فہم الحدیث زکوۃ نہ دینے کا وبال

in Tahaffuz, September 2010, فہم ا لحد یث

ہر وہ مسلمان جس کے پاس حاجت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی رقم موجود ہو اور اس پر ایک سال گزر گیا ہو، اس مال کی زکوٰۃ دینا فرض ہے یعنی یوں سمجھ لیں موجودہ دور میں جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی کی رقم جوکہ سولہ ہزار روپے بنتی ہے اگر کسی کے پاس حاجت ضروریہ کے علاوہ سولہ ہزار کی رقم ہے تو ایسا شخص زکوٰۃ ادا کرے گا۔
مگر افسوس کہ آج کل بے شمار مردوخواتین زکوٰۃ صحیح طور پر ادا نہیں کرتے اور بعض تو بالکل ہی زکوٰۃ نہیں دیتے وہ زکوٰۃ کو (معاذ اﷲ) ٹیکس یا جرمانہ تصور کرتے ہیں اور بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ زکوٰۃ ادا کرنیسے مال کم ہوجاتا ہے حالانکہ یہ فقط شیطان مردود اور نفس کا دھوکہ ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔
زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے مال میں رب کریم اتنی برکت عطا فرماتا ہے کہ اس کا مال دوسرے سال بڑھ جاتا ہے۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی برکت ہے لہذا آپ اپنے مال کا حساب لگائیں تو کل مال کا ڈھائی فیصد حصہ زکوٰۃ کے لئے نکال لیں مثلا ایک سو روپے پر ڈھائی روپے، ایک ہزار روپے پر پچیس روپے، ایک لاکھ روپے پر ڈھائی ہزار روپے اور ایک کروڑ روپے پر ڈھائی لاکھ روپے زکوٰۃ پابندی سے ہر سال ادا کریں اور باوجود اس کے کہ آپ صاحب ثروت ہیں مگر زکوٰۃ نہیں دیتے تو پھر حضورﷺ کی احادیث پڑھیئے اور خوف خدا سے ڈریئے اور اگر اب تک زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے اور اب سچی نیت کرکے زکوٰۃ ادا کریں۔
حدیث شریف: حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : سونے اور چاندی کا مالک جو شخص ان کا حق (یعنی زکوٰۃ) ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن اس (سونا چاندی) کو آگ کے ٹکڑوں میں تبدیل کیا جائے گا اور انہیں جہنم کی آگ میں اچھی طرح گرم کیا جائے گا اور پھر ان کے ذریعے اس شخص کے پہلو، پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ وہ دن جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اس دن یہ عمل بار بار کیا جاتا رہے گا۔ یہاں تک کہ جب تمام لوگوں کا حساب ہوجائے گا تو اس شخص کو اس کا راستہ دکھایا جائے گا۔ جو یا تو جنت کی طرف ہوگا یا جہنم کی طرف ہوگا۔ عرض کی گئی یارسول اﷲ! اونٹ (کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے مالک کا کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا: اونٹ کا جو مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا، اونٹ کا حق یہ ہے جس دن اسے پانی پلایا جائے اس دن (اونٹنیوں کا) دودھ دوھ لیا جائے تو اس شخص کو قیامت کے دن ایک چٹیل زمین پر لٹا دیا جائے گا اور وہ سب اونٹ آئیں گے جن میں کوئی ایک بچہ بھی کم نہیں ہوگا۔ وہ خوب موٹے تازے ہوں گے، وہ اسے روند ڈالیں گے اور اسے کاٹیں گے، ان میں سے جب ایک گزر جائے گا تو دوسرا آجائے گا۔ وہ دن جو پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ اس پورے دن میں یہ عمل ہوتا رہے گا۔ یہاں تک کہ جب سب لوگوں کا حساب ہوجائے گا تو اس شخص کو اس کا راستہ دکھادیا جائے گا خواہ وہ جنت کی طرف ہو یا جہنم کی طرف ہو۔ عرض کی گئی گائے اور بکریوں (کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے مالک کا کیا انجام ہوگا؟) آپ نے فرمایا: گائے اور بکریوں کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرے گا، قیامت کے دن اسے ایک چٹیل زمین پر لٹادیا جائے گا اور وہ سب گائے بکریاں موجود ہوں گی، ان میں کوئی التے سینگوں والی، ٹوٹے ہوئے یا سینگوں کے بغیر نہیں ہوگی۔ وہ سب اسے اپنے سینگوں کے ذریعہ ماریں گی۔ اور پیروں کے ذریعے روند ڈالیں گی۔ ایک گزرے گی تو دوسری آئے گی۔ وہ دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے (اس پورے دن میں یہی عمل بار بار ہوتا رہے گا) یہاں تک کہ جب سب لوگوں کا حساب ہوجائے گا تو اس شخص کو اس کا راستہ دکھایا جائے گا جو جنت کی طرف ہوگا یا جہنم کی طرف ہوگا۔ عرض کی گئی یارسول اﷲﷺ گھوڑوں (کی زکوٰۃ نہ دینے والے مالک کا انجام کیاہوگا؟) آپﷺ نے فرمایا: گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں یا تو گھوڑا اپ نے مالک کے لئے بوجھ ہوگا یا انسان کے لئے ’’رکاوٹ‘‘ ہوگا۔ یا اس کے لئے اجر ہوگا۔ جو گھوڑا انسان کے لئے بوجھ ہوگا اس سے مراد وہ گھوڑا ہے جسے ریاکاری، بڑائی اور اظہار اور اہل اسلام کو تکلیف پہنچانے کے لئے رکھا گیا ہو۔ وہ اپنے مالک کے لئے بوجھ ہوگا۔ جو گھوڑا ’’رکاوٹ‘‘ ہوگا اس سے مراد وہ گھوڑا  ہے جسے اﷲ کی راہ میں دینے کے لئے تیار کیا گیا ہو۔ اور اس کے حقوق ، جو اس کی پشت اور گردن سے متعلق ہیں، ان کے بارے میں اﷲ کے حق کا خیال رکھا گیا ہو۔ اور جو گھوڑا اجر ہوگا اس سے مراد وہ گھوڑا ہے جسے اﷲ کی راہ میں اہل اسلام کے لئے تیار کیا گیا ہو۔ خواہ اسے کسی چراگاہ میں رکھا گیا ہو، یا باغ میں رکھا گیا ہو۔ یہ اس چراگاہ یا باغ میں سے جو کچھ کھائیں گے۔ اس کی مقدار کے برابر، اس مالک کے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور ان کی لید اور پیشاب کے عوض میں بھی نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور اگر وہ رسی توڑ کر ایک یا دو ٹیلوں کا چکر بھی لگا آئیں تو ان کے قدموں اور لید کی تعداد کے برابر اﷲ تعالیٰ ان کے لئے نیکیاں لکھے گا۔= ان کا مالک ان کے ہمراہ کسی دریا کے پاس سے گزرے اور یہ وہاں سے پانی پی لیں۔ اگرچہ مالک کا ارادہ انہیں پانی پلانے کا نہیں تھا تو بھی اﷲ تعالیٰ اس پانی کی تعداد کے برابر اس شخص کے لئے نیکیاں لکھے گا۔ عرض کی گئی یارسول اﷲﷺ! گدھوں (کے مالک کے بارے میں کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا۔ گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ البتہ یہ جامع آیت (قرآن میں) موجود ہے)
’’جو شخص ذرے کے برابر بھی نیکی کرے گا وہ اس کے اجر کو دیکھ (پا) لے گا اور جو ذرے کے برابر برائی کرے گا وہ اس (کے عذاب) کو دیکھ (پا) لے گا‘‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں : جو مال دار شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کے حال کو جہنم کی آگ میں گرم کرکے، اس کے ٹکڑے بنائے جائیں گے اور ان کے ذریعے اس شخص کے دونوں پہلوئوں اور اس کی پیشانی کو اس وقت تک داغا جاتا رہے گا جب تک اﷲ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کا فیصلہ نہیں کردیتا اس دن، جو پچاس ہزار دن کا ہوگا۔ پھر اس شخص کو اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ جو یا تو جنت کی طرف جاتا ہوگا یا جہنم کی طرف جاتا ہوگا۔ اونٹوں کا مالک جو زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا، اسے چٹیل میدان میں لٹا دیا جائے گا اور وہ اونٹ انتہائی موٹے تازے ہوکر (آئیں گے) اور اسے روندتے ہوئے گزر جائیں گے۔جب آخری گزر جائے گا تو پہلا دوبارہ آجائے گا (یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا) جب تک اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرلیتا۔ ار اس دن ہوگا جو پچاس ہزار سال کا دن ہوگا۔ پھر اس شخص کو اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا جوجنت کی طرف جاتا ہوگا یا پھر جہنم کی طرف جاتا ہوگا۔بکریوں کا جو مالک، ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا، اسے ان کے سامنے چٹیل زمین پر لٹا دیا جائے گا اور وہ بکریاں موٹی تازی ہوکر (آئیں گی) اور اسے پانے پائوں کے ذریعہ روند ڈالیں گی اور سینگوں کے ذریعہ ماریں گی، ان میں کوئی ایسی بکری نہیں ہوگی جس کے سینگ الٹے ہوں یا پھر سینگ ہی نہ ہوں جب آخری بکری اس پر سے گزر جائے گی تو پہلی دوبارہ آجائے گی۔ (اور یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا) جب تک اﷲ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کے درمیان فیصلہ نہ کردے (اور یہ اس دن ہوگا) جو پچاس ہزار برس کا دن ہے تو اس شخص کو اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا جو جنت کی طرف جاتا ہوگا یا جہنم کی طرف جاتا ہوگا۔ (راوی) سہیل کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرمﷺ نے گائے (کے مالک) کا بھی ذکر کیا ہے یا نہیں؟ لوگوں نے عرض کی یا رسول اﷲﷺ گھوڑے (کی زکوٰۃ نہ دینے والے مالک کا کیا انجام ہوگا؟) آپﷺ نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں خیر ہوتی ہے۔ (یا شاید آپ نے یہ فرمایا تھا) گھوڑے کی پیشانی میں خیر باندھ دی گئی ہے (راوی)سہیل کہتے ہیں کہ مجھے شک ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا تھا : قیامت تک خیر (رکھ دی گئی ہے) گھوڑے کی تین قسمیں ہیں وہ انسان کے لئے اجر ہوگا، وہ انسان کے لئے ستر ہوگا۔ یا وہ انسان کے لئے بوجھ ہوگا۔ جو گھوڑا انسان کے لئے اجر ہوگا اس سے مراد وہ گھوڑا ہے جسے انسان نے اﷲ کی راہ میں استعمال کے لئے رکھا ہو، اس کو صرف اﷲ کے لئے مخصوص کیاگیا ہو، تو ایسے گھوڑے کے پیٹ میں جو کچھ جاتا ہے اﷲ تعالیٰ اس شخص کے لئے اجر لکھتا ہے۔ اگر وہ شخص اس گھوڑے کو کسی چراگاہ میں چرائے تو وہ گھوڑا جو کچھ بھی کھائے گا اﷲ تعالیٰ اس شخص کو اس کا اجر عطا کرے گا۔ اگر وہ شخص اس گھوڑے کو کسی دریا سے پانی پلاتا ہے تو اس کے پیٹ میں جانے والے ہرقطرے کے عضو میں اس شخص کو اجر ملے گا (راوی کہتے ہیں) یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ نے اس کے پیشاب اور لید کے اجر کا بھی ذکر کیا ہے (نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں) اگر وہ گھوڑا کسی ایک یا دو ٹیلوں کا چکر لگا آتا ہے تو اس کے اٹھائے ہوئے ہر قدم کے عوض میں اس شخص کے لئے اجر لکھا جائے گا۔جو گھوڑا انسان کے ستر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے مراد وہ گھوڑا ہے جسے انسان ذاتی استعمال اور سہولت کے لئے رکھے اور تنگی اور فراخی ہر حالت میں اس کی پشت اور پیٹ کے حقوق کا خیال رکھے۔انسان کے لئے بوجھ وہ گھوڑا ہوتا ہے، جسے غرور، تکبر، خود نمائی، ذاتی برائی اور ریاکاری کے لئے رکھے۔یہ وہی گھوڑا ہے جوانسان کے لئے بوجھ ہوتا ہے۔
صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ نے عرض کی یارسول اﷲﷺ گدھوں (کے بارے میں کیا حکم ہے؟) تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے ان کے بارے میں مجھ پر کوئی مخصوص آیت نازل نہیں کی۔ تاہم جامع آیت میں (ان کا حکم بھی شامل ہوسکتا ہے)
’’جو شخص ذرے کے برابر نیکی کرے گا اس کا (اجر) دیکھ (حاصل کر) لے گا اور جو شخص ذرے کے برابر برائی کرے گا وہ اس کا (عذاب) دیکھ (حاصل کر) لے گا‘‘
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ تاہم اس کے الفاظ میں کچھ اختلاف ہے یعنی آپ نے فرمایا تھا جو شخص اونٹوں میں اﷲ کا حق (راوی کہتے ہیں) یا شاید یہ فرمایا تھا کہ زکوٰۃ ادا نہ کرے۔حضرت جابر بن عبداﷲ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ اونٹوں کا جو مالک ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن وہ اونٹ اپنی اصل تعداد سے زیادہ تعداد میں آئیں گے۔ ان کا مالک ان کے سامنے ایک چٹیل زمین پر بیٹھ جائے گا اور وہ اسے اپنی ٹانگوں اور پائوں کے ذریعے روندیں گے۔ گائے کا جو مالک ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن وہ زیادہ تعداد میں آئیں گی۔ وہ مالک ایک چٹیل میدان میں ان کے سامنے بیٹھ جائے گا اور وہ اسے اپنے سینگوں کے ذریعے ماریں گی اور پائوں کے ذریعے روند ڈالیں گی۔ بکریوں کا جو مالک ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرے گا، قیامت کے دن وہ بکریاں زیادہ تعداد میں آئیں گی وہ شخص چٹیل میدان میں ان کے سامنے بیٹھ جائے گا وہ اسے اپنے سینگوں کے ذریعہ ماریں گی اور پائوں کے ذریعہ روند ڈالیں گی ان میں کوئی ایسی بکری نہیں ہوگی جس کے سینگ نہ ہوں یا جس کے سینگ ٹوٹے ہوئے ہوں۔
جو مالدار شخص اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرے گا، قیامت کے دن وہ مال ایک بڑے سانپ کی شکل میں منہ کھولے ہوئے ان کی طرف آئے گا۔ اسے دیکھ کر یہ شخص بھاگے گا، تو وہ اسے پکار کر کہے غا اپنے اسی مال کو حاصل کرلو جسے تم اکھٹا کیا کرتے تھے۔ میں اس سے بے نیاز ہوں۔ جب وہ شخص دیکھے گا کہ اب کوئی چارہ نہیں ہے تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈالے گا تو وہ سانپ اس کی اسی طرح چبالے گا جیسے کوئی اونٹ چبا لیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے ایک صاحب نے عرض کی یارسول اﷲﷺ اونٹ کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جب اسے پانی پلایا جائے تو اس کا دودھ دوھ لیا جائے۔ اس کے ڈول کو (یعنی اسے پانی نکالنے کے لئے) کو کرایہ پر دیاجائے۔ نہ اونٹ کو جفتی کے لئے کرایہ پر دیاجائے۔ اﷲ کی راہ میں، اونٹنی کا دودھ دیا جائے، یا اس پر زون لادا جائے۔
حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اونٹ، گائے یا بکری کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اسے ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا۔ پائوں (استعمال کرنے وال) جانور اپنے پیروں کے ذریعے اسے روند ڈالیں گے اور سینگ والے جانور اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گے۔ان میں کوئی ایسا جانور نہیں ہوگا جس کے سینگ نہ ہوں یا ٹوٹے ہوئے ہوں ہم نے عرض کی یا رسول اﷲﷺ! ان کا حق کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: نہ جانور کو (جفتی کے لئے) کرایہ پر دینا، پانی لانے کے لئے انہیں کرائے پردینا، جب انہیں پانی پلایا جائے تو ان کا دودھ دوھ لینا اور اﷲ کی راہ میں ان پر وزن لادنا (پھر آپ نے فرمایا) جو مالدار شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا، قیامت کے دن وہ مال ایک اژدھے کی شکل میں آئے گا وہ شخص جدھر جائے گا یہ اس کے پیچھے جائے گا۔ اس سے بھاگیگا اس سے کہا جائے گا یہ تمہارا وہی مال ہے جس سے تم بخل کیاکرتے تھے۔ جب وہ شخص دیکھے گا کہ اب کوئی چارہ نہیں ہے تو وہ شخص اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا تو وہ اژدھا اسے اسی طرح چبالے گا جیسے کوئی اونٹ چبا لیتا ہے۔