ابلیس لعین نے دارالندوہ (کمیٹی گھر) میں خصوصی شرکت کیوں کی؟

in Tahaffuz, December 2010, ابو الحسنین مفتی محمد عارف محمود خان قادری رضوی, متفرقا ت

اہل سنت و جماعت کے علمائے کرام کثرہم اﷲ تعالیٰ دارالندوہ (کمیٹی گھر) کے اجلاس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ نیز نجد کے خطے سے شیطان کو کون سی مناسبت تھی جس کی وجہ سے بقول علمائے کرام اسے شیخ نجدی کی صورت اختیار کی۔ نیز ابن عبدالوہاب نجدی کون تھا؟ اس کی تاریخ اور کارناموں کی تفصیل کہاں سے ملے گی؟ (بینوابالکتاب وتوجروا عندالحساب سائل محمد حمزہ علی قادری، اوکاڑہ پنجاب)
الحمدﷲ ذی المجد والجلالہ والصلوٰۃ والسلام علی صاحب النبوۃ والرسالہ، الذی لاتجتمع امتہ علی الصلالۃ اما بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خلیفہ اجل صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر میں رقم طراز ہیں۔ سید المفسرین حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن کفار قریش دارالندوہ (کمیٹی گھر) میں حضور جان عالمﷺ کے بارے میں مشورہ کرنے کے لئے جمع ہوئے اور ابلیس لعین ایک بڈھے کی شکل میں آیا اور کہنے لگا۔ میں نجدی شیخ ہوں، مجھے تمہارے اس اجتماع کی اطلاع ہوئی تو میں آیا۔ مجھ سے تم کچھ نہ چھپانا، میں تمہارا رفیق ہوں اور اس معاملہ میں بہتر رائے سے تمہاری مدد کروں گا۔ انہوں نے اس کو شامل کرلیا اور سید عالمﷺ کے متعلق رائے زنی شروع ہوئی۔ ابوالبختری نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ محمدﷺ کو پکڑ کر ایک مکان میں قید کردو اور مضبوط بندشوں سے باندھ دو، دروازہ بند کردو صرف ایک سوراخ چھوڑ دو جس سے کبھی کبھی کھانا پانی دیا جائے اور وہیں وہ ہلاک ہوکر رہ جائیں۔ اس پر شیطان لعین جو اس وقت شیخ نجدی بنا ہوا تھا، بہت ناخوش ہوا اور کہا نہایت ناقص رائے ہے کیونکہ یہ خبرمشہور ہوگی اور ان کے اصحاب آئیں گے اور تم سے مقابلہ کریں گے اور ان کو تمہارے ہاتھ سے چھڑالیں گے۔ لوگوں نے کہا کہ شیخ نجدی ٹھیک کہتا ہے۔ پھر ہشام بن عمرو کھڑا ہوا، اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان کو (یعنی محمدﷺ کو) اونٹ پر سوار کرکے اپنے شہر سے نکال دو پھر وہ جو کچھ بھی کریں، اس سے تمہیں کچھ ضرر نہیں۔ ابلیس نے اس رائے کو بھی ناپسند کیا اور کہا جس شخص نے تمہارے ہوش اڑا دیئے ہیں اور تمہارے دانشمندوں کو حیران بنادیا ہے اس کو تم دوسروں کی طرف بھیجتے ہو، تم نے اس کی شیریں کلامی، سیف زبانی اور دل کشی نہیں دیکھی ہے اگر تم نے ایسا کیا تو وہ دوسری قوم کے قلوب تسخیر کرکے ان لوگوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کرے گا۔ اہل مجمع نے کہا شیخ نجدی کی رائے ٹھیک ہے۔
اس پر ابوجہل کھڑا ہوا اور اس نے یہ رائے دی کہ قریش کے ہر ہر خاندان سے ایک ایک عالی نسب جوان منتخب کیا جائے اور ان کو تیز تلواریں دی جائیں۔ وہ سب یکبارگی حضرت پر حملہ آور ہوکر قتل کردیں تو بنی ہاشم قریش کے تمام قبائل سے نہ لڑسکیں گے۔ غایت یہ ہے کہ خون کا معاوضہ دینا پڑے گا وہ دے دیا جائے گا۔ ابلیس لعین نے اس تجویز کو پسند کیا اور ابوجہل کی بہت تعریف کی اور اس پر سب کا اتفاق ہوگیا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سید عالمﷺ کی خدمت سراپا عظمت میں حاضر ہوکر واقعہ گوش گزار کیا اور عرض کیا کہ حضورﷺ اپنی خواب گاہ میں شب کو نہ رہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے اذن دیا ہے مدینہ طیبہ کا عزم فرمائیں۔ چنانچہ حضورﷺ نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو شب میں اپنی خواب گاہ میں رہنے کا حکم دیا اور فرمایا۔ ہماری چادر شریف اوڑھو، تمہیں کوئی ناگوار بات پیش نہ آئے گی اور حضورﷺ دولت سرائے اقدس سے باہر تشریف لائے اور ایک مشت خاک دست مبارک میں لی اور آیت انا جعلنا فی امناتہم اغلالا پڑھ کر
محاصرہ کرنے والوں پر ماری سب کی آنکھوں اور سروں پر پہنچی ، سب اندھے ہوگئے اور حضورﷺ کو نہ دیکھ سکے اور حضورﷺ مع ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے غار ثور میں تشریف لے گئے اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو لوگوں کی امانتیں پہنچانے کے لئے مکہ مکرمہ میں چھوڑا، مشرکین رات بھر سید عالمﷺ کی دولت سرائے اقدس کا پہرہ دیتے رہے۔ صبح کو جب قتل کے ارادے سے حملہ آور ہوئے تو دیکھا کہ حضرت علی ہیں، ان سے حضورﷺ کو دریافت کیاکہ کہاں ہیں، انہوں نے فرمایا کہ معلوم نہیں تو تلاش کے لئے نکلے۔ جب غار پرپہنچے تو مکڑی کے جالے دیکھ کر کہنے لگے۔ اگر اس میں داخل ہوتے تو یہ جالے باقی نہ رہتے۔ حضورﷺ اس غار میں تین دن ٹھہرے پھر مدینہ طیبہ روانہ ہوئے۔ (خزائن العرفان مطبوعہ لاہور ص 261)
اس اجلاس شیطانی میں شیطان بصورت شیخ نجدی صدر بن کر شیطنت کرتا رہا اوراس کے چیلے اپنی مکروفریب سے پرباتیں بناتے رہے جبکہ خداوند کریم کی خفیہ تدبیر سب پر غالب رہی۔ چنانچہ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے حبیبﷺ سے یوں خطاب کیا:
واذیمکربک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک، ویمکرون ویمکراﷲ،واﷲ خیر الماکرین (الانفال آیت30)
ترجمہ کنزالایمان: اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکال دیں اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اﷲ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اﷲ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ہے۔
اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ابلیس لعین دارالندوہ (کمیٹی گھر) کے اجلاس میں کیونکر شریک ہوا، اب رہا یہ مسئلہ کہ شیخ نجدی کی صورت میں کیوں آیا اور نجد کے خطے سے اسکا تعلق کیا ہے۔ سبب وہ حدیث نجد ہے جس کے امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی صحیح کی جلد اول ص 1051 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی میں درج ہے۔
چنانچہ ابن عمر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور مخبر صادقﷺ ایک مرتبہ یوں دعا کررہے تھے۔
اللھم بارک لنافی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننا قالوا وفی نجدنا
اے اﷲ ہمارے لئے شام میں برکت دے، اے اﷲ ہمارے لئے یمن میں برکت دے تو لوگوں نے کہا کہ ہمارے نجد کے لئے بھی دعا برکت فرمائیں۔ حضورﷺ نے پھر وہی دعا فرمائی۔
اللھم بارک لنافی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننا قالوا وفی نجدنا
اے اﷲ ہمارے لئے شام میں برکت دے، اے اﷲ ہمارے لئے یمن میں برکت نازل فرما پھر لوگوں نے عرض کی۔ ہمارے نجد کے لئے بھی دعا فرمایئے
قال فی الثالثۃ ہناک النزلازل والفتن وبہا یطلع قرن الشیطٰن (رواہ البخاری)
راوی فرماتے ہیں تیسری مرتبہ نجد کے بارے میں دعا کی درخواست پیش کرنے پر ارشاد فرمایا۔ وہاں (نجد میں) زلزلے اور فتنے ہوں گے اور اس جگہ شیطان کا سینگ ظاہر ہوگا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نجد کا خطہ دعائے برکت سے محروم ہے اور اس میں شیطانی سینگ کے ظاہر ہونے کی وجہ سے شیطان کا پسندیدہ علاقہ ہے، اس لئے ابلیس لعین اس خطے سے تعلق کی بناء پر نجدی بڈھے کی صورت بنا کر اس شیطانی مجلس میں حضورﷺ کے خلاف مشاورت کرنے کے لئے آیا اور اس کے چیلوں نے اسے کرسی صدارت پر بڑھایا اور پھر اس کے چیلہ خاص ابوجہل کے مشورہ پر اس نے تصدیقی مہر ثبت کردی تاکہ دشمنی رسول میں یہ کسی سے پیچھے نہ رہ جائے۔
اس حدیث کا مصداق ابن عبدالوہاب نجدی ہوا جوکہ قرن الشیطٰن ٹھہرایا گیا، اس کی تحقیق و تفصیل امام شامی قدس سرہ الشامی نے رد المحتار جلد سادس ص 400 مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ اور علامہ صاوی مالکی علیہ الرحمہ نے حاشیہ الصاوی علی الجلالین جلد ثالث جزو اول ص 78 مطبوعہ مکتبہ غوثیہ اور علامہ دہلان مکی نے الدرالسنیہ اور حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے بہار شریعت حصہ اول اور مفتی عبدالقیوم ہزاروی علیہ الرحمہ نے تاریخ نجد و حجاز میں واضح کردیا اور یہ بھی ثابت کردیا کہ اس کا تعلق خوارج کی اصل ذوالخویصرہ نجدی تمیمی کے خاندان سے تھا اور یہنجدیت کا بانی ہے اور شیطانی پارٹی کی اصل لہذا یہ صورت شیطان کی من بناتی ہے۔
اس ابن عبدالوہاب نجدی نے تمام عرب شریف خصوصا حرمین طیبین زادہما اﷲ شرفا میں بہت فتنے پھیلائے، علماء اہل سنت کو قتل کروایا، صحابہ کرام وائمہ عظام اور علماء و شہداء کی قبور کھود ڈالیں۔ روضہ انور کا نام صنم اکبر رکھا تھا۔ اس کی تفصیل الدرالسنیہ فی الاجوبۃ النجدیہ جز اول کے ص 68-58 میں موجود ہے۔ اس کے ناپاک مشن کی تکمیل کے لئے
مولوی اسماعیل دہلوی نے اس کی کتاب التوحید کا اردو ترجمہ بنام ’’تقویۃ الایمان‘‘ پیش کیا جوکہ درحقیقت تفویۃ الایمان ہے۔ اس میں بھی اہل اﷲ کی قبور کوشرک کے مراکز ٹھہرایا گیا۔ اس کتاب کے ماننے والوں نے ماضی قریب میں سوات کے اندر کس طرح بے دردی کے ساتھ اکابر اولیاء و علماء کے مزارات پر بم بلاسٹ کئے اور علماء اہلسنت کو زندہ درگور کرتے رہے اور انہیں شہید کرکے ان کی لاشوں کو تین تین دن تک لٹکائے رکھا۔ اب کچھ ماہ قبل ہی ان بدبختوں نے داتا دربار لاہور میں بم دھماکے کرکے کتنے مسلمان ناحق شہید کردیئے۔ اس کے علاوہ قابل غور بات یہ ہے کہ ان سب نجدی ذہن کے لوگوں کا بڑا مشن ان اولیائے کرام کے مزارات کو گرانا ہے اور اس سلسلے میں ہمہ وقت کام کرنے والی تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں سعودی نجدی شیوخ اس شیخ نجدی کی راہ پر چلتے ہوئے شرکت کرتے ہیں اور ان کو آکر نئے نئے مشورے دیتے ہیں ۔اس بارے میں تو آپ جان چکے ہیں کہ ابلیس لعین بھی نجدی بڈھے کی شکل میں رونما ہوا تھا، کہیں آج یہ بھی اس کے کارندے تو نہیں، اس کے اندر بھی ایک بڈھا خود ہی نہ ہوتا ہو، اس لئے اے مسلمانو! اپنے آپ کو ایسے اجتماعات میں جانے سے بچاو۔