۱۱۵۔ وﷲ المشرق والمغرب، فاینما تولوا فثم وجہ اﷲ، ان اﷲ واسع علیم O
۱۱۶۔ وقالو اتخذ اﷲ ولدا، سبحٰنہ، بل لہ ما فی السمٰوٰت والارض، کل لہ قٰنتون O
۱۱۷۔ بدیع السمٰوٰت والارض، واذاقضیٰ امرا فانما یقول لہ کن فیکون O

اور اﷲ ہی کا ہے پورب اور پچھم، تو جدھر تم رخ بقبلہ ہو تو ادھر اﷲ کا رخ ہے۔ بیشک اﷲ وسعت دینے والا ، علم والا ہے
اور کہہ پڑے کہ رکھ لیا ہے اﷲ نے اولاد، سبحان اﷲ، بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سب اس کے پجاری ہیں۔
بے اصل و بے مثل ایجاد فرمانے والا آسمانوں اور زمین کا۔ اور جب طے کرلیا کسی امر کو تو بس حکم دیتا ہے اسے کہ، ہوجائو، تو وہ ہوجاتا ہے

(اور) اے مسلمانو! تمہارے قبلہ اور نماز کے بارے میں یہودی بکواس کریں تو تم کچھ نہ سنو۔ اگر ہم تمہارا قبلہ کچھ بھی مقرر نہ کریں اور عام اجازت دیں کہ جدھر چاہو اپنا رخ کرکے مجھے پوجو، ہم ایک قبلہ مقرر کردیں اور پھر بدل دیں یا تم قبلہ مقرر شدہ کو معلوم کرنے کی کوشش میں ناکام رہو اور غلط رخ پر قبلہ جان کر نماز پڑھ لو یاد عاتم جس سمت چاہو ہاتھ اٹھا کر کرلیا کرو یا نماز نفل سواری پر پڑھو اور جدھر کا رخ ہو اسی طرح پڑھتے رہو تو یہودیوں کا اس میں کیا اجارہ ہے۔ تم خوب جانتے ہو کہ (اﷲ تعالیٰ ہی کا ہے) خواہ (پورب) ہو خواہ (پچھم) اور تم کو اسی کی عبادت کرنی ہے (تو) اب کسی رخ کو قبلہ جانتے ہوئے (جدھر تم رخ بقبلہ ہو) تم کو اگر اس کا یقین ہوچکا کہ تمہارا منہ قبلہ کی طرف ہے (تو) خواہ وہ رخ قبلہ کا واقع میں نہ ہو، پھر بھی تمہاری نیت اور کوشش کا یہ پھل ہے، کہ جدھر تمہاری توجہ ہے، (ادھر) ہی (اﷲ) تعالیٰ (کا رخ) اور توجہ (ہے)۔ اصل قبلہ کوئی در ودیوار نہیں ہے بلکہ ہمارا حکم اصلی قبلہ ہے۔ یہ آسانی اور گنجائش اگر تم کو اے مسلمانو ہم نے دی، تو یہودیوں سے نہ گھبرائو اور بالاعلان کہو کہ (بیشک) ہمارا (اﷲ) تعالیٰ ہم کو بہت بڑی (وسعت) اور سہولت (دینے والا ہے) اور ان وسعتوں کی حکمتوں کا (علم) رکھنے (والا) وہی (ہے)
ذرا ان یہودیوں کو دیکھو کہ حضرت عزیر کو کہتے ہیں کہ اﷲ کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسٰی اﷲ کے بیٹے ہیں اور عرب کے بت پرست کہتے ہیں کہ فرشتے اﷲ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ کفری بول کے بولنے والے کیا بولے (اور) کس طرح (کہہ پڑے کہ رکھ لیا ہے اﷲ نے اولاد) اس کے بیٹے بھی ہیں اور بیٹیاں بھی ہیں (سبحان اﷲ) وہ پاک ہے کہ اس کے بیٹے یا بیٹیاں ہوں (بلکہ اسی) اﷲ تعالیٰ (کا)سب کچھ مخلوق ومملوک (ہے) (جو کچھ) بھی (آسمانوں اور زمین میں ہے سب) اسی اﷲ تعالیٰ کے بندے، مخلوق، مملوک، فرماں بردار، اور (اس کے پجاری ہیں) اگر اﷲ تعالیٰ کے بیٹا بیٹی مانے جائیں تو وہ ایسے کیوں ہونے لگے، وہی سارے جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔
اس طرح نہیں کہ دنیا کا کوئی تخم تھا، کوئی بنیاد تھی، اس کو بڑھا کر سارا جہان بنادیا۔ اور اس طرح بھی نہیں کہ آسمان و زمین کوئی پہلے سے موجود تھا، اس کو نقل کرکے اس آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ بلکہ وہ تو (بے اصل و) بنیاد اور (بے مثل) سابق کہ بالکل نیست سے ہست کرکے (ایجاد فرمانے والا) ہے (آسمان و زمین کا)۔ یہ اس کا کام بالکل انوکھا ہے اور بطور بدعت۔ اور اولاد کا ہونا اس پر موقوف ہے کہ اس کا تخم موجود ہو۔ اور جب کوئی شے ہے کہ اس کا تخم نہ ہو تو پھر کوئی شے اس کی اولاد نہیں ہوسکتی۔ اولاد ہونے کی صورت یہ ہے کہ وہ باپ کے نطفے سے درجہ بدرجہ بڑھتے بڑھتے پیدا ہو، اور تدریجی ترقی کرتا رہے (اور) اﷲ تعالیٰ کی قدرت کا کارخانہ یہ ہے، کہ (جب) اس نے (طے فرمالیا کسی امر کو) اور ارادہ کرلیا کہ فلاں چیز ہوجائے (تو) آہستہ آہستہ تدریجی طور پر نہیں، بلکہ (بس حکم) دیئے (دیتا ہے اسے کہ ہوجا تو وہ) جس کے ہونے کا حکم دیا جاتا ہے اس کی مشیت کے مطابق (ہوجاتا ہے) جب ساری مخلوق کا ہونا اس طرح پر ہے ، تو اس کی اولاد کوئی نہیں ہوسکتی۔