عوام: آج کل ایک ہوا چل نکلی ہے کہ لوگ پیری مریدی کے چکر میں لگے ہوئے ہیں، اس کی آڑ میں عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ آستانہ میں عورتوں کی عزت لوٹی جاتی ہے اور ان سے بھاری رقوم بٹوری جاتی ہے۔ پیری مریدی کا آخر کیا فلسفہ ہے۔ آستانوں کی کیا حقیقت ہے۔ ہمیں اس سے آگاہ کریں۔
مولانا: آج کل واقعی یہ ہوا چل نکلی ہے کہ لوگ پیری اور مریدی جیسے مقدس نام کو بدنام کررہے ہیں۔ صحیح اور اچھا راستہ کوئی نہیں دکھاتا بلکہ میڈیا اور ٹی وی چینل بھی عوام کو بزرگان دین سے گمراہ کررہے ہیں۔ جس میں ’’جیو‘‘ ٹی وی کا نام صف اول ہے جو حقیقت کو نہیں دکھاتا۔ اگر دکھاتا بھی ہے تو پھر کسی عام آدمی سے اس کے متعلق سوالات کرتا ہے حالانکہ یہ کام علماء کا ہے۔ علماء کرام کو بلوا کر ان سے تسلی بخش جواب لیا جائے۔ ہوتا یہ ہے کہ مخالفین کا بہت بڑا مولوی ہوتا ہے اور اس کے سامنے کسی عام آدمی اور عورت کو بٹھا دیا جاتا ہے۔ عوام اہلسنت ’’جیو‘‘ کے اس کردار کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
پیری مریدی مشہور ہے مگر اصل الفاظ بیعت کے ہیں۔ اگر ہم کسی نیک آدمی کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ کو دے کر اس کے ہاتھ پر بیعت کریں، توبہ کریں، آئندہ گناہوں سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنے کا عہد کریں، اس کا نام بیعت کرنا ہے۔ جسے عام طور پر پیری مریدی کہا جاتا ہے۔
بیعت کے معنی یہ ہیں کہ جس نیک ہستی کے ہاتھ پر آپ نے بیعت کی، وہ سنی صحیح العقیدہ عالم اورنیک و صالح ہو، شریعت کا پابند ہو، اس کی پیروی کی جائے یعنی اس کے نقش قدم پر چلا جائے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔
ترجمہ: اے ایمان والو! حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا اور انکا جو تم میں صاحب امر ہیں (پارہ 5، سورہ نسائ، آیت 59)
اس آیت میں اﷲ تعالیٰ کی، حضور علیہ السلام کی اور صاحب امر کی اطاعت کا حکم دیا گیاہے۔ صاحب امر سے مراد تمام آئمہ مجتہدین اور پیران عظام ہیں۔
دوسری جگہ فرمایا گیا۔
ترجمہ: اور اس کی پیروی کر جو میری طرف لے آئے (پارہ 21، سورہ لقمان آیت 15)
اس آیت میں حکم دیا گیا کہ ہر اس نیک ہستی کا دامن پکڑ جو تیرا رابطہ اﷲ تعالیٰ سے کرادے، پیران عظام اور نیک لوگ ہر دور میں بھٹکی ہوئی قوم کو اﷲ تعالیٰ سے ملاتے رہے اس کی معرفت کراتے رہے لہذا قرآن ان کا دامن تھامنے کا حکم دے رہا ہے۔
تیسری جگہ ارشاد فرمایا گیا۔
ترجمہ: جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے (سورہ بنی اسرائیل، آیت 71، پارہ 15)
اس آیت کے تحت مفسرین فرماتے ہیں کہ آدمی جس کی پیروی کرتا تھا، اسے انہی نیک لوگوں کے نام سے پکارا جائے گا کہ اے فلاں کے ماننے والے… اگر ہم کسی نیک پرہیز گار شخص کے دامن سے وابستہ ہوں گے تو انہی نیک لوگوں کے ساتھ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔
چوتھی جگہ ارشاد فرمایاگیا۔
ترجمہ: اور جسے گمراہ کرے تو ہرگز اس کا کوئی حمایتی راہ دکھانے والا نہ پائو گے (سورہ کہف، آیت 17، پارہ 15)
قرآن مجید کی اس آیت میں مرشدا سے مراد راہ دکھانے والا بتایا گیاہے۔ اس سے مراد مرشد ہے لہذا مرشد یعنی پیر کو کہا جاتا ہے جس کے ہاتھ پر بیعت کرکے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔
جہاں نیک بندے بیٹھ کر لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں ان جگہوںکو آستانہ کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے اس دنیا میں آستانے کا شرف مدینہ طیبہ کی زمین کو نصیب ہوا جہاں سے سوا لاکھ کم و بیش صحابہ کرام نے فیض حاصل کیا۔ وہ حضور علیہ السلام سے بیعت بھی ہوئے۔ اس کے بعد خلفائے راشدین نے بھی قوم کو فیضیاب کیا۔ ان کے ہاتھوں پر بھی لاکھوں افراد نے بیعت کی۔
جیسے جیسے وقت گزرتا رہا، آستانے بدلتے رہے، حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے کوفے کو اپنا آستانہ بنایا جہاں سے ہزاروں لوگ فیض یاب ہوئے۔ اس کوفے میں بیٹھ کر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ نے بھی لوگوں کو فیض یاب کیا۔ حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ نے بغداد کو آستانہ بنایا۔ لاکھوں غیر مسلموں کو مسلمان کیا،حضرت خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ نے نوے لاکھ غیر مسلموں کو مسلمان کیا۔ اسی طرح پوری دنیا کے ہر کونے میں اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں نے اپنے آستانوں کے ذریعہ مسلمانوں کوفلاح و کامرانی کی راہ دکھائی۔
مگر افسوس کی بات ہے کہ نام نہادعاملوں اور پیروں نے غلط کام کرکے ان آستانوں کو بدنام کیا۔ جاہل عاملوں نے بھولی بھالی عوام سے مال بٹورا، ان کے ان کاموں میں انتظامیہ، پولیس سب کی ملی بھگت ہے تاکہ یہ پیران عظام اور آستانے بدنام ہوں۔ یاد رہے کہ شیطان عاملوں کی وجہ سے تمام لوگوں کو بدنام کرنا یہ انصاف نہیں ہے۔ آج اولیائے کرام پر طعنہ زنی کرنے والے حضرت خواجہ اجمیری، حضرت نظام الدین اولیاء اور دیگر حضرات کے واقعات کیوں نہیںسناتے؟
اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کے پاس جانا، ان سے دعائیں کرانا یہ سب اﷲ تعالیٰ سے قرب کا ذریعہ ہے جو لوگ مزارات پر جاکر یا اپنے آستانوں میں غلط کام کرواتے ہیں، وہ لوگ غلط ہیں، ان کی آڑ میں نیک لوگوں پر کیچڑ اچھالنا انصاف نہیں ہے۔ اہلسنت مزارات پر صرف فیض حاصل کرنے جاتے ہیں۔ مسلمان اﷲتعالیٰ کو اپنا حقیقی مالک مانتے ہیں۔ مزارات پر اولیاء کو اﷲ تعالیٰ کاولی یعنی دوست سمجھ کر جاتے ہیں وہاں جاکر اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اﷲ جل جلالہ! ہم تو گنہ گار ہیں، اس نیک بندے کے وسیلے سے ہماری دعائیں قبول فرما۔ اﷲ تعالیٰ نیک بندوں کے وسیلے سے جلد دعا کو قبول فرماتا ہے۔
مزارات پر ناچ گانا، چرس، بے پردگی، سجدے، طواف اور الٹی سیدھی حرکتیں ان تمام کاموں سے اہلسنت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک کے اکثر مزارات اوقاف کے ہاتھوں میں ہیں۔ اوقاف والے بدنام کرنے کے لئے وہاں پر چرس، ناچ گانا اور دیگر کام کرواتے ہیں۔ مزارات پر جمع ہونے والا کروڑوں کا چندہ اوقاف والے صاحب مزار کی سیرت کو پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ اپنی جیبوں میں ڈالتے ہیں، سرکاری سطح پر کوئی ایکشن نہیں لیاجاتا۔
اگر مزارات علماء اہلسنت کی سرپرستی میں دے دیئے جائیں تو ان کاموں کا خاتمہ ہوجائے گا کیونکہ جو مزارات علماء اہلسنت کی سرپرستی میں ہیں وہاں یہ کام نہیں ہوتے مثلا میمن مسجد مصلح الدین گارڈن میں مزار علامہ شاہ تراب الحق قادری صاحب کی زیر سرپرستی ہے، گلزار حبیب مسجد سولجر بازار میں مزار علامہ کوکب نورانی کی سرپرستی میں ہے، دارالعلوم امجدیہ دارالعلوم نعیمیہ ملیر میں جو مزارات ہیں وہ علماء اہلسنت کی سرپرستی میں ہیں وہاں یہ جاہلانہ کام نہیں ہوتے لہذا اگر پورے پاکستان کے مزارات علماء اہلسنت کی سرپرستی میں دے دیئے جائیں تو وہاں بھی یہ کام نہیں ہوں گے۔
الغرض کہ اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں نے روز اول سے مخلوق خدا کو سیدھا راستہ دکھایا ہے۔ مگر افسوس کہ آج چند غلط لوگوں کی وجہ سے لوگ ان کی شان میں بکواس کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے ولی اﷲ تعالیٰ کے دوست ہیں، وہ خدا نہیں ہیں۔ یہی ہمارا ایمان ہے اور یہی ان اولیاء اﷲ نے ہمیں سکھایاہے۔
جیو، سما، آج اور دنیا نامی چینلز پر مزارات اور آستانوں کے متعلق جو بکواس کی جاتی ہے، ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان چینلز کو لگام دے اور بکواس کرنے والے غامدی، مفتی نعیم، تھانوی اور ابتسام الٰہی ظہیر پر پابندی عائد کی جائے۔