تبلیغی جماعت کے مولوی طارق جمیل کی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں گستاخی

in Tahaffuz, December 2009, آ ئينہ کيو ں نہ دوں

سوال: جناب مفتی صاحب‘ السلام علیکم و رحمتہ اﷲ! گزارش ہے کہ ایک جلسہ میں مقرر نے یوں تقریر کی ’’حضرت خولہ بنت ثعلبہ نے عمر کو یوں نصیحت کی وہ عورت کہنے لگی۔ ایک زمانہ تھا تو عمری عمری کہلاتا تھا‘ پھر تجھے عمر کہنے لگے پھر تو امیرالمومنین بن گیا۔ اﷲ سے ڈر کر رہا کر تو حضرت عمر بھیگی بلی بنے سنتے رہے۔ جب وہ عورت چلی گئی تو لوگوں نے کہا امیر المومنین آپ اس بڑھیا کی خاطر کھڑے ہوگئے ۔ کہا ارے ارے بدھو پتا ہے یہ عورت کون تھی۔ یہ بیوہ ہے جس کی عرش پر رب نے سنی تھی۔ زمین پر میں کیسے نہ سنتا‘ یہ خولہ ہے خولہ‘ خولہ بنت ثعلبہ
جواب طلب امور یہ ہیں (1) کیا یہ واقعہ اسی طرح ہے؟
(2) کیا خط کشیدہ الفاظ اہانت (توہین) امیر المومنین کی نشاندہی نہیں کرتے؟
(3)کیا ایسے ذاکر (مقرر) کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے؟
(4) ان الفاظ میں توہین صحابہ کرنے والے اہلسنت والجماعت ہیں یا نہیں؟
(5) ایسے مقرر کا وعظ سننا چاہئے یا نہیں؟
تفصیلی جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
مورخہ: 3 اکتوبر 2007                                    سائل: قمر الاسلام‘ کھاریاں