قارئین کرام! اس قسط میں آپ اس زمانے کی سب سے بڑی دجل گاہ اور اس میں موجود دجالوں کے دجل و فریب اوران کے چھوڑے ہوئے شکاریوںکے شکار کے انداز اور ایمان کے ڈاکوئوں کی ڈاکہ زنی کے اور وارداتوں کے احوال ملاحظہ کیجئے۔ چنانچہ رئیس التحریر علامہ محمد ارشد القادری علیہ الرحمہ اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’تبلیغی جماعت‘‘ کے دیباچے میں رقم طراز ہیں۔
تبلیغی جماعت کی بابت میری زندگی میں تین ایسے واقعات پیش آئے ہیں جنہیں میں اس کتاب کا سبب تالیف کہہ سکتا ہوں۔
اپنی معلومات کے اس اہم ترین حصے کو آج صفحہ قرطاس پر نقل کرتے ہوئے میں ایک اخلاقی فرض سے سبکدوش ہونے کی خوشی محسوس کرتا ہوں (مصنف)
پہلا واقعہ آج سے تقریبا پچیس سال پہلے کی بات ہے۔میرے عہد کے طالب علمی کی ایک خوشگوار شام تھی۔ دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور کے صدر دروازے پر ہم چندطلبہ کھڑے تھے کہ ایک سفید ریش بزرگ آتے ہوئے دکھائی پڑے۔ چہرے پر مصنوعی تقدس، ہاتھ میں یاقوت کی تسبیح، ٹخنوں تک کرتہ، درمیان میں سفید کھدر کی صدری، غرض نیچے سے اوپر تک تسخیر قلوب کے جملہ آلات سے مسلح تھے۔موصوف کے آگے پیچھے چند افراد سر جھکائے ہاتھ باندھے زیر لب کچھ پڑھتے ہوئے چل رہے تھے۔
ہم نو عمرلوگوں کے لئے یہ بالکل ایک نئی چیز تھی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ تبلیغی جماعت کے لوگ ہیں جو دہلی سے مبارکپور کے مسلمانوں کو کلمہ پڑھانے آئے ہیں اور آگے آگے جو سفید ریش بزرگ ہیں یہ امیر جماعت ہیں… یہ معلوم کرکے ہم لوگوں کا بڑا اچنبھا ہوا۔ ہمارے علاوہ انہیں کبھی بھی بت خانے کی طرف جاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ اسلام سے منحرف ہوجانے کی کوئی بات کبھی بھی ان کے متعلق نہیں سنی گئی۔ ان حالات میں انہیں کلمہ پڑھانے کی بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ اسے حیرت و استعجاب کا نتیجہ کہئے کہ ہم میں سے کسی طالب علم نے ان بتانے والے صاحب سے یہ سوال کر ہی ڈالا:
’’کیا ان حضرات کے نزدیک یہاں کے مسلمان، مسلمان نہیں ہیں جو دہلی سے چل کر یہ لوگ انہیں کلمہ پڑھانے آئے ہیں‘‘
وہ صاحب اپنی بات چیت سے اسی گروہ کے آدمی معلوم پڑتے تھے۔ انہوں نے بڑے تپاک سے کہا:
’’کلمہ پڑھانے کا یہ مطلب آپ لوگوں نے غلط سمجھا ہے۔ کلمہ ہمیشہ مسلمان بنانے ہی کے لئے نہیںپڑھایا جاتا، کبھی کبھی ذکر خداوندی کے لئے بھی پڑھایا جاتا ہے۔ کلمہ پڑھا کر یہ لوگ خدا کے ذکر کا چرچا کررہے ہیں، مسلمان بنانا مقصود نہیں‘‘
ان کے اس جواب سے ہم لوگوں کا ذہنی خلجان بہت حد تک دور ہوچلا تھا لیکن ہمارے ایک ساتھی نے یہ کہہ کر پھر ہمیں اسی مقام پر لاکھڑا کیا کہ جب تک میں خود تجربہ نہیں کرلوں گا اس جواب سے میری تشفی نہیں ہوگی۔
لاکھ ہم نے معلوم کرنا چاہا کہ وہ کیسے تجربہ کرے گا لیکن سو جواب کا ایک جواب، اس کے پاس تھا ’’تم لوگ خاموشی کے ساتھ تماشا دیکھو‘‘
دوسرے دن ٹھیک چار بجے شام کو پھر دہلی کا وہ تبلیغی دستہ قصبے کا گشت کرتا کلمہ پڑھتا ہوا مدرسہ کے سامنے سے گزرا۔ ہم سب انتظار ہی میں کھڑے تھے کہ دو قدم آگے بڑھ کر ہمارے ساتھی نے اس تبلیغی دستے کے امیر کو آواز دی۔
’’مولانا! ذرا ایک لمحے کے لئے تکلیف فرمایئے گا‘‘
اس آواز پر امیر جماعت نے پلٹ کر دیکھا اور کھڑے ہوگئے۔ پھر ساتھی نے لجاجت کے ساتھ کہا:
’’مولانا! برا نہ مانئے گا دین کے کام سے میں آپ کو زحمت دے رہا ہوں‘‘
یہ سن کر وہ پیشانی پر بل ڈالے ہوئے بوجھل قدموں کے ساتھ قریب آئے اور ناگوار لہجے میں فرمایا:
’’کہئے دین کا کون سا کام ہے میرے لائق‘‘
ساتھی نے برجستہ کہا ’’ذرا کلمہ پڑھئے گا‘‘
اتنا سننا تھا کہ جیسے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ غصہ سے چہرہ تمتا اٹھا۔ گردن کی رگیں تن گئیں، دم پھوٹنے لگا، آنکھوں سے چنگاری برسنے لگی۔ دہکتی ہوئی آواز میں ارشاد فرمایا:
’’شرم نہیں آتی تمہیں! طالب علم ہوکر اپنے بڑوں سے مذاق کرتے ہو۔ خدا نے چاہا تو اس گستاخی کی سزا اسی دنیامیں تم چکھ لو گے‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ پلٹنا ہی چاہتے تھے کہ ساتھی نے راستہ روک کر کہا:
’’آپ تو بلاوجہ خفا ہوگئے۔ بھلا اس میں مذاق کی کون سی بات ہے۔ یہ کام تو کل سے آپ انجام دے رہے ہیں۔ ذکر الٰہی کا ثواب حاصل کرنے کا حق ہمیں نہیں ہے اور اگر آپ کے کہنے کے مطابق یہ مذاق ہے تو کل سے آپ یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ مذاق کررہے ہیں۔ اسی گستاخی کی سزا آپ نے اپنے لئے کیا تجویزفرمائی ہے؟‘‘
ساتھی کی آواز دم بدم تیز ہوتی جارہی تھی جیسے کسی چور کو رنگے ہاتھوں کسی نے پکڑ لیا ہو۔ چند ہی لمحوں میں تماشائیوں کی اچھی خاصی بھیڑ جمع ہوگئی۔ عام عادت کے مطابق کچھ لوگوں نے اچھنبے کے ساتھ دریافت کیا:
’’کیوں کیا بات ہوگئی؟‘‘
ساتھی نے جواب دیا ’’بات کچھ بھی نہیں ہوئی۔ قصہ صرف یہ ہے کہ کل سے یہ لوگ مبارکپور کے مسلمانوں سے کلمہ پڑھواتے پھر رہے ہیں۔ جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیاآپ لوگ یہاں کے مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے ہو جو گلی گلی انہیں کلمہ پڑھواتے پھر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ کلمہ ایک ذکر الٰہی ہے اور خدا کا ذکر کرنا کرانا ہر مسلمان کا ایک دینی حق ہے۔
لیکن حیرت سے سر پیٹ لینے کی جاء یہ ہے کہ یہی دینی حق جب میں نے استعمال کرنا چاہا اوران بڑے میاں سے کہا کہ ذرا کلمہ پڑھئے۔ بس اتنی سی بات پر یہ آپے سے باہر ہوگئے اور الٹے مجھے عیب لگاتے ہیں کہ میں نے ان سے مذاق کیا ہے۔ اب میںان سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کلمہ پڑھنا اگر مذاق ہے تو کل سے یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ کیوں مذاق کررہے ہیں؟‘‘
ساتھی کی یہ باتیں سن کر سارا مجمع ہمنوا ہوگیا اور بیک زبان بول اٹھا کہ بات تو یہ چھوٹے مولوی صاحب ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں۔
اس بات پر امیر جماعت صاحب ابل پڑے اور اکڑ کر فرمایا:
’’ٹھیک نہیں کہہ رہے ہیں۔ دراصل انہوں نے ہمارے ساتھ مذاق کیا ہے ورنہ بگڑنے کی کوئی بات نہیں تھی۔ جہاں تک کلمہ پڑھنے اور پڑھانے کا سوال ہے۔ یہ کام تو میں خود بھی کررہا ہوں۔ بھلا اس سے کس کو انکار ہوسکتا ہے‘‘
امیر جماعت کے اس جواب پر ایک صاحب نے مداخلت کرتے ہوئے کہا ’’مولانا صاحب! جب وہی کام آپ بھی کررہے ہیں اور وہی کام انہوں نے بھی کیا ہے تو آپ اسے مذاق کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘
اس پر امیر جماعت نے تیور بدل کر فرمایا ’’مذاق میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ان کی نیت ذکر الٰہی کی نہیں تھی مذاق ہی کی تھی‘‘
امیر جماعت کا یہ جملہ ابھی ختم بھی نہ ہو پایا تھا کہ ایک معمر شخص آگے بڑھے اور انہوں نے للکارتے ہوئے کہا:
’’مولانا! جب بات نیت کی آگئی ہے تو مجھے بھی کہنے دیجئے کہ کلمہ پڑھانے آپ کی نیت بھی ذکر خیر کی نہیں ہے بلکہ ازسرنو مسلمان بنانے کی ہے۔ جو لوگ آپ کے مذہب سے واقف نہیں ہیں بھلے ہی وہ آپ کے جواب سے مطمئن ہوجائیں لیکن جو لوگ آپ کے مذہبی شجرہ سے واقف ہیں وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ آپ کے یہاں کافر و مشرک صرف وہی نہیں ہے جو بت خانے میں جاکر اصنام کی پرستی کرے یا کھلم کھلا اسلام، قرآن اور توحید و رسالت کے عقیدے سے منحرف ہوجائے بلکہ آپ حضرات کے یہاں وہ مسلمان بھی بالکل ابوجہل اور ابولہب ہی کی طرح کافر و مشرک ہیں جو اسلام و قرآن اور توحید و رسالت پر عقیدہ رکھنے کے باوجود صرف یارسول اﷲ کہہ لیتے ہیں، خدا کی عطا سے رسول کو اپنا شفیع و کارساز سمجھتے ہیں۔ رسول کے حق میں عطائی علم غیب کا عقیدہ رکھتے ہیں اور ان کے لئے دونوں جہان میں تصرف کی قدرت تسلیم کرتے ہیں۔
اور خدا کا شکر ہے کہ صرف مبارکپور ہی میں نہیں سارے ملک میں اس طرح کے ’’مشرکین‘‘ کی تعداد ننانوے فیصدی ہے۔ اب انہیں مسلمان بنانے کے لئے سوا اس کے اور کیا چارہ کار ہے کہ آپ حضرات چور دروازہ سے آئیں اور کلمہ پڑھا کر اپنے مذہبی جذبے کو تسکین دے لیں کہ کفر کا ایک ’’خیبر فتح ہوگیا‘‘ سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں انہوں نے کہا:
’’مولانا! یہ بچے آپ سے کیا مذاق کریں گے کہ ابھی تو وہ اس حقیقت سے بھی بے خبر ہیں کہ آپ ان کے مذہبی حریفوں میں ہیں یا دوستوں میں؟ البتہ کلمہ پڑھا کر آپ ہمارے ایمان کا ضرور مذاق اڑاتے ہیں‘‘
قلم کے نشتر سے آپ حضرات نے ہمارے جذبہ عقیدت کو جس بیدردی کے ساتھ گھائل کیا ہے۔ روحانی اذیت کے لئے وہی کیا کم تھا کہ اب جگہ جگہ زخموں پر آپ نمک چھڑکتے پھر رہے ہیں۔ کلمہ پڑھنے سے کس بدبخت مسلمان کو انکار ہوسکتا ہے لیکن ہمارے دینی احساسات پر کفر و شرک کا الزام عائد کرنے کے بعد جب آپ کلمہ پڑھنے کو کہتے ہیں تو بالکل ایسا لگتاہے جیسے کسی بے گناہ پر بہتان لگانے کے بعد کوئی تلقین کرے کہ ’’توبہ کرو‘‘ حالانکہ توبہ کوئی بری چیز نہیں ہے لیکن اس طرح کے حالات میں توبہ کی تلقین کرنا دوسرے لفظوں میں ناکردہ گناہ کا اقرار کرانا ہے‘‘
اس کے بعدآواز کا تیور بدلتے ہوئے انہوں نے کہا:
’’مولانا! یہ تو آپ حضرات کی سنگدلی کا صرف ایک رخ ہے۔ آپ حضرات کی مذہبی شقاوت کا دوسرا رخ تو اس سے بھی کہیں زیادہ لرزہ خیز اور بھیانک ہے‘‘
آپ کے بزرگوں نے رسول عربیﷺ کی شان محترم میں توہین و گستاخی کے کلمات لکھ کر جس دردناک اضطراب میں امت کو مبتلا کردیاہے۔ وہ اس صدی کا سب سے قیامت آشوب حادثہ ہے۔ لکھنے والے مدت ہوئی خاک میں مل گئے لیکن ان کی لگائی آگ کا دھواں آج بھی مسلم آبادیوں سے اٹھ رہاہے۔
پھر اس سے زیادہ اچھنبے کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک طرف آپ حضرات نبی کی توہین و تنقیص بھی کرتے ہیں اور دوسری طرف اسی نبی کا کلمہ بھی پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ کلمہ پڑھنے پڑھانے کا حق صرف اسے ہے جو نبی کو نبی مانتا ہے۔ دشنام طرازیوں کو کلمے سے کیا واسطہ! دشنام طرازی کے ساتھ کلمہ خوانی اسلام کا مذاق ہی کہا جاسکتا ہے۔
وہ کہتے جارہے تھے اور مولانا کا خون سوکھتا جارہا تھا۔ بڑی مشکل سے انہوں نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑائی کہ میں اپنی جماعت کاکوئی ذمہ دار عالم نہیں ہوں۔ جب وہ جانے لگے تو مجمع سے کچھ لوگوں نے کہاکہ جواب نہ دیجئے لیکن کم از کم اتنا تو بتاتے جایئے کہ ان صاحب نے آپ لوگوں کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ کہاں تک صحیح ہے؟ اس سوال پر ان کے ساتھی مشتعل ہوگئے اور اپنے مولانا کو جھرمٹ میں لئے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
ہر شخص کے ذہن پر اس تھوڑی دیر کی ردوقدح کا یہ اثر ضرور پڑا کہ تبلیغی جماعت اوپر سے جیسی صاف ستھری نظر آتی ہے اندر سے ویسی نہیں ہے۔ کچھ نہ کچھ دال میں کالا ضرور ہے۔
دوسرا واقعہ
دوسرا واقعہ غالبا 1956ء کا سال رہا ہوگا۔ اس وقت مدرسہ فیض العلوم جمشید پور کی درس گاہ کھلے آسمان کے نیچے تھی۔ ٹاٹا اسٹیل کمپنی سے عمارت کے لئے زمین حاصل کرنے کی جدوجہد کے سلسلے میں ڈاکٹر سید محمود صاحب سے رابطہ قائم کرنا پڑا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ موصوف نائب صدر وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے میرے ایک مراسلہ کے جواب میں جملہ کاغذات کے ساتھ دہلی طلب کیا۔ میں احتیاطاً ان کے دیئے ہوئے وقت سے ایک دن قبل ہی دہلی پہنچ گیا۔
دل نیاز پیشہ نے اصرار کیا کہ پہلی شب کیوں نہ سرکار محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ کے حضور میں بسر کی جائے۔ چنانچہ اپنی قیام گاہ پر سامان وغیرہ رکھ کر سیدھے بستی نظام الدین کے لئے چل پڑا۔ چار بجے شام کا وقت تھا۔ بس سے اتر کر جیسے ہی میں بستی نظام الدین میں داخل ہوا۔ مجھے کچھ فاصلے پر دو آدمی نظر آئے وہ میری طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے بڑے غور سے دیکھ رہے تھے۔ بالکل ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ مجھے پہچانتے ہوں اور میرا انتظار کررہے ہوں۔
جب میں ان کے قریب پہنچا تو ان کی داڑھی اور پیشانی کا گھٹھا دیکھ کر میں ہکا بکا رہ گیا۔ میں نے اپنی ساری عمر میں اتنی لمبی داڑھی اور پیشانی کی سطح پر ایسا ابھرا ہوا داغ کبھی نہیں دیکھا تھا… وہ بہت تپاک سے میری طرف بڑھے اور میرا راستہ روک کر انتہائی لجاجت کے ساتھ کہنے لگے:
’’حضرت! یہی ہے تبلیغی جماعت کا وہ مرکز جہاں سے ساری دنیا میں اسلام پھیل رہا ہے۔ زحمت نہ ہو تو ذرا دیر کے لئے اندر تشریف لے چلئے۔ اپنی آنکھوں سے چل کر دیکھئے کہ کس طرح دین زندہ ہورہا ہے۔مدت ہوئی دین کے ایک مخلص خادم نے یہاں اپنی روحانیت کا پودا لگایا تھا۔ اب وہ جوان ہوگیا ہے اور اس کی برکات سے ایک عالم فائدہ اٹھا رہا ہے۔ بس ایک نظارہ کرلیجئے کہ مرجھائے ہوئے اسلام کو دین کے خادموں نے کیسا تر وتازہ کردیا‘‘
میں خود بھی بہت دنوں سے چاہتا تھا کہ موقع ملے تو کسی دن تبلیغی جماعت کے کاروبار کو قریب سے چل کر دیکھا جائے۔ منہ مانگی مراد سمجھ کر میں ان کے ہمراہ چل پڑا۔صدر گیٹ سے داخل ہوتے ہوئے ایک بارہ دری میں ادھیڑ عمر کے کچھ لوگ پارہ عم پڑھ رہے تھے۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان لوگوں نے بتایا:
’’علاقہ میوات کے نومسلم لوگ ہیں۔ ان کے باپ دادا مسلم تھے۔ یہ لوگ بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن کفریہ اورشرکیہ رسموں میں یہ لوگ اس طرح ڈوبے ہوئے کہ اسلام سے دورکا بھی لگائو نہیں رہ گیا تھا۔ تبلیغی جماعت کے پاک باطن رہنمائوں نے حکمت عملی اور لگاتار جدوجہد کے ذریعہ ان کا پرانا مذہب تبدیل کراکے انہیں حقیقی اسلام سے روشناس کیا۔ اب یہ لوگ شب و روز مرکز میں رہ کر دین سیکھتے ہیں۔ جب یہ پکے ہوجائیں گے تو اپنا علاقہ خود سنبھال لیں گے‘‘
بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ لوگ سالہا سال سے پارہ عم پڑھ رہے ہیں اور تبلیغی جماعت والوں نے اپنی دکان میں انہیں نمونے کے مال کی طرح سجا کے رکھا ہے… باہر سے آنے والوں کو سب سے پہلے یہی مال دکھلایا جاتا  تاکہ دماغ پر پہلا امپریشن اتنا زوردار ہو کہ ذہن مرعوب ہوکے رہ جائے۔ تھوڑی دیر کے بعد یہ لوگ مجھے اپنے ساتھ لئے آگے بڑھے اور ایک کمرے کے سامنے پہنچ کر گئے… اور کمرے کے لوگوں کا تعارف کراتے ہوئے کہا:
’’یہ تبلیغی جماعت کے نہایت روشن دماغ اور تجربہ کار علماء ہیں۔ دماغی تطہیر کے فن میں یہ لوگ عظیم مہارت رکھتے ہیں۔ خیالات کا دھارا موڑ کر دین کی طرف لگا دینا ان کا شب و روز کا مشغلہ ہے۔ آپ ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھئے ان کی صحبت ذہن و فکر کی تسکین کے لئے اکسیر ہے‘‘
یہ کہتے ہوئے دونوں باہر نکل گئے اور غالبا پھر اپنی شکار گاہ کی طرف واپس لوٹ گئے۔
ان کے چلے جانے کے بعد ان تبلیغی مولویوں نے مجھے نہایت اعزاز و تکریم کے ساتھ اپنے ساتھ بٹھالیا۔انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ مجھے راستے سے اچک لیا گیا ہے۔ اپنے تئیں وہ بھی سمجھ رہے تھے کہ میں اپنے وطن سے بالمقصد یہیں کے لئے چلا ہوں۔
جب انہوں نے نہایت اصرار کے ساتھ مجھ سے دریافت کرنا شروع کیا کہ میں یہاں کس مقصد کے لئے آیا ہوں تو مجھے خیال آیا کہ تبلیغی جماعت کے اندرونی حالات سے واقف ہونے کے لئے جو ایک زریں موقع ہاتھ آگیا ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔
میں نے ان سے کہا کہ ’’میں جمشید پور سے آرہا ہوں، وہاں کی تبلیغی جماعت کے متعلق ایک نہایت ضروری بات حضرت جی سے کہنی ہے‘‘ اس وقت ’’حضرت جی‘‘ کے منصب پر مولوی محمد یوسف صاحب فائز تھے۔
انہوں نے ہزار معلوم کرنا چاہا کہ وہ کون سی بات ہے لیکن میں نے ہر بار یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ’’حضرت جی‘‘ ہی سے کہوں گا۔
جب وہ لوگ میری طرف سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے بتایا کہ حضرت جی تبلیغ کے لئے شہرکو گئے ہیں۔ وہ اپنی تبلیغی مہم سے کافی رات گئے لوٹیں گے۔ اب نماز فجرکے بعد ہی ان سے ملاقات ہوسکے گی‘‘
یہ سن کر میں خاموش ہوگیا اور تھوڑی دیر کے بعد موقع پاکر چپکے سے درگاہ شریف کی طرف نکل گیا۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ پوری رات محبوب الٰہی کی چوکھٹ پر بسر ہوئی۔ صبح کی نماز سے فارغ ہوکر جب میں پارلیمنٹ جانے کے لئے درگاہ شریف سے واپس لوٹا تو پھر مجھے راستہ میں وہ دونوں ’’شکاری‘‘ مل گئے۔ دور ہی سے انہوں نے مجھے آواز دی۔ جب میں ان کے قریب پہنچا تو انہوں نے خوشخبری سنانے والے کے انداز میں خبر دی۔
’’مولوی صاحب! تم کہاں چلے گئے تھے؟ حضرت جی صبح سے تمہیں تلاش کررہے ہیں، چلو جلدی چلو‘‘
جیسے ہی میں ان کے ہمراہ اندر داخل ہوا، پہلے دن والے مولوی صاحبان مجھے مل گئے۔ انہوں نے دیکھتے ہی کہا:
’’مولوی صاحب! تم کل شام کو چپکے سے اٹھ کر کہاں چلے گئے۔ ہم لوگ تمہاری تلاش میں بہت پریشان ہوئے۔
میں نے جواب دیا ::درگاہ شریف چلا گیا تھا وہیں رات گزاری‘‘ یہ سنتے ہی اپنے چہرے سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ان میں سے ایک مولوی صاحب نے کہا:
’’تم رات بھر اس بدعت خانے میں کیاکرتے رہے۔ کیا تم جماعت میں ابھی نئے نئے شامل ہوئے ہو؟ کہیں آنے جانے کے لئے کم از کم ہم لوگوں سے پوچھ لینا چاہئے تھا۔ یہ دہلی ہے یہاں تو ایک سے ایک تماشا ہے۔ لیکن دین کی راہ میں نکلنے والے تماشے کے لئے تھوڑے ہی آتے ہیں۔یہاں آنے کے بعد اگر جائز و ناجائز کا فرق نہیں ملحوظ رکھا گیاتو یہاں آنا کس کام کا؟‘‘
میں نے بات ٹالتے ہوئے کہا ’’یونہی ذرا دیکھنے چلا گیا کہ وہاں کیاہوتا ہے اور باقی سب خیریت ہے‘‘
اس پر ایک صاحب نے منہ بگاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’خیر اتنے میں کوئی مضائقہ نہیں‘‘ اس کے بعد وہ لوگ مجھے ’’حضرت جی‘‘ کے دیوان خانے میں لے کر چلے گئے۔
حضرت جی اس وقت اپنی فوج کے کمانڈروں کو کیک تقسیم کررہے تھے۔انہوں نے مجھے دیکھتے ہی دریافت کیا ’’یہ کون صاحب ہیں، کہاں سے آئے ہیں؟‘‘
ایک مولوی صاحب نے سر جھکا کر جواب دیا’’حضرت! یہی مولوی صاحب جمشید پور سے آئے ہوئے ہیں۔ وہاں کی تبلیغی جماعت کے متعلق کوئی ضروری بات حضور والا سے کہنا چاہتے ہیں۔‘‘
اتنا سن کر حضرت جی نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے دریافت فرمایا ’’کہو، کیا کہنا ہے؟‘‘
میں نے گلا صاف کرکے جمشید پور کی تبلیغی جماعت کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں شروع شروع تبلیغی جماعت کا بہت اچھا اثر قائم ہوگیاتھا۔ عام لوگ اس کی تبلیغی سرگرمیوں سے بے حد متاثر تھے اور اس کی طرف سے حسن ظن رکھتے تھے۔ لیکن جب سے کچھ تبلیغی کارکنوں نے میلاد و قیام اور علم غیب جیسے اختلافی مسائل میں اپنے عقیدہ کا اظہار کردیا اس وقت سے بہت سے لوگ تبلیغی جماعت سے علیحدہ ہوگئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سی مسجدوں میں تبلیغ کا کام بند ہوگیاہے‘‘
ابھی میں اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ حضرت جی کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا وہ فرط غضب میں اپنے زانو پر ہاتھ مارتے ہوئے چیخ پڑے۔ اور اپنے تئیں تبلیغی جماعت کا ایک ناتجربہ کار کا رکن سمجھ کر مجھے ڈانٹنا شروع کیا:
’’جب لوگ تبلیغ کا ڈھنگ نہیں جانتے تو کس نے کہہ دیا کہ وہ تبلیغ کریں۔ یہاں مجھے تبلیغ کرتے ہوئے بیس سال ہوگئے۔ میں نے کسی سے بھی نہ کہا کہ میلاد و فاتحہ چھوڑ دو۔ حالانکہ جاننے کی حد تک سب جانتے ہیں کہ میرا بھی عقیدہ مسلک وہی ہے جو اکابر دیوبند کا ہے۔ لیکن میں نے اچھی طرح تجربہ کرلیا ہے کہ ان چیزوں سے براہ راست روکنے کی بجائے اب لوگوںکا ذہن بدلنے کی ضرورت ہے۔ تبلیغ گشت اور مرکز میں چلہ گزارنے کا راز یہی ہے کہ لوگوں کو اپنے علماء کی صحبت میں زیادہ سے زیادہ اٹھنے بیٹھنے کا موقع فراہم کیاجائے۔
یہاں کے ماحول میں ذہن ڈھل جانے کے بعد لوگ خودبخود ان چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں بلکہ اپنے عقیدے میں اتنے سخت ہوجاتے ہیں کہ دوسروں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں‘‘
میری طرف رخ کرکے حضرت جی نے حکیمانہ انداز میں فرمایا :
’’مولوی صاحب! آپ اچھی طرح سمجھ لو کہ ہم لوگ ابھی اس ملک کے اندر اقلیت میں ہیں جبکہ بدعتیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان حالات میں اپنا مذہب پھیلانے کے لئے ہمیں اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ مکر سے کام لیں۔ آخر مکر بھی تو کوئی چیز ہے کفر و شرک سے پھیرنے کے لئے مکر سے کام لینا قطعا کوئی گناہ کی بات نہیں ہے۔ حق پرستی کے جوش میں آکر اگر ہم تقویتہ الایمان اور بہشتی زیور وغیرہ کے عقائد برملا بیان کردیں تو لوگ ہمیں مسجدوں میں نہ گھسنے دیں۔
اس لئے میں تمام تبلیغی کارکنوں کو سخت تاکید کرتا ہوں کہ وہ بدعتیوں کے ساتھ مکر سے کام لیں یعنی مصلحت کاتقاضا ہو تو میلاد و قیام بھی کرلیں بلکہ اگر ضرورت پیش آجائے تو اپنے علماء کو برا بھلا کہہ دیں۔ جیسے بھی ہو ان کے ساتھ لگے رہیں، انہیں اپنے ہمراہ لے کرجماعتوں میں پھرائیں۔ کبھی نہ کبھی ان میں سے لوگ ٹوٹ کر ادھر آ ہی جائیں گے۔
مولوی صاحب، دیکھو! یہاں مجھے بیس سال ہوگئے تبلیغ کا کام سنبھالے ہوئے اختلافی مسائل تو بڑی چیز ہے اس کی ہوا بھی میں نے کسی کو نہیں لگنے دی۔ بس اتنا کیا کہ تبلیغی گشتوں، لگاتار چلوں اور اجتماعات کے ذریعہ اپنے بزرگوں کی عقیدت ان کے دلوں میں بٹھا دی۔ کسی کو دیوبند لے جاکر حضرت شیخ الاسلام سے مرید کرادیا کسی کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا کی طرف رجوع کیا جس کو جیسا پایا اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ پایا۔
یہ جو تم ہزاروں آدمیوں کو دیکھ رہے ہو جو تبلیغ میں دن رات لگے ہوئے ہیں ان میں سے اکثر لوگ کٹر بدعتی اور قبر پرست تھے لیکن اپنے علماء کی عقیدت کے زیر اثر خود ہی ان کا ذہن بدل گیا۔ یہاں تک کہ جن شرکیہ رسموں کو کہنے پربھی وہ نہیں چھوڑ سکتے تھے، اب بغیر کہے سنے چھوڑ دیا۔ تبلیغی جماعت نے اسی راز کو پالیا ہے کہ جس کی عقیدت دل میں پیدا ہوجاتی ہے آدمی اس کا مذہب بھی قبول کرلیتا ہے‘‘
حضرت جی اپنا سلسلہ گفتگو ختم کرکے جب خاموش ہوگئے تو میں نے درخواست کی کہ آپ اپنی یہ ہدایات قلم بند کردیں تو آپ کو لوگوں تک پیغام پہنچانے میں بڑی مدد ملے گی۔ اس درخواست پر حضرت جی نے تیور بدل کر کہا:
’’پھر تم نے غلط سوال کیا۔ ہمارے یہاں سارا کام زبان سے چلتا ہے، قلم استعمال نہیں کیا جاسکتا بجز اس کے کہ کارکنوں اور طالبین کے خطوط کے جوابات دے دیئے جاتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کاکاروبار کتنا پھیل گیاہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن لکھت پڑھت کے لئے ایک رجسٹر بھی تم ہمارے یہاں نہیں پائو گے‘‘
حضرت جی یہ کہہ کر دوسری طرف متوجہ ہوگئے اور میں باہر نکل آیا۔
ایک دردناک خلش
اس وقت میرا دل مسوس کے رہ گیا کہ کاش میرے پاس ٹیپ ریکارڈر ہوتا اور میں حضرت جی کی آواز کو اس میں قید کرلیتا تو آج مجھے تبلیغی جماعت کی اصل حقیقت سے روشناس کرانے کے لئے ایک کتاب لکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ صرف دو انچ کا فیتہ سارے زمانے کو اس صدی کے سب سے بڑے مرکز ’’دجل و فریب‘‘ سے واقف کرادیتا۔
آج حضرت جی کے مذکورہ بالا ’’ارشادات‘‘ پر سوائے خداوند ذوالجلال کے اور کوئی گواہ میرے پاس نہیں ہے۔ فرشتوں کا ایک نوشتہ ضرور ہے لیکن افسوس کہ وہ اس میدان میں کھلے گا جہاں تبلیغی جماعت کا انجام معلوم کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔
جو لوگ میری اس ’’خودنوشت آپ بیتی‘‘ پر اعتماد کرسکیں ان سے عرض کروں گا کہ تبلیغی جماعت کی صحیح تعبیر کے لئے اب وہ خود ہی لغت میں کوئی مناسب لفظ تلاش کرلیں۔ کافی غور و خوض کے بعد بھی مجھے اب تک کوئی ایسا لفظ نہیں مل سکا جو ’’رہبری‘‘ اور ’’رہزنی‘‘ دونوں مفہوم کو ایک ساتھ ادا کرسکتا ہو۔
اب باقی رہ گئے وہ لوگ جو میری خود نوشت پڑھ کر بے ساختہ بول اٹھیں گے کہ یہ صد فیصدی غلط، بے بنیاد اور ازسر تاپا افترا ہے۔ ان سے میں التماس کروں گا کہ کسی بھی خبر پر اعتماد کرنے کے لئے شہادت کے علاوہ اب تک جتنے ذرائع دریافت ہوسکے ہیں اپنے اطمینان قلب کے لئے وہ سارے ذرائع استعمال میں لائیں۔ میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ کسی بھی آزمائش کا سامنا کرنے کے لئے میں اپنے آپ کو ہمیشہ تیار رکھوں گا۔
مرکز نظام الدین سے واپسی کے بعد حضرت جی کی ہدایات کا ردعمل میرے دماغ پر اتنا سخت ہوا کہ کئی دن تک مجھ پر سکتے کی سی کیفیت طاری رہی۔ میں بار بار یہی سوچتا رہا کہ اہلسنت کے مذہبی مستقبل کا اب کیاہوگا۔ زبان و قلم اور علم و استدلال کی جنگ ہو تو میدان سر کیاجاسکتا ہے لیکن مکروفریب کے ان ہتھیاروں کا ہمارے پاس کیاجواب ہے۔
ہمارا دینی مزاج تو ایک لمحے کے لئے بھی اسے برداشت نہیں کرسکتا کہ ہم فریب کی راہ سے کس کو اپنامذہبی ہمنوا بنائیں یا اسلام کی تبلیغ کے لئے کفر کا شیوہ اختیار کریں۔ اس وقت سے یہ سوال میرے دل کا ایک چبھتا ہوا کانٹا بن گیا کہ سادہ لوح مسلمانوں کو ان کے دام فریب سے کس طرح بچایا جائے… شکاریوں کو میں اپنے پیشے سے نہیں روک سکتا تھا۔ اب میرے اختیار کی بات صرف یہی رہ گئی تھی کہ میں شور مچا کر سارے مسلمانوں کو ہوشیار کردوں کہ وہ تبلیغی جماعت کے دام فریب سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اپنے بھائیوں کے دین وایمان کی سلامتی کے لئے میری روح کا یہ اضطراب قدرتی طور پر میرے ذاتی تجربے کا ردعمل تھا اور ہے کیونکہ چور کو کسی دیوار میں نقب لگائے دیکھ کر شور نہ مچانا فطرت انسانی سے جنگ کرنا ہے۔
تیسرا واقعہ
ترچنا پلی (مدراس) کے احباب کی دعوت پر میں نے 1969ء میں جنوبی ہندکا سفر کیا۔ واپسی میں حیدرآباد میں ایک دن کے لئے قیام کرنا پروگرام میں شامل تھا۔ اس لئے بنگلور ہوتے ہوئے سکندر آباد میل سے میری پواسی ہوئی۔ بدقسمتی سے یہ وہ زمانہ تھا جبکہ تلنگانہ کی تحریک بالکل شباب پر تھی۔ ریاست کے بہت بڑے حصے میں مظاہرین نے ایک آگ سی لگا رکھی تھی۔ شہری زندگی کا سارا نظام درہم برہم ہوکے رہ گیا تھا۔ رات کے وقت میری ٹرین اس علاقہ سے گزر رہی تھی جو تخریب کاروں کا بہت بڑا مرکز تھا کہ اچانک ایک دھچکے کے ساتھ رک گئی۔ سارے مسافر سکتے کی حالت میں اٹھ پڑے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آگے لائن اکھاڑ دی گئی ہے تقریبا اٹھارہ گھنٹے تک لائن کی مرمت کے انتظار میں ہم لوگوں کو وہاں رکنا پڑا۔
صبح کے وقت نیچے اتر کر میں ایک درخت کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک ادھیڑ عمر کے ایک مولوی صورت مجھے اپنی طرف آتے ہوئے دکھائی پڑے۔ ان کے ساتھ ایک کمسن نوجوان بھی تھا۔ وہ میرے پاس آکر بیٹھ گئے اور میرے متعلق یہ معلوم کرنا چاہا کہ میں کہاں سے آرہا ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے۔
بات چیت کے دوران جب میں نے ان کا تعارف حاصل کرنا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ وہ حیدرآباد کی تبلیغی جماعت کے امیر ہیں۔ کیرالہ ایک اجتماع میں گئے تھے وہاں سے لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ساتھ کا نوجوان ایک بہت بڑے دولت مند گھرانے کا لڑکا ہے جو حال ہی میں تبلیغی جماعت سے منسلک ہوا ہے۔
اب ان کے ساتھ گفتگو میں دلچسپی لیتے ہوئے میں اطمینان سے بیٹھ گیا۔ وہ تبلیغی جماعتوں کے قصے سناتے رہے اور میں خاموشی سے سنتا رہا۔ تبلیغی جماعت کے متعلق چونکہ وہ میرے نقطہ نظر سے واقف نہ تھے اس لئے بغیر جھجک کے وہ بولتے رہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے حیدرآباد کی تبلیغی جماعت کی کار گزاریوں کا بھی تذکرہ چھیڑ دیا۔ جب وہ کہہ چکے تو میں نے ان سے ایک سوال کیا:
’’حیدرآباد تو درگاہوں، خانقاہوں اور مزاراتی روایات کا بہت بڑا گڑھ تھا۔ وہاں تبلیغی جماعت کو قدم جمانے کا موقع کیونکر ملا‘‘
اس سوال پر وہ اس طرح مسرور ہوگئے جیسے میں نے ان کے حسن تدبر اورذہانت کالوہا مان لیاہو۔ اسی کے بعد اسی جذبہ مسرت کی ترنگ میں انہوں نے یہ کہانی سنائی ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ حیدرآباد عہد قدیم سے بدعتیوں کا بہت بڑا مرکز تھا۔ قدم قدم پر کفر و شرک کے بے شمار اڈے تھے وہاں کی اٹھانوے فیصدی مسلم آبادی شرکیہ رسموں اور بدعات ہی کو اسلام سمجھتی تھی۔ اس لئے بہت ہی حسن تدبر اور ذہانت کے ساتھ ہمیں اس مرحلے سے گزرنا پڑا۔
عرس و فاتحہ کی مخالفت کرنے کے بجائے ہم نے یہ طریقہ اپنایا کہ جہاں کہیں عرس کا میلہ لگتا ہے، اپنا تبلیغی وفد لے کر وہاں پہنچ جاتے اور لوگوں کو کلمہ و نماز کی تبلیغ کرتے۔ اصرار کرکے بعض زائرین کو بھی گشت میں اپنے ساتھ رکھتے۔ اس طریقہ کار سے ہمیں دو فائدے پہنچے۔ پہلا فائدہ تو یہ پہنچا کہ ایک بالکل اجنبی حلقے میں ہماری آواز پہنچ گئی اور دوسرا سب سے بڑا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ کبھی بدعتی مولویوں نے اپنے عوام کو ہماری طرف سے بدظن بھی کرنا چاہا کہ یہ بدعقیدہ اور عرس و فاتحہ کے مخالف لوگ ہیں تو انہی کے عوام نے انہیں جھٹلا دیا کہ یہ لوگ عرس و فاتحہ کے مخالف ہوتے تو فلاں فلاں عرس میں کیوں دیکھے جاتے۔
اپنی کار گزاریوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہمیں ان گدی نشین پیروں سے بھی کافی مدد لی جو بریلویوں کی طرح اپنے مسلک میں سخت نہیں ہیں۔ ہم ان خانقاہوں میں حاضر ہوئے اور ایک خوش عقیدہ نیاز مند کی طرح ہم نے ان کی دست بوسی کی اور انہیں اپنے اجتماع میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ کئی بار کی آمدورفت کے بعد جب وہ تیار ہوگئے تو انہیں نہایت اعزاز وتکریم کے ساتھ اپنے اجتماع میں لے آئے… ان کی ہمرکابی میں ان کے مریدین کا جو دستہ آیا تھا اس نے جب اپنے پیر کے ساتھ ہمارا نیاز مندانہ رویہ دیکھا تو وہ ہم سے کافی حد تک مانوس ہوگیا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے دوستوں اور پیربھائیوں میں ہماری خوش عقیدگی کا ایک اچھا خاصا اشتہار بن گیا۔
اس طرح رفتہ رفتہ ہم بغیر کسی فکری تصادم کے وہاں کے اجنبی حلقوں میں داخل ہوتے گئے یہاں تک کہ آج ان حلقوں کی بہت بڑی تعداد نہ صرف یہ کہ تبلیغی جماعت کی ہمنوا بن گئی ہے بلکہ ہم نے انہیں ذہنی طور پر اتنا بدل دیا ہے کہ اب اگر ان کے پیر صاحبان بھی ہم سے قطع تعلق کا انہیں حکم صادر فرمائیں تو وہ اپنے پیر سے قطع تعلق کرسکتے ہیں لیکن اپنی جماعت کے خلاف کچھ سننا برداشت نہیں کریں گے۔
یہاں پہنچ کر ان کا لب و لہجہ بدل گیا۔ انہوں نے فاتحانہ لہجہ میں کہا۔ ’’مولانا! خدا کا شکر ادا کیجئے کہ تبلیغی جماعت کی خاموش جدوجہد کے نتیجے میں اب وہاں کفر و شرک کے مراکز کی وہ دھوم دھام باقی نہیں ہے۔ میلاد و فاتحہ اور بدعات کی چہل پہل بھی اب دن بدن ماند پڑتی جارہی ہے۔ ہمارا جذبہ جہاد اسی طرح سلامت رہ گیا تو وہ دن دور نہیں ہے جبکہ ان مزاروں پر مکھیاں بھنبھنائیں گی اور ہم ان صنم خانوں کی ویرانی پر شکرانے کی نماز ادا کریں گے…‘‘
گفتگو کے اس آخری حصے پر میرا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ میں نے تیور بدل کر ان سے کہا:
’’آپ کی کار گزاریوں کی روداد سننے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں دجل و فریب کی آخری تربیت گاہ کا نام اب تبلیغی جماعت ہے۔ یہ دنیااپنی عمرکے آخری حصے سے گزر رہی ہے ہوسکتا ہے قدرتی طورپر دجال کا کیمپ آپ ہی لوگوں کے ہاتھوں تیار کرایا جارہا ہو‘‘ اس جواب پر وہ ہکا بکا سے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ’’بڑا دھوکہ ہوا، میں آپ کو اپنا سمجھ رہا تھا‘‘
تبصرہ قادری: قارئین کرام! آپ نے دیکھا کہ اس زمانے میں اﷲ والوں کے حلئے میں اور بھولی بھالی شکلوں میں گھومنے پھرنے والے یہ ایمان کے ڈاکو کس قدر خطرناک انداز میں ایمان کی دولت لوٹنے میں مصروف ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ اس کو اپنا عظیم الشان کارنامہ تصور کرتے اور اس پر اتراتے پھرتے ہیں۔ ان کے اس پرفریب انداز سے کتنے مسلمان دھوکہ سے اپنے ایمان جیسی دولت بے بہا اور خوش عقیدگی کی نعمت سے محروم ہوچکے ہیں۔اس جماعت کے لوگوں نے شیعوں کی طرح حق کو چھپا کر اسے بجائے تقیہ کے حکمت کا نام دے دیا ہے اور قادیانیوں کی طرح بے روزگار نوجوانوں کو نوکری بمعہ چھوکری کی لالچ دے کر ان کے ایمان کو لوٹنا اپناشعار بنالیاہے۔ اس وجہ سے اس جماعت کے مرکز عقیدت دارالعلوم دیوبند کی بنیادوں میں بدعقیدگی کی اینٹ لگا دینے والے مولوی قاسم نانوتوی نے مرزا قادیانی کی استادی کا حق ادا کرتے ہوئے ’’تحذیر الناس‘‘ میں کہہ دیاکہ ’’حضورﷺ کو آخری نبی ماننا عوام کا خیال ہے‘‘ ص 504 ’’امتی نبی سے عمل میں بڑھ جاتا ہے‘‘ ص 7، اور یہاں تک کہہ دیاکہ ’’حضور ﷺکے بعد کوئی نبی آجائے تو خاتمیت محمدی میں فرق نہیں آتا‘‘ ص 34
اسی طرح کئی طریقوں سے قادیانیت کی ہمنوائی کی اور جھوٹے مدعیان نبوت کے لئے راہ ہموار کی اور عقیدہ ختم نبوت کو بدلنے کی ناکام کوشش کی اور رافضیت و قادیانیت کا ہم نوالہ و ہم پیالہ بنے رہے (جاری ہے)