں یعنی اگر آیات زندہ کے بارے میں ہوں تو ہمارا کلام اس میں نہیں اگر مردہ سے متعلق ہوں تومسلمانوں کے لئے سنانا ثابت ہے۔
وماانت بمسمع من فی القبور ان انت الا نذیر
ترجمہ: آپ انہیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں ہیں آپ تو فقط ڈرانے والے ہیں۔
ان آیات کا  غلط مفہوم بیان کرکے امت مسلمہ کو دھوکے میں ڈالا گیا کوئی بھی صاحب عقل و خرد اس بات سے بیگانہ نہیں کہ جہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں یہ فرمان ہے۔ ’’آپ تو ڈرانے والے ہیں‘‘ اس کا تعلق مردوں سے نہیں ہوگا کیونکہ ڈرانے کا تعلق انہی لوگوں سے ہے جو اس دنیا میں موجود ہیں اور جو اس دنیا سے چلے گئے انہیں جہنم سے ڈرانا بے فائدہ اور بے معنی ہے۔ پس آپ ان آیات کو پڑھ کریہ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہاں پر بھی زندہ کافروں کو ہی مردہ اور اہل قبور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آیات ملاحظہ ہوں۔
ومایستوی الاحیاء ولالاموات ان اﷲ یسمع من یشآء وماانت بمسمع من فی القبور ان انت الا نذیر (سورۂ فاطر آیت 23-22)
ترجمہ: زندہ اور مردے برابر نہیں۔ بے شک اﷲ سناتا ہے جسے چاہے اور آپ انہیں سنانے والی نہیں جو قبروں میں ہیں آپ تو فقط ڈرانے والے ہیں۔
آیات مذکورہ سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ جن لوگوں کو ڈرانے کا ذکر ہوا، یہ وہی لوگ ہیں جن سے سنانے کی نفی ہوئی اور ڈرایا زندہ کو جاتاہے۔ نہ کہ مردہ کو تو نتیجہ یہ نکلا کہ سنانے کی نفی بھی زندہ ہی سے ہوئی نہ کہ مردہ سے۔ جب یہ آیات زندہ لوگوں سے متعلق ہوتیں تو یہ ہمارے موقف کے خلاف نہیں کیونکہ ہم ان لوگوں سے متعلق گفتگو کررہے ہیں جو اس دارفانی سے رحلت کرگئے۔ حالانکہ یہ آیات زندہ لوگوں سے متعلق ہیں۔ الحاصل یہ دونوں آیات ہمارے مدعی کے خلاف نہیں۔
رہا یہ اعتراض کہ زندہ سے سنانے کی نفی کس طرح تو اس بارے میں عرض ہے کہ یہاں پر سنانے سے مراد یہ نہیں کہ وہ فقط کانوں سے سن لیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کے دل بھی اس حق کی پکار کو قبول کریں چونکہ جن لوگوں کے دلوں پر مہر لگ چکی ہو، ان حضرات میں حق بات قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رہتی جیسا کہ سورۂ اعتراف میں ہے
ولقد ذرانا لجہنم کثیرا من الجن والانس لہم قلوب لایفقہون بہا ولہم اعین لایبصرون بہا ولہم اذان لایسمعون بہا اولئک کالانعام بل ہم اضل اولئک ہم الغفلون (الاعراف آیت 179)
ترجمہ: اور بے شک ہم نے دوزخ کے لئے بہت سے جناور انسان پیدا کئے ان کے دل ہیں جن سے وہ نہیں سمجھتے اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ نہیں دیکھتے اور ان کے کان ہیں جن سے وہ نہیں سنتے، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے زیادہ گمراہ، وہی غفلت میں مبتلا ہیں۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نہ سمجھنا، نہ دیکھنا، نہ سننا اور چوپایوں کی طرح ہونا بلکہ ان سے بھی زیادہ گیا گزرا ہونا، یہ تمام امور ان کافروں کے لئے اﷲ نے ثابت فرمائے جو چلتے پھرتے کھاتے پیتے بولتے اور سنتے تھے چونکہ وہ اﷲ کی نافرمانی میں بہت آگے بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے خود اپنے اوپر غفلت اور گمراہی کے اتنے پردے چڑھالئے تھے کہ ان کا واپس آنا ممکن نہ رہا تھا۔ اس لئے یہ تمام امور ان کے لئے ثابت ہوگئے۔
پس اہل حق بھی یہی کہتے ہیں کہ ان خرابیوں کی بناء پر ان کافروں کو ’’الموتی‘‘ اور ’’من فی القبور‘‘ سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ نیز مردوں کے سننے کی نفی کس طرح کی جاسکتی ہے۔ جبکہ بے شمار احادیث سے یہ بات ثابت ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے
عن انس ان النبیﷺ قال العبد اذا وضع فی قبرہ وتولی وذہب اصحابہ حتی انہ یسمع قرع نعالھم (بخاری شریف ج 1ص 178)
ترجمہ: حضرت انس رضی اﷲ عنہ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ بندہ جب قبر میں دفن کردیا جاتا ہے اور اسے چھوڑ کر اس کے ساتھی واپس جاتے ہیں تو میت ان لوگوں کے قدموں کی چاپ کی آواز سنتی ہے۔
جمہور علماء نے اس حدیث کے متعلق یہی قول کیا کہ وہ میت لوٹ کے جانے والوں کی چاپ کی آواز سنتی ہے۔
یہاں فرشتوں کے جوتوں کی آواز مراد نہیں کیونکہ فرشتوں کے لئے قرآن و حدیث میں جوتوں کا ثبوت نہیں جب جوتے پہننا ہی ثابت نہیں تو اس کی آواز سننا کیونکر ممکن ہوگی۔
چونکہ مسلم شریف میں صاف ارشاد ہے۔ یہ انہیں لوگوں کی جوتوں کی آواز ہے جو دفنانے آئے تھے، یعنی فرشتوں کے قدموں کی آواز نہیں۔ حدیث ملاحظہ ہو۔
قال رسول اﷲ ﷺ ان المیت اذا وضع فی قبرہ انہ یسمع خفق نعالھم اذا نصرفوا (مسلم ج 2ص 386)
ترجمہ: رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میت کوجب قبر میں دفنایا جاتا ہے تو میت ان کے قدموں کی چاپ کی آواز سنتی ہے جب وہ لوگ واپس جاتے ہیں۔
اس مقام پر یہ بات بھی بے محل نہ ہوگی کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ کی طرف اس باب میں چند باتیں منسوب کردی گئی ہیں اور حوالے کے طور پر بعض معاصرین کی کتب کا سہارا لیا گیا ہے حالانکہ ان کی کوئی وقعت نہیں اور امام اعظم رحمتہ اﷲ تعالیٰ پر افتراء ہے۔
اگر آپ مزید غور فرمائیں تو بخوبی آگاہ ہوجائیں گے یہ آیات ان کافروں کے بارے میں ہیں جن کے دلوں پر مہر ثبت ہوچکی تھی کہ وہ لوگ مردہ اور اہل قبور کی مانند ہیں مگر کیا کیا جائے کہ کافروں کی مذمت کرنے والی آیات انبیاء واولیاء پر چسپاں کی جارہی ہیں۔ پس اس مقام پر حضرت ابن عمر کا یہ قول یاد آتا ہے۔
وکان ابن عمر یراہم شرار خلق اﷲ وقال انہم انطلقوا الی آیات نزلت فی الکفار فجعلوہا علی المومنین (بخاری شریف ج 2 ص 1024)
حضرت عبداﷲ بن عمر خارجیوں کو ساری مخلوق سے زیادہ بدترین مخلوق جانتے تھے اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو آیات کافروں کے بارے میں نازل ہوئیں، یہ لوگ انہیں مومنین پر چسپاں کررہے ہیں۔
اولیائے کرام کے مزارات پر حاضری دیتے وقت دو انداز سے دعائیں کی جاتی ہیں
نمبر 1: صاحب قبر کو اﷲ تعالیٰ عزوجل کی بارگاہ میں وسیلہ بناتے ہوئے عرض کرنا اے پروردگار تو اپنے اس نیک اور پارسا بندے کے وسیلے سے ہماری اس دعا کو قبول و منظور فرما
مذکورہ بالا عبارت میںد و امر قابل توجہ ہیں۔
نمبر 1: اﷲ کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنا
نمبر 2: وصال کے بعد وسیلہ پیش کرنا
ہر ایک کا بیان ترتیب وار ملاحظہ ہو۔
وسیلہ پیش کرنا
اﷲ رب العالمین کی بارگاہ اقدس میں وسیلہ پیش کرنے کا کوئی بھی مسلمان منکر نہیں ہوسکتا کیونکہ قرآن مجید میں ہے۔ وابتغوا الیہ الوسیلۃ۔ اﷲ کی طرف وسیلہ طلب کرو… اس آیت کریمہ کے بعد بھی اگر کوئی وسیلے کا منکر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ دوبارہ کلمہ پڑھے کیونکہ قرآن جو اﷲ کا کلام ہے اس کے ایک بھی حرف کا انکار موجب ہلاکت و کفر ہے۔
یہ کہنا کہ وسیلہ تو فقط نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور اعمال صالحہ ہیں۔ انسان وغیرہ نہیں، قطعا غلط ہے۔ کیونکہ بخاری شریف میں ہے
عن انس بن مالک ان عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ کان اذا قحطوا استسقی بالعباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ فقال اللھم انا کنا نتوسل الیک نبینا صلی اﷲ علیہ وسلم فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال فیسقون (بخاری شریف)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب قحط سالی ہوتی تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ، سیدنا عباس بن عبدالمطلب کے وسیلے سے باران رحمت کی دعا کیا کرتے تھے اور کہتے تھے اے اﷲ! ہم ہمیشہ اپنے نبیﷺ کو تیری طرف وسیلہ بناتے تھے تو تو ہمیں سیراب فرماتا تھا۔ آج اپنے نبیﷺ کے چچا حضرت عباس کو تیری بارگاہ میں وسیلہ بناتے ہیں۔ پس تو ہمیں سیراب فرما۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اس دعا کے فورا بعد ان پر بارش برسائی جاتی تھی۔
اس حدیث سے چار باتیں ثابت ہوئیں۔
نمبر 1: حضورﷺ کے چچا حضرت عباس کو وسیلہ بنایا گیا
نمبر 2: حضورﷺ کو بھی وسیلہ بنایا جاتا تھا (تبھی) تو حضرت عمر نے دعا اس طرح کی اے اﷲ! ہم ہمیشہ اپنے نبی کو تیری طرف وسیلہ بناتے تھے اور آج اپنے نبی کے چچا حضرت عباس کو تیری بارگاہ میں وسیلہ بناتے ہیں‘‘
نمبر 3: حضورﷺ اور حضرت عباس رضی اﷲ عنہ نے اپنے وسیلہ بنائے جانے کو منع نہیں فرمایا
نمبر 4: برگزیدہ حضرات کے وسیلہ کو اﷲ تعالیٰ قبول فرماتا ہے (تبھی تو صحابی رسول حضرت انس بن مالک نے فرمایا اس دعا کے فورا بعد ان پر بارش برسائی گئی) کیونکہ فسیقون میں فار تعقیب کے لئے ہے۔
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا حضورﷺ کے وصال کے بعد سیدنا عباس کا وسیلہ پیش کرنا دراصل اس بات کی توضیح تھی کہ غیر نبی کو بھی وسیلہ بنانا جائز ہے اور حضورﷺ کی نسبت کے احترام کا اظہار بھی۔
اس سے یہ مفہوم نہ لیا جائے کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کو وسیلہ اس لئے بنایا کہ حضورﷺ کا وصال ہوچکا تھا اور وصال کے بعد وسیلہ بنانا جائز نہیں۔ کیونکہ طبرانی فی الکبیر میں ہے کہ حضورﷺ کو بعد از وصال بھی وسیلہ بنایا گیا۔ ملاحظہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں ایک شخص ان سے کسی حاجت کے بارے میں سوال کرنا چاہتا تھا مگر سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مصروفیات امور خلافت کی بناء پر اس کی طرف توجہ نہ فرماسکے تو اس شخص کو ابن حنیف نے کہا تم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وسیلے کی وہ دعا کیوں نہیں پڑھتے ہو جو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک نابینا کو ارشاد فرمائی تھی تو اس دعا کے پڑھتے ہی اس کی آنکھیں ٹھیک ہوگئی تھیں۔
اس کی ترکیب یہ ہے کہ دو رکعت نماز پڑھ کر اس طرح کہو:
اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک نبینا محمدﷺ نبی الرحمۃ یامحمد انی اتوجہ بک الی ربک وتقضیٰ حاجتی
ترجمہ: اے اﷲ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اپنے نبی سراپائے رحمت حضرت محمدﷺ کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ اے محمدﷺ بے شک! میں آپ کے وسیلہ سے آپ کے رب کی طرف متوجہ ہوں۔ پس میری حاجت روائی اور مشکل کشائی کی جائے (حاشیہ ابن ماجہ ص 100)
مذکورہ بالا عبارت سے چار باتیں ثابت ہوئیں
1: حضورﷺ نے اپنے وسیلہ سے دعا مانگنے کا خود حکم فرمایا
2: سرکار کے وصال کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور حکومت میں بھی آپ کے وسیلہ سے دعا کی گئی۔
3: حضورﷺ کے وصال کے بعد آپ کو مخاطب کرکے دعا کی گئی اور عرض کیا گیا ’’یامحمد‘‘ یعنی وصال کے بعد بھی حضورﷺ سننے اور دیکھنے والے ہیں۔
4: وسیلے سے دعا کرنے کا عقیدہ تمام صحابہ کرام کا تھا (تبھی تو اس دعا کے پڑھنے کا مشورہ صحابی رسول ابن حنیف نے دیا)
اس حدیث کی سند میں ایک راوی ’’ابوجعفر‘‘ ہے جس کے بارے میں کلام کرتے ہوئے لوگوں نے یہاں تک ثابت کردیا کہ یہ بہت ضعیف اور ’’وضاع‘‘ یعنی جھوٹی حدیثیں گھڑکے پیش کرنے والا ہے۔ سند کے اس مقام میں ابو جعفر تین ہوسکتے ہیں۔
1: ابو جعفر رازی
2: ابو جعفر مدائنی
3: ابو جعفر خطمی
پہلے دو ابوجعفر یعنی رازی یا مدائنی پر پرلے درجے کے ضعیف ہیں اور ان کو درجہ صحت میں تسلیم نہیں کیا گیا۔ اور امام ترمذی نے ترمذی شریف میں اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرمایا ’’ہذا حدیث حسن صحیح غریب لاتعرفہ الامن ہذا الوجہ من حدیث ابن جعفر وہو غیر الخطمی‘‘  یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور اس حدیث کو ہم اسی سند کے ذریعہ جانتے ہیں اور اس میں ابو جعفر ’’ابو جعفر خطمی‘‘ نہیں ہے۔ جب یہ عبارت سامنے آئی تو فقیر انگشت بدنداں رہ گیا کہ اگر یہ ابو جعفر خطمی نہیں ہے تو جعفر رازی ہوگا یا مدائنی؟ اور یہ دونوں تو پرلے درجے کے ضعیف ہیں۔ ان کی حدیث کو امام ترمذی نے حسن صحیح کس طرح لکھ دیا۔ تتبع اور تلاش کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ یہاں پر ترمذی شریف میں کتابت کی غلطی ہے کیونکہ صحیح ترمذی کی شرح امام ابن عربی المالکی کے مصری چھاپہ میں الفاظ ہیں ’’وہو الخطمی‘‘ یعنی یہ ابو جعفر خطمی ہے۔ مدائنی یا رازی نہیں۔ تب میرے دل کو قرار نصیب ہوا کہ ترمذی شریف جو صحاح ستہ میں شامل ہے میں ایسے ضعیف اور خراب راویوں کا وجود نہیں۔ نیز سند امام احمد بن حنبل میں بھی اس حدیث کی ایک سند اس طرح ہے
حدثنا عبداﷲ حدثنی ابی حدثنا مومل حدثنا حماد یعنی ابن سلمت قال ثنا ابو جعفر الخطمی (مسند شریف ج 4ص 138)
اس حدیث سے بھی واضح ہوگیا کہ یہ ابو جعفر خطمی ہے اور یہاں پر رازی یا مدائنی کا ذکر محض مغالطہ ہے یا دوسری سند ہے جس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔
وسیلہ کا پہلا منکر
امت محمدیہ میں وسیلہ کا سب سے پہلے انکار کرنے والے ابن تیمیہ ہیں اور اس موضوع پر انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام رکھاقاعدہ جلیلہ فی التوسل والوسیلہ اس کتاب کی دو عبارتیں پیش کی جاتی ہیں جو ان کی ذہنیت کی غمازی کرتی ہیں۔ پہلی عبارت ملاحظہ ہو۔
الشیطٰن قد تعینھم وتتصورلھم فی صور الادمیین فیرونھم باعینہم ویقول احدہم انا ابراہیم، انا المسیح، انا محمد، انا الخضر، انا ابوبکر، انا عمر، انا عثمان، انا علی، انا الشیخ فلان و قد یقول بعضہم عن بعض ہذا ہو النبی فلان او ہذا ہو الخضر ویکون اولئک کلھم جنا یشہد بعضم لبعض (التوسل والوسیلہ ص 17)
ترجمہ: شیطان لوگوں کی شرک میں مدد کرتے ہیں اور شیطان ان لوگوں کے لئے آدمیوں کی صورت میں اس طرح سامنے آتے ہیں کہ وہ لوگ انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور شیطانوں میں سے کوئی کہتا ہے میں ابراہیم ہوں، میں مسیح (عیسٰی) ہوں، میں محمد ہوں، محمد خضر ہوں، میں ابوبکر ہوں، میں عمر ہوں، میں عثمان ہوں، میں علی ہوں، میں فلاں شیخ ہوں۔ نیز وہ شیطان ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ یہ تو فلاں نبی ہے یا یہ خضر ہے۔ حالانکہ یہ تمام کے تمام جنات (شیطان) ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے نبی ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔
دوسری عبارت ملاحظہ ہو
مثل ان یری القبر قد انشق وخرج منہ المیت کلمہ وعانقہ وہذا یریٰ عند قبور الانبیاء وغیرہم وانما ہو شیطان فان الشیطان یتصور بصور الانس ویدعی احدہم انہ النبی فلان اوالشیخ فلان ویکون کاذبا فی ذالک (ص 25)
ترجمہ: مثلا کوئی شخص کسی قبر کو دیکھتا ہے کہ وہ پھٹ گئی اور اس میں سے میت باہر نکل آئی اور اس نے اس شخص سے بات چیت کی اور معانقہ تک کیا اور وہ شخص یہ سارا معاملہ انبیاء کی قبروں کے پاس دیکھتا ہو، یا ان کے علاوہ (کسی اور قبر کے پاس) پس وہ نظر آنے والا شیطان ہوتا ہے کیونکہ شیطان انسانوں کی صورتوں میں آجاتا ہے اور شیطانوں میں سے کوئی یہ کہتا ہے کہ وہ فلاں نبی ہے یا فلاں شیخ ہے حالانکہ وہ ایسا کہنے میں جھوٹا ہوتا ہے (کیونکہ حقیقت میں وہ شیطان ہے)
ان دو مذکورہ عبارات کو پڑھنے کے بعد کوئی شخص ہے جس کا دل خون کے آنسو نہ روئے، کہ کیا امت محمدیہ میں ایسی لوگ بھی موجود ہیں جو انبیاء و اولیاء کی گستاخی پر کمربستہ ہوں لیکن تعجب ہے کہ لوگ انہیں شیخ الاسلام کا لقب دیتے ہیں۔ یہ باتیں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ابن تیمیہ صاحب سے بعض بڑے اچھے امور بھی ثابت ہیں لیکن ہر شخص اس بات سے آگاہ ہے کہ ایک من دودھ کو گندگی کا فقط ایک قطرہ ناپاک کردیتا ہے۔
نیز جناب ابن تیمیہ صاحب نے اپنی مخالفت صحیح حدیثوں کو ضعیف بلکہ موضوع قرار دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ مثلا حدیث اعمیٰ (نابینا صحابی کی حدیث) جس کا بیان ابھی آپ نے ملاحظہ فرمایا۔ اسی طرح حدیث ’’من زار قبری و جبت لہ شفاعتی‘‘ جس نے میری قبر کی کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی بلکہ اس جیسی کئی حدیثوں کو ضعیف قرار دیا ’’الحمدﷲ‘‘ ان تمام بے بنیاد اعتراضات کے حوالے سے اہلسنت کے جلیل القدر عالم دین الایام الحافظ تقی الدین سبکی نے اپنی معرکۃ آلاراء کتاب ’’شفاء السقام‘‘ میں دیئے ہیں۔ جناب ابن تیمیہ کی دیکھا دیکھی بعض معاصرین نے اپنی کتابوں میں ان سوالات کو اپنی طرف سے پیش کیا گویا وہ خود ان اعتراضات کے موجد ہیں لیکن ان کے جوابات عوام الناس کی نظروں سے پوشیدہ رکھے یہ کتنی بڑی علمی خیانت اور جہالت کا مظاہرہ ہے۔
مزارات پر دعا کرنے کا دوسرا طریقہ
صاحب قبر کو مخاطب کرکے کہنا کہ ہماری اس مشکل اور حاجت کے بارے میں اﷲ کی بارگاہ میں سفارش کریں
مذکورہ بالا عبارت میں دو باتیں قابل توجہ ہیں
1: اﷲ کو چھوڑ کر بندوں سے سفارش کا طالب ہونا
2: کیا یہی عقیدہ مشرکین کا نہیں تھا کہ وہ اپنے بتوں کو اﷲ کی بارگاہ میں سفارشی مانتے تھے۔
ہر ایک کے بارے میں ترتیب وار بیان ملاحظہ ہو۔
اﷲ کو چھوڑ کر اس کے بندوں کو سفارشی بنانا
ارشاد باری تعالیٰ ہے
واذا سالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان فلستجیبوا لی ولیومنوا بی لعلہم یرشدون (سورۃ البقرہ آیت 186)
ترجمہ: اور اے حبیب میرے بندے جب میرے بارے میں آپ سے دریافت کریں تو آپ فرمادیں کہ یقینا میں ان کے قریب ہوں دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ کامیابی حاصل کریں۔
جہاں یہ ارشاد فرمایا وہاں یہ بھی ارشاد ہوا
وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اﷲ ولو انہم اذ ظلموا انفسھم جآء وک فاستغفرو اﷲ  واستغفرلہم الرسول لوجدوا اﷲ توابا رحیما (سورۃ النساء آیت 84)
ترجمہ: اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے اﷲ کے حکم سے اور اگر وہ کبھی اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو آجاتے آپ کے پاس پھر مغفرت طلب کرتے اﷲ سے اور مغفرت طلب کرتا ان کے لئے رسول تو ضرور پاتے اﷲ کو توبہ قبول کرنے والا بے حد رحم فرمانے والا۔
ان دونوں آیتوں کو پڑھنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دعا قبول کرنے والا حقیقتا اﷲ ہی ہے اور اگر کوئی شخص کسی کے وسیلے کے بغیر دعا کرے تو بھی اﷲ تعالیٰ اس کی دعا کو سنتا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق قبول بھی فرماتا ہے۔
اگر کوئی شخص اس بات کا قائل ہوکہ اﷲ تعالیٰ بغیر وسیلے کے کبھی بھی دعا قبول نہیں فرماتا ہے تو وہ گمراہ ہے اور ایسا سوچنا قرآن و حدیث کے بالکل خلاف ہے ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اﷲ تعالیٰ وسیلہ اور سفارش کو پسند فرماتا ہے اسی لئے اس نے فرمایا:
’’جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا تھا تو وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتے اور آپ بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے‘‘
یعنی فقط ان کا مغفرت طلب کرنا انہیں کافی نہ ہوتا بلکہ ان کا آپ کی بارگاہ میں حاضری دینا اور آپ کا ان کے لئے دعائے مغفرت کرنا اور بارگاہ ایزدی میں سفارش کرنا انہیں کفایت کرجاتا۔
عقیدہ فاسدہ
اگر کسی جاہل کا یہ عقیدہ ہو کہ اﷲ چاہے یا نہ چاہے لیکن اس کے مقدس اور پیارے بندے ہمارا یہ کام کرسکتے ہیں یا اﷲ سے کرواسکتے ہیں یہ عقیدہ بالکل فاسد اور باطل ہے اﷲ تعالیٰ اس قسم کے عقائد سے محفوظ رکھے۔ کیونکہ قرآن مجید میں ہے
ﷲ مافی السمٰوٰت وما فی الارض (سورہ بقرہ آیت 284)
آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزیں اﷲ ہی کے لئے ہیں یعنی یہ تمام کائنات اﷲ تعالیٰ کی ملکیت اور تصرف میں ہے
پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ کائنات مملوک بھی ہو اور اپنے مالک (اﷲ) پر حکم بھی چلائے یا اس سے زبردستی کوئی بات منوائے (العیاذ باﷲ)
ہاں اگر یہ کہا جائے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے محبوب اور مقرب بندوں کی گزارش اور التجا کو بربنائے محبت رد نہیں فرماتا ہے تو بالکل بے جا ہوگا کیونکہ بخاری شریف میں حدیث ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو خالی نہیں لوٹاتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان اﷲ قال من عادی ٰ لی ولیا فقد اذنتہ، بالحرب وماتقرب الی عبدی بشیٔ احب الی مما افترضت علیہ ومایزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبہ فاذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصربہ ویدہ التی یبطش بہاورجلہ التی یمشی بہاوان سالنی لا عطینہ ولان استعاذ نی لاعیذنہ (بخاری شریف ج 2ص 963)
ترجمہ: رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا جس نے میرے ولی سے عداوت کی میری طرف سے اسے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ میری کسی پسندیدہ چیز کے ذریعے میرا وہ قرب حاصل نہیں کرتا جو میرے فرائض کے ذریعہ حاصل کرتا ہے اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنالیتا ہوں تو جب میں اسے اپنا محبوب بنالیتا ہوں تو میں اس کی سمع ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی بصر ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور میں اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پائوں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اس کو ضرور دوں گا اور اگر وہ مجھ سے میری پناہ طلب کرے تو میں اسے ضرور پناہ دوں گا۔
یہ حدیث اﷲ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے لئے عظیم الشان نوید ہے۔ اسپر مفصل بحث انشاء اﷲ عنقریب کسی اور موقع پر کی جائے گی۔ سردست گزارش ہے کہ یہاں حدیث قدسی میں اﷲ تعالیٰ کا صاف ارشاد ہے کہ میرا مقرب بندہ مجھ سے جو کچھ مانگے گا میں اسے ضرور عطا فرمائوں گا۔ یہی بات ہم عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں کے سوال کو پورا کرنے کا خود وعدہ فرمایا ہے اور اپنے ذمہ رحمت میں لے لیا کہ وہ انہیں خالی نہیں لوٹائے گا۔
مزید براں یہ کہ حدیث مبارکہ مطلق ہے یعنی اﷲ تعالیٰ کا مقرب بندہ اس سے جس وقت جس حال میں جس جگہ اور جس عالم میں جو کچھ بھی مانگے اﷲ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرماتا ہے خواہ وہ بندہ صوفیا میں ہو یا عالم برزخ یا عالم آخرت میں۔
کیونکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے مقدس بندے اپنی قبروں میں سنتے بولتے اور حرکت کرتے ہیں الغرض زندہ ہوتے ہیں اسی لئے ہم اولیائے کرام کے مزارات پر حاضر ہوکر عرض کرتے ہیں کہ آپ ہمارے لئے اﷲ تعالیٰ سے مانگیں کیونکہ وہ اپنے وعدے کے مطابق آپ کو خالی نہیں لوٹائے گا۔
ایک اور شبہ اور اس کا ازالہ
اگر یہ کہا جائے کہ بسا اوقات کئی لوگ اولیائے کرام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے یا ان کے مزارات پر گئے دعا مانگی مگر وہ قبول نہ ہوئی تو اﷲ تعالیٰ کا وعدہ کہاں گیا؟
اس بارے میں گزارش ہے کہ یہ وعدہ اﷲ تعالیٰ نے کیا ہے ہم نے نہیں۔ اسی سے سوال کرو۔ یااﷲ! تیرا وعدہ کہاں گیا؟ ہم اس جواب کے پابند نہیں۔ ہاں لگے ہاتھوں یہ کہتا جائوں کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ’’تم مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا‘‘ مگر کئی مرتبہ بظاہر دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ اس کا مفہوم یہ نہیں کہ اﷲ کا وعدہ غلط ہوگیا (نعوذ باﷲ) بلکہ دعائیں قبول ہوتی ہیں لیکن قبولیت کا اظہار اس کی حکمت کے مطابق ہوتاہے کبھی اس دنیا میں اور کبھی عالم آخرت میں بصورت ثواب
کیا یہی عقیدہ مشرکین کا نہیں تھا؟ کہ وہ اپنے بتوں کو اﷲ کی بارگاہ میں سفارشی مانتے تھے
آج کل کے سنی انبیاء کرام اور اولیاء اﷲ کو سفارشی تصور کرتے ہیں۔ اس بارے میں اتنا عرض ہے کہ اسلام میں کئی امور ایسے ہیں کہ اولاًدورِ جاہلیت میں بھی لوگ ان پر عمل پیرا تھے لیکن ان امور میں اعمال رذیلہ شامل کردیئے گئے تھے۔ اس لئے وہ عنداﷲ قابل قبول نہیں تھے پھر وہ اعمال تمام عیوب و نقائص سے مبرا و مصفا کرکے جدید تدوین کے ساتھ اسلام میں جاری و ساری کردیئے گئے۔ ان میں چند بطور مثال ملاحظہ ہوں۔
1: مشرکین حج کرتے تھے لیکن انہوں نے اپنے حج میں فحاشی و بے ہودگی کو بھی شامل کردیا تھا مثلا ننگے ہوکر طواف کرنا۔ اﷲ تعالیٰ نے ان خرافات سے اجتناب کرنے کے لئے فرمایا:
یبنی آدم خذوازینتکم عند کل مسجد (سورۃ الاعراف آیت 31)
اے اولاد آدم مسجد کے پاس لباس سے زینت اختیار کرو۔
اسی طرح صفا و مروہ کے درمیان سعی کا معاملہ کہ دور جاہلیت میں لوگ سعی کرتے تھے اسی بناء پر صحابہ کرام اسے جاہلیت کی رسم تصور کرتے ہوئے اجتناب کرنے لگے لیکن اسلام نے اس امر کو برقرار رکھا جیسا کہ بخاری شریف میں ہے
عن عاصم ابن سلیمان سالت انس بن مالک عن الصفاء و المروۃ فقال کنا نری انہما من امر الجاہلیۃ فلما کان الاسلام امسکنا عنہما فانزل اﷲ ان الصفاء و المروۃ الایۃ (بخاری شریف ج 2ص 646)
عاصم بن سلیمان نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک سے صفا و مروہ کے درمیان (دوڑنے کے بارے میں سوال کیا) انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے جاہلیت کی رسم تصور کرتے تھے پھر جب اسلام آیا تو ہم اسی بناء پر اس سے رکنے لگے تو اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔
’’بے شک صفا اور مروہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جس نے بیت اﷲ کا حج یا عمرہ کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان چکر لگائے‘‘
نیز اسی مقام پر حضرت ام المومنین عائشہ رضی اﷲ عنہا سے یہ روایت اس طرح ہے کہ یہ لوگ اپنے بت مناۃ کے لئے تلبیہ بھی کہتے تھے لیکن اسلام نے اس مشرکانہ رسم کو ختم کرکے صفاء و مروہ کی سعی کو برقرار رکھا۔
3: اسی طرح اﷲ تعالیٰ کی الوہیت کا مسئلہ جس کا مختصر بیان یہ ہے کہ مشرکین اﷲ کے وجود کو تسلیم کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بتوں کو اﷲ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ پس اسلام نے ان کے اس نظریہ کو باطل قرار دیا اور فرمایا:
لوکان فیہما الہۃ الا اﷲ لفسدتا (سورۃ الانبیاء آیت 22)
اگر زمین و آسمان پر اﷲ کے سوا اور بھی الٰہ ہوتے تو درہم برہم ہوچکے ہوتے۔
مشرکین بھی اﷲ کی الوہیت کے قائل تھے لیکن انکے لئے یہ سودمند نہ ہوا۔ کیونکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے بتوں کو شریک ٹھہراتے تھے۔ رہا مومنین کا معاملہ کہ وہ شرک کی نجاست سے دور رہے اس لئے ذات باری پر ایمان لانا ان کے لئے مفید ثابت ہوا۔
الغرض ہم فقط یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ کسی امر کو اس لئے ناجائز اور حرام قرار دے دیا جائے کہ اس پر مشرکین بھی عمل پیرا رہے اس لئے یہ کام ناجائز اور حرام ہے قطعا درست نہیں۔ کیونکہ حج کرنا اﷲ کی الوہیت اور صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا تمام کا وجود دور جاہلیت میں پایا جاتا تھا اور اسلام میں بھی ہے۔ لیکن اسلام میں آنے کے بعد ان کے اندر جتنی خرابیاں تھیں ان کو دور کردیا۔ اور منقع اور مصفا کرکے اسلام میں اس کو رائج کردیا گیا اور ان کو دین کی بنیاد بنادیا۔
اسی طرح مسئلہ شفاعت ہے کہ مشرکین اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو اپنے لئے شفاعت کرنے والا تسلیم کرتے تھے۔ نیز ان کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ اگر اﷲ نہ چاہے تب بھی یہ ہماری مشکلات حل کرسکتے ہیں یا کرواسکتے ہیں۔
پس ان خرابیوں کی بناء پر اﷲ تعالیٰ نے بتوں کو وسیلہ اور سفارشی ماننے یا مددگار سمجھنے کی مذمت قرآن مجید میں کثیر مقامات پر فرمائی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے مقرب بندوں کی شفاعت کے قبول کرنے کی بھی ہمیں ارشاد فرمائی۔
بتوں کی شفاعت قبول نہیں
ویوم تقوم الساعۃ یلبس المجرمون ولم یکن لہم من شرکائھم شفعآء وکانو بشرکائہم کافرین (سورۂ روم، آیت 13-12)
اور جس دن قیامت قائم ہوئی مجرم مایوس ہوکر رہ جائیں گے اور ان کے بنائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہوجائیں گے۔
مقرب بندوں کی شفاعت قابل قبول ہے
لایملکون الشفاعۃ الامن اتخذ عندالرحمن عہدا
(سورۂ مریم آیت 87)
ترجمہ: وہ لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہ مالک ہیں جنہوں نے رحمن سے عہد لے لیا ہے
یعنی کچھ لوگ ایسے ضرور ہیں جنہوں نے شفاعت کرنے کا وعدہ اپنے رب سے لے لیا ہے وہ انبیاء اور اولیاء ہیں اس لئے شفاعت کا بالکل انکار اس آیت کی کھلم کھلا مخالفت ہے۔ اب ہم آپ کے سامنے فیصلہ کن آیت پیش کرتے ہیں جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ بتوں کی شفاعت ناقابل قبول اور اﷲ کے مقرب بندوں کی شفاعت قابل قبول ہے ملاحظہ ہو:
ولایملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃ الامن شہد بالحق وہم یعلمون (سورۂ زحزف آیت 56)
اور اﷲ کے سوا جنہیں یہ پوچھتے اور پکارتے ہیں وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے سوائے ان کے جو حق کی گواہی دیں یقینی علم رکھتے ہوئے یعنی حق کی گواہی اور علم یقینی رکھنے والوں کو شفاعت کی اجازت و اختیار ہوگا۔
آیت مذکورہ میں جہاں ملعون اور باطلوں کی شفاعت کے مردود ہونے کا ذکر ہے وہاں مقربین کی شفاعت کے مقبول ہونے کی نوید ہے۔
اس بیان کے بعد بھی اگر کوئی شخص حق کو قبول نہ کرے تو اس کے لئے ہدایت کی دعا ہے۔