حضرت بابا فرید گنج شکرعلیہ الرحمہ

in Tahaffuz, September 2010, شخصیات

دراصل اس کا منصوبہ یہ تھا کہ جب علمائے ملتان حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے خلاف فتویٰ دے دیں گے تو وہ آسانی کے ساتھ انہیں اس علاقے سے بے دخل کردے گا… مگر یہ تدبیر کارگر نہ ہوسکی اور وہ ناکام و نامراد لوٹ آیا۔
پھر اس نے ایک اور ناپاک منصوبہ بنایا۔ حاکم اجودھن ایک ملنگ سے ملا اور اسے بڑی رقم کا لالچ دے کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قتل پر آمادہ کرلیا۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی عادت تھی کہ نماز کے بعد اپنا سر خاک پر رکھ دیتے تھے اور کئی گھنٹے تک اسی حالت میں رہا کرتے تھے۔ اگر سردی کا موسم ہوتا تو ایک چادر آپ کے سر مبارک پر ڈال دی جاتی تھی۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن پیر و مرشد سجدے کی حالت میں تھے اور میرے سوا وہاں کوئی دوسرا خدمت گار موجود نہیں تھا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ ایک دراز قامت ملنگ وہاں داخل ہوا۔ اس کے جسم پر چمڑے کا لباس تھا اور وہ دونوں کانوں میں چاندی کی بالیاں پہنے ہوئے تھا۔ مجھے اس شخص کی آمد سخت ناگوار گزری۔ میں اسے روکنا چاہتا تھا مگر اس خیال سے کچھ نہیں بولا کہ اگر میں بات کروں گا تو حضرت شیخ کی عبادت میں خلل پڑے گا۔ وہ ملنگ تیزی سے آگے بڑھا اور پیرومرشد کے قریب پہنچ کر رک گیا پھر اس نے بہت زور سے آواز دی۔ ملنگ کی چیخ سن کر حضرت شیخ کی جذب کی کیفیت جاتی رہی لیکن آپ نے سجدے سے سر نہیں اٹھایا۔
’’کیا یہاں کوئی نہیں ہے؟‘‘ پیرومرشد نے اسی حالت میں فرمایا۔
’’سیدی! آپ کا غلام نظام الدین حاضر ہے‘‘ میں نے عرض کیا۔
’’تم اس ملنگ کو دیکھ رہے ہو جومیرے نزدیک کھڑا ہے؟‘‘ حضرت شیخ نے فرمایا۔
’’جی ہاں! غلام اس ملنگ کو دیکھ رہا ہے‘‘ میں نے عرضکیا۔
’’مولانا نظام الدین! اس کی بغل میں ننگی چھری موجود ہے اور وہ مجھے قتل کرنے کے ارادے سے یہاں آیا ہے‘‘ پیرومرشد نے فرمایا۔
اس انکشاف نے مجھ پر لرزہ طاری کردیا۔ میں نے گھبرا کر ملنگ کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ بھی خو و دہشت سے زرد ہورہا تھا۔
’’مولانا نظام الدین! اس سے کہہ دو کہ وہ مجھے قتل نہیں کرسکتا، یہاں سے فورا بھاگ جائے، میں نے اسے معاف کردیا‘‘
ابھی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ کی گونج باقی تھی کہ وہ ملنگ بھاگ کھڑا ہوا۔
پھر وہ ملنگ حاکم اجودھن کے پاس پہنچا اور اپنا خنجر اس کے سامنے رکھتے ہوئے بولا
’’میں اس فقیر کو قتل نہیں کرسکتا۔ شاید ساری دنیا کے قاتل مل کر بھی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے‘‘
کچھ دن بعد وہ حاکم کسی معاملے میں ماخوذ ہوکر اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچا۔ یہ خبر سن کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’دل آزاریوں کا انجام تو یہی ہوتا ہے مگر اﷲ نے میری زبان کو آلودہ ہونے سے بچالیا‘‘
٭…٭…٭
اجودھن کا قاضی عبداﷲ ایک جھگڑالو اور ضدی انسان تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں کو ڈانٹ دیا کرتا تھا۔ اس کی نظروں میں کسی کی عزت نہیں تھی، یہاں تک کہ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے بارے میں بھی گستاخانہ الفاظ استعمال کرتا تھا۔ اکثر لوگ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے اس کی شکایت کیا کرتے تھے مگر آپ ہمیشہ یہی فرماتے ’’صبر کرو! شاید اﷲ اسے ہدایت دے دے‘‘
ایک بار حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے اجودھن کی جامع مسجد کا امام بھی قاضی عبداﷲ کا مقرر کردہ تھا، اسی امام نے نماز پڑھائی جس میں اس سے غلطی سرزد ہوگئی۔
نماز ختم ہوتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حاضرین مسجد کو مخاطب کرکے فرمایا ’’نماز فاسد ہوگئی، اس لئے دوبارہ پڑھی جائے‘‘
امام اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھا مگر لوگوں کے اصرار پر اسے دوبارہ نماز کا اہتمام کرنا پڑا۔
قاضی عبداﷲ جو پہلے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے پرخاش رکھتا تھا، اس موقع پر خاموش نہ رہ سکا اور چیخ چیخ کر کہنے لگا۔
’’خدا جانے یہ بیکار قسم کے لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے آکر اجودھن میں جمع ہوگئے ہیں‘‘ قاضی عبداﷲ کا اشارہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی طرف تھا۔
جان نثاروں نے قاضی عبداﷲ کی بات کا جواب دینا چاہا مگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے انہیں روک دیا اور خاموشی سے واپس تشریف لے آئے۔
خدمت گاروں نے محسوس کیا کہ چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار نمایاں ہیں۔ کسی مرید نے سبب دریافت کیا تو فرمایا ’’اگر کوئی شخص کسی پر ظلم کرتا ہے اور وہ اسے برداشت کرلیتا ہے تو یہ الگ بات ہے… لیکن اگر مظلوم شخص ظالم کے ظلم کا جواب دینا چاہے تو یہ اس کے لئے جائز ہے‘‘
جیسے ہی یہ الفاظ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارک سے ادا ہوئے، قاضی عبداﷲ پر فالج گرا اور اس کا منہ ٹیڑھا ہوگیا پھر وہ اسی عالم میں شکر، آٹا اور ایک بکری لے کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضرہوا۔
’’شیخ! مجھے معاف کردیئے!‘‘ قاضی عبداﷲ نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں پر سر رکھ دیا اور گڑگڑانے لگا۔
’’قاضی! تم نے میرا کیا قصور کیا ہے جو اس طرح معافی مانگ رہے ہو؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے عبداﷲ سے دریافت کیا۔
’’میں نے آپ کی شان میں بہت گستاخیاں کی ہیں‘‘ قاضی عبداﷲ نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔
’’تمہاری زبان ہے، جس طرح چاہو استعمال کرو‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اسے ٹالنے کی کوشش کررہے تھے۔
’’جب تک آپ مجھے معاف نہیں کریں گے، میں اس وقت تک گھر نہیں جائوں گا‘‘ قاضی عبداﷲبدستور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں سے لپٹا ہوا تھا۔
’’قاضی! تمہارے حق میں یہی بہتر ہے کہ واپس چلے جائو‘‘ اچانک حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا لہجہ بدل گیا تھا۔
قاضی عبداﷲ معافی کے لئے اصرار کرتا رہا۔
’’اٹھارہ سال کی مدت میں جو کچھ لوگوں نے تمہارے بارے میں کہا ہے میں اس پر صبر کرتا رہا ہوں‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’اب میں تمہارے متعلق قرآن حکیم سے فال لیتا ہوں۔ جو کچھ فال میں نکلے گا، وہی اﷲ کا حکم ہوگا‘‘ یہ کہہ کر آپ نے قرآن مجید کھولا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ سامنے  تھا جس آیت مقدسہ سیفال لی گئی وہ یہ تھی۔
’’فرمایا! اے نوح علیہ السلام! یہ تیری اولاد سے نہیں، اس کے عمل خیر صالح ہیں‘‘ (ترجمہ)
’’بس یہی حکم الٰہی ہے، فیصلہ ہوچکا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے قرآن کریم بند کرتے ہوئے فرمایا۔
قاضی عبداﷲ بہت رویا، بہت گڑگڑایا مگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنے حجرے میں تشریف لے گئے اور دروازہ بند کرلیا۔
قاضی عبداﷲ ناکام و نامراد واپس لوٹا اور گھر پہنچتے ہی اس کا انتقال ہوگیا۔
٭…٭…٭
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا شمار ان بزرگان دین میں ہوتا ہے جنہیں اہل زمانہ کے ہاتھوں سخت اذیتیں برداشت کرنی پڑی ہیں۔ آزار پہنچانے والوں میں اپنے بھی تھے اور پرائے بھی۔ ایک خدا کے نام لیوا بھی تھے اور ان گنت دیوتائوں کے پجاری بھی۔ بت پرستوں کی ایذا رسانی کا مفہوم تو سمجھ میں آتا ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی تبلیغ وہدایت سے ان کے ’’دھرم‘‘ کو شدید خطرہ لاحق تھا اس لئے وہ اپنے عقائد اور رسم و رواج کے دفاع میں ہر قسم کے حربے استعمال کررہے تھے… مگر حاکم اجودھن تو مسلمان ہونے کا دعویدار تھا، پھر وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے درپے آزار کیوں تھا؟ دراصل یہ قدرت کا ایک راز ہے۔ اولیائے کرام اس لئے ستائے جاتے ہیں کہ ان کے درجات بلند ہوں اور قدرت انسانوں کے درمیان یہ محبت قائم کرسکے کہ اس پر ایمان لانے والے ہر حال میں راضی بہ رضا رہتے ہیں۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اچانک بیمار ہوگئے۔ سخت بے چینی لاحق ہوئی، مگر ظاہری طور پر کسی بیماری کی علامت موجود نہ تھی پھر ئی دن اسی اضطراب میں گزر گئے۔ بھوک بالکل جاتی رہی۔ بمشکل چند گھونٹ پانی پی سکتے تھے۔ علاقے کے تمام قابل ذکر طبیبوں کو بلایا گیا۔ یہ لائق حکیم بہت دیر تک حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا معائنہ کرتے رہے۔ آخر تمام طبیبوں نے بیک زبان کہا۔
’’شیخ! ہم نے آپ کی نبض بھی دیکھی اور قارورہ بھی کسی بیماری کے آثار نظر نہیں آتے۔ ہمارے اپنے علم کے مطابق آپ کسی جسمانی مرض میں مبتلا نہیں ہیں‘‘ یہ کہہ کر تمام حکیم چلے گئے۔
مریدین اور خدمت گار پیرومرشد کی تکلیف کے خیال سے بہت پریشان تھے۔ دوسرے دن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی تکلیف میں مزید اضافہ ہوگیا۔ آپ نے اپنے تمام دوستوں اور مریدان خاص کو طلب کرکے فرمایا ’’تم لوگ جائو اور اﷲ تعالیٰ سے میری صحت کے لئے دعا کرو‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے جن درویشوں سے دعا کی درخواست کی تھی ان میں آپ کے صاحبزادے شیخ بدرالدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ بھی شامل تھے۔ الغرض تمام مریدین اور خدمت گزار دعا میں مشغول ہوگئے۔
اسی رات کوپچھلے پہر شیخ بدر الدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ نے دیکھا کہ ایک بزرگ ان سے فرما رہے تھے۔
’’تمہارے والد پر شہاب ساحر کے لڑکے نے جادو کردیا ہے‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی آمد سے پہلے اجودھن میں شہاب نام کا ایک ساحر تھا، جسے جادوگری کے فن میں بڑی مہارت حاصل تھی۔  شہاب ساحر کے نام سے مقامی اور غیرمقامی لوگ بہت خوفزدہ رہتے تھے۔ اس نے حصول دولت اور ذاتی دشمنی کے لئے بہت سے لوگوں کو تکلیفیں پہنچائی تھیں پھر وہ اسی حالت میں مرگیا۔ جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اجودھن تشریف لائے تو مخلوق خدا کو آزار پہنچانے والا جادوگر زیر خاک سوچکا تھا۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں