اولیائے امت اورقادیانیت کا بھیانک چہرہ

in Tahaffuz, September 2010, متفرقا ت

حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمتہ اﷲ علیہ کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا حکم حجاز کے مبارک سفر مکہ مکرمہ میں حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی رحمتہ اﷲ علیہ سے ملاقات ہوئی جو ایک صحیح صاحب کشف انسان تھے۔ جب ان کو میری آزاد اور بے باک طبیعت کا علم ہوا تو شدید اصرار اور تاکید سے حکم دیا کہ چونکہ عنقریب ہندوستان میں ایک فتنہ (قادیانی) ظاہر ہونے والا ہے لہذا تم وطن واپس چلے جائو اگر تم بالفرض خاموش بھی رہوگے تو بھی یہ فتنہ ترقی نہیں کرسکے گااور اس طرح ملک میں آرام رہے گا چنانچہ میں پورے وثوق کے ساتھ حاجی صاحب کے اس کشف کو مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتا ہوں اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی خواب میں مجھے حکم دیا ہے کہ یہ مرزا قادیانی غلط تاویل کی قینچی سے میری احادیث کے ٹکڑے ٹکڑے کررہا ہے اور تو خاموش ہے۔ اس کے بعد جو کچھ لکھا گیا وہ عام لوگوں کی خیر خواہی کے لئے لکھا گیا۔ اس لئے کہ فساد عقائد لوگوں کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کتاب و سنت ائمہ کرام اور امت مرحومہ کے علماء کے صحیح عقائد کی بنیاد پر اس کی حقیقت کو آشکار کیا (ملفوظات طیبہ ۔ ص  127-126)
پیر سید مہر علی شاہ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے حجرے میں آنکھیں بند کیں اور دیکھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم قعدے کی حالت میں جلو فرما ہیں۔ حضور علیہ السلام سے چار بالشت کے فاصلے پر پیر صاحب باادب بیٹھے ہیں لیکن مرزا غلام احمد اس جگہ سے دور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف پیٹھ کئے بیٹھا ہے (تحریک ختم نبوت ص 50 ‘ آغا شورش کاشمیری)
مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمتہ اﷲ علیہ کا پانچ نکاتی بیان
1۔ سچا نبی کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا‘ اس کا علم لدنی ہوتا ہے۔ وہ روح قدس سے تعلیم پاتا ہے۔ بلاواسطہ اس کی تعلیم و تعلم خداوند قدس سے ہوتی ہے۔ جھوٹا نبی اس کے برخلاف ہوتا ہے۔
2۔ ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال گزرنے کے بعد یکدم اپنے رب العالمین مخلوق سے روبرو دعویٰ نبوت کردیتا ہے۔ اور بتدریج آہستہ آہستہ اس کو درجہ نبوت ملتا ہے وہ نبی ہوتا ہے۔ وہ پیدائش سے نبی ہوتا ہے جھوٹا نبی برخلاف اس کے آہستہ آہستہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ پہلے محدث مجرد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
3۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور خاتم الانبیاء تک جتنے نبی ہوئے تمام کے نام منفرد تھے‘ کسی سچے نبی کا نام مرکب نہ تھا۔ برعکس اس کے جھوٹے نبی کا نام مرکب تھا۔
4۔ سچا نبی کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا ہے اور جھوٹا نبی ترکہ چھوڑ کر مرتا ہے اور اولاد کو محروم الارث کرتا ہے۔
5۔ مرزائی جو مرزا غلام احمد کے پیرو ہیں‘ وہ ختم نبوت کے قائل نہیں اور حضور علیہ السلام کی رسالت و نبوت میں کمی کرنے والے ہیں اور حضور علیہ الصلواۃ و السلام کے مدارج کو مرزا غلام احمد کے لئے مانتے ہیں (بحوالہ ماہنامہ انوار الصوفیہ قصور‘ اپریل‘مئی 1941ء ص 33)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کا فتویٰ
آپ فرماتے ہیں کہ قادیانی مرتد و منافق ہیں۔ مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے اور پھر اﷲ تعالیٰ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرنا یا ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہے۔ اس کا ذبیح محض نجس مردار حرام قطعی ہے۔ مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانیوں کو مظلوم سمجھنے والا اور جس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم اور ناحق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے اور جو کافر کو کافر نہ کہے‘ وہ بھی کافر ہے (احکام شریعت)
اور فرمایا کہ اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت و حیات کے سب علاقے اس سے قطع کرلیں۔ بیمار پڑنے پر پوچھنے کو جانا حرام‘ مرجائے تو جنازے پر جانا حرام ہے۔ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے‘ اس کی قبر پر جانا حرام ہے (فتاویٰ رضویہ شریف)
نگاہ ولایت اور قادیانی کذاب کا دعویٰ نبوت
مرزا غلام احمد قادیانی ایک روز مولانا پیر سید حسن شاہ صاحب قادری رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے اسے ہدایت فرمائی کہ عقیدہ اہل سنت و جماعت پر ثابت قدم رہے اور خواہشات نفسانیہ اور ہوائے شیطانیہ کا غلام نہ بن جائے۔ جب یہ کلام حافظ عبدالوہاب صاحب (جو حضرت کے شاگرد اور مرید اور یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے‘ نے سنا تو عرض کیا حضور آپ نے اسے اس طرح ہدایت فرمائی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ارشاد فرمایا کچھ مدت بعد اس شخص (غلام احمد) کادماغ خراب ہوجائے گا اور یہ نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ کیونکہ مجھے اﷲ تعالیٰ کی عطا سے معلوم ہوا ہے کہ قادیان سے قرن شیطان کا ظہور ہوگا اور وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا (ارشاد… ص 161)
اس پیشن گوئی کے چھتیس سال بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیحیت و نبوت کا دعویٰ اگل دیا (ضیائے حرم‘ دسمبر 74ئ)
راولپنڈی میں منعقدہ مشائخ کانفرنس کے موقع پر شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی رحمتہ اﷲ علیہ کے خطاب سے اقتباس قادیانی مسئلہ:
کہا جاتا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دو۔ اقلیت تو ذمیوں کو کہا جاتا ہے جو شخص اسلام کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرے وہ کافر نہیں‘ وہ مرتد ہے اور مرتد کی سزا شریعت میں قتل ہے۔ اگر میرے ہاتھ میں حکومت ہوتی تو میں قادیانیوں کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرتا جس کی نظیر سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے قائم کی تھی (ضیاء حرم‘ دسمبر 74ئ)
امیر شریعت جانشین شیخ الاسلام خواجہ محمد حمید الدین سیالوی مدظلہ صدر مرکز الدعوۃ الاسلامیہ نے پہلی سالانہ عظمت تاجدار ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر فرمایا۔
قادیانیت عالم اسلام کے اتحاد میں زبردست رکاوٹ ہے۔ اس کا قلع قمع کئے بغیر ملت اسلامیہ کا وجود خطرے میں ہے۔ قادیانیت اسلام دشمن طاقتوں کی گہری سازش ہے اس بدترین ناسور کے خلاف جہاد مسلمانوں کا اہم ترین فریضہ ہے
جسٹس پیر کرم شاہ الازہری رحمتہ اﷲ علیہ:
قادیانیت‘ منکرین ختم نبوت کا ایسا گروہ ہے جسے انگریز نے عالم اسلام کی بیخ کنی کے لئے خود کاشت کیا اور پھر اس کے تمام مفادات کا تحفظ کیا۔ یہ لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے باعث دن رات پوری امت مسلمہ اسلام اور وطن عزیز کے خلاف تباہ کن ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں۔ یہ مار آستین ہیں۔ یہ لوگ بیرونی ممالک میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام دشمن طاقتوں کی جاسوسی‘ اسلام کے تخریب اور پاکستان کی جڑیں کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ عالم اسلام کے اول دشمن اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ان کا مشن پوری سرگرمی سے کام کررہا ہے۔ اسرائیل کی فوج میں باقاعدہ قادیانی موجود ہیں۔ ان حالات میں اس فتنہ کے تدارک کی ذمہ داری امت محمدیہﷺ کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔ قادیانیت کے خلاف خواص و عوام میں ایک نیا شعور پیدا ہورہا ہے جس سے قادیانیت کی زہرناکیوں اور ریشہ دوانیوں کے خلاف نفرت کا احساس عام ہورہا ہے۔(سابقہ جج سپریم کورٹ آف پاکستان سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھیرہ شریف سرگودھا)
شیخ الحدیث حضرت علامہ سید محمود احمد رضوی رحمتہ اﷲ علیہ:
خاتم النبین
الیوم اکملت لکم دینکم:
آج ہم نے تمہارا دین مکمل کردیا۔
اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کیا (سورہ مائدہ) یہ آیت 9ذی الحجہ 01ھ کو نازل ہوئی۔ اس بشارت میں یہ اشارہ تھا کہ دین کی عمارت میں کسی نہ کسی اینٹ کی ضرورت تھی جو حضورﷺ کے وجود سے کامل و مکمل ہوگئی۔ ایسی کہ اب اس میں کوئی جگہ باقی نہ رہی۔
ولکن رسول اﷲ وخاتم النبین (احزاب)
کہ حضورﷺ نبیوں کے خاتم ہیں۔ حضور علیہ السلام نے خاتم کی معنی خود متعدد احادیث میں بیان فرمادیئے۔
انا خاتم النبین لانبی بعدی
میں انبیاء کا خاتم ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تکمیل دین اور ختم نبوت کو بطور تمثیل بیان کرتے ہوئے حضورﷺ نے فرمایا۔ میری اور دیگر انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے کوئی عمدہ محل بنایا‘ جسے دیکھ کر لوگ اس کی عمدگی خوبصورتی کی تعریف کریں لیکن اس محل کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو جسے دیکھ کر لوگ یہ کہیں اگر اس جگہ کو بھی پورا کردیا جاتا تو خوب ہوتا۔ اس کے بعد حضورﷺ نے فرمایا۔
تو میں وہی آخری اینٹ ہوں
وانا خاتم النبین
میں پیغمبر کا خاتم ہوں
فختمت لانبیاء
تو پیغمبری کا سلسلہ ختم ہوگیا (بخاری‘ مسلم)
حضورﷺ نے دیگر انبیاء کے مقابلے میں اپنے مخصوص فضائل میں ختم نبوت کا ذکر نمایاں طور پر فرمایا ہے۔ نبوت مجھے پر ختم کردی گئی (مسلم) میں پیغمبروں کا اس وقت بھی خاتم تھا جبکہ آدم پانی اور مٹی میں پڑے ہوئے تھے (کنزالعمال ص 104 ج 6)
لفظ خاتم کے معنی آپ نے خود فرمادیئے (آخری نبی) اور حضورﷺ کے بعد نبی کے پیدا ہونے کے امکان کو خود حضورﷺ نے ختم فرمادیا۔ اے علی تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میں اور مجھ میں وہ نسبت ہے جو ہارون اور موسیٰ میں تھی۔
الا انہ لیس نبی بعدی (بخاری)
مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حضور ﷺخاتم النبین نے فرمایا۔ بنی اسرائیل کی نگرانی اور سیاست انبیاء کرتے تھے‘ جب ایک نبی وصال فرماتا تو دوسرا نبی پیدا ہوجاتا اور… میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوسکتے تھے۔ اس حدیث میں لوکان کا لفظ ہے۔ لو امر محال کے لئے آتا ہے جس سے واضح ہوا کہ حضورﷺ کے بعد کسی نبی کا پیدا ہونا محال ہے۔ میرے پانچ نام ہیں۔ محمد‘ احمد‘ ماحی‘ خدا میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا۔ حاشر‘ خدا میرے جھنڈے تلے بروز حشر ساری مخلوق کو جمع فرمائے گا اور میں عاقب ہوں۔
الذی لیس بعدہ نبی (آخری) ہوں جس کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
رسالت و نبوت کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ میرے بعد نہ کوئی رسول نہ کوئی نبی۔ اس لئے جو شخص بھی حضورﷺ کے بعد کسی بھی تاویل سے نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر مرتد دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جیسے مرزا قادیانی۔ اور اسے نبی کو مانے والے۔ جیسے احمدی اور اس کے مسیح بزرگ یا مسلمان ماننے والے۔ جیسے لاہوری مرزائی یہ سب کافر‘ مرتد دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان سے میل جول سلام‘ کلام‘ محبت‘ نکاح وغیرہ سخت حرام ہے۔ ان کا ذبح کیا ہوا جانور مردار ہے۔ معاذ اﷲ کسی لڑکی کا مرزائی سے نکاح خالص زنا ہے۔ اسی طرح مرزائی لڑکی سے کسی مسلمان لڑکے کا نکاح فاسد و باطل ہے۔ مرزائی احمدی ہوں یا لاہوری ان کے ہوٹلوں میں پکا ہوا گوشت مردار حرام ناپاک ہے اور گوشت کے علاوہ دیگر اشیاء مکروہ ہیں۔
(دین مصطفی ص 58-56)
امام احمد رضا اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت
برصغیر پاک و ہند میں امام احمد رضا فاضل بریلوی کے خانوادے نے منکرین ختم نبوت اور قادیانیت کا رد کیا۔ امام احمد رضا محدث بریلوی نے مرزا قادیانی کو صرف کافر ہی نہیں قرار دیا بلکہ اس کو مزید منافق بھی کہا ہے اور اپنے فتوئوں میں اس کو اس کے اصلی نام کے غلام قادیانی کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ مرتد و منافق وہ شخص ہے جو کلمہ اسلام پڑھتا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔ اس کے باوجود اﷲ تعالیٰ یا رسول اﷲﷺ یا کسی نبی یا رسول کی توہین کرتا ہے‘ یا ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہے۔ اس کے احکام کافر سے بھی سخت تر ہیں۔ امام صاحب نے مرزا غلام قادیانی اور منکرین ختم نبوت کو رد ابطال میںمتعدد فتویٰ کے علاوہ جو مستقل رسائل تصنیف کئے ہیں‘ ان کے نام یہ ہیں۔
1۔     جزاء اﷲ عدو بآباہ ختم النبوۃ: یہ رسالہ 1317ھ میں تصنیف ہوا۔ اس میں عقیدہ ختم نبوت پر 120 حدیثیں اور منکرین کی تکفیر پر جلیل القدر ائمہ کرام کی تیس تصریحات پیش کی گئی ہیں۔
2۔    السوء والعقاب علی المسیح الکذاب: یہ رسالہ 1320ھ میں اس سوال کے جواب میں تحریر ہوا کہ اگر ایک مسلمان مرزائی ہوجائے تو کیا اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی؟ امام احمد رضا نے دس وجوہات سے مرزا غلام قادیانی کا کفر ثابت کرکے احادیث کے نصوص اور دلائل شرعیہ سے ثابت کیا کہ سنی مسلمہ عورت کا نکاح باطل ہوگیا۔ وہ اپنے کافر مرتد شوہر سے فورا علیحدہ ہوجائے۔
3۔قہرالدیان علی فرقہ بقادیان: یہ رسالہ 1323ھ میں تصنیف ہوا۔ اس میں جھوٹے مسیح قادیان کے شیطانی الہاموں‘ اس کی کتابوں کے کفریہ اقوال سیدنا عیسٰی علیہ الصلواۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پاک و طہارت اور ان کی عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
4۔ المبین ختم النبین: یہ رسالہ 1326ھ میں اس سوال کے جواب میں تصنیف ہوا کہ ’’خاتم النبین میں لفظ النبین پر جو الف لام ہے‘ وہ مستغرق کا ہے۔ یہ عہد خارجی کا ہے۔ امام احمد رضا نے دلائل کثیرہ واضح سے ثابت کیا ہے کہ اس پر الف لام استغراق کا ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔
5۔ الجزار الدیان علی المرتد القادیان: یہ رسالہ 3محرم الحرام 1340ھ کو ایک استثنیٰ کے جواب میں لکھا گیا اور اس سال 25صفر المظفر 1340ھ کو آپ کا وصال ہوا۔
6۔ المعتقد: امام احمد رضا کے مستند افتاء سے ہندوستان میں جو سب سے پہلا رسالہ قادیانیت کی رد میں شامل ہوا‘ وہ ان کے صاحبزادے مولانا مفتی حامد رضا خان نے 1315ئ/1896ء الصارم الربانی علی اسراف القادیانی کی نام سے تحریر کیا تھا جس میں مسئلہ حیات عیسٰی علیہ السلام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور غلام قادیانی کذاب کی مثیل مسیح ہونے کازبردست رد کیا گیا ہے۔ امام احمد رضا نے خود اس رسالے کو سراہا ہے۔مذکورہ بالا سطور سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ منکرین نبوت اور قادیانیوں کی رد میں امام احمد رضا کس قدر سرگرم‘ مستعد متحرک اور فعال تھے۔ وہ اس فتنے کے ظہور ہوتے ہی اس کی سرکوبی کے درپے تھے۔ اس فتنے کی رد میں امام احمد رضا کی مساعی جمیلہ اس قدر قابل ستائش اور قابل توجہ ہے کہ ہر موافق و مخالف نے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
(روزنامہ جنگ ہفتہ 28جمادی الثانی 1423ھ ‘ 7دسمبر 2002ئ)
عقیدہ ختم نبوت کے عظیم مجاہد
حضرت علامہ مولانا شاہ احمد نورانی  علیہ الرحمہ
1۔ جنہوں نے 1952ء سے قادیانیوں کے خلاف باقاعدہ کام شروع کیا۔
2۔ مرزائیوں کے خلاف آل پاکستان مسلم پارٹیز کے بورڈ کے رکن منتخب ہوئے۔
3۔ 1953ء میں آرام باغ کراچی سے تحریک کا آغاز ہوا تو آپ پیش پیش تھے۔ گرفتاریاں دینے کے لئے نوجوانوںکے جتھے تیار کئے۔
4۔ 15اپریل 1974ء کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی۔
5۔ 30جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں ایک تاریخی قرارداد پیش کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
6۔ بیرونی ممالک نیروبی‘ ماریشس‘ لاطینی امریکہ‘ سرینام‘ برٹش‘ گیانا ٹرینی ڈاڈ میں قادیانیوں سے مناظرے کئے۔ یہ مناظرے بند کمروں میں نہیں‘ مجمع عام میں ہوئے اور قادیانیوں کو مکمل شکست دی۔ اس کے علاوہ ٹرینی ڈاڈ اور جنوبی امریکہ اور نیروبی میں مرزائی مناظر ذلیل ہوکر کتابیں لے کر بھاگ گئے۔
7۔ مرزائیوں کے سربراہ مرزا ناصر الدین کو قومی اسمبلی میں شکست دی۔ بالاخر آپ کی کوششوں سے آپ کی پیش کردہ قرارداد پر 7ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔
8۔ آپ کے مناظروں کو دیکھ کر 400قادیانیوں نے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ آپ قادیانیوں کے خلاف ننگی تلوار تھے۔