مفتی نعیم و دیگر کی پریس کانفرنس… لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

in Tahaffuz, August 2010, آ ئينہ کيو ں نہ دوں, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

محترم قارئین کرام! آپ نے مفتی نعیم کی پریس کانفرنس ملاحظہ فرمائی۔ اس کانفرنس کے بعد ہمارے ان سے چند سوالات ہیں:
سوال: ہم اہلسنت و جماعت سنی حنفی بریلوی مسلک کا یہ عقیدہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنی ذاتی قدرت سے داتا ہے اور داتا گنج بخش لاہوری علیہ الرحمہ اﷲ تعالیٰ کی عطا سے داتا ہیں اور جہاں ذاتی اور عطائی کا فرق آجائے تو شرک نہیں ہوتا۔ مگر باوجود اس کے علمائے دیوبند مسلک اہلسنت پر شرک کا فتویٰ لگاتے رہے اور اب آج وہ خود اپنی پریس کانفرنس میں اخبارات گواہ ہیں‘ جیو نیوز‘ ایکسپریس نیوز‘ اور دھوم ٹی وی کی ریکارڈنگ گواہ ہے کہ مفتی نعیم‘ اسعد تھانوی اور مفتی عثمان یار خان نے حضرت سید علی ہجویری علیہ الرحمہ کو داتا گنج بخش کہا اور ان کے مزار کو داتا دربار کہا۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ اب ان مولویوں پر کیا فتویٰ لگایا جائے کیونکہ ان لوگوں نے سید علی ہجویری علیہ الرحمہ کو داتا گنج بخش مان لیا؟
سوال: مفتی نعیم نے مطالبہ کیا کہ ایک مکتبہ فکر کے خلاف کارروائی سے گریز کیا جائے۔ مطلب ان کے کہنے کا یہ ہے کہ صرف دیوبندی فرقے کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہمارا ان سے سوال یہ ہے کہ مفتی صاحب آپ بھول گئے اور آپ کونہیں معلوم کہ جتنی کالعدم اور دہشت گرد تنظیمیں ہیں‘ کالعدم سپاہ صحابہ‘ کالعدم لشکر جھنگوی‘ تحریک طالبان‘ تحریک نفاذ شریعت محمدی اور جیش محمد‘ یہ تمام جماعتیں کس فرقے سے تعلق رکھتی ہیں؟ کیا یہ دیوبندی فرقے کی جماعتیں نہیں ہیں؟ اگر نہیں ہیں تو ان کے گرفتار کارکنوں کو علمائے دیوبند کیوں چھڑواتے ہیں؟ کیوں ان جماعتوں کی سرپرستی کرتے ہیں؟
سوال: علمائے دیوبند نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم مزارات کے خلاف نہیں‘ البتہ مزارات کے اردگرد ہونے والے شرک و بدعت کے ضرور خلاف ہیں۔
علمائے دیوبند جھوٹ بول رہے ہیں اگر مزارات کے خلاف نہیں تو وہ مزارات کو مسمار کرنے کے آئے دن مطالبات کیوں کرتے ہیں۔ کئی پملفٹ اور کتابچہ اس کے گواہ ہیں۔
اگر یہ لوگ مزارات کے خلاف نہیں تو میڈیا پر آکر مزارات کے خلاف زہر کیوں اگلتے ہیں؟
اپنی چہیتی جماعت تحریک نفاذ شریعت محمدی (صوفی محمد‘ مولوی فضل اﷲ کی جماعت) کی علمائے دیوبند مکمل سرپرستی کرتے رہے جنہوں نے مشہور صوفی بزرگ حضرت عبدالرحمن بابا اور حاجی پیر بابا کے مزارات کو بم سے اڑادیا۔ کسی دیوبندی مولوی نے اس کی مذمت کیوں نہیں کی؟
سعودی حکومت نے جب صحابہ کرام کے مزارات مسمار کئے تو اس وقت کوئی دیوبندی عالم کیوں نہیں بولا اور جب مولوی اشرف علی تھانوی کی قبر کو ہندوئوں نے مسمار کیا تو سارے علمائے دیوبند اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم اس کو کیا سمجھیں‘ مزارات اولیاء سے محبت یا عداوت؟
علمائے دیوبند مزارات کے اردگرد کس شرک کی بات کررہے ہیں۔ اردگرد ہونے والے چرس‘ بھنگ اور اوباش لوگوں کی حرکتوں کی بات کررہے ہیں تو یہ کام امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ اور تمام علمائے اہلسنت کے نزدیک ناجائز اور گناہ ہیں۔ رہا مسئلہ بعض جہلا کا جو تعظیمی سجدے مزارات پر کرتے ہیں اس کو بھی امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ’’الزبدۃ الازکیہ‘‘ میں حرام قرار دیا ہے۔ یہ چند جاہلوں کا کام ہے۔ جہلاء کے فعل کو پورے مسلک پر تھوپنا نادانی ہے۔ مزارات پر جو جہلاء سجدے کرتے ہیں‘ وہ تعظیمی سجدے کرتے ہیں جوکہ حرام ہیںمگر شرک نہیں ہے۔ مزارات پر کوئی جاہل سے جاہل آدمی یا عورت بھی صاحب مزار کو معبود یا اپنا خدا سمجھ کر سجدہ نہیں کرتے بلکہ اﷲ تعالیٰ کا ولی سمجھ کرجھکتا ہے جوکہ بعض دفعہ سجدے کی کیفیت اختیار کر جاتی ہے جسے شرک نہیں‘ حرام کہا جاتا ہے کیونکہ کسی کو معبود مان کر اس کو سجدہ عبادت کرنا شرک ہے جوکہ اس دور میں کوئی مسلمان نہیں کرتا۔
اب علمائے دیوبند بتائیں کہ مزارات اولیاء کے اردگرد کہاں شرک ہوتا ہے؟ اور یہ بھی بتائیں کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو مشرک کہے اور اگر وہ مشرک نہ ہو تو فتویٰ لوٹ جاتا ہے۔ خود فتویٰ لگانے والا مشرک ہوجائے گا۔ اب علمائے دیوبند پر کیا فتویٰ لگے گا؟