مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اﷲ
علامہ اقبال علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
نادان سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
پاکستانی قوم اپنا 63 واں یوم آزادی منا رہی ہے اور جب بھی 14 اگست کا دن آتا ہے تو پوری قوم اپنے اکابرین کی شاندار قربانیوں کو یاد کرکے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس طرح تحریک پاکستان میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے حصہ لیا، بالکل اسی طرح محبان رسولﷺ و عشاقان رسولﷺ و محبان صحابہ و اہلبیت رضوان اﷲ علیہم اجمعین و محبان اولیاء اﷲ رحمہم اﷲ یعنی مشائخ و علمائے اہلسنت و جماعت نے اپنی پوری طاقت و قوت سے قائداعظم محمد علی جناح کا بھرپور ساتھ دیا اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اولیاء اﷲ کے ماننے والے ہی تحریک پاکستان میں سب سے آگے تھے اور سب سے زیادہ قربانیاں اور شہادتیں بھی انہی کے حصے میں آئیں اور یقینا پوری عالمی دنیا کی تاریخ میں ایسی لازوال قربانیاں و شہادتیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مذہب کے نام پر بننے والی ریاستوں میں سے ایک سرفہرست پاکستان بھی  ہے۔ 20 لاکھ نفوس نے اپنا لہو دے کر اس ریاست کو گل گلزار بنا ڈالا، جس کے سبب آج ہمیں ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ ورنہ ہندوستان کے حالات تحریک پاکستان سے قبل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ جہاں مسلمانوں کا ہر طرح سے استحصال ہورہا تھا۔ قابل فخر بات یہ ہے کہ ہمارے اکابرین نے وقت کی نزاکت اور حالات کا ادراک کرتے ہوئے ایک علیحدہ ریاست بنانے کا عزم مصمم اور اﷲ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے پاکستان بنا ہی ڈالا جوکہ الحمدﷲ آج تک قائم و دائم ہے بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور جس کا دفاع ایٹمی ٹیکنالوجی کے سبب ناقابل تسخیر ہے اور انشاء اﷲ قیامت تک ہمارا پیارا وطن قائم و دائم رہے گا لیکن ہمارے پیارے وطن کا قیام و دوام از اول تا انتہا کانگریس اور اس کے ایجنٹوں کو کبھی بھی ایک آنکھ نہ بھایا۔ شروع دن ہی سے ملک عزیز کے خلاف سازشوں اور اسے توڑنے کی بھرپور کوشش سب پر عیاں ہے۔ آج تک وطن عزیز کو دل سے تسلیم نہ کیا گیا اور کئی مرتبہ ہم پر جنگ کو مسلط کیا گیا۔ کئی مرتبہ جارحیت کا ارتکاب کرکے کبھی کشمیر پر قبضہ کیا گیا تو کبھی مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوا کر ملک کے دو ٹکڑے کروادیئے گئے اور اب ہندوئوں اور کانگریس کے ایجنٹوں کی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔ خارجی اور بیرونی سازشوں سے لے کر اندرونی و داخلی سطح پر انتہائی خطرناک سازشوں کا جال بن دیا گیا ہے۔ اگر صرف داخلی انتشار و افتراق ہی پر روشنی ڈالی جائے تو  یہ بات سب پر عیاں ہے کہ شرق سے لے کر غرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک ہر طرف دہشت گردی کا راج ہے۔ ہندوئوں اور کانگریس کے وفادار ایجنٹوں نے ملک عزیز پاکستان میں کشت و خون کے بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں صوبائیت اور لسانیت کی آگ کو انتہائی سلگایا جارہا ہے۔ خیبرپختون خواہ (سابقہ صوبہ سرحد) اور صوبہ پنجاب میں خودکش حملوں کے ذریعے عامتہ المسلمین کا قتل عام جاری و ساری ہے اور صوبہ سندھ کے سب سے بڑے شہر اور پاکستان کا سابقہ دارالخلافہ شہر کراچی میں انہی ہندوئوں اور کانگریس کے وفاداروں نے آگ و خون کا بازار گرم کررکھا ہے۔ روزانہ لوگوں کا قتل عام جاری و ساری ہے۔ صرف اگست کے رواں ہفتے کے دوران 90 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ سینکڑوں گاڑیوں، دکانوں اور مارکیٹوں کو آگ لگادی گئی اور لسانیت و عصبیت کے اس خونی کھیل میں کراچی کے امن کو برباد کردیا۔ محترم قارئین! یقینا میری اس تمہید کے پیچھے چھپے مقاصد آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ وطن عزیز پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہندوستان اور اس کے ’’وفادار ایجنٹ‘‘ ہیں۔ وطن عزیز میں کانگریس اور ہندوئوں کے وفادار ایجنٹ کا کردار کون ادا کررہا ہے اور وہ کون سا مکتبہ فکر ہے جو نہ تو کل پاکستان اور تحریک پاکستان کا حامی اور مددگار تھا اور نہ آج (جبکہ اس کے باوجود کہ وہ بظاہر مالی و سیاسی فوائد حاصل کرنے میں سب سے آگے آگے ہیں، لیکن عملا وہ کانگریس اور ہندوئوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کررہے ہیں) کیونکہ ان کے بزرگوں نے قائداعظم علیہ الرحمہ کے مقابلے میں کانگریس کو ترجیح دی اور اس کی وجہ صرف اور صرف مالی منفعت کا حصول تھا اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کے پیچھے دلائل و حقائق نہ ہوں۔ تاریخ پاکستان کی مستند کتابوں سے لے کر تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے مجاہدوں تک، ہر ایک کی زبان پر عام ہے۔ ابھی صرف چند ماہ پہلے روزنامہ جنگ کے صف اول کے نامور صحابی اور جیو ٹی کے مشہور اینکر جناب حامد میر نے اپنے کالم (قلم کمان) میں یہ بات نقل کی کہ ’’قائداعظم محمد علی جناح نے جب تحریک پاکستان میں شامل ہونے کے لئے (دارالعلوم دیوبند) کے مہتمم مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا کفایت اﷲ سے رابطہ کیا تو انہوں نے تحریک پاکستان میں شامل ہونے کے لئے قائداعظم محمد علی جناح سے 50 ہزار روپے ماہانہ مانگ لئے، جس پر قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ ہم آپ کی یہ ڈیمانڈ پوری نہیں کرسکتے تو ان حضرات نے قائداعظم کا ساتھ دینے سے انکار کردیا اور کانگریس کے ساتھ مل کر تحریک پاکستان مہم کو ناکام بنانے کے لئے ہندوئوں کا ساتھ دیا‘‘(روزنامہ جنگ کراچی 26 مارچ 2009ء بروز جمعرات)
محترم قارئین! آپ کی دلچسپی کے لئے یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ جب حامد میر نے یہ تاریخی حقیقت اپنے کالم میں بیان کی تو پوری دیوبندیت نامور صحافی حامد میر کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ روزنامہ جنگ کے دفاتر پر توڑ پھوڑ کی گئی اور تحریر و تقریر کے میدان میں بھی حامد میر کے خلاف سخت زبان و رویہ اختیار کیا گیا۔ یہ بات آن دی ریکارڈ ہے۔ ایک اور حقیقت کی جانب آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا اور یہ حقیقت تو آپ بھی اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ جب آپریشن ’’راہ نجات‘‘ شروع کرنے کا مرحلہ آیا چونکہ طالبان، صوفی محمد، فضل اﷲ، بیت اﷲ محسود وغیرہ بھی اسی مسلک و عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں اور سوات میں جو کچھ طالبان نے کیا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ درس و تدریس کے ادارے و جامعات، اسکول و کالج کو تباہ کر ڈالا، مزارات اولیاء اﷲ خاص کر رحمان بابا کا مزار اقدس تباہ کیا اور پیر بابا کے مزار پر قبضہ، علماء و مشائخ کی لاشوں کی بے حرمتی، ان کی لاشوں کو قبروں سے نکال کر چوراہے پر لٹکایا گیا۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، سرعام عورتوں اور لڑکیوں کو کوڑوں سے مارنا، مارکیٹوں کو خودکش حملوں سے تباہ و برباد کیا گیا۔ لوگوں کی معاشی حالت کو تباہ وبرباد کردیا گیا۔ ہمارے وطن عزیز کے شاہینوں کو علم سے محروم کرنے کی سازش کی گئی تو اب یہ مرحلہ تھا کہ ان ظالموں، قاتلوں اور علم کے دشمنوں سے جہاد کیا جائے اور ان کے فہم اسلام سے جو نقصان پاکستان اور پورے عالم اسلام کو پہنچ رہا ہے اس سے انہیں بچایاجائے تو پوری پاکستانی عوام نے ان طالبان کے خلاف آپریشن ’’راہ نجات‘‘ کی تائید کی لیکن ہم سب نے دیکھا کہ دیوبندی، وہابی اور جماعت اسلامی نے اس آپریشن کی مخالفت کی اور آج تک وہ اسی موقف پر قائم ہیں۔ الحمدﷲ! آپریشن ’’راہ نجات‘‘ کامیاب ہوا اور سوات میں امن وامان بحال ہوگیا، اسکول و کالج دوبارہ کھل گئے، کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔
محترم قارئین! اس مرحلہ پر بھی جبکہ پاکستان کی سوئٹزر لینڈ وادی سوات میں امن قائم کرنے کا مرحلہ آیا تو پاک فوج کے شانہ بشانہ اولیاء اﷲ کے ماننے والے ہی ساتھ تھے۔ پاکستان کو بنانے والے بھی یہی تھے اور آج وطن عزیز کی بقاء و تحفظ کے لئے سرحدوں پر کفن باندھ کر میدان میں نکل آئے اور شہادتوں کی ایسی داستان رقم کردی جو قیامت تک آنے والوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی انشاء اﷲ، لیکن جو لوگ نہ تو تحریک پاکستان میں قائداعظم کا ساتھ دے سکے اور چند کھوٹے سکوں کی خاطر کانگریس اور ہندوئوں کے ایجنٹ بنے رہے، وہی آج وطن عزیز کے تحفظ و بقاء کے لئے پاک فوج کا ساتھ دینے کے بجائے طالبان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اس پر بھی دلائل موجود ہیں۔ وطن عزیز کے نامور صحافی اور جنگ اخبار کے صف اول کے کالم نگار جناب ہارون الرشید نے اپنے کالم میں اس حقیقت کو آشکارا کیا ہے، فرماتے ہیں: ’’سوات میں آپریشن کا آغاز ہوا تو پاک فوج کو دوسروں کے علاوہ ’’حفصہ بریگیڈ‘‘ سے واسطہ پڑا۔ اس سے بھی زیادہ المناک بات یہ ہے کہ بونیر میں ’’جماعت اسلامی‘‘ اور ’’جمعیت علماء اسلام‘‘ کے چند لوگ جنگجوئوں میں شامل تھے‘‘
پھر آگے چل کر مزید فرماتے ہیں: ’’ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ اسی ’’مذہبی مکتب فکر‘‘ سے ان لوگوں کا تعلق ہے طالبان جس کی نمائندگی کرتے ہیں‘‘
(حوالہ:اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے)پیر 26 اکتوبر 2009ء روزنامہ جنگ (اداریہ والا صفحہ)
محترم قارئین! آپ نے خود نوٹ کیا ہوگا کہ آج تک طالبان نے جو کارروائیاں کی ہیں، ان کے خلاف نہ تو جمعیت علمائے اسلام اور پوری دیوبندیت نے اور نہ جماعت اسلامی نے کبھی احتجاج کیا ؟ کیوں؟ ایسا اس لئے ہے کہ ان سب کا مسلک ایک ہی ہے، ان سب کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ صرف اور صرف اندرونی اور بیرونی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان پہنچانا ہے اور ہندوستان کو خوش کرنا ان سب کا مطمع نظر ہے۔ اس کے علاوہ آپ غور کیجئے کہ دیوبندیت کے سالانہ بڑے بڑے جو بھی پروگرام ہوں، وہ ہوجاتے ہیں۔ مثلا رائے ونڈ کے سہ روزہ تبلیغی جماعت کے اجتماع کو دیکھ لیں، وہ اجتماع بغیر کسی ڈر اور خوف کے منعقد ہوجاتا ہے اور کامیابی سے ہمکنار بھی ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس اہلسنت و جماعت کی تبلیغ و صلوٰۃ و سنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی کا تین روزہ سالانہ پروگرام ملتان میں عدم تحفظ کی وجہ سے منسوخ کردیا جاتا ہے، فرق بالکل واضح ہے۔ جس کا نتیجہ نکالنا کسی کے لئے بھی مشکل نہیں۔
محترم قارئین! اب آیئے طالبان کے بارے میں صحافی برادری کیا رائے رکھتی ہے ؟ مختصراً اشارے اور پیرائے حاضر خدمت ہیں۔ روزنامہ جنگ کے نامور اور بزرگ صحافی جناب عطاء الحق قاسمی طالبان کو نئے دور کا خارجی قرار دیتی ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ جو دہشت گرد عام مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کررہے ہیں اور اس پر نادم ہونے کے بجائے وہ خود کو جنت کا حقدار سمجھتے ہیں۔ وہ دراصل آج کے دور کے خارجی ہیں، جو اپنے علاوہ باقی سب مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، ان (طالبان) کی اسی سوچ کو ہمارا دشمن (ہندوستان) ایکسپلائٹ کررہا ہے۔ چنانچہ انہیں مالی امداد اور اسلحہ انہی کی طرف سے فراہم کیا جاتا ہے، کچھ عرصے سے انہوں نے بزرگان دین کے مزارات پر بھی حملوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ جس کا کلائمکس حضرت داتا علی ہجویری گنج بخش علیہ الرحمہ کے مزار پر حملے کی صورت میں سامنے آیا ہے‘‘
آگے چل کر مزید فرماتے ہیں ’’ان (طالبان) کے نزدیک مزاروں سے ملحقہ مساجد میں نمازیں اور تہجد ادا کرنے والے بھی مشرک ہیں، چنانچہ وہ ’’جنت کمانے کے لئے‘‘ ان مقدس مقامات پر حملہ آور ہوتے ہیں‘‘ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں ’’اس حقیقت سے بھی بہرحال انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ذہنوں میں یہ نفرت انگیز سوچ بہرحال مذہبی پیشوائوں ہی کی ہوئی ہوئی ہے‘‘ (روزنامہ جنگ کراچی کالم بعنوان (نئے دور کے خارجی) جمعرات 8 جولائی 2010ئ)
قارئین غور فرمائیں کہ موجودہ دور کے خارجیوں کو تحفظ فراہم کرنا، ان سے تعلقات رکھنا، انہیں اور ان کے عمل کو درست سمجھنے والوں پر کیا حکم لگنا چاہئے؟ تمام پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ طالبان کو وطن عزیز میں کس کی سرپرستی حاصل ہے اور وہ کون سا مسلک اور عقیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں؟
روزنامہ جنگ کے نامور صحافی جناب حامد میر کا طالبان کے بارے میں نقطہ نظر پیش خدمت ہے، فرماتے ہیں۔ ’’ہوسکتا ہے کہ حضرت علی ہجویری علیہ الرحمہ کے مزار پر حملے کی منصوبہ بندی بھی کسی دشمن طاقت نے کی ہو، لیکن دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والے ہمارے ’’اپنے‘‘ ہیں اور ہمیں اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دینا چاہئے۔
کیا یہ سچ نہیں کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال کے دوران پشاور اور نوشہرہ میں رحمان بابا علیہ الرحمہ سمیت کئی بزرگوں کے مزاروں پر بم دھماکے کئے گئے اور ان دھماکوں میں ملوث جو بدبخت گرفتار ہوئے، ان کا تعلق خیبر ایجنسی سے تھا؟ کیا یہ سچ نہیں کہ پچھلے کئی سالوں سے مساجد اور امام بارگاہوں کے علاوہ 12 ربیع الاول کے اجتماعات کو بھی خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں ملوث افراد نہ تو CIA اور ’’را‘‘ کے اہلکار تھے اور نہ ہی انہیںبلیک واٹر نے بھرتی کیا تھا، بلکہ یہ سب ہمارے اندر ہی سے تھے اور ان کا تعلق ایسی تنظیموں سے تھا، جو ایک دوسرے کے خلاف کافر کافر کے نعرے لگاتے ہیں۔
آگے چل کر مزید فرماتے ہیں ’’اصل بہادری یہ ہے کہ ہم ان آستین کے سانپوں کو تلاش کریں جو پاکستان کے بے گناہ اور نہتے مسلمانوں  کا خون بہا کر اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ حضرت علی ہجویری علیہ الرحمہ کے مزار پر حملہ کرنے والے وہی ہیںجنہوں نے جامعہ نعیمیہ میں گھس کر مفتی ڈاکٹر سرفراز نعیمی علیہ الرحمہ کو خودکش حملے میں شہید کیا۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے نشتر پارک کراچی میں سنی تحریک، جماعت اہل سنت اور جے یو پی کی قیادت کو نشانہ بنایا‘‘ (کالم بعنوان (انتقام مگر پیار سے) پیر 5 جولائی 2010ء
محترم قارئین! جناب حامد میر کے اس کالم کو بغور پڑھیں کیا آج تک گزشتہ چند برسوں سے جاری ہر دہشت گردی کی واردات کو بلیک واٹر، امریکہ یا ’’را‘‘ کے کھاتے میں ڈالنے والے طالبان اور اس کی سرپرستی کرنے والے گروہ مثلا جے یو آئی، جماعت اسلامی اور پوری دیوبندیت یہی کہتی نظر آتی ہے کہ یہ بلیک واٹر کی کارروائی ہے۔ یہ امریکہ کی دہشت گردی ہے؟ الحمدﷲ ملک عزیز کے انٹلکچوئیل صحافی اور غیر جانبدار مکتبہ فکر اب اچھی طرح یہ جان چکے ہیں کہ دہشت گرد صرف اور صرف طالبان ہیں اور ان کو مدد پہنچانے والے مسلک دیوبند سے تعلق رکھتے ہیں جن میں کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم جیش محمد، کالعدم لشکر جھنگوی ،جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور ان کے مدارس شامل ہیں۔
نامور صحافی اور ادیب جناب نذیر ناجی روزنامہ جنگ ہی کے کالم نگار ہیں، انہوں نے طالبان کے بارے میں زبردست و شاندار موقف اپناتے ہوئے فرمایا کہ طالبان ’’تکفیری گروہ‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ’’دہشت گردی کی جو لعنت اسلام کے پردے میں نمودار ہوئی ہے اس میں عربوں کے اندر پیدا ہونے والا ایک گروہ پاکستان میں گھس آیا، جسے تکفیری کہا جاتا ہے۔ اس گروہ کے لوگ اپنے سوا سب کو کافر سمجھتے ہیں اور انہیں قتل کرنا کار ثواب تصور کرتے ہیں جو بچے اور نوعمر لڑکے ان کے فریب میں آجاتے ہیں، یہ انہیں باقی دنیا سے کاٹ کر اس طرح الگ تھلگ کردیتے ہیں کہ وہ نہ کسی کو مل سکتے ہیں، نہ باہر کی دنیا میں کسی سے بات کرسکتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کے خیالات سے آگاہ ہوسکتے ہیں۔ ان کی اس طرح برین واش کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی بڑے ہجوم میں خودکش حملہ کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ یہ قاتلانہ حملہ کرکے وہ سیدھے’’جنت‘‘ میںجائیں گے۔ شمالی وزیرستان میں ’’تکفیریوں‘‘ کا ایک پورا نیٹ ورک کام کررہا ہے‘‘ (کالم بعنوان (دل میں دھماکہ) 3 جولائی 2010ئ)
محترم قارئین! ان تکفیری گروہ یعنی طالبان کے ساتھ کون کون سے گروہ وابستہ ہیں اور کون کون ان کی حمایت و مدد کررہا ہے، سب کو معلوم ہے۔ لہذا ان سازشوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو وطن عزیز کو ناکام ریاست قرار دلوانے کے لئے ہورہی ہے۔ چونکہ الحمدﷲ آج پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے اور ایٹمی صلاحیت کا ہونا دشمنان پاکستان کو ایک آنکھ نہیں بھاتا لہذا بیرونی جارحیت یا جنگ کے بارے میں انہیں کئی لاکھ مرتبہ سوچنا پڑے گا۔ اسی لئے انہوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمیں اندرونی و داخلی انتشار و افتراق میں مبتلا کرنے کے لئے یہ سارا کھیل شروع کیا ہے۔
آخر میں آپ حضرات کے سامنے دارالعلوم دیوبند کے موجودہ مہتمم مولانا محمود احمد مدنی جوکہ حسین احمد مدنی کے پوتے ہیں، ان کی پاکستان اور قائداعظم کے بارے میںہرزہ سرائی پیش کررہا ہوں اور یہ بھی نامور صحافیوں جناب عطاء الحق قاسمی اور جناب ثروت جمال اصمعی کے کالمز کے بعض حصوں پر مشتمل ہے۔ روزنامہ جنگ کے نامور صحافی عطاء الحق قاسمی فرماتے ہیں ’’دارالعلوم دیوبند کے موجودہ مہتمم اور مولانا حسین احمد مدنی کے پوتے مولانا محمود مدنی نے ایک بار ’’پھر‘‘ اپنے بزرگوں کا موقف دہراتے ہوئے پاکستان کے بارے میں ’’گل افشانی‘‘ کی ہے۔ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ’’مولانا مدنی نے تاریخی حقائق کے خلاف جو باتیں کیں، ہمارے اینکر نے انہیں اس پر بہت کم ٹوکا‘‘ ایک اور مقام پر اگلے پیراگراف میں بہت اہم نکتہ پیش ہے ’’مولانا مدنی (مہتمم دارالعلوم دیوبند) تمام انٹرویو کے دوران بھارتی حکومت کے ترجمان کا فریضہ انجام دیتے رہے چنانچہ ہر مسئلہ پر ان کا نقطہ نظر وہی تھا جو بھارت کی وزارت خارجہ کا ہے‘‘
مولانا مدنی نے کشمیر کی آزادی کے خلاف بے بنیاد باتیں کیں، فرماتے ہیں عطاء الحق قاسمی صاحب کہ ’’حتی کہ عالم دین ہوتے ہوئے بھی انہوں نے کشمیر کے بارے میں بعض آزاد خیال ہندو دانش وروں جیسی حوصلہ مندی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا بلکہ فرمایا تو یہ کہ کشمیر کی آزادی بھارتی مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے‘‘ اسی طرح مولانا مدنی کا یہ بیان کہ ’’برصغیر کی تقسیم مسلمانوں کی تقسیم تھی‘‘ قاسمی صاحب اس پر تبصرہ فرماتے ہیں کہ ’’دراصل برصغیر کے مسلمانوں کو گالی دینے کے مترادف ہے کیونکہ اس تقسیم کے مجرم برصغیر خصوصا مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمان خود تھے‘‘ اسی کالم کے دوسرے حصہ کے آخری پیرائے میں قاسمی صاحب نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم کو مشورہ دیا کہ ’’ان کی جمعیت علمائے ہند نے 1947ء میں ہندو کانگریس سے اتحاد کرکے قیام پاکستان میں ہرممکن رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن برصغیر کے تمام مسلمان بیک آواز ہوکر قائداعظم کی مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہوگئے۔
یوں جمہوری بنیادوں پر کانگریس اور جمعیت علمائے ہند کے موقف کو برصغیر کے مسلمانوں نے رد کردیا۔ (کالم بعنوان: مولانا محمود احمدمدنی کا انٹرویو… 22، 23 جولائی 2010ء روزنامہ جنگ)
اسی انٹرویو پر ثروت جمال اصمعی نے بھی تبصرہ کیا ہے جوکہ پیش خدمت ہے، فرماتے ہیں ’’جمعیت علمائے ہند کے رہنما مولانا محمود احمد مدنی نے اپنے بزرگوں کے موقف کو دہراتے ہوئے نظریہ پاکستان کو غلط اور تقسیم ہند کو قائداعظم علیہ الرحمہ کی ضد کا نتیجہ قرار دے کر حقائق سے اپنی بے خبری ثابت کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا‘‘ مولانا مدنی نے قیام پاکستان کے لئے کی جانے والی ہجرت کو غلط کہا تو اس پر جناب اصمعی فرماتے ہیں ’’جہاں تک اسلام کے نفاذ کے لئے الگ خطہ زمین کے انتخاب کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے، تو نبی کریمﷺ اور ان کے ساتھیوں کا اس مقصد کے خاطر مکے سے مدینے جانا اس کی سب سے بڑی مثال ہے اور پاکستان اسی روشن مثال کی تقلید میں بنا ہے۔ہندوستان کے اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے تحریک پاکستان کا اسی لئے ساتھ دیا اور ان کی ایک تعداد نے بالعموم اسی بناء پر پاکستان ہجرت کی تھی۔ اس لئے مولانا کو سوچنا چاہئے کہ اس ہجرت کو غلط ٹھہرانا کیونکر درست ہوسکتا ہے‘‘ (کالم بعنوان ’’ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت‘‘ 25 جولائی 2010ء روزنامہ جنگ)
محترم قارئین! خلاصہ یہ نکلا کہ دارالعلوم دیوبند یعنی دیوبندی مسلک نہ تو قیام پاکستان کا حامی تھا اور نہ آج تک اس انٹرویو کی روشنی میں وہ حامی بن سکا۔ یہ تو مختصراً چند کالمز سے اقتباس کیا گیا ہے ورنہ نظریہ پاکستان، قیام پاکستان اور تحریک پاکستان پر تاریخ ان کے پاکستان دشمنی کے مواد سے بھری پڑی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حالات میں دیوبندی مسلک کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے ، ان کے مدارس، مساجد، تحریر، تقریر اور ان کے دہشت گردوں اور خودکش بمباروںسے تعلقات پر حکومت پاکستان کو سخت ایکشن لینا چاہئے اور پرامن مسلمانوں کو ان کی تخریبی دہشت گردی سے بچانے کے لئے ضرور بالضرور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے اس مضمون میں غیر جانبدار صحافیوں کے تاثرات پیش کرنے کی حقیر سی کوشش کی ہے جس کی روشنی میں عامتہ المسلمین کو اپنا لائحہ عمل بنانے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے۔
اﷲ تعالیٰ اپنے محبوبﷺ کے صدقے ہمارا حامی و ناصر ہو
(آمین بجاہ النبی الامینﷺ)