عصر حاضر میں ناصبی تحریک کے احیا و تجدید کی آہٹ

in Tahaffuz, December 2010, انوار احمد بغدادی, متفرقا ت

ممبئی سے شائع ہونے والا روزنامہ اردو ٹائمز میں جناب فاروق انصاری صاحب یزید اور کربلا کی جنگ کے تعلق سے ڈاکٹر ذاکر نائیک کا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’واضح رہے کہ اسلامک ریسرچ فائونڈیشن کی جانب سے سائن سمیہ میدان میں منعقدہ امن کانفرنس میں ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب نے سوال وجواب کے سیشن میں یزید کو ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ کہا اور کربلاکی جنگ کو سیاسی جنگ بتایا‘‘ (اردو ٹائمز 9 جنوری 2008)
تعجب ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو امام اعظم، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کی تقلید راس نہیں آتی ہے مگر ناصبی مزاج رکھنے والے چند دیوبندیوں کی تقلید اس قدر خوشگوار لگی کہ ایسے بدبخت شخص کو ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ کہنے کے لئے تڑپ گئے، جس کے ہاتھ نواسہ رسولﷺ کے خون سے رنگے ہیں، جس نے کعبہ معظمہ کا تقدس پامال کیا اور مدینہ منورہ کی حرمت لوٹی۔ جس کا زمانہ پانے سے حضرت ابوہریرہ جیسے جلیل القدر صحابی رسول نے اﷲ کی پناہ مانگی ہو جس کو ’’امیر المومنین‘‘ کہنے والے شخص پر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بیس کوڑے لگانے کا فیصلہ صادر فرمایا ہو، امام احمد بن حنبل نے جسے خارج از اسلام قرار دیا ہو، علماء سلف و خلف نے جس پر لعن و تشنیع کو جائز قرار دیا ہو، ناصبیوں کے سوا جس کو کبھی کسی نے ایک اچھا آدمی نہ بتایا ہو۔ اسے آج کے محققین ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ سے نوازیں، تعجب بالائے تعجب! علماء حق کے متفقہ موقف سے متصادم ڈاکٹر صاحب کا یہ بیان درحقیقت عصر حاضر میں ناصبی تحریک کی احیاء وتجدید کی کوشش بے جا ہے۔
خیر چھوڑیئے! ڈاکٹر صاحب اور ان کے فکری ہم نوائوں کو صحابہ، ائمہ، علمائ، مشائخ اور بزرگوں سے کیا لینا دینا، سلف و خلف کے آراء و مواقف سے ان کا کیا واسطہ؟ امام اعظم یزید کے اسلام و کفر پر احتیاطا خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل اسے کافر کہتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے رہیں! آج کے غیر مقلد محققوں کے سامنے یہ کون ہوتے ہیں جن کی بات میں دم ہو۔ آج کے یہ محققین تو خود دو کتابیں لکھ کر سب سے بڑے حدیث داں اور قرآن فہم بن چکے ہیں۔ یہ تو ترقی یافتہ دور کے محققین ہیں۔ یہ سائنس داں ہیں، کمپیوٹر والے ہیں۔ احادیث کے ذخائر ان کے فنگر کے اشارے پر ہیں۔ کل کے علماء کمپیوٹر کچھ تھوڑی جانتے تھے کہ ان سے بڑے محقق بن جاتے! یہ سب ڈاکٹر صاحب اور ان جیسے محققوں کے ریمارکس ہیں جو توفیق الٰہی کی حکمتوں سے لاعلم اور روحانیت سے پرے ہیں
یزید کے بھیانک جرائم کی تاریخی جھلکیاں
یزیدکی بداطواری، شراب نوشی، ترک صلاۃ کے علاوہ واقعہ کربلا، واقعہ حرۃ اور واقعہ مکہ جس میں کعبہ کے پردے جل گئے تھے، یہ چند ایسے تاریخی حقائق ہیں جو یزید کے ماتھے پر بدنما داغ ہیں۔ یہ ایسے بھیانک جرائم ہیں جن کے سامنے کوئی بھی صاحب عقل و فراست یزید کو ایک اچھا آدمی نہیں کہہ سکتا ہے چہ جائیکہ ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ جیسا دعائیہ تعریفی جملہ ایسے بدبخت کے حق میں استعمال کیا جائے ملاحظہ ہو اس کے گھنائونے کارناموں کی ایک مختصر تاریخی روداد۔
واقعہ کربلا
سانحہ کربلا ایک مشہور واقع ہے جس کے وقوع پر تمام مورخین کا اتفاق ہے۔ جس واقعہ میں یزید کے حکم سے حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کو ان کے نوجوان بیٹے، کم سن بچے، بھتیجے، بھانجے اور جاں نثاروں کے ساتھ کربلا میں بھوکے پیاسے بروز جمعہ دس محرم الحرام 61ھ میں نہایت دردناکی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔
اسلامی تاریخی کا کوئی ایسا مورخ نہیں ہے جس نے سانحہ کربلا کا خونی منظر بیان نہ کیا ہو۔ طبری ہوں کہ ابن اثیریا پھر ابن کثیر، سیوطی ہوں یا پھر اور کوئی، سب نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا ہے۔ سلف و خلف سبکا یزید کی بدبختی پر اتفاق ہے۔ سوائے ناصبیوں کے جن کے دلوں میں اہل بیت کے تعلق سے بغض و عناد بھرا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی اہل ایمان و محبت کے پاس ایسا دل ہی نہیں کہ جس میں نواسہ رسول جگر گوشہ بتول کے قاتلوں کے لئے کوئی جگہ ہو جن کے قتل پر آسمان سے خون برسے ہوں۔ سات دنوں تک آسمان کے کناروں پر اندھیرا پھیلا رہا ہو۔ انسان تو انسان جناتوں نے بھی جن کی شہادت پر مرثیہ خوانی کی ہو۔ (دیکھئے تاریخ الخلفاء ص 209)
واقعہ حرۃ
حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کو شہید کروانے کے بعد یزید نے 63ھ میں مدینہ طیبہ پر فوج کشی کردی جس کے نتیجے میں مستورات کی عزت بھی سلامت نہ رہ سکی۔ سینکڑوں صحابہ و تابعین شہید کردیئے گئے۔ مسجد نبوی کی مبینہ بے حرمتی کی گئی۔ ابن کثیر حضرت امام احمد بن حنبل کے مسند کی ایک روایت کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
حادثہ حرۃ کا سبب یہ تھا کہ اہل مدینہ کا ایک وفد یزید کے پاس دمشق پہنچا، چنانچہ یزید نے اہل وفد کی تعظیم و تکریم کی، انعام و اکرام سے نوازا اور امیر وفد حضرت عبداﷲ بن حنظلہ کے لئے قریبا ایک لاکھ بخشش دی، مگر جب یہ وفد مدینہ پہنچا تو اہل مدینہ کو یزید کی شراب خوری اور اس کے نتیجہ میں اس سے سرزد ہونے والی بری عادتوں سے باخبر کردیا جس میں بالخصوص نشہ کی وجہ سے وقت مقررہ پر نماز کی عدم ادائیگی تھی۔ یہ سنکر اہل مدینہ نے یزید کی رداء بیعت اتار پھینکنے کا فیصلہ کرلیا اور منبر نبوی کے پاس سب نے یزید کی بیعت توڑ دی۔ یزید کو جب اس کی  خبر ملی تو اس نے مسلم بن عقبہ، کی قیادت میں مدینہ ایک فوجی دستہ روانہ کردیا۔ یہ دستہ جب مدینہ پہنچا تو تین دنوں تک مدینہ کی حرمت کو پامال کرتا رہا اس دوران بہت سے لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ مدینہ کا کوئی بھی شخص یزیدیوں کے دست غضب سے بچ کر نہیں نکل پایا (البدایہ النہایہ، 228:6)
علامہ سیوطی واقدی کی متعدد طرق سے روایت ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن حنظلہ نے فرمایا:
واﷲ ماخرجنا علی یزید حتی خفنا ان نرمی بالحجارۃ فی السمائ، انہ رجل ینکح امہات الاولاد،والبنات والاخوات ویشرب الخمر، ویدع الصلوٰۃ
واﷲ ہم نے یزید کی مخالفت اس وقت کی جب ہمیں یقین ہوگیا کہ اب ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہوگی کیونکہ یزید محرمات سے نکاح کرتا ہے،شراب پیتا ہے اور نمازیں ترک کرتا ہے (تاریخ الخلفاء ص 209)
واقعہ مکہ
نواسہ رسول اور ان کے جاں نثاروں کے خون سے ہولی کھیلنے اور مدینتہ الرسول کی دامان عفت کو چاک کرنے کے بعد یزیدیوں نے ایک شرمناک تاریخ اور رقم کی۔ ان کے ناپاک عزائم کی زد سے حرمت کعبہ بھی نہ محفوظ رہ سکی۔ علامہ سیوطی نے ذہبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ یزیدی فوج مدینہ طیبہ کی حرمت کو تار تار کرنے کے بعد حضرت عبداﷲ ابن زبیر سے معرکہ آرائی کے لئے مکہ شریف روانہ ہوئی۔ مکہ پہنچ کر حضرت ابن زبیر کا محاصرہ کرلیا اور منجنیق برسایا جس کی وجہ سے کعبہ کے پردے، اس کی چھت اور حضرت اسماعیل کی جگہ قربان ہونے والے مینڈھے کے دو سینگ جل گئے۔ یہ حادثہ صفر المظفر 64ھ میں رونما ہوا (تاریخ الخلفاء ص 209)
یزید قرآن و حدیث کی کسوٹی پر
حضرت ابراہیم علیہ وعلی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کو جب اﷲ نے زمیں پر لوگوں کا امام بنایا تو آپ نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی یااﷲ کیا میری ذریت میں سے بھی کوئی امام ہوگا تو جوابا اﷲ نے ارشاد فرمایا کہ ضرور بشرطیکہ ظالم نہ ہو۔ اﷲ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔
واذا ابتلی ابراہیم ربہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماما، قال ومن ذریتی، قال لاینال عہدی الظالمین
اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ پوری کردکھائیں۔ فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ عرض کی اور میری اولاد سے؟ فرمایا امیر عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا (سورۂ بقرہ 124)
دیکھئے اس آیت میں صاف طور پر کہا گیا کہ ظالم پیشوا نہیں بن سکتا۔ پیشوا وہی ہوگا جو خدا ترس ہو۔ بااخلاق اور لوگوں کا خادم ہو۔ ایک ظالم شخص جس کی نظر میں لوگوں کی عزت و آبرو اور نفس و مال کی کوئی قدروقیمت نہ ہو، جو بدکردار، شرابی اور خدائی احکام کا پابند نہ ہو۔ اسلام اسے خلافت و قیادت اور امامت کا اہل نہیں سمجھتا ہے۔ کیونکہ اسلام میں حاکم لوگوں کا خادم ہوتا ہے، جو لوگوں کے عیش و آرام پر اپنی عیش و آرام قربان کردینے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جس کی نظر اپنی جاہ و ثروت، مال ودولت اور کرسی سلطنت پر نہیں بلکہ عام انسانوں کے سکون و آرام اور فلاح و بہبود پر ہوتی ہے۔ جو تکبر و عناد سے خالی، متواضع منکسر المزاج اور خدا ترس ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اسلامی مجاہدین نے ایسے کتنے ظالم بادشاہوںکے خلاف محاذ آرائی کی جن کی رعایا ان کے ظلم و استبداد سے بلک رہی تھی۔ عراق، مصر، تیونس، جزائر اور دنیا کے بیشتر ممالک اسی نقطہ نظر کے تحت فتح کئے گئے تاکہ عام انسانوں کو اسلام کے شہزادے عزت و نفس کی حفاظت کا پروانہ دے سکیں جس کے لئے اسلامی مجاہدین کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔
اس آیت کے علاوہ بیشمار نصوص قرآن و احادیث سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ اسلام میں خلافت و امامت کا مستحق صرف وہی شخص ہوگا جو عدل پرست، خدا ترس اور احکام ربانی کا پابند ہو، اور خلافت سازی کا یہ عمل بذریعہ مجلس شوریٰ ہی انجام پائے گا۔ مجلس شوری ہی نے باتفاق رائے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہم کے اندر خلافت کی تمام صلاحیتیں دیکھ کر انہیں خلافت کے لئے نامزد کیا جس پر صحابہ کرام نے رضا کی مہر ثبت کی۔ پھر حضرت عثمان بن عفان اور حضرت علی بن ابی طالب کی خلافتیں بھی صحابہ کی مجلس شوریٰ کے ذریعہ عمل میں آئیں۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہ الکریم کے بعد مجلس شوریٰ نے حضرت حسن کو خلیفہ بنایا مگر آپ نے چھ ماہ کے بعد خلافت حضرت امیر معاویہ کے حوالے کردی۔ تقریبا بیس سال حضرت امیر معاویہ نے خلافت کی ذمہ داری نبھائی اور رجب المرجب 60ھ میں آپ کا انتقال ہوگیا۔
یہ ساٹھ سالہ اسلامی خلافت کا درخشندہ دور تھا۔ اسی کے بعد امت میں ظلم و فساد کا دور شروع ہوگیا۔ جیسا کہ حدیث صحیح سے حضورﷺ کے پیشین گوئی ثابت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’ہلکتہ امتی علی یدی غلمۃ‘‘ ’’میری امت کی ہلاکت بچوںکے ہاتھ پر ہوگی‘‘ مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے پوچھا یہ بچے کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا اگر چاہو تو میں نام بنام بتادوں (البدایہ والنہایہ 223/6)
اسی لئے حضرت ابوبریرہ رضی اﷲ عنہ یہ دعا مانگا کرتے تھے ’’ اللھم انی اعوذبک من سنۃ الستین وامارۃ الصبیان‘‘ اے اﷲ میں ساٹھ سال کے بعد کے زمانے سے اور بچوں کی حکومت سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘ ابویعلی نے اپنی مسند میں حضرت ابو عبیدہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’لایزال امر امتی قائما بالقسط حتی یکون اول من یثلمہ رجل من بنی امیۃ یقال لہ یزید‘‘ میری امت ہمیشہ عدل و انصاف پر قائم رہے گی یہاں تک کہ بنو امیہ میں یزید نامی شخص ہوگا جو اس عدل میں رخنہ اندازی کرے گا‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’اول من یبدل سنتی رجل من بنی امیۃ، یقال لہ یزید‘‘ میری سنتوں کا بدلنے والا پہلا شخص بنو امیہ سے ہوگا جس کا نام یزید ہوگا‘‘ ابن کثیر کہتے ہیں کہ بیہقی کی اس روایت میں ابو العالیہ اور ابوذر کے درمیان انقطاع ہے مگر بیہقی نے ابوعبیدہ کی دوسری روایت سے اس کی ترجیح کی ہے (دیکھئے، البدایۃ والنہایۃ 223/6) ابن کثیر بیہقی کے حوالے سے مزید کہتے ہیں کہ شاید وہ شخص یزید ہی ہو۔
سید الکائناتﷺ کی مدح کو شرک بتانے والے لوگ یزید کی مدح اس لئے بھی کرتے ہیں کہ اس نے قسطنطنیہ کی جنگ میں شرکت کی ہے۔ مگر یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ قسطنطنیہ کی جنگ میں کوئی اور یزید نامی شخص نہیں بلکہ یزید بن معاویہ بن ابی سفیان ہی شریک تھا تو اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ اس کا یہ ایک عمل قتل حسین رضی اﷲ عنہ اور کعبہ معظمہ و مدینہ منورہ کی بے حرمتی پر بھاری ہے۔ یزید کی تمام خطائوں سے قطع نظر صرف قتل امام حسین رضی اﷲ عنہ ہی ایک ایسا خطرناک جرم ہے جس کی تعویض ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ قرآن نے عام مومن کے قاتل کو ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنے والا بتایا ہے۔ دیکھئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
من یقتل مومنا متعمدا فجزائوہ جہنم خالدا فیہا وغضب اﷲ علیہ واعد لہ عذاب عظیما
جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے۔ اور اﷲ نے اس پر غضب اور لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا ہے بڑا عذاب (سورہ نساء 93)
اب ذرا غور فرمائیں یہ عام مسلمان کے قتل کا معاملہ ہے تو نواسہ رسولﷺ کے قاتل کا کیا حال ہوگا؟ ایک ایسا عظیم انسان جو اس وقت سے لے کر قیامت تک روئے زمین کا سب سے بہتر انسان ہے۔ ابن کثیر کہتے ہیں:
لانہ السید الکبیر وابن بنت رسول اﷲﷺ فلیس علی وجہ الارض یومئذ احد یسامیہ ولایساویہ، ولکن الدولۃ الیزیدیۃ کانت کلا تناوئہ
کیونکہ وہ سید کبیر اور نواسہ رسول ہیں۔ ان جیسا پورے روئے زمین پر کوئی نہیں، ان کا کوئی ہمسر اور ہم پلہ نہیں، لیکن اس کے باوجود یزیدی حکومت ان سے خار کھاتی تھی (البدایۃ والنہایۃ 144:8)
یہ اس عظیم ہستی کا قتل تھا جسے مصطفیﷺ نے اپنے لئے دنیا کی خوشبو بتایا۔ جس کی محبت کو اپنی محبت قرار دیا۔ چنانچہ ترمذی نے حضرت اسامہ بن زید سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا
اللھم انی احبھما فاحبھما واحب من یحبھما
اے اﷲ میں ان دونوں (حسن اور حسین) سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما اور اس سے محبت فرما جو ان دونوں سے محبت کرے
ترمذی کی ایک دوسری روایت ہے کہ اﷲ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا
ان الحسن والحسین ہما ریحانتی من الدنیا
حسن و حسین میری دنیا کے دو پھول ہیں
ترمذی نے اس حدیث کے بارے میں حسن صحیح فرمایا ہے۔
کاش ڈاکٹر صاحب اور ان کے فکری ہم نوا ایمان و محبت کی ایک نظر ام سلمہ اور ابن عباس کی ان روایتوں پر بھی ڈال لئے ہوتے جن میں رسول اﷲﷺ کے بے انتہا دکھ درد کا احساس ہے۔ چنانچہ بیہقی دلائل میں حضرت عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو دوپہر خواب میں دیکھا آپ کا چہرہ انور غبار آلود ہے اور آپﷺ کے ہاتھوں میں خون سے بھری ایک شیشی ہے، میں نے پوچھا یا رسول اﷲﷺ آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ یہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے جسے آج میں دن بھر اکھٹا کرتا رہا ہوں۔ جب حساب لگایا گیا تو یہ وہی دن تھا جس دن حضرت حسین اور ان کے ساتھیوں کو شہید کیا گیا۔ (البدایہ والنہایہ 225:6، تاریخ الخلفاء ص 209)
تاریخی حقیقت سے چشم پوشی کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ امام کے قتل کے ذمہ دار صرف ابن زیاد اور ابن سعد ہی ہیں۔ یزید اس بات سے راضی نہیں تھا۔ مگر آپ ذرا یزید کے پہلے خط کا تیور ملاحظہ کریں جسے اس نے اپنے مدینہ کے گورنر کو لکھا تھا:
اما بعد، فخذ حسینا وعبداﷲ بن عمر وعبداﷲ بن الزبیر بالبیعۃ اخذا شدیدا لیست فیہ الرخصہ حتی یبایعوا والسلام
اما بعد، تم حسین، عبداﷲ بن عمر اور عبداﷲ بن زبیر سے سختی کے ساتھ بیعت لو، ان کے ساتھ کسی طرح کی نرمی نہ برتو، یہاں تک یہ لوگ بیعت کرلیں، والسلام (البدایہ والنہایہ 139:8)
یزید کے اس خطرناک تیور کے بعد بھی اگر لوگ اسے بری الذمہ سمجھتے ہیں تو یہ بتائیں کہ یزید نے امام اور ان کے رفقاء کے قاتلوں کو سزا کیوں نہیں دی؟ یا کم سے کم ان لوگوں کو معزول ہی کردیتا؟ اور بفرض محال اگر ہم یزید کو امام حسین کے خون سے بری ہی سمجھ لیں تو بھی واقعہ حرہ میں مدینہ شریف کے ساتھ سو قراء صحابہ کا خون کس کے گردن پر ہے؟ مدینۃ الرسولﷺ کی بے حرمتی کرنے کا سہرہ کس کے سر پر ہے؟ کاش ڈاکٹر صاحب اپنی حدیث دانی پر اعتماد کرتے ہوئے مندرجہ ذیل صحیح حدیثوں پر نظر ڈال لیتے تو شاید یزید کو ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ کہنے کی جرات نہ کرتے۔
رسول اﷲﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
من اخاف اہل المدینۃ اخافہ اﷲ، وعلیہ لعنۃ اﷲ والملائکۃ والناس اجمعین
جس نے اہل مدینہ کو ڈرایا دھمکایا اﷲ اسے خوف میں مبتلا کرے گا۔ اس پر اﷲ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ رواہ مسلم
حضرت سعد رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا
لایکید اہل المدینۃ احد الا انماع، کما ینماع الملح
اہل مدینہ کے ساتھ سازش کرنے والا نمک کی طرح پگھل جائے گا (رواہ البخاری)
حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا
یایرید احد اہل المدینۃ بسوء الا اذابہ اﷲ فی النار ذوب الرصاص (رواہ مسلم)
جو بھی اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اﷲ اسے آگ میں پگھلائے گا جیسے رانگا پگھلتا ہے۔
مذکورہ بالا تاریخی حقائق کے پیش نظر اور قرآن و حدیث کے پیش منظر میں یہ بات واضح ہے کہ یزید خلافت کا مستحق نہیں تھا۔ خلافت پر اس کا قبضہ جابرانہ تھا اور ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانا جہاد ہے۔ اس لئے کربلا کی جنگ سیاسی نہیں بلکہ اسلام کی راہ میں پیش کی جانے والی وہ عظیم قربانی ہے جس سے بلاشبہ اسلام کی حفاظت ہوئی ہے۔ قیامت تک لوگوں کو باطل کے سامنے سر نہ جھکانے کا حوصلہ ملا ہے۔ عملی تحریف و تصحیف سے اسلام کی حفاظت ہوئی ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ دین عیسوی و موسوی میں کوئی حسین نہیں تھا۔ اس لئے وہ ادیان پہلے قولی پھر عملی تحریف و تصحیف سے نہ بچ سکے۔ واضح رہے کہ الناس علی دین ملوکھم کے بموجب خلیفہ وامیر کا عمل باعث تقلید ہوتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ یزید کی بدعملی لوگوں کے لئے قابل نمونہ بنے، اس لئے یزید کی مخالفت ضروری تھی۔ جس کے لئے صبر وعزیمت کے شہنشاہ، خانوادہ نبوت کے چشم وچراغ حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کو یزید کی بیعت سے انکار پر مصر ہونا پڑا اور عملی تحریف و تصحیف سے اسلام کی حفاظت کرتے ہوئے آپ نے کربلا کی دھرتی پر اپنا سب کچھ قربان کردیا۔مذکورہ بالا تاریخی حقائق کے پیش نظر اور قرآن و حدیث کے پس منظر میں یزید لعنت و ملامت کا مستحق ہے یا ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ کا؟ یہ فیصلہ قارئین خود کرلیں۔