امام حسین کا سیاسی اور دینی تدبر

in Tahaffuz, December 2010, علامہ رفعت رضا نوری, متفرقا ت

نظریاتی کشمکش
عام نظریہ یہ ہے کہ کربلائے معلی میں امام حسین رضی اﷲ عنہ اور یزیدیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی جنگ ہی نہیں تھی کیونکہ جنگ کے لئے جس طرح کی سروسامانی، قوت و طاقت اور فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف تو تھی مگر امام حسین رضی اﷲ عنہ کی طرف ان کے اہل وعیال کے علاوہ چند وفا پیشہ جاں نثار رفقاء تھے، کیا کوئی شوق میں اپنی اہل وعیال کو قتل کے بھینٹ چڑھانا گوارا کرے گا؟ دراصل کربلا کی تاریخ کا پورا پس منظر اس محور پر گردش کررہا ہے کہ دور یزید میں ایک ناقابل درست نظریہ (یعنی بیعت یزید) کو امام حسین رضی اﷲ عنہ پر تھوپنے کی کوشش کی گئی اور امام نے اس نظریہ کا سختی سے انکار کیا اور ہر موقع پر دانش مندی کا مظاہرہ کیا۔ اس لئے کربلا کے حادثے کو فکرونظر کی جنگ کا نتیجہ تو کہا جاسکتا ہے مگر اسے حقیقی جنگ نہیں قرار دیا جاسکتا۔
امام حسین رضی اﷲ عنہ کا سیاسی اور دینی تدبر
60ھ میں جب یزید تخت نشین ہوا تو اس نے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان سے کہا! انہیں بیعت پر مجبور کرو اور پوری سختی کرو، ولید نے حکم پورا کیا مگر اسے اپ نے منہ کی کھانی پڑی۔ امام حسین نے دانش مندی اور سیاسی تدبرس ے جواب دیا کہ میرے ایسے شخص کی بیعت کو کافی نہ سمجھو گے، جب یہ معاملہ مجمع عام میں رکھو گے تو مجھ سے مطالبہ کرنا (الطبری 188/6، الکامل 264/3، بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، پنجاب ص 326/8)
دوسرے دن امام حسین مدینہ سے مکہ تشریف لائے، مکے میں عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا اثرورسوخ ہونے کے باوجود لوگوں کا ہجوم آپ کے پاس اکھٹا ہوگیا۔ حتی کہ لوگوں نے بیعت کے لئے پیشکش بھی کی مگر امام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کیونکہ وہ امت میں فساد نہیں چاہتے تھے۔ اگر آپ بیعت کرلیتے تو حضرت عبداﷲ بن زبیر کی جانب سے ردعمل سامنے آسکتا تھا۔ اس لئے آپ نے یہاں بھی حسن تدبیر سے کام لیا اور خاموشی میں بہتری سمجھی (البدایہ 143/8)
دوسری جانب کوفے میں یزید کے خلاف بدامنی پھیل گئی۔ اہل کوفہ کی جانب سے پیہم خطوط آنا شروع ہوگئے۔ انہوں نے آپ کو اپنا قائد، امام تسلیم کرنے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ امام حسین کے سامنے یہاں کئی چیزیں تھیں، ایک طرف قوم خود بخود ظالم و جابر حکمران کے ظلم و زیادتی سے تنگ آکر دوسری قیادت و خلافت کا مطالبہ کررہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف کوفیوں کی سابقہ بدعہدی اور بے وفائی کی داستان بھی امام کے پیش نظر تھی۔ اور ان کی بے وفائی کی وجہ سے صحابہ کرام بھی شدت کے ساتھ منع کررہے تھے۔ اس دوراہے پر امام حسین نے جس دانش مندی، دوربینی اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا ہے، دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ امام حسین کو نہ سیاسی اقتدار کی خواہش تھی اور نہ خلافت و بیعت کا شوق تھا، ورنہ آپ مکے ہی میں لوگوں کی پیشکش قبول کرچکے ہوتے مگر ایسا نہیں کیا۔ لیکن جب آپ کو یقین ہوگیا کہ امت فساد کا شکار ہوچکی ہے، ان پر ظلم و زیادتی کی ایسی انتہا ہوچکی ہے کہ اب وہ بہ زبان خود دوسری قیادت کا مطالبہ کررہی ہے، اس لئے اس وقت امت کو شروفساد سے محفوظ کرنے کے لئے کھڑا ہونا گویا واجب ہوچکا تھا اور تیسری طرف یزید کا کیا عالم تھا، مندرجہ ذیل تصریحات پڑھیئے
ظہر فسق یزید عندالکافۃ من اہل عصرہ… (مقدمہ ابن خلدون ص 180) یزید کا فسق وفجور تمام اہل زمانہ پر آشکارا ہوگیا۔
یعنی مروی ہے کہ یزید سرور ونغمہ، شراب نوشی اور سیروشکار کے لئے مشہور تھا۔ نوعمر لڑکوں، گانے والیوں اور کتوں کو اپنے گرد جمع رکھتا تھا۔ لڑاکا مینڈھوں، سانڈھوں اور بندروں کے درمیان لڑائی کا مقابلہ کرواتا تھا۔ ہر دن صبح کے وقت مخمور رہتا تھا۔ زین کسے ہوئے گھوڑوں پر بندروں کو اسی سے بندھوا دیتا تھا اور ادھر ادھر پھرواتا تھا، بندروں اور نوخیز لڑکوں کو سونے کی ٹوپیاں پہناتا تھا، گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرواتا تھا اور جب کوئی بندر مرجاتا تو اس کا سوگ مناتا تھا۔ (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر)
ابن کثیر مزید فرماتے ہیں۔ وکان فیہ ایضا اقبال علی الشہوات وترک بعض الصلوٰۃ فی بعض الاوقات، واماتتھا فی غالب الاوقات (مرجع سابق)
یزید کے اندر شہوتوں کی طرف میلان بھی زیادہ تھا اور بعض نمازیں ترک کرنے اور اکثر اوقات انہیں نذر غفلت کردینے کا عادی تھا۔
ایسی رستہ خیز اور قیامت آشوب دور میں امام حسین کے لئے امت کو ایسی قیادت فراہم کرنا واجب ہوگیا تھا جو یزیدی عہد حکومت کے مفاسد کی اصلاح اور ملت کی تطہیر کا فریضہ انجام دیتی اور سلطان جائر (یزید) کے سامنے کلمہ حق کی آواز بلند کرتی اور اس قیادت کی سب سے زیادہ اہلیت آپ کے اندر تھی۔
ابن کثیر لکھتے ہیں : لانہ السید الکبیر، وابن بنت رسول اﷲﷺ فلیس علی وجہ الارض یومئذ احد یسامیہ ولایساویہ، ولکن الدولۃ الیزیدیۃ کانت کلھا تناوئہ (البدایۃ 144/8)
ابن خلدون رقم طراز ہیں : فاما الاہلیۃ فکانت کماظن وزیادۃ (ابن خلدون / مقدمہ 180)
یعنی جہاں تک اہلیت و صلاحیت کا تعلق ہے تو وہ بلاشک و شبہ ان میں تھی جیسا کہ ان کا گمان بلکہ اس سے بھی زیادہ تھی۔
خود امام حسین نے قادسیہ کے راستے سے کربلا کی طرف پلٹتے وقت جو تاریخی خطبہ دیا ہے، اقدام کا پس منظر سمجھنے کے لئے خطبے کا حرف حرف ضمانت ہے
ترجمہ: لوگو! رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی ظالم بادشاہ کو دیکھے کہ اس نے خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرلیا ہے۔ پیمانہ الٰہی کو توڑ رہا ہے، سنت نبوی کی مخالفت کررہا ہے، اﷲ کے بندوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کرتا ہے، ایسی صورت حال میں بھی وہ اپنے قول و عمل سے شر کو نہ مٹائے تو اﷲ کا حق ہے کہ وہ اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچادے۔ (ابن اثیر الکامل فی التاریخ 40/4)
خبردار ہوجائو! ان لوگوں (یزیدیوں) نے اپنے اوپر شیطان کی پیروی لازم کرلی ہے۔ خدا کی عبادت ترک کردی ہے ،ہر طرف فساد برپا کردیا ہے ،شرعی حدود کو معطل کردیا ہے ،سرکاری مال اپنے مفاد پر خرچ کررہے ہیں اور اﷲ کے حرام کو حلال اور اس کے حلال کوحرام کردیا ہے اور سن لو! ان مفاسد اور شر کو مٹانے کا میں سب سے زیادہ حق دار ہوں۔
گویا امام حسین کے سامنے پہلے نکتے کے تحت دوسری قیادت فراہم کرنے کے سارے شرعی و عصری تقاضے فراہم ہوچکے تھے، مگر دوسری طرف کوفے والوں کی بدعہدی بھی ایک زمینی حقیقت تھی، اسی وجہ سے صحابہ کرام منع بھی کررہے تھے اور بہت سے ان میں مجتہد بھی تھے۔ چنانچہ امام حسین نے اسی پورے معاملے کی انکوائری کرنے کے تجرباتی طور پر مسلم بن عقیل کو اپنا نائب بنا کر کوفہ روانہ کیا تاکہ صحابہ کا گمان بھی غلط نہ ہو اور اقدام کے لئے اتمام حجت بھی ہوجائے۔
چنانچہ امام مسلم بن عقیل کوفہ ہوگئے اور تقریبا 18 ہزار کوفیوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، اس کے بعد امام مسلم بن عقیل نے کوفہ والوں کی وفائی کا توثیق نامہ لکھ کر امام حسین کو تشریف لانے کی دعوت دی (البدایہ والنہایہ 144/8)
امام مسلم کے خط سے گویا صحابہ کرام کو ظاہری اطمینان بھی ہوگیا اور امام حسین نے تجرباتی طور پر اتمام حجت بھی کرلی، اس لئے خط ملتے ہی آپ اہل وعیال کے ساتھ کوچ کرگئے۔ امام حسین کے پاس اہلیت تو تھی ہی ساتھ ہی طاقت و شوکت بھی ان کے پاس تھی، یہاں امام طبری نے ایک نہایت کچی بات کی ہے کہ امام حسین کے پاس دنیاوی شوکت نہیں تھی۔
امام حسین سے شرعی لغرش تو نہیں ہوئی، جہاں تک قوت و شوکت کا تعلق ہے، تو اس کے سمجھنے میں غلطی ہوئی، اﷲ ان پر رحم فرمائے‘‘ (مقدمہ ابن خلدون ص  181)
امام طبری کی بات کی ناپختگی کی وجہ یہ ہے کہ جن کوفیوں نے امام مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کی تھی انہوں نے تو دراصل امام حسین کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور وہ پوری فوج امام کی فوج تھی۔ امام کے حکم پر کچھ بھی کرسکتی تھی، اس لئے امام کو دنیاوی شوکت بھی حاصل تھی۔ ممکن ہے طبری کو یہ غلط فہمی اس وجہ سے ہوئی ہو کہ جس وقت امام حسین خروج کررہے تھے، ان کے پاس کوئی دنیاوی شوکت و طاقت نہیں تھی تو پہلی بات تو یہ ہے کہ امام کسی جنگ کے ارادے سے نکل ہی نہیں رہے تھے کہ ان کے پاس لشکر جرار ہونا ضروری تھا ورنہ ان کے ساتھ چند نفوس قدسیہ مع اہل خانہ نہیں ہوتے اور تاریخ یہ ثبوت پیش کرنے سے بھی قاصر ہے کہ انہوں نے مکے اور مدینے والوں میں کسی فرد کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی اور اگر مان لیا جائے کہ یزید کی طرف سے ان سے جنگ بھی ہوسکتی تھی، تو امام حسین کے 18 ہزار کوفی وفادار دفاع کرنے کے لئے کافی تھے۔ گویا امام کو اپنی دنیاوی شوکت کا بھرپور اندازہ تھا۔ یہاں یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ جنگ کے لئے قائد کا بذات خود وہاں موجود ہونا ضروری نہیں۔ صرف اس کا حکم ہونا ضروری ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری فوجی طاقت تو دراصل قائد کی ہی ہوتی ہے۔ ان نکات کو پیش نظر رکھ کر امام طبری کے نظریئے کا تجزیہ کیجئے اور بے لاگ ہوکر فیصلہ کیجئے۔
فریب ہی فریب
امام عالی مقام مکہ سے کوفے کے لئے نکلے تھے مگر ایک سچی سمجھی سازش کے تحت قادسیہ کے آگے مقام ذوحشم میں حربن یزید نے امام کو محاصرہ میں لے لیا اور کوفے کی بجائے کربلا تک پہنچادیا (اردو دائرہ معارف اسلامیہ 328/8)
مقام ذو حشم میں امام نے حر وغیرہ کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ میں تمہارے دعوتی خطوط پر آیا ہوں، مجھے تمہارے قول و قرار پر یقین ہے، اس لئے اطاعت کرلو، ورنہ میں جہاں سے آیا ہوں مجھے جانے دو، لیکن مجھے بیعت یزید ہرگز قبول نہیں (مرجع سابق 328/8)
اسی طرح کربلا تک لوگوں سے ملاقات رہی، لوگوں نے سوالات کئے مگر امام نے یہی جواب دیا کہ میں تمہارے دعوتی خطوط کی بنیاد پر آیا ہوں۔ جب آپ میدان کربلا پہنچے تو کوفے کا سارا نقشہ بدل چکا تھا، جنہوں نے حسینی ہونے اور اپنی وفاداری کی قسمیں کھائی تھیں، اب وہ اپنے قسموں کے پیمانے توڑ چکے تھے اور سامنے یزیدیوں کا ایک لشکر جرار موجود تھا، عمر بن سعد کو ابن زیاد نے حکم دے دیا تھا کہ یا تو حسین سے بیعت کرلو یا انہیں قتل کردو۔ امام حسین کو صرف کربلا ہی میں نہیں راستے ہی میں یقین ہوچکا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، لیکن آپ نے ہر موقع پر امت کو یزید کے ظلم و جور سے بچانے کے لئے ان کے عہد ناموں کی یاد دہائی کرائی اور عزیمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں تشریف لائے مگر قوم نے ساتھ نہ دیا۔ جب کربلا میں یہ امر واضح ہوگیا کہ ان پر جنگ مسلط کی جاچکی ہے اور عمر بن سعد جبرا بیعت لینا چاہتا ہے تو آپ نے اولا بیعت سے انکار کیا اور پھر اصول جنگ کے مطابق دو بنیادی تجویزیں پیش کیں۔
(1) یا تو وہ جہاں سے آئے ہیں وہیں جانے دیا جائے۔
(2) یا انہیں چھوڑ دیا جائے کہ وہ وسیع و عریض زمین میں جہاں چاہیں نکل جائیں (البدایہ 166/8)
مگر ان کی کوئی تجویز منظور نہیں کی گئی اور یہ جبرواکراہ جنگ پر مجبور کیا گیا۔
بعض مورخین نے یہاں امام حسین کی تیسری تجویز یہ نقل کی ہے کہ آپ نے یہ کہا کہ مجھے یزید کے پاس جانے دیا جائے، تاکہ میں اس کے ہاتھ پر بیعت کرلوں، اس تجویز کی تردید و تضعیف کے لئے کربلا کے واقعات کے عینی شاہد، امام عالی مقام کے رفیق سفر اور تمام مورخین کے مستند راوی عقبہ بن سمعان کا صرف یہ قول نقل کردینا کافی ہے:
لقد صحبت الحسین من مکۃ الی حین قتل، واﷲ مامن کلمۃ قالہا فی موطن الاوقد سمعتہا، وانہ لم یسال ان یذہب الی یزید فیضع یدہ الی یدہ ولا ان یذہب الی ثغرمن الشغور، ولکن طلب منہم احد امرین، امام ان یرجع من حیث جائ، وامام ان یدعوہ، یذہب فی  الارض العریضۃ حتی ینظر یایصیر امر الناس الیہ (البدایۃ لابن کثیر 166/8، دارالحدیث القاہرہ 1998ئ)
کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ امام نے ہمیشہ سے جن نظریئے کی تردید کی ہو، وہ کربلا میں جاکر اسی کو گلے لگالیا؟ اگر یہ تجویز سامنے آثکی تھی تو یزیدیوں کا جنگ کے لئے تیار ہونا، چہ معنی دارد؟ کیوں کہ وہ تو اسی کے لئے لڑنے آئے تھے۔
ایک طائرانہ نظر
آپ دور معاویہ رضی اﷲ عنہ کے آغاز سے لے کر شہادت امام عالی مقام تک نظر ڈالیں تو فکرونظر کی کشمکش ہر جگہ نظر آتی ہے، مگر امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نظریاتی کشمکش صحیح ودرست تھے کیونکہ وہ خود مجتہد تھے۔ اس لئے ان اجتہاد بھی درست تھا مگر یزیدی دور میں یزید صالح و طاہر آدمی نہیں تھا بلکہ وہ فاسق معلن تھا اور امام عالی مقام کو اسی ظالم و جابر کی بیعت لینے پر مجبور کیا جاتا رہا، مگر انہوں نے کبھی بھی اس باطل نظریئے کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیوں کیا؟ گفتگو ہوچکی ہے اور اس نظریئے کے لئے وہ آخر تک جدوجہد کرتے رہے، اس کے لئے انہوں نے وفا پیشہ جاں نثاروں سمیت ریگزار کربلا پر اپنا آخری سجدہ کرنا گوارا تو کرلیا مگر ایک نادرست اور غیر اسلامی نظریئے کو باطل کے سامنے سجدہ ریز ہونے نہیں دیا۔ امام حسین کی یہ نظریاتی جیت دراصل اسلام، ایمان اور یقین کی ایک فکری جیت تھی اور باطل فکرکی ایک ناقابل تردید شکست فاش
ولادت
امام حسین رضی اﷲ عنہ کی ولادت عام شہرت کے مطابق شعبان 4ھ / جنوری 26ء کو مدینہ طیبہ میں ہوئی (تاریخ طبری 39/3)
نبی کریمﷺ نے آپ کے کان میں اذان دی۔ منہ میں لعاب دہن ڈالا اور پھر آپ کے لئے بارگاہ خداوندی میں دعا فرمائی۔ ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور اسی دن عقیقہ کیا۔ آپ کی کنیت ’’ابوعبداﷲ‘‘ اور لقب ’’سبط الرسول‘‘ اور ’’ریحانتہ الرسول‘‘ ہے۔ آپ کی صحابیت پر امت کا اجماع ہے، اسی وجہ سے امام بخاری سمیت دیگر جمہور محدثین نے صحابیت کے لئے بلوغ کی قید کو مردود قرار دیا ہے، کیونکہ حسنین رضی اﷲ عنہما کی صحابیت مسلمات سے ہے اور دلیل و حجت مسلمات سے ہی قائم کی جاتی ہے۔
فضائل و کمالات
امام حسین رضی اﷲ عنہ نے جس گھر اور جس ماحول میں آنکھ کھولی تھی، وہ گھرانہ علم وحکمت کا مخزن، فضل و کمال کا سرچشمہ اور پورا ماحول انوار نبوت سے روشن تھا۔ جہاں ہر وقت قال اﷲ وقال الرسول کی صدائیں بلند ہوئی تھیں، جہاں گرتوں کو اٹھانے، محتاجوں کی دستگیری کرنے اور دنیا سے غلامی کے خاتمے کا درس بھی دیا جاتا تھا اور اس کو عملی جامہ بھی پہنایا جاتا تھا اور پھر امام حسین تو اہل بیت نبوت کے خاص جوہر تھے، جن پر فیضان نبوت کی ہمیشہ بارش ہوا کرتی تھی، بیک وقت کئی پاکیزہ نفوس کی صحبت نے آپ کے ظاہر وباطن کو ایسا شفاف آئینہ بنادیا تھا کہ اس پر میل و کچیل تو کجا گردوغبار کا شائبہ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ امام حسین رضی اﷲ عنہ کی پاکیزہ ذات و صفات کے لئے رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’حسین منی وانا من الحسین، احب اﷲ من احب حسینا، حسین سبط من الاسباط‘‘ (ترمذی ج 2،ص 218، ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان)
حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں جو حسین کو محبوب رکھتا ہو وہ اﷲ کو محبوب رکھتا ہے، حسین فرزندوں میں ایک فرزند ہیں۔
ایک مرتبہ حضور اکرمﷺ، حضرت فاطمہ زہرا رضی اﷲ عنہا کے گھر تشریف لائے اور حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسین کریمین رضی اﷲ عنہم سب کو چادر میں لے کر فرمایا ۔ اللھم ہؤلاء اہل بیتی، اللھم اذہب عنہم الرجس وطہرم تطہیرا اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی
انما یرید اﷲ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہر کم تطہیرا (احزاب 33)
اﷲ تو یہی چاہتا ہے اے (رسول کے) گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں خوب خوب کرکے صاف ستھرا رکھے۔
یہ آیت اہل بیت نبوت کے فضائل کا منبع ہے اور آیت میں متعدد کلمات حصر سے پتا چلتا ہے کہ اس سے معمولی طہارت مراد نہیں، بلکہ سب سے عہدہ اور نہایت اعلیٰ اور غیر معمولی قسم کی پاکیزگی مراد ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت کو اﷲ تعالیٰ نے ہر طرح کی اعتقادی عملی، اخلاقی اور دیگر ناپاکیوں اور برائیوں سے پاک و منزہ فرماکر ان کے ظاہر و باطن کو وہ عظیم مقام عطا فرمایا جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز اور فائق ہیں، لہذا اس آیت قرآنی پر ایمان رکھتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ کا قلب مبارک حبُ جاہ و مال اور ہوس اقتدار اور تمام رذائل دنیا سے پاک اور مبرا تھا (امام پاک اور یزید پلید ص 236)
حضورﷺ نے حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر گفتگو کے لئے نجران کے وفد کے پاس مباہلے کے لئے حضرت حسنین کریمین حضرت فاطمہ، حضرت علی رضی اﷲ عنہم کو لے کر باہر تشریف لارہے تھے، یہ نورانی صورتیں دیکھ کر لاٹ پادری نے کہا! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں جن کی دعا پہاڑوں کو ان کی جگہ سے سرکا سکتی ہے۔ ان سے مباہلہ کرکے ہلاک نہ ہو، چنانچہ یہودیوں نے اپنا ارادہ ترک کردیا (اردو دائرہ معارف اسلامیہ 325/8)
امام حسین قرآن کریم کے مطالب اور رسول اﷲﷺ کی احادیث بیان فرماتے تھے۔ عبادت و ریاضت آپ کا معمول تھا، بہ کثرت نوافل پڑھتے تھے، قیام اللیل آپ کا عام دستور تھا۔ روزے بہ کثرت رکھا کرتے تھے اور سادے غذا سے افطار کیا کرتے تھے، پچیس حج کئے۔ رمضان المبارک میں کم از کم ایک مرتبہ قرآن مجید ضرور ختم کرتے (سیر اعلام النبلا للذہبی 196/3 بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ 325/8، دانش گاہ، پنجاب لاہور)
حضرت جابر بن عبداﷲ فرماتے ہیں کہ میں حجتہ الوداع میں عرفہ کے دن حضورﷺ کو ناقہ قصواء پر خطبہ فرماتے ہوئے سنا کہ
یاایھا الناس انی ترکت فیکم ما ان اخدتم بہ لن تضلوا کتاب اﷲ وعترتی اہل بیتی (ترمذی باب مناقب الحسن والحسین ج 218/2)
اے لوگو! بے شک میں نے تم میں وہ چیز چھوڑی ہے اگر اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو گی تو گمراہ نہیں ہوگے۔ وہ کتاب اﷲ (قرآن مجید) اور میری عترت میرے اہل بیت ہیں۔
حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت علی، فاطمہ، حسن و حسین رضی اﷲ عنہم کے متعلق فرمایا
انا حرب لمن حاربہم وسلم لمن سالہم
جو ان سے لڑے، میں ان سے لڑنے والا ہوں اور جو ان سے صلح رکھے، میں ان سی صلح رکھنے والا ہوں۔
حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا
من سرہ ان ینظر الی رجل من اہل الجنۃ فی لفظ الی سید شباب اہل الجنۃ فلینظر الی الحسین بن علی (ابن عساکر)
جو کسی جنتی مرد کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے، اور ایک روایت کے الفاظ میں ہیں، جو کسی جنتی نوجوانوں کے سردار کو دیکھ کر خوش ہو تو وہ حسین بن علی کو دیکھ لے۔
اﷲ و رسول کے ارشادات سے ثابت ہوا کہ اہل بیت کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے، امام حسین رضی اﷲ عنہ خدا اور رسول کے محبوب و مقبول اور جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ آپ سے محبت گویا ایمان کی پہچان ہے اور آپ سے بغض گمرہی کی نشانی۔ آپ کے فضائل و مناقب خیالی ہی نہیں بلکہ حقیقی ہیں، جن کے تذکرے سے اہل ایمان کے دلوں کو جلا اور روح کو تازگی ملتی ہے۔