جماعت اہل سنت کا حقیقی تعارف کیا ہے

in Tahaffuz, December 2010, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت

نکات
٭ جماعت اہلسنت کے وہ بنیادی عقائد کیا ہیں جن سے وہ دوسری جماعتوں سے ممتاز ہے؟
٭ اہلسنت کا غیر اہلسنت سے اختلاف فروعی مسائل میں ہے یا اصولی مسائل میں؟ نیز اختلاف کی نوعیت ہر دو میں کیا ہے؟
٭ اہلسنت کے بنیادی عقائد صرف کتابوں میں ہیں یا خواص و عوام بھی ان عقائد کی رعایت کرتے ہیں؟
٭ اہلسنت کے عقائد پر مشتمل بنیادی کتابوں کی بجائے عوامی رسم و رواج کی بنیاد پر اہلسنت کی تفہیم کہاں تک درست ہے؟
٭ جماعت اہلسنت (سواداعظم) کا وجود عالمی سطح پر کس معیار پر تسلیم کیا جائے گا؟ بنیادی عقائدپر یا فروعی مسائل پر؟
٭ جغرافیائی حالات کے زیر اثر پیدا ہونے والے فروعی اختلافات کی بنیاد پر تشدد کا مظاہرہ کس حد تک صحیح ہے؟
آپ نے جماعت اہلسنت کے حقیقی تعارف کے سلسلہ میں جہاں سے بحث اٹھائی ہے، یہ رخ بڑا تفصیل طلب ہے۔ اہلسنت و جماعت کے مقابل دیگر جماعتوں کی فہرست طویل ہے اور ہر باطل فرقے سے اختلاف کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ اس لئے ہر فرقے کے پیش نظر ہی اہلسنت کے امتیازی عقائد سپرد قلم کئے جاسکتے ہیں۔ یہاں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ایک ہی عقیدے میں ایک فرقے سے ہمارا شدید اختلاف ہے جبکہ عین اسی عقیدے میں دوسری جماعت سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں۔ مثال کے طور پر اہلسنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ قرآن عظیم مکمل ہے، لیکن رافضی فرقہ کا عقیدہ ہے، قرآن مجید محفوظ نہیں بلکہ اس میں سے کچھ پارے یا سورتیں یا آیتیں یا الفاظ امیر المومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یا دیگر صحابہ کرام نے نکال دیئے۔ یہ قرآن مجید کا انکار ہے جو بالاجماع کفر ہے۔ ایک عقیدہ یہ ہے کہ ائمہ اطہار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں، یہ بھی کفر ہے ، حالانکہ ان مسائل میں دیوبندی مکتب فکر سے اہلسنت کا کوئی اختلاف نہیں۔
اسلام کے جو بنیادی عقائد ہیں وہی دراصل اہلسنت و جماعت کے بنیادی عقائد ہیں، پھر جیسے جیسے حالات بدلتے رہے ، نت نئے فرقے پیدا ہوتے رہے، علمائے اہلسنت ان کا رد کرتے رہے۔ اہلسنت و جماعت اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروریات دین پر ہمیشہ کاربند رہے۔ لیکن حالات کے مدوجزر اور نت نئے فرقوں کے پیش نظر ان کے امتیازی و تشخصات بدلتے رہے۔ موسوعۃ للادیان والمذاہب میں اہلسنت و جماعت کی تعریف حسب ذیل الفاظ میں کی گئی ہے۔
اہل السنۃ والجماعۃ ہم المتمسکون سنۃ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم التارکون بدع المبتدعین بعدہ، الثابتون مع اہل الجماعۃ، فاصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہم الجماعۃ الذین قال فیہم صلی اﷲ علیہ وسلم (ما انا علیہ واصحابی علیہ الیوم)
یعنی اہل سنت و جماعت وہی ہیں جو رسول اﷲﷺ کی سنت پر عمل پیرا رہے، بدمذہبوں کی گمراہیوں سے کنارہ کش رہے اور جماعت سے وابستہ رہے اور جماعت سے مراد صحابہ کرام ہیں جن کے بارے میں سرکار نے فرمایا ’’ماانا علیہ واصحابی‘‘
اہلسنت وجماعت کا لفظ اگرچہ احادیث سے ماخوذ ہے لیکن بدمذہبوں کے مقابلے میں یہ اصطلاح عہد صحابہ کے بعد شروع ہوئی، بعد میں اسلامی افکار ونظریات کے دو مکاتب فکر وجود میں آئے، اشاعرہ اور ماتریدیہ لیکن دونوں فروعی اختلافات کے باوجود اصول میں متفق تھے۔ اس لئے دونوں اہل حق اور اہلسنت و جماعت کے نام سے موسوم رہے۔ عہد تابعین میں احادیث کے ردوقبول میں بھی اہلسنت و جماعت اور بدمذہبوں کے درمیان فرق کیا جاتا تھا۔ حضڑت امام مسلم اپنی صحیح کے مقدمے میں امام محمد بن سیرین تابعی سے باسناد خود روایت کرتے ہیں۔
’’پہلے اسناد کے تعلق سے تفتیش نہیں ہوتی تھی، لیکن جب فتنہ برپا ہوا تو روایت کرتے وقت کہتے اپنے راویوں کے بارے میں بتائو تو اگر اہلسنت و جماعت دیکھتے تو قبول کرلیتے اور بدمذہب دیکھتے تو رد کردیتے‘‘ (مقدمہ صحیح مسلم مطبوعہ مطبع انصاری دہلی ص 11)
حضرت امام عظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اہلسنت و جماعت کی شناخت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آپ نے فرمایا تفضیل الشیخین و حب الختین و مسح الخفین
یعنی حضرات امیر المومنین ابوبکر صدیق اور امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو تمام صحابہ سے بزرگ جاننا، امیر المومنین عثمان غنی اور امیر المومنین علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے محبت رکھنا اور موزوں پر مسح کرنا۔ مسلک حنفی یہ ہے کہ موزوں پر مسح کرنے سے بہتر پیروں کا دھونا ہے لیکن جب بدمذہبوں نے سختی کے ساتھ انکار کیا تو مسح کرنا اہلسنت و جماعت کی علامت اور دیگر جماعتوں کے مقابلے میں یہ مسئلہ اہلسنت و جماعت کے لئے وجہ امتیاز بن گیا۔ واضح رہے کہ حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اہلسنت و جماعت کی جو علامت بتائی یہ کوفے کے حالات کے پیش نظر تھی، کیونکہ اس وقت وہاں رافضیوں کی کثرت تھی، اس لئے وہی علامتیں بیان فرمائیں جن سے ان کا رد ہو، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اہلسنت و جماعت ہونے کے لئے یہی علامتیں کافی ہیں، علامت شے میںپائی جاتی ہے، شے لازم علامت نہیں ہوتی۔
ماضی قریب کے عظیم محقق و مفسر صدرالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آباد علیہ الرحمہ نے اہلسنت و جماعت کی جو تعریف رقم فرمائی ہے، وہ عہد حاضر میں اپنے میزان پر ہے۔
سنی وہ ہے جو ’’ماانا علیہ واصحابی‘‘ کا مصداق ہو، یہ وہ لوگ ہیں جو خلفائے راشدین و ائمہ دین، مسلم مشائخ طریقت اور متاخر علمائے کرام میں سے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی، ملک العلماء حضرت بحرالعلوم مولانا عبدالعلی فرنگی محلی، حضرت مولانا فضل حق خیرآبادی، حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی، حضرت مفتی ارشاد حسین رام پوری اور حضرت مفتی شاہ احمد رضا بریلوی کے مسلک پر ہوں (رحمہم اﷲ تعالیٰ (الفقیہ، امرت سر 21 اگست 1925 ص 9)
اسی طرح مکہ مکرمہ کے قاضی القضاۃ حضرت شیخ سید محمد علوی مالکی قدس سرہ فرماتے ہیں ’’نحن نعرفہ بتصنیفانہ وتالیفاتہ حبہ علامۃ السنۃ وبغضہ علامۃ البدعۃ‘‘ یعنی امام احمد رضا بریلوی سے ان کی تصنیفات و تالیفات کے مطالعہ کے ذریعہ ہم لوگ اچھی طرح واقف ہیں کہ ان کی محبت سنت کی علامت اور ان سے بغض بدعت کی علامت ہے (دبستان رضا، ص 148)
قائد اہلسنت حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے ایک انتہائی وقیع مضمون تحریر فرمایا جس کا عنوان ہی ہے ’’بریلوی دور حاضر میں اہلسنت کاعلامتی نشان‘‘ ہے۔ ’’بریلوی‘‘ اور مسلک اعلیٰ حضرت جیسے الفاظ پر ناکوں بھوں چڑھانے والوں کو اس پس منظر میں غور کرنا چاہئے۔
برصغیرمیں اس وقت اہلسنت و جماعت کے علاوہ کثیر فرقے موجود ہیں، جیسے دیوبندی، غیر مقلدین، قادیانی، اہل قرآن، رافضی ،چکڑالوی شیعہ وغیرہ۔ ان سے اہلسنت و جماعت کا اختلاف اصولی بھی ہے اور فروعی بھی، عقائد میں بھی ہے اور معمولات میں بھی، جن میں سے بعض کا تعلق ضروریات دین سے اور بعض کا تعلق جواز اور عدم جواز سے، لیکن جیسا کہ ہم نے حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے رقم کیا کہ بعض چیزیں معمولی ہونے کے باوجود حالات کے پیش نظر غیر معمولی اور امتیازی حیثیت کی حامل ہوجاتی ہیں۔ سردست ہم چند عقائد و معمولات سپرد قلم کرتے ہیں، جن سے اہلسنت و جماعت دوسرے فرقوں سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ ندائے یارسول اﷲ ’’تقبیل الابھا مین‘‘ عقیدہ شفاعت، توسل، عقیدہ علم غیب نبی، عقیدہ حیات النبی، میلاد و قیام، عرس و فاتحہ، نذرونیاز، جلوس عید میلادالنبی، گیارہویں شریف، استعانت بالانبیاء واولیاء بناے قبات برمزارات، انبیاء اور اولیاء کی قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا، تشویب، جمعہ کی اذان ثانی کا خارج مسجد ہونا وغیرہ۔ ان چیزوں کا تعلق اگرچہ بنیادی عقائد سے نہیں لیکن عہد حاضر میں اہلسنت و جماعت کی واضح علامتیں ہیں اور عام طور پر غیر اہلسنت انہیں شرک و بدعت کہتے ہیں۔
اہلسنت و جماعت کا اختلاف دیگر جماعتوں سے اصولی مسائل میں بھی ہے اور فروعی مسائل میں بھی، اگر فروعی مسائل میں اختلاف ہو تو ان کی تذلیل و تفسیق بھی نہیں ہوگی چہ جائیکہ تکفیر، جیسے اشاعرہ کہ حضرت امام شیخ ابوالحسن اشعری رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کے متبعین ہیں اور ماتریدیہ حضرت ابومنصور ماتریدی رحمتہ اﷲ علیہ کے متبعین ہیں۔ ان دونوں میں بعض فروع میں اختلاف ہے، ان کے اختلاف کی نوعیت حنفی اور شافعی جیسی ہے، دونوں اہلسنت و جماعت اور حق پر ہیں، لیکن جن جماعتوں سے اصولی اختلاف ہے، یا ان میں سے کسی نے ضروریات دین کا انکار کیا ہے تو وہ گمراہ اور بددین ہیں اور ضروریات دین کے انکار کرنے کی وجہ سے ان کی تکفیر کی جائیگی، شامی میں ہے ’’سچے دل سے تمام ضروریات دین کے اقرار کرنے کو ایمان کہتے ہیں اور کسی ایک ضرورت دینی کا انکار بھی کفر ہے‘‘ (شامی، جلد 3ص 391) دیوبندی مکتب فکر سے اہلسنت و جماعت کے اختلاف کی نوعیت اصولی اختلاف کی ہے۔ مشہور دیوبندی مناظر مولوی منظور احمد نعمانی لکھتے ہیں۔
’’شاید بہت سے لوگ ناواقفی سے یہ سمجھتے ہیں کہ میلاد و قیام، عرس وقوالی، فاتحہ، تیجہ، دسواں، بیسواں، چالیسواں وغیرہ رسوم کے جائز و ناجائز اور بدعت اور غیر بدعت ہونے کے بارے میں مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں جو نظریاتی اختلاف ہے، یہ دراصل دیوبندی اور بریلوی اختلاف ہے مگر یہ سمجھنا صحیح نہیں‘‘ (فیصلہ کن مناظرہ ص 5)
دیوبندی مکتب فکر اور اہلسنت کے درمیان فروعی اختلاف بھی ہے اور نظریاتی اور بنیادی بھی۔ علمائے دیوبند نے اپنی کتابوں میں ضروریات دین کا انکار کیا، اسی بنیاد پر علمائے عرب و عجم نے ان کی تکفیر کی۔ تقویۃ الایمان، صراط مستقیم، فتاویٰ رشیدیہ، تحذیر الناس، براہین قاطعہ اور حفظ الایمان اور تکذیب باری تعالیٰ کا فتویٰ ان میں اخیر کے چار سب سے اہم ہیں جن میں ضروریات دین کا انکار کیا گیا ہے۔ اﷲ عزوجل اور سرکار کائناتﷺ کی صحیح اور شدید توہین ہے۔ مثلا مولوی اشرف علی تھانوی نے حفظ الایمان میں سرکارﷺ کے مقدس علم کو جانوروں کی طرح بتایا۔ مولوی خلیل احمد انبیٹھوی نے ’’براہین قاطعہ‘‘ میں شیطان اور ملک الموت کے علم کو معلم کائناتﷺ کے علم سے زیادہ بتایا، مولوی قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس میں نبی آخر الزماںﷺ یعنی آخری نبی ماننے سے انکار کیا۔ اسی طرح علمائے دیوبند نے امکان کذب باری تعالیٰ کا بھی فتویٰ دیا۔
اسی طرح قادیانی، اہل قرآن، غیر مقلدین، رافضی اور شیعہ وغیرہ فرقوں سے بھی اہل سنت و جماعت کے اصولی عقائد و مسائل میں شدید اختلافات ہیں جن کی تفصیل علمائے اہلسنت کی کتابوں میں دیکھنا چاہئے۔
(3) اس سوال کی نوعیت کچھ ایسی ہی ہے کہ کوئی کہے کہ اسلام کے عقائد و مسائل صرف کتابوں میں ہیں یا خواص و عوام بھی ان کی رعایت کرتے ہیں؟ بلاشبہ جواب یہی ہوگا کہ اسلام کے عقائد و مسائل صرف کتابوں میں نہیں بلکہ عوام و خواص بھی ان کی رعایت کرتے ہیں۔ اگر کچھ مسلمان اپنی تساہلی یا خوف خدا کے فقدان کی وجہ سے ان کی رعایت نہیں کرتے تو اسلام کی صداقت پر ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ میں تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ روئے زمین پر اسلام پر عمل کرنے والا اگر ایک فرد بھی نہ رہ جائے تب بھی اسلام کے عقائد و مسائل برحق رہیں گے۔ نظریات کی صحت عمل پر موقوف نہیں بلکہ عمل کی مقبولیت نظریات کی صداقت پر موقوف ہے۔ یہ حقیقت ایک لمحے کے لئے بھی ذہن سے اوجھل نہیں رہنا چاہئے کہ عقائد اسلام اور عقائد اہلسنت دو مختلف چیزیں نہیں بلکہ جو اسلام کے عقائد ہیں وہی اہلسنت کے عقائد ہیں۔ باطل فرقوں کے دجل و فریب سے امتیاز کے لئے یہ اصطلاح رائج ہوئی۔ اہلسنت و جماعت کے عقائد صرف کتابوں میں نہیں بلکہ جہان سنیت کی کارگہہ عمل میں ان کی عملی تصویریں سرکی آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہیں۔واضح رہے کہ عقائد اہلسنت کسی ملک کا جمہوری نظام نہیں ہیں کہ حالات و افراد کے دبائو میں اسے مسترد کردیا جائے، دانش وروں کو ان پہ نظرثانی کی دعوت دی جائے بلکہ یہ قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں، پوری دنیا بھی اگر ان سے سرگشتہ ہوجائے جب بھی عقائد اہلسنت مستحکم چٹان کی طرح ناقابل شکست و ریخت رہیں گے، بلکہ ان کے منکرین خود اسلام سے خارج اور کفر وضلالت کے صحرا میں بھٹکتے نظر آئیں گے۔ اگر کچھ افراد اپنی فکری کج روی اور آزاد خیالی کی وجہ سے عقائد اہلسنت کی رعایت نہیں کرتے تو وہ اس کے مجرم اور قرار واقعی ذمہ دار خود ہیں۔ ہم اس مقام پر امام العارفین سید شاہ ابوالحسین احمد نوری کی بنام اہلسنت ایک نصیحت نقل کرتے ہیں۔
’’ساتویں نصیحت یہ ہے کہ اپنے دین و عقائد پر سخت اور مضبوط رہیں کہ دوسرے متعصب سمجھیں، اس لئے کہ دین حق (عقائد حقہ) میں تصلب مقبولیت کی علامت ہے اور محمودوپسندیدہ اور دین باطل میں غلو بدبختی کی نشانی ہے اور مذموم و ناپسندیدہ‘‘ (سراج العوارف ص 32)
(4) عوامی رسم و رواج کا تیور بتا رہا ہے کہ اشارہ غیر شرعی امور کی جانب ہے، اہلسنت و جماعت کے تعارف میں عوامی رسم و رواج کو پیش کرنا بہت بڑی زیادتی اور ناانصافی ہے، بلکہ حریفان اہلسنت اس سلسلے میں کذب و بہتان سے بھی گریز نہیں کرتے اور بعض ایسی چیزیں بھی اہلسنت و جماعت کی طرف منسوب کردیتے ہیں جن کا وجود عوامی رسم و رواج میں بھی نظر نہیں آتا۔ غیر اہلسنت نے اہلسنت کی تفہیم میں جس شدت کے ساتھ عوامی رسم و رواج کو پیش کرکے حقیقت چھپانے کی ناکام کوشش کی ہے، وہ آج کے اس شعوری دور میں انتہائی افسوسناک ہے، اس سلسلے میں ہم علمائے اہلسنت کی ترسیل فکر کی کوتاہی کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
ایسے لوگوں کو ذرا عقل و دانش سے کام لینا چاہئے، اگر کوئی غیر مسلم چند بدعمل مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا یہ تعارف کرائے کہ اسلام زنا کاری، جھوٹ، فریب، شراب نوشی اور دہشت گردی کا مذہب ہے تو یہ بہت بڑی ناانصافی اور تعارف کرانے والے کا فکری اور علمی دیوالیہ پن ہوگا جیسا کہ آج اہل یورپ و امریکہ اسلام کو دہشت گردوں کا مذہب کہہ کر بدنام کررہے ہیں۔
(5) اہلسنت و جماعت کا وجود عالمی سطح پربنیادی عقائد ہی کی بنیاد پر ہی تسلیم کیا جائے گا۔ امام ترمذی نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ سرکار نے فرمایا:
اتبعوا السواد اعظم فانہ من شذشذ فی النار (مشکوٰۃ المصابیح، ج 1، ص30)
سواد اعظم (بڑی جماعت)کی پیروی کرو، جو اس سے جدا ہوااسے تنہا جہنم رسید کیا جائے گا۔
علامہ علی قاری مرقاۃ میں اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں
السواد الاعظم یعبربہ عن الجماعۃ الکثیرۃ والمراد ما علیہ اکثر المسلمین (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج 1، ص 249)
سواد اعظم جماعت کثیرہ سے عبارت ہے اس سے مراد وہ ہے جس پر اکثر اہل اسلام ہیں۔ آج کے اس الیکٹرانک دور میں جہاں سنیت کے عقائد و امتیازات اور دیگر فرقوں سے اصولی اور فروعی اختلافات علماء پر مخفی نہیں، اس لئے دیگر فرقوں سے فروعی اختلافات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
(6) جغرافیائی حالات کے پیش نظر اہلسنت اور غیر اہلسنت میں جو امتیازات ہیں، جیسے ہندوستان کے بعض علاقوں میں سنی مسجد کی علامت یہ ہے کہ وہاں تشویب ہوتی ہے، اذان ثانی خارج مسجد ہوتی ہے تو اہلسنت کو ان کی رعایت کرنا چاہئے، اس قسم کے مسائل میں تصلب سے کام لینا چاہئے جیسا کہ مسح علی الخفین کے سلسلہ میں امام اعظم تصلب سے کام لیتے تھے، کیونکہ کوفہ میں وہ اہلسنت کی ایک علامت ہوگئی تھی۔ امام کرخی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، جو اسے جائز نہ جانے اس کے کافر ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ امام شیخ الاسلام فرماتے ہیں جو اسے جائز نہ مانے گمراہ ہے (بہار شریعت، ج 2، ص 64)
قائد اہلسنت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’واقعات و حالات کی روشنی میں اگر آپ مذہبی امور میں آزادی رائے کی تاریخ کا تجزیہ کریں تو آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اپنے وقت کے مجدد (امام احمد رضا) کا یہ اندیشہ غلط نہیں کہ چھوٹی چیز چھوڑنے والے ایک دن بڑی چیز بھی چھوڑ دیں گے اور سواداعظم کی پیروی سے انکار کرنے والے ایک دن رسول اﷲﷺ کی پیروی سے انکار کردیں گے‘‘ (تجلیات رضا، ص 199)
لیکن ان تمام حقائق کے باوجود کسی مسلمان کو تشدد کا برتائو روا نہیں، بعض ناعاقبت لوگ اہلسنت کے علاقائی تشخصات میں جبروتشدد کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ باشعور علمائے اہلسنت پر بھی نازیبا الفاظ کی بارش کرتے ہیں۔ اس قسم کے نادانوں سے بعض مقامات پر سنیت کو نقصان بھی پہنچتا ہے۔ اسی طرح بعض مقررین اپنی تقریروں میں حد درجہ شدت کا مظاہرہ کرتے ہیں، سنجیدہ طبقہ جسے پسند نہیں کرتا، اہلسنت و جماعت کے پاس اپنے عقائد کے اثبات میں دلائل و شواہد کا ناقابل شکست ذخیرہ ہے، اگر پرتشدد لب و لہجہ ترک کرکے قرآن و سنت اور اجماع امت کے مستحکم دلائل پیش کئے جائیں تو اصلاح فکر و اعتقاد کی وسیع شاہراہیں کھل سکتی ہیں، دعوت وتبلیغ میں حکمت و موعظت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ایک سچے داعی کا مرکزی نقطہ نظر یہ ہونا چاہئے کہ اس کے ہم خیالوں کی تعداد میں اضافہ ہو، نہ یہ کہ جو پہلے سے جماعت کے سرگرم اور پرعزم سپاہی ہیں انہیں بھی جماعت سے خارج کرنے کی مہم چلائی جائے۔ تصلب فی الدین اور اصلاح و تذکیر کا مقصد اندھیری رات کے مسافروں کو صبح درخشاں کی طرف لے جانا ہے نہ کہ راستے سے اٹھا کرکھائی میں ڈال دینا۔ یہ فکر و شعور کا دور ہے، انتہائی پیچیدہ مسائل کو بھی ناخن تدبیر سے حل کیا جاسکتا ہے۔ آج پوری دنیا جدید ذرائع استعمال کرکے فکری ہم نوائی کی جدوجہد کررہی ہے، لیکن خاک ہند کے چند قائد نما مولوی مشاہیر اہلسنت کے خلاف مسلسل زہر اگلتے رہتے ہیں، اگر وہ اپنی اس خام خیالی میں ہیں کہ سب کو نظر انداز کرکے ارشاد و قیادت کا سارا نظام فکروعمل ان کے دست تصرف میں آجائے گا تو یہ ان کی بھول ہے، حالات و حقائق کا دبائو ایک دن انہیں ایسی جگہ پھینک دے گا جہاں انہیں خود اپنے وجود کی شناخت بچانا مشکل ہوجائے گا۔
ایک مرتبہ پھر مولانا خوشتر نورانی صاحب نے نہایت نازک اور حساس موضوع پر لکھنے کی فرمائش کرکے مجھے ’’گوئم مشکل و گرنہ گوئم مشکل‘‘ کی کیفیت سے دوچار کردیا ہے، ایسے نازک موضوعات پر اظہار خیال کرنے کے لئے ’’غریب شہر سخنہائے گفتنی‘‘ تو رکھتا ہے مگرت اس کے مخاطب کے لئے ’’زباں دانے‘‘ ہونا شرط ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں رجال کی شناخت حق کے ذریعہ نہیں بلکہ حق کی شناخت رجال کے ذریعہ کی جاتی ہو وہاں ایسے نازک موضوعات پر اظہار خیال کرنا سمندر میں رہ کر مگرمچھ کو ’’دعوت مبارزت‘‘ دینے سے کم نہیں ہے، بہرحال خوشتر صاحب کے اصرار پر بہت اختصار کے ساتھ چند اصولی اور بنیادی امور پیش خدمت ہیں۔
(1) جماعت اہلسنت کوئی نوپیدا فرقہ نہیں ہے کہ اس کے بنیادی عقائد انگلیوں پر گنا دیئے جائیں، بلکہ اس کے عقائد کتاب وسنت کا خلاصہ اور صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے افکار و نظریات اور اعمال وافعال کا نچوڑ ہیں اور انہیں عقائد و اعمال پر گزشتہ چودہ سو سال سے امت اسلامیہ کا سوادعظم ہے، جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ جماعت اہلسنت کن عقائد کی بنیاد پر دوسری جماعتوں سے ممتاز ہے؟ تو میرے ناقص خیال میں اس کا جواب یہ ہے کہ ہر زمانہ میں جب جب کسی جماعت نے سواداعظم کے جن عقائد سے اختلاف کیا، وہی عقائد اس دور میں جماعت کا امتیاز اور سنیت کی علامت قرارپائے۔ مثال کے طور پر جس زمانہ میں خوارج نے فتنہ تکفیر برپا کیا تو اس وقت یہی مسئلہ سنی اور غیر سنی کے درمیان وجہ امتیاز تھا، یعنی جو مرتکب کبیرہ کی تکفیر نہ کرتا ہو وہ سنی اور جو مرتکب کبیرہ کی تکفیر کرے وہ غیر سنی، اس کے بعد ایک دور میں خلق قرآن کا مسئلہ سنیت کی کسوٹی ہوا کرتا تھا، جو قرآن کو قدیم اور اﷲ کی صفت مانے وہ سنی اور جو قرآن کو مخلوق اور حادث مانے وہ غیر سنی، اسی طرح کسی دور میں مسئلہ صفات باری، کبھی مسئلہ خلق افعال عباد، کبھی تاویل، تشبیہ، تجسیم او تنزیہ کے مسائل اس جماعت کا امتیازی نشان رہے، یہی نہیں بلکہ کبھی ایک ہی زمانہ میں دو الگ الگ خطوں میں اس جماعت کے امتیازی عقائد الگ الگ رہے مثلا جس دور میں ایران و عراق میں شیعہ سنی اختلافات اپنے عروج پر تھے تو وہاں خلافت و امامت، مسئلہ نقص قرآن، رویت باری، اور جواز متعہ وغیرہ کی بنیاد پر آدمی کے سنی اور غیر سنی ہونے کا فیصلہ کیا جاتا تھا، اسی دور میں بلاد مغرب یعنی اندلس اور مراقش وغیرہ میں میں ان مسائل سے عوام واقف ہی نہیں تھے، یہ مسائل صرف مدارس کے اندر علم کلام و عقائد کی کتابوں میں پڑھے پڑھائے جاتے تھے اور آج بھی وہ بہت سے مسائل جو کسی ایک ملک میں سنیت کے امتیازی مسائل تصور کئے جاتے ، مثلا ہمارے یہاں برصغیر میں مسئلہ نوروبشر اور مسئلہ حاضر وناظر کو ضروریات اہلسنت میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ عالم عرب میں ان مسائل کو حق و باطل کی کسوٹی نہیں سمجھا جاتا، اسی طرح لبنان میں حضرت شیخ عبداﷲ الحرری اور ان کے متبعین شیخ ابن تیمیہ کی تکفیر کو دلیل سنیت قرار دیتے ہیں اور جو شخص ابن تیمیہ کی واضح الفاظ میں تکفیر نہ کرے وہ ان کے نزدیک سنی نہیں ہے جبکہ ہمارے ہندوستانی اکابر نے ابن تیمیہ کی تکفیر میں احتیاط فرمائی ہے اور ان کو صرف ضال و مضل قرار دیا ہے (دیکھئے المعتقد المنقد مع حاشیہ المعقتمد المستند)
(2) جماعت اہلسنت کا غیر اہلسنت سے اختلاف اصولی بھی ہے اور بعض فروعی معاملات میں بھی، تاہم اختلاف کی اصل بنیاد اصول اور عقائد پر ہے، فروع اور مسائل پر نہیں۔ آج ہمارا اختلاف عظمت و ناموس رسالت پر ہے۔ اﷲ کے رسولﷺ کے مقام و مرتبہ، آپ کی شان عالی اور فضائل و کمالات کا انکار اور آپ کی تخفیف شان، گستاخانہ طرز بیان، اور بعض اہانت آمیز عبارتیں اصل اختلاف کا سبب ہیں مگر کچھ ہماری سادگی اور کچھ حریف کی دانائی کہ اس اختلاف کو محض بعض فروعی مسائل اور بعض مستحب اور مباح امور کے قبول و رد کے تناظر میں دیکھا جانے لگا۔
(3) تیسرے سوال کے جواب میں میں عرض کروں گا کہ کسی بھی جماعت کے عقائد و مسلک کی تین سطحیں ہوتی ہیں ایک تو اس جماعت کا علمی مسلک ہوتا ہے جو اس کے اکابر کی کتب میں مرقوم ہوتا ہے، مسلک کی دوسری سطح وہ ہے جب اس مسلک کے عقائد و مسائل مناظروں اور تقریروں کے اسٹیج پر آتے ہیں اور تیسری سطح یہ ہے کہ جب وہ مسلک عملی طور پر عوام میں پھیلتا ہے، درحقیقت کسی بھی جماعت کا حقیقی مسلک وہی ہوتا ہے جواس کے اکابر کا’’علمی مسلک‘‘ ہوتا ہے، مناظرے کے دائو پیچ اور خطیبانہ آہنگ کے اپنے کچھ تقاضے اور مجبوریاں ہوتی ہیں، لہذا جب علمی مسلک مناظروں اور خطیبوں کا تختہ مشق بنتا ہے تو کبھی شعوری اور کبھی غیر شعوری طور پر اس میں چکھ نہ کچھ فرق ضرور آجاتا ہے اور پھر جب وہ علمی مسلک مناظروں اور جلسوں سے ہوتا ہوا عوام کا عملی مسلک بنتا ہے تو اس کی ہیئت ہی بدل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہمارا علمی مسلک یہ ہے کہ اولیاء کے مزارات پر ’’کپڑا‘‘ ڈالا جاسکتا ہے تاکہ وہ مزار عام قبروں سے ممتاز رہے اور جب تک ایک کپڑا پرانا ہوکر پھٹ نہ جائے اس وقت تک دوسری چادر ڈالنا بلا ضرورت اور اسراف بیجا ہے، لیکن جب یہی علمی مسلک مناظرے کے میدان اور منبر خطابت پر آیا تو اس کے ساتھ یہ ’’قاعدہ کلیہ‘‘ بھی شامل کرلیا گیا کہ نسبت سے شے ممتاز ہوتی ہے لہذا جو کپڑا اولیاء کے مزارات پر پڑا ہو، وہ کوئی معمولی کپڑا نہیں بلکہ اس کو اس بزرگ سے نسبت ہوگئی ہے لہذا اب وہ بھی بابرکت ہوگیا اور اس کی بھی تعظیم کی جائے گی۔ جب مناظر سے سوال کیاگیا کہ لوگ تو چادر چڑھانے سے پہلے ہی اس کی تعظیم کرتے ہوئے اس کو سروں پر رکھ کر لے جاتے ہیں، حالانکہ ابھی اس کو صاحب مزار سے نسبت نہیں ہوئی ہے؟ مناظر نے ایک پینترا بدلا اور فورا ایک ’’معقول جواب‘‘ دے دیا کہ یہ تعظیم ’’مایئول کے اعتبار‘‘ سے ہے، جب یہ تقریری مسلک عوامی مسلک میں تبدیل ہوا تو اس کپڑے نے چادر اور چادر نے غلاف کی شکل اختیار کرلی، اور اس کے بعد جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے، بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایصال ثواب کے سلسلہ میں ہمارا علمی مسلک کچھ اور تھا، پھر گیارہویں شریف اور تیجہ چالیسویں کے تعین یوم کے لئے مناظرے کے اسٹیج پر تعیین شرعی اور تعیین عرفی کی بحث چھیڑی گئی، اور اس کے بعد عوامی مسلک میں اس ’’تعیین عرفی‘‘ کا جو حشر ہوا، وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی جماعت کا ’’علمی مسلک‘‘ کچھ اور ہوتا ہے اور ’’عوامی مسلک‘‘ کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے۔ آج جاہل عوام اور بعض تعلیم یافتہ ہی نہیں بلکہ سند یافتہ علماء و مقررین کے ذریعہ جس قسم کی ’’سنیت‘‘ متعارف کی جارہی ہے وہ میری ناقص رائے میں اس مسلک اہلسنت سے بہت مختلف ہے جو ہمارے اکابر نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے (الاماشاء اﷲ) غالبا اس گفتگو سے اس سوال کا جواب مل گیا ہوگا کہ ’’اہلسنت کے بنیادی عقائد صرف کتابوں میں ہیں یا خواص و عوام بھی ان عقائد کی رعایت کرتے ہیں؟‘‘
(4) اہلسنت کے عقائد پر مشتمل بنیادی کتابوں کی بجائے عوامی رسم و روام کی بنیاد پر اہلسنت کی تفہیم درست ہو یا نہ ہو مگر آج ہماری مسلک کی تفہیم اسی طور پر کی جارہی ہے، اور میں کسی نہ کسی حد تک اس کا ذمہ دار دانا دشمنوں کے ساتھ ساتھ بعض نادان دوستوں کوبھی مانتا ہوں۔
(5) فروعی اختلافات دو قسم کے ہیں، ایک تو وہ جس میں تمام اہلسنت کا متفقہ موقف ہے اور دوسرے وہ جن میں خود اہلسنت کے اکابر کے درمیان دو موقف پائے جاتے ہیں، ایسے فروعی مسائل جن میں اکابر اہلسنت کا اتفاق ہے، ان میں تصلب ہونا چاہئے اور وقت ضرورت ایسے مسائل میں شدت بھی برتی جاسکتی ہے، لیکن حکمت اور مصلحت ہر جگہ پیش نظر رہنا چاہئے، نہ ہر جگہ شدت کے مظاہرے کو درست قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ایسی نرمی درست ہے جو مسلک کے لئے نقصان دہ ثابت ہو، ہاں البتہ ایسی فروعی مسائل جن میں ہمارا اختلاف غیر اہلسنت سے تو ہے ہی ساتھ ہی ساتھ خود اکابر اہلسنت میں بھی ان مسائل میں دو رائے پائی جاتی ہوں تو ایسے مسائل میں ضروریات سے زیادہ شدت کا مظاہرہ کرنا خود جماعت اہلسنت کے حق میں مضر ہے، اس قسم کے فروعی مسائل کی بنیاد پر سنیوں ہی کو سنیت سے ’’خارج‘‘ اور ’’داخل‘‘ کرنا غیر صحت مند طرز فکر ہے۔ اس قسم کی شدت انہیں لوگوں کو مبارک ہو جو اہلسنت میں اتحاد و اتفاق نہیں چاہتے۔