اہل سنت کے سرمایہ داروں سے ایک اپیل

in Tahaffuz, September 2010, متفرقا ت, وقار احمد

گجرات میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، کم و بیش پچیس ہزار کے درمیان مسلمان شہید کردیئے گئے۔ گائوں کے گائوں ویران ہوگئے، بچے کھچے مسلمان آج تک خیموں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے جیسی بنیادی ضرورتوں سے آج بھی بڑی حد تک محروم ہیں۔
کشمیر میں زلزلہ آیا، چند لمحوں میں بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئیں، چوں کہ تباہی کا مرکز مسلمانوں کی آبادی کا علاقہ تھا۔ اس لئے وزیراعظم کی جانب سے بار بار اپیل کئے جانے کے باوجود ہندوستان کے بڑے سرمایہ دار طبقوں، کمپنیوں اور صنعت کاروں کی جانب سے مایوس کن سرد مہری کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ اپنا سب کچھ تباہ و برباد ہوجانے کے بعد کشمیری مسلمانوں کی آنکھیں سخت سردی کے موسم میں ’’اپنوں‘‘ کی طرف سے کسی امداد کے انتظار میں پتھرا گئیں۔
صوبہ مہاراشٹر میں کوہ ست پڑا کے دامن میں بسنے والی تڑوی برادری کے لاکھوں مسلمان ارتدادی بارود کے ڈھیر پر تھے اور وہ بارود دھماکہ کے ساتھ اس وقت پھٹنے والا تھا، جب گیارہ ، بارہ اور تیرہ فروری 2006ء کو گجراتی ہندوئوں کے شبری کمبھ میلے کے موقع پر کم و بیش ایک لاکھ بارہ ہزار تڑوی پٹھان کہلانے والے مسلمان اپنے ہندو ہونے کا اعلان کرنے والا تھا لیکن اس خبر کے پھیلتے ہی بالااختلاف مسلک تمام مسلم جماعتیں سرگرم ہوکر میدان میں آئیں اور ارتداد کا طوفان تھم سا گیا تاہم کم وبیش دو ہزار مسلمانوں کو اس میلے میں شرکت سے روکا نہیں جاسکا۔ ہنگامی طور پر اچھا اثر ضرور پڑا لیکن دور رس اور دیرپا اقدام کا ہنوز انتظار ہے۔
جلگائوں ضلع کے باجورہ، سوئیگائوں، جامنیر اور مارول تحصیل کے ڈیڑھ سو گائوں کے مسلمان مذکورہ بالا تاریخوں میں ایک ساتھ جس میلے میںاپنا مذہب تبدیل کرنے والے تھے۔ اس کا افتتاح گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے کیاتھا اور مہمانان خصوصی کے طور پر آر ایس ایس کے سربراہ کے ایس سدرشن، اشوک سنگھل اور سادھوری رتھمبرا شامل تھی۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ مذکورہ بالا تحصیلوں کے 73 گائوں مسجد سے محروم ہیں۔ 53 گائوں کی مسجدیں ویران ہیں۔ اور 28 گائوں کی مسجدوں میں ائمہ کرام کا مستقل انتظام نہیں ہے، کم و بیش ایسی ہی حالت متھرا، ہاتھرس، آگرہ اور راجستھان کے بعض علاقوں کی ہے۔
آج ہم مسلمانوں کے درمیان نہ تو افرادی قوت کی کمی ہے نہ ہی مال وزر کی، علماء و مشائخ پیدا کرنے کے لئے ہمارے ملک میں مدارس اور خانقاہون کے جال بچھے ہوئے ہیں، مسلم سرمایہ دار ہر سال رمضان المبارک کے مہینہ میں اربوں روپے کی زکوٰۃ نکالتے ہیں، یہ اس کے علاوہ ہے جو وہ سال بھر مشائخ کی دست بوسی کے وقت اور مزارات کے زنجیروں سے جکڑے ہوئے بکسوں میں بصورت نذرانہ پیش کرتے رہتے ہیں۔ دینے اور لینے والے دونوں ہاتھ تو نظر آتے ہیں لیکن سرمایہ جاتا کہاں ہے؟ یہ نظر نہیں آتا۔ اربوںروپے کے خرچ کے باوجود اگر اسلامیان ہند کی حالت ایسی ناگفتہ بہ ہو کہ وہ آلام و حوادث کے رحم و کرم پر جی رہے ہوں اور اپنے اندر حالات کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ پاتے ہوئے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور ہوجائیں تو واجبی طور پر دینے اور لینے والے دونوں ہاتھ شک کے دائرہ میں آجاتے ہیں کہ زکوٰۃ دینے والا بالکل نماز اور روزے کی طرح زکوٰۃ کوضرور ادا کرتا ہے لیکن ادا کرتے وقت اسے یہ خیال نہیں رہتا کہ اس کی زکوٰۃ کا قبلہ، کعبہ ہے یا کلیسا، اسی طرح لینے والے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے کہ جب وہ خرچ کرتا ہے تو اسے پتہ بھی ہوتا ہے یا نہیں کہ جہاں وہ خرچ کررہا ہے وہ جگہ درس تہے بھی یا نہیں؟ سردست ہمارے لئے ایک موٹی سی مثال ہی کافی ہے کہ اس زمانہ میں جب مفتی اعظم علیہ الرحمہ والرضوان نے شدھی تحریک کا زور توڑنے کے لئے شب و روز ایک کردیا تھا۔ اپنا عیش و آرام تج دیا تھا، دن کی دھوپ اور رات کی اوس کھائی تھی اور میلوں پیدا سفر کیاتھا جب جاکر کہیں شدھی تحریک کے طوفان کے سامنے بندھ باندھ سکے تھے، لیکن آج ممبئی کے مضافات میں ارتداد کی بڑھتی ہوئی لہر سے غافل ہم جشن مفتی اعظم ہند اور یوم مفتی اعظم ہند کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں، وہ حضرت مفتی اعظم ہند کے اصلاحی مشن سے کسی طرح لگا نہیں کھاتا۔
واقعہ یہ ہے کہ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح مذہبی شعبہ میں بھی انحطاط آگیا ہے۔ جس طرح عوامی فلاح و بہبود کے لئے مرکزی حکومت کا فنڈ عوام تک پہنچتے پہنچتی دس فیصد بھی نہیں رہ جاتا ہے، اسی طرح زکوٰۃ و صدقات کی رقم بھی مستحق تک پوری نہیں پہنچ پاتی۔ قوم کے نام پر چندہ وصول کرنے والوں کا ایک ایسا گروہ ہے جو اپنے اہل و عیال کو پوری مسلم قوم اور خود کو ایک ادارہ تصور کرتا ہے اور چندہ سے حاصل شدہ رقم کو اپنے بچوں کے نام کردیتا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو مجموعی رقم کے کم وبیش پچاس فیصد حصہ کو اپنا جائز حق سمجھتا ہے جبکہ باقی ماندہ پچاس فیصد کو جب وہ قوم کے حق میں خرچ کرتا ہے تو یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ قوم پر احسان کررہا ہے۔ جبکہ تیسرا گروہ مخلص ہے جو قوم کی زکوٰۃ و صدقات سے حاصل شڈہ رقم کو اس کی امانت سمجھتا ہے، لیکن وہ اتنا سادہ لوح ہوتا ہے کہ اس کے معاونین اس کے ساتھ وشواش گھات کرتے ہیں اور اسے پتہ تک نہیں چلتا، ایسے نیک لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔
یہود ونصاریٰ کے مذہبی زوال کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم نے جہاں ان کی بہت سی برائیاں بیان کی ہیں ان میں سے دو اہم ترین ہمارے اس مضمون سے خاص تعلق رکھتی ہیں۔ ان دو میں سے ایک طبقہ عوام میں سرایت کئے ہوئی تھی اور وہ یہ ہے کہ ان (یہود ونصاریٰ) لوگوں نے اپنے احبار و رہبان کو اﷲ کے علاوہ اپنا رب بنالیا تھا اور دوسری برائی وہ تھی جو احبار و رہبان میں سرایت کرچکی تھی اور وہ یہ ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی آیات کو معمولی قیمتوں میں فروخت کیا کرتے تھے اور سونا چاندی ذخیرہ کرتے تھے۔ یہ دونوں برائیاں بہت حد تک اس امت میں بھی سرایت کرچکی ہیں۔ مسلم عوام کا حال یہ ہے کہ وہ خود احتسابی کی دولت سے محروم ہوچکے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا نظام عدل ان کی نظروں میں بے وزن ہوتا ہوا محسوس ہورہا ہے جبکہ علماء و مشائخ کی عظمت کا رعب ان کے دل و دماغ پر اس طرح بیٹھ چکا ہے کہ وہ ان کی دست بوسی و قدم بوسی اور نذرانہ گزاری کو محض حصول شرف کا ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ منبع نجات اخروی سمجھ بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف علماء و مشائخ کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی دعائوں، تقریروں اور تعویذوں کو ذریعہ معاش بنا چکے ہیں اور ان تمام ذرائع کا استعمال سرمایہ دار مسلمانوں کے درمیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انہیں زرکثیر بصورت نذرانہ ومعاوضہ حاصل ہوسکے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ علماء کرام محرم، ربیع الاول، ربیع الآخر، رجب اور شعبان کے مہینوں میں اور حفاظ رمضان المبارک کے مہینوں میں بالترتیب شہادت امام عالی مقام، ولادت و وفات رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام، فضائل غوث پاک، واقعہ معراج، فضائل شعبان کے بیان اور تراویح کے لئے ممبئی کا رخ کرتے ہیں۔ کیا کلکتہ، دہلی، بنگلور، مدراس اور دیگر چھوٹے شہروں اور دور دراز دیہاتوں کے مسلمان مذکورہ بالا مواقع و مواسم کے فضائل و مناقب کی سماعت کے اہل نہیں ہیں؟ اگر انہیں ان مواقعوں کی اہمیت معلوم نہیں ہے تو کیاعلماء کا فرض نہیں ہے کہ انہیں بتائیں اور اس قسم کی تقاریب کے زیادہ سے زیادہ اہتمام پر آمادہ کریں؟ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ممبئی کے علاوہ دوسرے شہروں میں اتنی بڑی تعداد میں سرمایہ دار مسلمان موجود نہیں، جس طرح خاندان کی ایک شاخ مالدار ہوجاتی ہے، اور دوسرے لوگ غریب رہ جاتے ہیں تو مالدار لوگ خونی رشتہ ہونے کے باوجود غریب رشتہ داروں کی خیر خبر نہیں لیتے۔ اسی طرح بے چارے غریب شہروں کے امیر مسلمان ’’خیر خواہوں‘‘ کی نظر عنایت سے محروم ہیں۔ تاہم اگر وہ کسی مصائب و آلام سے دوچار نہیں ہوتے ہیں اور کماتے کھاتے رہتے ہیں تو اپنے بہی خواہ علماء و مشائخ کبھی کبھار بلا بھی لیتے ہیں اور مقدور بھر نذرانے بھی پیش کردیتے ہیں لیکن جب ان ارضی و سماوی آفات آتی ہیں تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، جبکہ مسلم سرمایہ دار طبقہ علماء و مشائخ کی خدمت میں نذرانے گزار کر نصاریٰ کے کفارہ کے عقیدہ کی عملی تصویر پیش کررہا ہے گویا ان کی خوشی میں رضائے الٰہی مضمر ہے، نتیجہ یہ ہے کہ کروڑوں اور اربوں کی سرمایہ کاری کرنے والے مسلمان کے گھر میں آرام و آسائش کے جو سامان موجود ہوتے ہیں وہ سب کے سب علماء ومشائخ کے گھر میں آپ کومل جائیں گے۔ اس پر بینک کے کھاتوں میں جمع شدہ رقم مستزاد، جبکہ ان کے پاس اپنا کوئی کاروبار عموما نہیں ہوا کرتا ہے۔
بہار کے حکمران لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی نے پندرہ برسوں تک بہار کے مسلمانوں کو بی جے پی کے فاشٹ نظریات سے ڈرا کر ان پر حکومت کی لیکن ان کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی قابل لحاظ کام نہیں کیا۔ ایک وقت ایس اآیا جب مسلمان ان دونوں کی وعدہ خلافی سے عاجز آکر بی جے پی تو نہیں لیکن اس کی حلیف جماعت جنتا دل یو اور درپردہ اس کی عماون نوک جن شکتی پارٹی کی طرف مائل ہوگئے اور لالو رابڑی اقتدار اپنے حتمی انجام کو پہنچا۔ آج ہمارے علماء و مشائخ بھی بالکل اسی طرح سنی عوام کو نجدیت، دیوبندیت اور مودودیت سے خوفزدہ کرکے ان کی نکیل اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں جبکہ سنیت کی نشر و اشاعت اور سنیوں کے فلاح وبہبود کا ان کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن غیر سنی تحریکیں اپنے ہائوں پائوں پھیلاتی جارہی ہیں اور سنی عوام کے اندر صلح کلیت کا مزاج اس تیزی کے ساتھ عام ہوتا جارہا ہے کہ مساجد میں ائمہ کرام کو یہ تلقین کی جانے لگی ہے کہ وہ کسی فرقہ کے خلافنہ بولیں۔ بات بہت اچھی ہوتی اگر مثبت نظریہ پر مبنی ہوتی اور اس کا مقصد لوگوں کو اپنے قریب کرنا ہوتا، لیکن یہ مرعوبیت کے منفی نظریہ پر مبنی ہوتی ہے۔ کیا خوب ہوتا اگر ہمارا سرمایہ دار طبقہ روحانیت کے بے روح خول سے باہر آتا اور ایدھی فائونڈیشن کی طرح کم از کم ہندوستان کی سطح پر ایک تنظیم بناتا اور حسب ضرور تعلیم، صحت، غربت اور باز آبادکاری کے کام منظم طریقہ سے انجام دیتا۔