بدعات کے خلاف امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کے فتوے

in Tahaffuz, December 2010, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا ناجائز ہے
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ تعزیہ داری میں لہو و لعب (یعنی کھیل کود یا تماشا) سمجھ کر جائے تو کیسا ہے؟
آپ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ نہیں جانا چاہئے۔ ناجائز کام میں جس طرح جان و مال سے مدد کرے گا یونہی سواد (یعنی گروہ) بڑھا کر بھی مدد ہوگا‘ ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے۔ بندر نچانا حرام ہے اس کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے۔ در مختار و حاشیہ علامہ طحطاوی میں ان مسائل کی تصریح ہے۔ آج کل لوگ ان سے غافل ہیں‘ متقی لوگ جن کو شریعت کی احتیاط ہے ناواقفی سے ریچھ یا بندر کا تماشا یا مرغوں کی پالی (یعنی لڑائی) دیکھتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اس سے گنہ گار ہوتے ہیں (ملفوظات شریف ص 286‘ مطبوعہ مکتبتہ المدینہ کراچی)
تعزیہ داری کی مذمت
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ تعزیہ داری کی تردید کس قدر صبیح و ملیح اور رواں دواں انداز فرماتے ہیں‘ اب بہار عشرہ کے ڈھول‘ تاشے‘ باجے‘ بجتے چلے‘ طرح طرح کے کھیلوں کی دھوم‘ بازاری عورتوں کا ہر طرف ہجوم‘ مشہور رانی میلوں کی پوری رسوم‘ جشن فاسقانہ یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ گویا ساختہ ڈھانچہ‘ بعینہا حضرات شہداء کرام علیہم الرضوان کے پاک جنازے میں۔
اے مومنو! اٹھو جنازہ حسین کا پڑھتے ہوئے مصنوعی کربلا پہنچے۔ وہاں کچھ نوچ اتار کر باقی (تعزیہ) توڑ تاڑ کر دفن کردیا۔ یہ ہر سال اضاعت مال (مال کا ضائع کرنا) کے جرم ووبال جداگانہ ہے (بدر الانوار فی آداب الاثار ص 26‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی ہندوستان)
مزید ارشاد فرماتے ہیں نوچندی کی بلائیں‘ مصنوعی کربلائیں‘ علم تعزیوں کے کاوے‘ تخت جریدوں کے دہارے حسین آباد عباسی درگاہ کے بلوے‘ ایسے مواقع مردوں کے جانے کے بھی نہیں‘ نہ یہ کہ نازک شیشاں (احکام شریعت) عورتوں کے لئے ’’ناک شیشاں‘‘ کہنا کس قدر نادر اور بلیغ ہے۔
مرثیہ خوانی میں شریک ہونا
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ محرم کی مجالس میں مرثیہ خوانی وغیرہ ہوتی ہے‘ سننا چاہئے یا نہیں؟
آپ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی کتاب ‘‘سر الشہادتین‘‘ جو عربی میں ہے وہ یا مولانا حسن رضا خان علیہ الرحمہ جو میرے مرحوم بھائی ہیں ان کی کتاب ’’آئینہ قیامت‘‘ میں صحیح روایات ہیں‘ انہیں سننا چاہئے باقی غلط روایات کے پڑھنے سے نہ پڑھنا اور نہ سننا بہت بہتر ہے۔ (ملفوظات شریف ص 293‘ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
محرم الحرام میں مشہور من گھڑت رسومات
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و خلیفہ مرسلین مسائل ذیل میں؟
1۔ بعض سنت جماعت عشرہ دس محرم الحرام کو نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔
2۔ ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے ہیں۔
3۔ ماہ محرم میں شادی بیاہ نہیں کرتے ہیں۔
4۔ ان ایام میں سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہم کے کسی کی نیاز وفاتحہ نہیں دلاتے ہیں۔ آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب: پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے اور چوتھی بات جہالت ہے‘ ہر مہینہ ہر تاریخ میں ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہوسکتی ہے (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24‘ مطبوعہ رضا فائونڈیشن‘ ص 488)
تعزیہ پر منت ماننا ناجائز ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے تعزیہ پر جاکر یہ منت مانی کہ میں یہاں سے ایک خرما لئے جاتا ہوں‘ در صورت کام پورا ہونے کے سال آئندہ میں نقرئی خرما تیار کراکر چڑھائوں گا؟
جواب: امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ نذر محض باطل و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24 ص 501 مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
مہندی نکالنا‘ سوز خوانی اور مجالس کا انعقاد
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت و جماعت مسائل ذیل میں:
1۔ ایصال ثواب برروح سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ بروز عاشورہ جائز ہے یا نہیں؟
2۔ تعزیہ بنانا اور مہندی نکالنا اور شب عاشورہ کو روشنی کرنا جائز ہے یا نہیں؟
3۔ مجلس ذکر شہادت قائم کرنا اور اس میں مرزا دبیر اور انیس وغیرہ روافض (شیعوں) کا کلام پڑھنا بطور سوز خوانی یا تحت اللفظ جائز ہے یا نہیں اور اہلسنت کو ایسی مجالس میں شریک ہونا مکروہ ہے یا حرام یا جائز ہے؟
4۔ حضرت قاسم کی شادی کا میدان کربلا میں ہونا جس بناء پر مہندی نکالی جاتی ہے اہلسنت کے نزدیک ثابت ہے یا نہیں؟ درصورت عدم ثبوت اس واقعہ میں حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کی صاحبزادی کی نسبت حضرت قاسم کی طرف کرنا خاندان نبوت کے ساتھ بے ادبی ہے یا نہیں؟
5۔ روز عاشورہ کو میلہ قائم کرنا اور تعزیوں کو دفن کرنا اور ان پر فاتحہ پڑھنی جائز ہے یا نہیں؟ اور بارہویں اور بیسویں صفر کو تیجہ اور دسواں اور چالیسواں اور مجالسیں قائم کرنا اور میلہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: 1۔ روح پرفتوح امام حسین رضی اﷲ عنہ کو ایصال ثواب بروجہ صواب عاشورہ اور ہر روز مستحب و مستحسن ہے۔
2۔ تعزیہ مہندی روشنی مذکور سب بدعت و ناجائز ہے
3۔ نفس ذکر شریف کی مجلس جس میں ان کے فضائل و مناقب و احادیث و روایات صحیح و معتبر ہے‘ بیان کئے جائیں اور غم پروری نہ ہو مستحسن ہے اور مرثیئے حرام خصوصا رافضیوں (شیعوں) کے کہ تبرائے ملعونہ سے کمتر خالی ہوتے ہیں‘ اہلسنت کو ایسی مجالس میں شرکت حرام ہے۔
4۔ نہ یہ شادی ثابت نہ یہ مہندی سوا اختراع اخترائی کے کوئی چیز۔ نہ یہ غلط بیانی حد خاص توہین تک بالغ
5۔ عاشورہ کا میلہ لغو و لہو و ممنوع ہے۔ یونہی تعزیوں کا دفن جس طور پر ہوتا ہے‘ نیت باطلہ پر مبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پر جہل و حمق و بے معنی ہے‘ مجلسوں اور میلوں کا حال اوپر گزرا‘ نیز ایصال ثواب کا جواب کہ ہر روز محمود ہے جبکہ بروجہ جائز ہو (فتاویٰ رضویہ جدید‘ جلد 24ص 504‘ مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
بت یا تعزیہ کا چڑھاوا کھانا ناجائز ہے
سوال: بت یا تعزیہ کا چڑھاوا مسلمانوں کو کھانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کے نزدیک بت اور تعزیہ برابر نہیں ہوسکتے۔ اگرچہ تعزیہ بھی جائز نہیں‘ بت کا چڑھاوا غیر خدا کی عبادت ہے اور تعزیہ پر جو ہوتا ہے وہ حضرات شہداء کرام کی نیاز ہے‘ اگرچہ تعزیہ پر رکھنا لغو ہے‘ بت کی پوجا اور محبوبان خدا کی نیاز کیونکر برابر ہوسکتی ہے‘ اس کا کھانا (بت کا چڑھاوا) مسلمانوں کیلئے  حرام ہے اور اس کا کھانا بھی نہ چاہئے (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 21ص 246‘ مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
شیعوں کا لنگر کھانا ناجائز ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آٹھ محرم الحرام کو روافض (شیعہ) جریدہ اٹھاتے ہیں‘ گشت کے وقت ان کو اگر کوئی اہلسنت و جماعت شربت کی سبیل لگا کر شربت پلائے یا ان کو چائے‘  بسکٹ یا کھانا کھلائے اور ان کو شمول میں کچھ اہلسنت و جماعت بھی ہوں اور کھائیں پئیں تو یہ فعل کیسا ہے اور اس سبیل وغیرہ میں چندہ دینا کیسا ہے؟
جواب: امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ سبیل اور کھانا‘ چائے‘  بسکٹ کہ رافضیوں (شیعہ) کے مجمع کے لئے کئے جائیں جو تبرا اور لعنت کا مجمع ہے‘ ناجائز و گناہ ہیں اور ان میں چندہ دینا گناہ ہے اور ان میں شامل ہونے والوں کا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہوگا (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 21 ص 246‘ مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
شیعوں کی مجالس میں جانا‘ نیاز کھانا سیاہ لباس حرام ہے
بعض لوگ امام احمد رضا علیہ الرحمہ اور ان کے پیروکاروں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ شیعہ حضرات کے حمایتی ہیں جبکہ اس کے برعکس امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی کتابوں میں شیعوں اور ان کے باطل عقائد کی اتنی مخالفت موجود ہے جتنی کسی اور فرقے کے پیشوا کی بھی کتابوں میں نہیں ملتی چنانچہ…
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں رافضیوں (شیعوں) کی مجلس میں مسلمانوں کا جانا اور مرثیہ سننا حرام ہے۔ ان کی نیاز کی چیز نہ لی جائے‘ ان کی نیاز نیاز نہیں اور وہ غالباً نجاست سے خالی نہیں ہوتی۔ کم از کم ان کے ناپاک قلتین کا پانی ضرور ہوتاہے اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت۔ محرم الحرام میں سبز اور سیاہ کپڑے علامت سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ خصوصا سیاہ کا شعار رافضیان (شیعوں کا طریقہ) ہے (فتاویٰ رضویہ جدید‘ جلد 23 ص 756‘ مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
شیخین کے گستاخ دائرہ اسلام سے خارج ہیں
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رافضی تبرائی جو حضرات شیخین صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اﷲ عنہما خواہ ان میں سے ایک کی شان پاک میں گستاخی کرے‘ اگرچہ صرف اسی قدر کہ انہیں امام و خلیفہ برحق نہ مانے۔ کتب معتمدہ فقہ حنفی کی تصریحات اور عامہ ائمہ ترجیح و فتویٰ کی تصحیحات پر مطلقاً کافر ہے۔ در مختار مطبوعہ مطبع ہاشمی ص 64 میں ہے۔
اگر ضروریات دین سے کسی چیز کا منکر ہو تو کافر ہے مثلا یہ کہنا کہ اﷲ تعالیٰ اجسام کے مانند جسم ہے یا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی صحابیت کا منکر ہونا (درمختار‘ باب الامامۃ‘ جلد اول ص 83‘ مطبوعہ مجتبائی دہلی)
رافضی اگر مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ کو سب صحابہ کرام علیہم الرضوان سے افضل جانے تو بدعتی گمراہ ہے اور اگر خلافت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کا منکر تو کافر ہے (خزانۃ المفتین کتاب الصلوٰۃ جلد اول ص 28)
(فتاویٰ رضویہ شریف جدید جلد 14‘ص 250‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)
یزید کو پلید لکھنا اور کہنا جائز ہے
سوال: یزید کی نسبت لفظ یزید پلید کا لکھنا یا کہنا ازروئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟ یزید کی نسبت لفظ رحمتہ اﷲ علیہ کہنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب: امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یزید بے شک پلید تھا۔ اسے پلید کہنا اور لکھنا جائز ہے اور اسے رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نہ کہے گا مگر ناصبی کہ اہلبیت رسالت کا دشمن ہے۔
(فتاویٰ رضویہ جدید جلد 14ص 603‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)