خودکش دھماکے… آخر کیوں؟

in Tahaffuz, September 2010, بنت فضل بیگ مہر, متفرقا ت

اﷲ تبارک و تعالیٰ قرآن پاک پارہ نمبر 5 سورۃ النساء کی آیت نمبر 93 میں ارشاد فرماتا ہے
ترجمہ کنزالایمان: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اﷲ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب
حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمتہ اﷲ علیہ خزائن العرفان میں اس آیت کی تفسیر بیان فرماتے ہیں
’’مسلمان کوعمداً قتل کرنا سخت گناہ اور اشد کبیرہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ دنیا کا ہلاک ہونا اﷲ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے سے ہلکا ہے پھر یہ قتل اگر ایمان کی عداوت سے ہو یا قاتل اس قتل کو حلال جانتا ہو تو یہ کفر بھی ہے۔
ہمارے ملک میں ہونے والے خودکش دھماکوں میں جن مسلمانوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں آخر ان بے چاروں کا کیا قصور ہے؟ کیوں ان بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
چند ہفتوں پہلے لاہور میں حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اﷲ علیہ کے مزار شریف کے احاطے میں جو خودکش دھماکے ہوئے کیا ہم یہ دھماکے کرنے والوں کو مسلمان کہہ سکتے ہیں؟
حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’جس نے کسی ذمی کافر کو قتل کیاوہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سالوں کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب القصاص)
جب ذمی کافر کو قتل کرنے والا جنت کی خوشبو نہیں پائے گا تو پھر مسلمانوں کو قتل کرنے والے خود سوچیں کہ ان کا انجام کیاہوگا؟
خودکش دھماکے کرنے والوں کا تو برین واش کیا جاتا ہے۔ ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کردیاجاتا ہے۔ ان کو تو نہیں پتہ ہوتا کہ یہ کہاں جارہے ہیں اور کیا کرنے جارہے ہیں… مگر دھماکے کروانے والوں کا تو برین واش نہیں ہے۔ ان کے دماغوں میں تو بھوسہ نہیں بھرا ہوا… پھر ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟ کبھی یہاں دھماکہ… کبھی وہاں دھماکہ… انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلا جارہاہے… کم بختوں کو مساجد اور مزارات اولیاء کا بھی لحاظ و پاس نہیں رہا… کوئی ان کو کہنے سننے والا نہیں ہے
اور ہمارے حکمران صاحبان… بس کیا کہا جائے بقول شاعر:
آپ خود ہی اپنے رویوں پر ذرا غور کریں
ہم کہیں گے تو پھر شکایت ہوگی
مگر کچھ تو کہنا پڑے گا… سچ سننے سے تکلیف تو ہوتی ہے اور سچ کو دبایا بھی نہیں جاسکتا…!!
جو بھی اقتدار میں آیا، اسی کو عوام جھک کر سلام کرتی ہے اور جذبات میں آکر پکار اٹھتی ہے کہ بقول شاعر
میرے دل کی انجمن میں حسن بن کر آگئے
اور پھر کچھ ہی دنوں بعد جب غربت کے سائے نہیں ڈھلتے تو عوام کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ جس دل میں آئے۔ بقول شاعر:
اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے
کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا
ہمارے حکمران عوام کی خدمت کا نعرہ لگا کر کرسی پر تو بیٹھ جاتے ہیں۔ اب ہونا تو یہ چاہئے کہ عوام کی حقیقی معنوں میں خدمت کرکے ان کے دلوں کو جیتیں… مگر یہ کیا کہ کرسی پر بیٹھتے ہی عوام کو بھول گئے… اور عوام بیچاری سر پیٹ کر رہ جاتی ہے اور سسک سسک کر یہ کہنے پر مجبور ہوجاتی ہے کہ نہ جانے کب نکالیں گے؟
کانٹا میرے جگر سے غم روزگار کا
موجودہ دور کے حکمرانوں کا حال تو آپ کے سامنے ہے اور ایک وہ حکمران تھے کہ جن کے نام تاریخ اسلام کے روشن باب اور طرز حکمرانی تاریخ اسلام میں جگمگا رہی ہے… جو آج بھی دلوں پر حکمرانی کررہے ہیں۔ سبحان اﷲ عزوجل
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ عنہ بار خلافت سر پر آتے ہی ان کی طرز حیات بالکل بدل گئی۔ گھر آئے تو بارعظیم کی ذمہ داری سے چہرہ پریشان تھا۔ لونڈی نے حیران ہوکر پوچھا خیر ہے؟ آج مسرت کا دن ہے پھر یہ تشویش کیسی؟ فرمایا اس سے بڑھ کر اور کیا تشویش ہوگی کہ مشرق و مغرب میں امت محمدیہ کا کوئی فرد ایسا نہیں جو اس وقت مجھ سے حق طلب نہیں کررہا۔ چاہے اس نے مجھے لکھا ہے یا نہیں… اور زبانی طلب کیا ہے یا نہیں
اے کاش موجودہ دور کے حکمرانوں کو بھی تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے کی فرصت مل جائے۔
عوام غربت کی چکی میں تو پس ہی رہی تھی اور اب اوپر سے خودکش دھماکے… کیا کبھی حکمرانوں نے سوچا … اس نازک پہلو پر غور کیا کہ آخر ہمارے ملک میں ایسا کیوں ہورہا ہے؟ کس وجہ سے ہورہا ہے؟ کون کررہا ہے؟ کروانے والوں کا مقصد کیا ہے؟ وہ دھماکے کروا کر کیا باور کرانا چاہتے ہیں؟
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تھا کہ اگر دریائے دجلہ کے کنارے کتا بھی بھوکا مرگیا تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہوگی۔
اور آج بے گناہ انسانی جانیں دھماکوں میں ضائع ہورہی ہیں تو کیا حکومت وقت پر اس کی ذمہ داری نہیں ہوگی…؟
چنے گا جو راستے کے پتھر اسے زمانہ کہہ گا رہبر
کسی کو ٹھوکر لگی تو ہر میر کارواں سے سوال ہوگا
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ یہ بھی فرماتے تھے کہ ’’تمہارا لیڈر ایسا ہونا چاہئے کہ عوام میں ہو تو حکمران نظر آئے اور اقتدار میں ہو تو عام آدمی لگے‘‘
خود امیر المومنین حضرت عمرفاروق رضی اﷲ عنہ اپنے دور خلافت میں راتوں کو گشت کیا کرتے تھے۔ عوام کی خبر رکھتے کہ کون کس حال میں ہے۔ مگر موجودہ حکمران… یہ عوام کا کیا خیال رکھیں گے… یہ راتوں کا کیاگشت کریں گے۔ یہ تو دن کے اجالے میں باہر نہیں نکلتے کہ کسی خودکش دھماکے کا شکار نہ ہوجائیں اور اگر اپنے مقصد کے لئے کبھی دن میں نکلنا پڑ بھی جائے تو جس علاقہ میں ان کو جانا ہوتا ہے وہاں چاروں اطراف کی ٹریفک کئی میلوں تک گھنٹوں پہلے ہی جام کردی جاتی ہے… صرف اس وجہ سے کہ قبلہ موصوف تشریف لارہے ہیں… اور پھر اس جام ٹریفک میں پھنسی ہوئی ایمبولینس کے اندر کئی جانیں بروقت اسپتال نہ پہنچنے پر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں… کسی کو کوئی پرواہ نہیں… احساس نام کی کوئی چیز نہیں… کوئی ان سے پوچھے کہ قافلے کیوں لٹ رہے ہیں؟
ہمیں رہزنوں سے گلہ نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے
یہاں میں تذکرہ کرنا چاہوں گی قائداعظم محمد علی جناح کا کہ جن کے پائے کا بیرسٹر اور خوش لباس پروفیشنل سلطنت برطانیہ میں نہیں ملتا تھا۔ گورنر جنرل پاکستان بنے تو اگست 1949ء میں کراچی کی عیدگاہ میں بغیر کسی پروٹول کے عوام کی صفوں میں آ بیٹھے… اب کسی کے ذہن میں یہ آئے گا کہ اس دور میں خودکش دھماکے نہیں ہوئے تھے… ٹھیک ہے، مان لیا مگر اسی قائد کو ایک برس بعد ان کے معالج کرنل الٰہی بخش نے کوئٹہ کی سردی کے پیش نظر گرم سوٹ سلوانے کا مشورہ دیا تو قائداعظم نے ایک سوال کی صورت میں اس مشورے کو رد کردیا ’’کیا میرے ملک کاہر شخص گرم سوٹ پہن سکتا ہے؟‘‘
آج کے حکمرانوں کا ٹھاٹ باٹ شاہانہ کروفر سب کے سامنے ہے۔ کیا ہمارے ملک کا ہر فرد اسی ٹھاٹ باٹ کے ساتھ رہ رہاہے؟اگر یہی ٹھاٹ باٹ ہوتے تو آپ خود سوچیں کہ کیا شاہ پور کے نواحی علاقے چوہنگ میں 40 سالہ اکبر خود اور اپنے تمام گھر والوں کو زہر کا جام پلاتا…؟ اور لاہوریاں والا کے جاوید ماچھی اور مختار ماچھی والا واقعہ سر اٹھاتا…؟ باپ اپنے بچوں کو ذبح کرتا…؟ ٹرین کی پٹریوں پر لیٹنے… نوجوان پنکھوں سے جھولتے… والدین چند سکوں کی خاطر اپنے بچوں کو فروخت کرتے…؟
حکمرانوں اور سیاستدانوں کوکیا… وہ تو ایوانوں میں شاہانہ انداز کے ساتھ زندگی کی رنگینیوں میں مصروف ہیں۔ غریب عوام، غربت و افلاس زدہ عوام بیچاری، روٹی، کپڑا اور مکان کے لئے ترس رہی ہے اور خودکش دھماکوں کا نشانہ بن رہی ہے۔
ساغر صدیقی نے سچ کہا تھا کہ
جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے حاکم سے کوئی بھول ہوئی ہے
دھماکے ہونے کے بعد چند دن تو خوب ہلاگلہ، شور شرابا ہوتا ہے۔ ایسا کردیں… ویسا کردیں گے۔ ہم یوں کریں گے… لگتا ہے کہ سب کو کچھ بولنے کے لئے اور بڑھکیں لگانے کے لئے نیا ٹاسک مل جاتا ہے اور پھر وہی گہرا سکوت… کہ جیسے کسی نئے دھماکے کا انتظار ہورہا ہے۔
آج تک کسی بڑی شخصیت کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا… عوام کی بات تو بہت دور کی ہے…
اور حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ خودکش دھماکے کرنے والوں کے سر تو مل جاتے ہیں… مگر پائوں نہیں ملتے… اے کاش کہ ان کے نقش قدم کو تلاش کیا جاتا… تاکہ یہ معلوم ہو کہ یہ خودکش حملہ آور آئے کہاں سے… ان کے ٹھکانے کہاں ہیں… یہ کون لوگ ہیں… اور کیا چاہتے ہیں؟
موجودہ حکومت وقت کو چاہئے کہ اس پہلو پر روشنی ڈالیں اور کچھ ایسا کریں کہ عوام کو نظر آئے کہ ہمارے حکمرانوں نے کچھ کیا ہے۔ حکمرانوں کو اپنے اندر کچھ کر دکھانے کی پیاس کو بڑھانا چاہئے۔
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند