اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہر جگہ شاہد و موجود ہے۔ بندہ جہاں چاہے اس کی عبادت کرسکتا ہے‘ جتنی بھی پچھلی امتیں گزری ہیں ان کو اپنی مخصوص جگہ پر عبادت کرنے کا حکم تھا مگر ہم غلامان مصطفیﷺ پر یہ اﷲ کا احسان اور کرم خاص ہے۔
میرے سرکار اعظمﷺ فرماتے ہیں کہ ’’میری امت کے لئے ساری زمین کو مسجد بنا دیا گیا‘‘
مطلب یہ ہے کہ سرکار اعظمﷺ کا غلام دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو‘ اگر نماز کا وقت ہوجائے تو وہ وہیں پر نماز ادا کرسکتا ہے۔
نماز کو ادا کرنے کے لئے سب سے افضل مقام مسجد ہے۔ مسجدیں اﷲ تعالیٰ کا گھر ہیں۔ مسلمانوں کو اسے تعمیرکرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
کائنات میں ثواب کے اعتبار سے سب سے افضل مسجد‘ مسجد حرام ہے جہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے۔ اس کے بعد مسجد نبویﷺ کا درجہ ہے جہاں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار کے برابر ہے۔
مسجد کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے۔ مسجد کی بے حرمتی اس کی بے ادبی سے مسلمانوں کو روکا گیا۔ یہاں تک کہ مسجد میں ہنسنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
مسلمان اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے رسولﷺ کے حکم کو اﷲ تعالیٰ کا حکم قرار دیا گیا ہے۔ حضورﷺ کی ذات اقدس اﷲ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ ہمیں ایمان‘ قرآن یہاں تک کہ رحمن جل جلالہ کی معرفت بھی حضورﷺ نے کرائی۔ جبکہ منافقین اس کے برعکس ہیں‘ وہ اﷲ تعالیٰ کو مانتے ہیں مگر حضورﷺ کی شان اقدس میں سے ظاہری عیب نکالتے ہیں۔ حضورﷺ کے علم غیب پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ میرے آقاﷺ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ ’’میں ان سب لوگوں کو جانتا ہوں جو مجھ پر ایمان لائیں گے اور ان لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو مجھ سے کفر کریں گے۔‘‘
منافقین آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ مسلمانوں کے نبیﷺ یہ فرماتے ہیں کہ میں مومن اور منافق کو پہچانتا ہوں مگر ہم تو صفوں میں ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور وہ ہمیں نہیں جانتے۔ ان کی یہ بدگمانی میرے آقاﷺ تک پہنچ گئی۔ میرے آقاﷺ نے نام لے کر منافقوں کو اپنی مسجد سے نکالنا شروع کردیا اور قیامت تک کے سارے حالات بتادیئے۔
حدیث
حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ منبر پر جلوہ فرما ہوئے اور اس خطبے میں حضورﷺ نے ہمیں اس دنیا میں جو کچھ ہوچکا اور جو آئندہ ہوگا‘ سب کی خبر دی  تو ہم میں سے زیادہ علم والا وہ ہے جسے حضورﷺ کی باتیں زیادہ یاد ہوں (بحوالہ مسلم شریف)
منافقین اﷲ تعالیٰ کا انکار نہیں کرتے تھے۔ وہ اﷲ تعالیٰ کی شان میں کچھ نہیں کہتے تھے۔ نمازیں بھی مسلمانوں کی طرح پڑھتے تھے‘ لاالہ الا اﷲ بھی پڑھتے تھے مگر حضورﷺ سے بغض و عداوت نے انہیں برباد کردیا۔ پھر وہ طرح طرح کے پروگرام بنانے لگے اور مسجد قباء کے مقابل اپنی مسجد بھی بنائی جس کا ذکر قرآن میںموجود ہے۔
القرآن
والذین اتخذوا مسجدا ضرارا و کفرا وتفریقا بین المومنین و ارصادا لمن حارب اﷲ و رسولہ من قبل ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی واﷲ یشہد انہم لکذبون لاتقم فیہ ابدا لمسجد اسس علی التقویٰ من اول یوم احق ان تقوم فیہ رجال یحبون ان یتطہروا واﷲ یحب المطہرین O
ترجمہ: اور وہ جنہوں نے مسجد بنائی‘ نقصان پہنچانے کو اور کفر کے سبب اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو اوراس کے انتظار میں جو پہلے سے اﷲ اور اس کے رسولﷺ کا مخالف ہے اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے‘ ہم نے تو بھلائی چاہی اور اﷲ گواہ ہے کہ وہ بے شک جھوٹے ہیں۔ اس مسجد میں تم کبھی کھڑے نہ ہونا بے شک وہ مسجد کو پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اﷲ کو پیارے ہیں (سورۂ توبہ پارہ 11 آیت نمبر 108-107)
شان نزول
یہ آیت ایک جماعت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے مسجد قباء کو نقصان پہنچانے اور اس کی جماعت کو متفرق کرنے کے لئے اس کے قریب ایک مسجد بنائی تھی۔ اس میں ایک بڑی چال تھی وہ یہ کہ ابو عامر جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی راہب ہوگیا تھا۔ حضورﷺ کے مدینہ تشریف لانے پر حضورﷺ سے کہنے لگا۔ یہ کون سا دین ہے جو آپﷺ لائے ہیں؟
حضورﷺ نے فرمایا کہ ملت حنفیہ دین ابراہیم لایا ہوں کہنے لگا۔ میں اسی دین پر ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا نہیں۔ اس نے کہا کہ آپﷺ نے اس میں کچھ ملایا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں خالص ملت لایا ہوں۔ ابو عامر نے کہا کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہو‘ اﷲ تعالیٰ اس کو مسافرت میں تنہا اور بے کس کرکے ہلاک کرے۔ حضورﷺ نے فرمایا آمین۔
لوگوں نے ان کا نام ابو عامر فاسق رکھ دیا۔ ایک روز احمد ابو عامر نے حضورﷺ سے کہا کہ جہاں کہیں کوئی قوم آپﷺ سے جنگ کرنے والی ملے گی۔ میں اس سے مل کر آپﷺ سے جنگ کروںگا۔ چنانچہ جنگ صفین تک اس کا یہی معمول رہا۔ جب ہوازن کو شکست ہوئی اور وہ مایوس ہوکر ملک شام کی طرف بھاگا تو اس نے منافقین کو خبر بھیجی کہ تم سے جو سامان جنگ ہوسکے قوت و صلاح سب جمع کرو اور میرے لئے ایک مسجد بنائو۔ میں شاہِ روم کے پاس جاتا ہوں۔ وہاں سے رومی لشکر لائوں گا اور حضورﷺ اور ان کے اصحاب رضوان اﷲ علیہم اجمعین کو نکالوں گا۔یہ خبر پاکر منافقین نے مسجد ضرار بنائی تھی اور حضورﷺ سے عرض کیا تھا۔ یہ مسجد ہم نے آسانی کے لئے بنائی ہے کہ جو لوگ بوڑھے ضعیف کمزور ہیں۔ وہ اس میں بافراغت نماز پڑھ لیا کریں۔
حضورﷺ غزوہ تبوک سے واپس ہوکر مدینہ شریف کے قریب ایک موضع میں ٹھہرے تو منافقین نے آپﷺ سے درخواست کی کہ ان کی مسجد میں تشریف لے چلیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے ناپاک ارادوں کو اظہار فرمایا گیا۔ تب حضورﷺ نے بعض اصحاب کو حکم دیا کہ اس مسجد کو جاکر ڈھادیں اور جلادیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور ابو عامر راہب ملک شام میں بحالت سفر بے کسی اور تنہائی میں ہلاک ہوا۔ یہ اس آیت کا شان نزول ہے۔
ان آیات کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔
والذین اتخذوا مسجدا ضرارا O
اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’جنہوں کے مسجد بنائی نقصان پہنچانے کو‘‘ مطلب یہ کہ بعض مسجدیں بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ آپ کے دل میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیا مسجدیں بھی نقصان پہنچاتی ہیں؟
مسجد ضرار منافقین نے مسلمانوں کی مساجدوں کی طرح بنائی اور اﷲ تعالیٰ کا نام بھی لکھوایا۔ نمازیں بھی ہماری طرح پڑھتے تھے بالکل اسی طرح دور حاضر میں بھی بدمذہبوں جن میں قادیانی‘خارجی‘ غیر مقلدین اہلحدیث اور دیوبندی بھی شامل ہیں۔ اہلسنت کی مساجد کی طرح بناتے ہیں تاکہ عام مسلمان اس میں نماز کے لئے داخل ہوجائے اور وہ جب نماز کے لئے اندر چلا جائے تو پھر وہ لوگ اپنی جعلی تبلیغ اور میٹھی میٹھی باتوں کے جال میں پھنسا کر اس کو بدعقیدہ کردیں جس سے اس کے ایمان کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہوگیا کہ واقعی قرآن کی آیت میں بڑی حکمت ہے۔ بعض مسجدیں مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچاتی ہیں جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے۔
وکفروا تفریقا بین المومنین O
اس کے معنی یہ ہیں کہ کفر کے سبب اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو۔ مطلب یہ کہ انہوں نے مسجد بنائی مسلمانوں میں نفرت عداوت اور تفرقہ ڈالنے کے لئے تاکہ اسلام کو نقصان پہنچے۔ دور حاضر میں بھی منافقین جیسے دیوبندیوں نے اہلسنت وجماعت کا لیبل لگا کرمساجد پر قبضے کئے۔ اس کے بعد اہل حق مسلک اہلسنت پر شرک و بدعت کے فتوے لگا کر حضورﷺ کے علم غیب پر طعنہ زنی کرکے‘ حضورﷺ کی شان میں اور ان کی حیات پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیا۔ ایصال ثواب کو بدعت کہا گیا۔ سادہ لوح مسلمانوں کو ان چکروں میں الجھا کر مسلمانوں میں ایک بہت بڑی نفرت‘ عداوت اور تفرقہ کا بیج بویا۔
حارب اﷲ و رسولہ O
اس کا معنی یہ ہے کہ منافقین اﷲ اور اس کے رسولﷺ کے مخالف ہیں۔ محترم حضرات آپ نے پہلے بھی پڑھا کہ منافقین اﷲ تعالیٰ کا انکار نہیں کرتے تھے‘ کلمہ بھی پڑھتے تھے پھر کیوں ان کو اﷲ تعالیٰ کا مخالف کہا گیا۔ وہ تو حضورﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہتے تھے۔
اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے کہ اے میرے محبوبﷺ منافقین مخالف تو تیرے ہیں مگر درحقیقت تیری مخالفت میری مخالفت کرنے کے مترادف ہے۔ تیری شان میں کیچڑ اچھالنا میری ذات پر انگلی اٹھانے کے مترادف ہے۔
لاتقمہ فیہ ابدا O
اس کا معنی یہ ہے ’’اس مسجد (یعنی مسجد ضرار) میں تم کبھی کھڑے نہ ہونا‘‘ مطلب یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کو حکم دے دیا ہے کہ آپﷺ ہرگز اس مسجد میں کھڑے نہ ہوں۔ لہذا ہمیں منع کیا جارہا ہے کہ اس طرح کی مسجدوں کی طرف قدم نہ بڑھائیں۔ پھر ہمارا بدمذہبوں کی مسجد میں جانا کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
منافقین مسلمانوں کا لبادہ کیوں پہنتے ہیں
بدمذہب سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ان کی طرح کا کام شروع کردیتے ہیں‘ آپ کے ساتھ رہیں گے تو صلوٰۃ و سلام کے لئے بھی کھڑے ہوجائیں گے۔ آپ کے اجتماع میں آئیں گے تو آپ کو یوں لگے گا کہ یہ ہمارے جیسے ہیں پھر اپنی چکنی چپڑی باتوں سے آپ کے دل میں گھر کرکے آپ کے دوست بننے کی کوشش کریں گے۔ جب پکی دوستی ہوجائے گی تو وہ اپنی اصلیت دکھا کر اپنے جال میں پھنسالیں گے شرک و بدعت کے فتوئوں کی بھرمار شروع کردیں گے۔
مسجد ضرار کو جلانے کا حکم کیوں ملا؟
مسجد ضرار کو جلانے کا حکم کیوں ملا؟ حالانکہ یہ تو بالکل مسلمانوں کی طرح مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ اس پر کلمہ طیبہ بھی تحریر تھا اس میں نماز بھی ہوتی تھی۔ اس میں توحید کا نعرہ بھی بلند ہوتا تھا پھر کیوں اس کو جلانے کا حکم ملا؟
اﷲ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں کہ کوئی بندہ مجھ سے محبت کا دعویٰ کرے مگر میرے محبوبﷺ کی شان میں ان کے علم غیب پر‘ ان کی حیات پر طعنہ زنی کرے۔ چاہے بند الفاظوں میں حضورﷺ کی شان میں گستاخی کرے۔
مسجد ضرار کو جلانے کا حکم ہمیںصدا دے رہا ہے کہ مسلمانو! توحید حضورﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات ادا کرنے کا نام نہیں۔ توحید حضورﷺ کی شان کو گھٹانے کا نام نہیں ہے۔ توحید حضورﷺ کے علم غیب اور حیات پر طعنہ زنی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ توحید حضورﷺ سے کائنات میں یہاں تک کہ اپنے جان سے بھی زیادہ محبت کرنے کا نام ہے اور جو لوگ توحیدی لبادہ اوڑھ کر اﷲ تعالیٰ سے محبت کے دعویدار ہیں اور حضورﷺ کی شان میں دن رات نقائص تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں وہ دراصل شیطان کے ٹولے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیونکہ توحید محبت رسول کے بغیر نامکمل ہے۔
مسجد ضرار کے بعد منافقین کا کیا ہوا؟
مسجد ضرار کے بعد منافقین ہر دور میں الگ الگ شکلوں میں مسلمانوں کی طرح حلیہ بنا کر اسلام کو نقصان پہنچاتے رہے‘ ہر دور میں ان کا فتنہ الگ الگ ناموں سے اٹھتا رہا۔
برصغیر پاک و ہند میں یہ فتنہ مسلمانوں کو مشرک و بدعتی کہتے ہوئے  اٹھا۔ حضورﷺ کی تعظیم کو شرک کہتا رہا۔ حضورﷺ کو مرکر مٹی میں مل جانے کی باتیں (معاذ اﷲ) کرنے لگا۔ مزارات اولیاء کو برا کہنے لگا۔ حضورﷺ کو اپنے بڑے بھائی کی طرح ثابت کرنے پر ایڑھی چوٹی کا زور لگاتا رہا مگر ناکامی کا منہ اسے دیکھنا پڑا۔
مساجد اہلسنت پر قبضہ کرنے کی سازش
پاکستان بننے کے بعد کانگریسی مولوی جوکہ پاکستان کو کفرستان اور محمد علی جناح کو کافر اعظم کہتے تھے۔ سارے وہابی‘ دیوبندی‘ مولوی بڑی بڑی سیٹوں پر قابض ہوگئے کیونکہ  انہیں اب اس ملک میں بھی فتنہ پھیلانا تھا۔ لہذا انہوں نے ملک پاکستان میں اہلسنت کی مساجد پر قبضہ کرنے کی سازش کا آغاز کیا۔
بدمذہب مساجد اہلسنت پر قبضہ کس طرح کرتے ہیں
اس کی دو ترکیبیں ان کے پاس ہیں۔ ایک ترکیب وہ چالاکی اور مکاری سے مساجد پر قبضہ کرتے ہیں دوسری ترکیب وہ اسلحے کے زور پر مساجد اہلسنت پر قبضے کرتے ہیں۔
(1) چالاکی اور مکاری سے قبضہ کرنا
وہابیوں اور دیوبندیوں کو اگر کسی مسجد پر قبضہ کرنا ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے سازش کے تحت وہاں اپنا ایک سخت منافق قسم کا تنخواہ دار ایجنٹ بھیجتے ہیں۔ جوکہ مسجد میں خادم کے فرائض انجام دیتا ہے۔ سنیوں کو آپ جانتے ہیں کہ وہ مذہبی معاملات میں بالکل بھولے بھالے ہوتے ہیں۔ وہ بغیر کسی معلومات کہ یہ سوچ کر کہ یہ غریب ہے مسجد کی صفائی بھی رہے گی اس کو خادم رکھ لیتے ہیں۔
اب وہ خادم کمیٹی پر یہ ظاہر نہیں ہونے دیتا کہ میں دیوبندیوں کا ایجنٹ ہوں یعنی صلوٰۃ و سلام بھی پڑھے گا‘ صلوٰۃ و سلام کے وقت کھڑا بھی ہوجائے گا یعنی منافقت اختیار کرکے وہ دھوکا دیتا ہے‘ دیوبندی اسے نوازتے رہتے ہیں۔
اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ موذن چھٹیاں کرتے ہیں لہذا مؤذن چھٹیوں پر چلاجاتا ہے کمیٹی کچھ دنوں کے لئے اس کو موذن مقرر کردیتی ہے۔ اب وہ مؤذن بن گیا وہ تنخواہ بڑھانے کا بھی تقاضا نہیں کرتا‘ کمیٹی سوچتی ہے کہ اسی کو مؤذن رہنے دیا جائے۔
ایک وقت آیا کہ امام صاحب بھی چھٹیاں منانے گئے لہذا اس مؤذن نے امام صاحب کی غیر موجودگی میں امامت کرانابھی شروع کردی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے سنی آئمہ جب چھٹیاں منانے جاتے ہیں تو واپس آنے کا نام بھی نہیں لیتے۔ موقع پاکر اس دیوبندی ایجنٹ نے کمیٹی سے درخواست کردی کہ مجھے مستقل امام بناد یا جائے۔ اس نے چالبازی سے کمیٹی کا دل تو جیت ہی لیا تھا۔ کمیٹی نے یہ فیصلہ کردیاکہ اب یہ صاحب اس مسجد کے مستقل امام رہیں گے۔ امام بننے کے بعد وہ کچھ عرصے تک دعائے ثانی بھی کراتا رہا۔ جمعہ کے دن صلوٰۃ و سلام بھی پڑھتا‘ مقدس راتوں میں بیانات بھی کرتا۔ اب تک کسی کو خبر نہیں کہ یہ دیوبندیوں کا ایجنٹ ہے۔ اس نے کچھ عرصے میں سارے نمازیوں کو بھی متاثر کرلیا اور نمازی بھی اس سے محبت کرتے ۔ اب پوری تیاری کے بعد اس نے آگے اطلاع دی کہ میں نے اچھی طرح سے قدم جمالئے ہیں۔ چنانچہ دیوبندی بھاری رقم کھلا کر دوسرا ٹرسٹ بنوالیتے ہیں۔ پولیس کو رقم کھلا کر پوری تیاری کرنے کے بعد اس امام نے یہ اعلان کردیا کہ میں دیوبندی ہوں۔ یہاں اب صلوٰۃ و سلام نہیں ہوگا۔ یہاں پر کوئی میلاد کا پروگرام نہیں ہوگا۔ نمازی سارے اس سے متاثر تھے۔ کچھ سچے پکے سنی حضرات ہوں گے تو وہ ایکشن بھی لیں گے۔ یہ بات کورٹ تک پہنچی۔ پولیس والوں کوتو انہوں نے مال کھلا دیاتھا۔ اب اعلیٰ افسران کو بھی رشوت دے دی۔ بالاخر کورٹ نے یہ اعلان کردیا کہ یہ مسجد دیوبند فرقے کی ہے۔ ہماری نااہلی کی وجہ سے ہماری سالہا سال کی محنت سے بنائی ہوئی مسجد کچھ ماہ میں چلی گئی۔
(2) اسلحے کے زور پر مساجد میں قبضے
نام نہاد جہادی تنظیمیں موقع پاکر مساجد اہلسنت پر اسلحہ سمیت حملہ کردیتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں جب حملہ ہوتا ہے تو جوابی کارروائی بھی ہوتی ہے۔ اس طرح دونوں فریق آپس میں لڑتے ہیں۔ پولیس فورا وہاں پہنچ جاتی ہے اور دونوں طرف کے آدمیوں کو پکڑ کر لے جاتی ہے۔ مسجد کو سیل کردیاجاتا ہے یہ کہہ کر یہ مسجد متنازعہ مسجد ہے۔
اب اس مسجد کا مقدمہ چلتا ہے۔ مسلک اہلسنت کی مسجد ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ مسجد ہماری ہے دوسری طرف دیوبندی کہتے ہیں کہ یہ مسجد ہماری ہے مقدمے کے دوران بھی دیوبندی پولیس والوں پر اور کورٹ میں خوب مال لٹاتے ہیں۔ جھوٹے ٹرسٹ بنوا کر رکھ لیتے ہیں۔ اس کے بعد کورٹ یہ فیصلہ سناتی ہے کہ یہ مسجد دیوبندی فرقے کی ہے۔ اس طرح ہماری سینکڑوں مساجد چلی گئیں اور سینکڑوں مسجدیں اب بھی سیل ہیں جن پر تالے لگے ہوئے ہیں۔
مساجد اہلسنت پر قبضے کیوں ہوتے ہیں؟
سب سے پہلی نااہلی یہ ہے کہ ہم مسجد کاٹرسٹ نہیں بنواتے۔ سستی کرتے ہیں صرف اس بناء پر کہ یہ اﷲ تعالیٰ کا گھر ہے اﷲ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے گا۔ محترم حضرات! کیا ہم کبھی باہر جاتے ہیں تو اپنا گھر کھلا چھوڑ دیتے ہیں نہیں بلکہ ہم سے جتنی حفاظت ہوسکتی ہے۔ ہم کرتے ہیں باقی اﷲ تعالیٰ کے سپرد کردیتے ہیں۔
مسجد اﷲ تعالیٰ کا گھر ضرور ہے مگر اس کی بھی ایک مسلمان سے جتنی ہوسکے‘ وہ حفاظت اسے کرنی چاہئے یعنی اس کا ٹرسٹ بنایا جائے‘ کاغذی کام بہت مضبوط رکھا جائے۔ میرے پیرومرشد حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی مسجد یا جاء نماز کا پلاٹ خریدا جائے پہلی فرصت میں اس کا ٹرسٹ بنوایا جائے۔ مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر عوام اہلسنت کو مسجد کا ٹرسٹ بنوانا ہو تو وہ جماعت اہلسنت سے مفت خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔ جماعت اہلسنت ٹرسٹ بنا کر آپ کو فراہم کردے گی۔ اس سے آپ کی مسجد غیروں کے قبضے سے بچ جائے گی۔
دوسری ہماری نااہلی یہ ہے کہ ہم اپنے علاقے کی مسجد میں باجماعت نماز ادا نہیں کرتے ہیں جو بھی نماز ہمیں اپنے محلے کی مسجد میں میسر آئے اسے باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور وہاںموجود نمازیوں سے ملاقات کرنی چاہئے۔ انہیں دینی کتابیں اور عقائد پر مبنی لٹریچر تحفے میں دیئے جائیں۔
اپنے علاقے کی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرنے سے یہ فائدہ ہوگا کہ جو ہم رونا روتے ہیں کہ ہماری مسجدوں پر دیوبندی قبضہ کرلیتے ہیں اس سے چھٹکارا مل جائے گا۔ جب عوام اہلسنت اپنی مسجدیں آباد رکھیں گے تو یقینا بدمذہب ہماری مسجدوں کا رخ نہیں کریں گے۔
مگر افسوس! صد افسوس! کہ ہمیں کیا فکر ہے کہ ہم اپنے علاقے کی مسجد میں نماز ادا کریں اور اس کی حفاظت کریں۔ ہمارا کام تو آرام کرنا ہے۔ آرام پسندی نے ہمیں مار ڈالا۔ ہم اپنی حفاظت نہیں کرسکتے مساجد کی حفاظت کیا کریں گے۔
کیا اب بھی ہماری مساجدوں پر ان کی نظر ہے؟
جی ہاں! اب بھی ہماری مساجدوں اورمزارات پر ان کی نظر ہے۔ یہ لوگ اب بھی اس کوشش میں ہیں کہ مساجد اہلسنت پرکسی نہ کسی طرح قبضہ کرلیا جائے۔ جس کا ثبوت روزانہ کے اخبار ہیں۔ جس میں یہ خبریں شائع ہوتی ہیں کہ جیش محمد اور سپاہ صحابہ کے افراد اسلحہ سمیت مسجدمیں گھس گئے۔ اس قسم کی خبریں ہر دوسرے روز اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔
لمحہ فکریہ
کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہم اہلسنت اس ملک کی اکثریت ہیں مگر ساری ناانصافیاں ہمارے ساتھ ہوتی ہیں۔ مزارات اولیاء کے ہم ماننے والے ہیں مگر ان پرقبضہ دیوبندیوں کا ہے۔ چاروں صوبوں کے اوقاف میں سارے کے سارے دیوبندی ہیں جو کہ مزارات کو نہیں مانتے۔ مزارات کے سخت دشمن ہیں مگر مزارات پر جمع ہونے والا کروڑوں کا چندہ دیوبندی کھاتے ہیں اور خوب عیاشی کرتے ہیں۔ مزارات کا کروڑوں کا چندہ صاحب مزار علیہ الرحمہ کی تعلیمات پر خرچ نہیں ہوتا بلکہ ان بدنصیبوں کی جیبوں میں جاتا ہے۔ مزارات کو بدنام کرنے کے لئے ان لوگوں نے چرسی موالی بٹھا رکھے ہیں تاکہ لوگ مزارات پر نہ آئیں اور مزارات کی بدنامی ہو۔
سیاسی سطح پر اور میڈیا کی سطح پر ہمارا کوئی جید عالم دین اور رہنما نہیں ہے۔ سارے کے سارے بڑے بڑے عہدوں پر کوئی دیوبندی ہے۔ کوئی غیر مقلد اہلحدیث ملے گا یا کوئی شیعہ ملے گا کہیں کونے میں کوئی سنی ہوگا تو وہ خاموش تماشائی ہوگا کیونکہ وہ اپنی سیٹ کو بچانے کے چکر میں ہوتا ہے اور باطل کھلے عام اپنے مذہب کا پرچار کرتے ہیں اپنے لوگوں کو نوازتے ہیں۔
شہر کراچی جس میں عالم اسلام کے جید عالم دین موجود ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایسے شہر کراچی میں ہماری حکومت نہیں ہے۔ مٹھی بھر عناصر نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہمارے ہی لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ ہماری سینکڑوں مساجدوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے سنی بھائیوں کو لوگ گمراہ کئے جارہے ہیں۔ کوئی دیوبندی ہورہا ہے‘ کوئی شیعہ بن گیا ہے۔ کوئی قادیانی بن گیا ہے مگر ہم گہری نیند سو رہے ہیں۔
ہم لوگ اپنی میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمیں آرام کرنے سے فرصت نہیں ملتی۔ ہمیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے کہاں فرصت ہے۔ ہمیں تنقید نگاری سے کہاں فرصت ہے۔ ہمیں تنگ نظری سے کہاں فرصت ہے۔ ہمیں اپنی لیڈری چمکانے سے کہاںفرصت ہے۔ ہمیں نوٹیں جمع کرنے سے کہاں فرصت ہے۔ ہمیں فقط تقریریں کرکے گھر میں سو جانے سے کہاں فرصت ہے۔ ہمیں صرف اپنی مسجد تک محدود رہنے سے کہاں فرصت ہے۔ ہمارا یہ ذہن بن چکا ہے کہ ہمیں صرف اپنی فکر کرنی چاہئے۔ عوام اہلسنت کی فکر کی کیا ضرورت ہے۔ ان محدود سوچوں نے ہمیں آج برباد کرکے رکھ دیا ہے۔
یاد رہے کہ آج ہم گھروں سے نہ نکلے اپنے منبروںسے نہ نکلے‘ اپنی خانقاہوں سے نہ نکلے‘ اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے کوشش نہ کیں۔ اگر مساجدوں کی حفاظت نہ کی‘ اس میں نماز پڑھ کر اس کو آباد نہ کیا‘ اپنے اخلاق سے عام مسلمانوں کو متاثر نہ کیا تو یہ بدمذہب جو سنیت کے چمن کو ویران کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ مسلک حق کو پستی کی طرف دھکیل دیں گے پھر ہماری نوجوان نسل ہماری طرف مائل نہیں ہوگی۔ اﷲ تعالیٰ وہ وقت نہ لائے ‘اس سے قبل ہمیں جاگنا ہوگا۔ اپنی مسجدوں کی حفاظت کرنا ہوگی۔ یہ ہمارا فرض ہے ‘یہ ہماری ذمہ داری ہے۔
ہمیں اپنے اپنے علاقوں کی مساجدوں پر نظر رکھنی چاہئے اس میں دین کے کام کوبڑھانا چاہئے۔ ائمہ مساجد کو چاہئے کہ وہ عوام اہلسنت کی تربیت کریں۔ عوام کو اپنے قریب لائیں۔ عوام اہلسنت کے دلوں میں جگہ بنائیں۔ حکمت عملی کے ساتھ تقریریں کریں‘ مسجد میں ہفتہ وار‘ ماہانہ درس قرآن کا پروگرام شروع کروائیں‘ عوام سے رابطہ رکھیں۔ عوام اہلسنت کثیر تعداد میں ہیں۔ اس لئے کسی ایک عالم یا ایک مفتی کا کام نہیں ہے بلکہ ہم سب کو اپنا اپنا فرض سمجھتے ہوئے مل جل کر محبت و اخلاص کے ساتھ صرف اﷲ تعالیٰ اور اس کے حبیبﷺ کی رضا کے لئے پیغام حق کو پہنچانا ہوگا۔ اسی میں ہماری فلاح ہے ورنہ قیامت کے دن ہماری پکڑ ہوسکتی ہے وہاں کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔
اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے پیارے حبیبﷺ کے صدقے و طفیل ہماری مساجدوں اور مقدس مقامات کی حفاظت فرمائے اور ہمیں خلوص دل کے ساتھ دین کے کام کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین