13 مئی کو روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں ’’علمائے دیوبند پر اعتراضات اور ہماری گزارشات‘‘ کے عنوان سے جناب عبدالروف فاروقی صاحب کا ایک کالم نظر سے گزرا۔ پھر 2 جون کو انہی صاحب کا ایک کالم ’’علمائے دیوبند پر اعتراضات یا الزامات‘‘ بھی دیکھنے کو ملا۔ ان دونوں کالموں میں موصوف نے ’’علمائے دیوبند‘‘ کا دفاع کرتے ہوئے علمائے اہلسنت (بریلوی) کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا‘ چونکہ تاریخ بہرحال تاریخ ہے۔اس میں ہیر پھیر کسی بھی معاشرے میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور جتنے بھی اندھیرے چھا جائیں۔ حقائق کا پھر بھی حق تسلیم کیا گیاہے کہ ان کا اظہار کیا جائے۔ اس لئے چند سطور نذر قارئین ہیں۔
کالم نگار نے ’’اکابر علماء دیوبند‘‘ کی کتب ’’حفظ الایمان‘ تہذیر الناس‘ براہین قاطعہ اور فتویٰ گنگوہی کی کچھ عبارات پر ایسے حالات میں گفتگو کی دعوت دی ہے جب قوم پہلے ہی بہت سے مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔ ہاں اس لحاظ سے یہ بحث ماحول سے ریلیٹڈ (Related) ہے کہ آج کل گستاخانہ خاکوں کے خلاف تحفظ ناموس رسالت کی صدا بلند کی جارہی ہے اور یہ موضوع بھی ناموس رسالت سے متعلق ہے۔ ان عبارات کے بارے میں کالم نگار نے ایک مناظرے کا حوالہ دے کر علمائے دیوبند کی ان سے گلوخلاصی کا سہارا تلاش کرتے ہوئے کہا ’’جب علامہ محمد اقبال مرحوم کی سربراہی میں محاکمے کے لئے بادشاہی مسجد لاہور میں ایک عوامی عدالت لگانے کا فریقین میں طے ہوگیا تو علمائے دیوبند کی طرف سے نمائندہ مولانا محمد منظور نعمانی لاہور تشریف لے آئے۔ لیکن بریلوی مکتب فکر کے نامزد نمائندے مولانا حشمت علی تشریف نہ لائے‘‘
ان جملوں میں کالم نگار نے کئی جھوٹی باتوں کو قومی پریس کا حصہ بنادیا۔ بادشاہی مسجد میں کوئی مناظرہ طے ہوا اور نہ ہی ان شخصیات کے درمیان مناظرہ تھا‘ جن کا نام کالم نگار نے لیا۔ مناظرہ جس کا کالم نگار نے تذکرہ کیا‘ یہ مسجد وزیر خان میں ہونا قرار پایا تھا۔ اس پر فریقین کے دستاویزی ثبوت (جو بوقت ضرورت دکھائے جاسکتے ہیں) موجود ہیں۔ اور اس وقت کا لٹریچر گواہ ہے۔ انجمن حزب الاحناف کے ناظم اعلیٰ حضرت ابوالبرکات سید احمد صاحب اور دیوبندی تنظیم جمعیت الاحناف کے سیکریٹری سردار محمد کے درمیان متعدد زعماء کی موجودگی میں طے پایا کہ 15 شوال 1352ھ کو مسجد وزیر خان میں فیصلہ کن مناظرہ ہوگا جس میں اہل سنت حجتہ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خان کو مناظرے کے لئے لائیں گے اور علمائے دیوبند اپنے چوٹی کے عالم دین مولانا اشرف علی تھانوی کو لائیں گے۔ مناظرے کے اشتہارات کئی روز پہلے لگا دیئے گئے۔ لوگوں کو اس دن کا شدت سے انتظار تھا۔ لیکن جب یہ دن آیا‘ چشم فلک اور ہزاروں لوگ گواہ ہیں کہ حضرت مولانا محمد حامد رضا خان تو بریلی شریف سے لاہور پہنچ گئے مگر مولانا اشرف علی تھانوی نہیں پہنچے اور نہ ہی اپنا کوئی وکیل بھیجا۔ یہ علمائے دیوبند کی واضح شکست تھی۔
پھر جب علمائے دیوبند نے خفت مٹانے کے لئے درخواست کی کہ ہمارے مولانا منظور احمد نعمانی کو ہمارے تھانوی صاحب کا وکیل مان لیا جائے تو حضرت مولانا محمد حامد رضا خان نے کمال فراخدلی سے انہیں قبول کرلیا‘ حالانکہ ان کے پاس تھانوی صاحب کی طرف سے کوئی وکالت نامہ نہیں تھا اور اپنی طرف سے حضرت مولانا حشمت علی خان صاحب جو اسٹیج پر موجود تھے‘ انہیں نعمانی صاحب کے ساتھ مناظرے کا حکم فرمایا۔ نعمانی صاحب نے جتنی شرائط پیش کیں‘ وہ حضرت مولانا حشمت علی خان نے منظور کرلیں‘ مگر نعمانی صاحب نے مولانا حشمت علی خان صاحب کی معمولی شرط ’’چار مسائل میں سے دو میں آخری تقریر میری ہوگی اور دو میں آپ کی ہوگی‘‘ ماننے میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔ یوں مناظرے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ 1933ء میں تو نعمانی صاحب بچ نکلے‘ مگر 25 اپریل 1935ء کو بریلی شریف میں جہاں وہ رہائش پذیر تھے‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سردار احمد صاحب کے سامنے چار روز کے مناظرے میں ان عبارات کے داغ نہ دھوسکے‘ بالاخر انہیں بریلی شریف سے نکلنا پڑا اور اپنا ماہنامہ ’’الفرقان‘‘ بریلی سے بند کرکے لکھنؤ سے نکالنا پڑا۔
کالم نگار نے یہ بھی لکھا ’’آئین پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت کے طور پر دفعہ 295 سی موجود ہے اگر بریلوی مکتب فکر کے موجودہ رہنما‘ علماء دیوبند کی ان تحریروں کو توہین رسالت پر مشتمل سمجھتے ہیں تو انہیں ان تحریروں کو عدالت عالیہ میں لے جانے سے کس نے روکا ہے؟ اس پر صرف اتنا کہوں گا کہ جن علمائے دیوبند کی یہ عبارتیں ہیں وہ تمام تو دنیا سے جاچکے ہیں‘ اب ان پر اس 295 سی کے تحت مقدمے کے لئے عدالت جانے کا کیا فائدہ ہے اور ہم جب ان عبارات کو گستاخانہ سمجھتے ہیں تو ہمارا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ ہم زندوں میں سے کسی پر 295 سی کے تحت ایف آئی آر درج کروانے کے لئے اسے یہ گستاخانہ لفظ بولنے کی ترغیب دیں۔
جہاں تک کالم نگار کا یہ کہنا ہے کہ محترم مجیب الرحمن شامی کی سربراہی میں مزید غیر جانبدار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کے سامنے دیوبندی‘ بریلوی دونوں فریق اپنا اپنا موقف پیش کریں اور اس کمیٹی کا فیصلہ امت کو فرقہ واریت کی آگ سے بچانے کا باعث ہوگا۔ بندہ اس تجویزسے متفق ہے۔ ازسرنو یہ دفتر کھلنا چاہئے‘ اگر جسٹس محمد تقی عثمانی جیسی کوئی شخصیت اپنے اکابر کی عبارات کی ذمہ داری قبول کرے تو ہم فرقہ واریت کی آگ بجھانے کے لئے اصولی مناظرہ کی روشنی میں انشاء اﷲ تعالیٰ ایسی علمی نشست کے انعقاد کا خیر مقدم کریں گے۔ بندہ علمائے اہلسنت کی طرف سے اپنے آپ کو پیش کرتا ہے۔
کالم نگار نے تحریک پاکستان میں علمائے اہلسنت کے روشن کردار کو بھی بے جا تنقید کا نشانہ بنا کر اپنی خانہ ساز تاریخ کو قومی تاریخ بنانا چاہا ہے۔ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ ہے۔ برصغیر میں دو قومی نظریہ کی ترویج حضرت مجدد الف ثانی‘ حضرت امام فضل حق خیر آبادی اور حضرت امام احمد رضا خان بریلوی جیسے اکابر اور ان کے خلفاء و تلامذہ نے کی ہے‘ جبکہ علمائے دیوبند دو قومی نظریہ کے قائل ہی نہ تھے۔ ’’ملت از وطن است‘‘ کا نظریہ ان کے دل و دماغ پر یوں چھایا ہوا تھا کہ اس نظریئے کی بنیادیں قرآن و سنت سے معاذ اﷲ ڈھونڈتے پھررہے تھے۔
آب کوثر سے پھسل کر یوں لب گنگا پہنچے کہ ’’اکھنڈ ہندوستان کانفرنس‘‘ ایسے اجتماعات میں کانگریسی سوچ کے کھیت کو پانی دیتے رہے۔ جب علماء و مشائخ اہلسنت قائد اعظم رحمتہ اﷲ علیہ کے ہمراہ پاکستان کی خاطر آبلہ پائی کررہے تھے‘ یہ حضرات گاندھی کو منبروں پر بٹھا کر رسول اکرم کے نعرے لگا رہے تھے۔ ان کی وحدت ہند اور متحدہ قومیت کی بولی سے علامہ محمد اقبال اتنے بیزار ہوئے کہ ایک نظم میں ان کے اس کردار کا ذکر کرکے انہوں نے کہا:
مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے
جب ان لوگوں نے مسجد و منبر کو متحدہ قومیت کا اکھاڑا بنادیا تو علامہ محمد اقبال نے شیخ حسین احمد مدنی اور ان کے ہمنوائوں کی شان میں قصیدہ لکھ دیا‘ جس کاپہلا شعر یہ ہے
عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہ
ز دیوبند حسیں احمد چہ بواعجمی است
کالم نگار کو عبارات اکابر کے بارے میں علامہ اقبال مرحوم کا فیصلہ صادر نہ ہوسکنے پر مسرت ہے مگر یہ فیصلہ جو کلیات اقبال میں چھپا ہوا ہے‘ اس سے تو اپنی حسرت مٹالینی چاہئے۔
یہ کائنات کا واضح سچ ہے‘ جب یہ طبقہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا کہ پاکستان کی ’’پ‘‘ بھی نہیں بننے دیں گے۔ اس وقت ہزاروں علماء و مشائخ اہلسنت آل انڈیا بنارس سنی کانفرنس (اپریل 1946) میں برملا اعلان کررہے تھے‘ ہم پاکستان کی ’’نون‘‘ بھی بنا کے چھوڑیں گے۔ علماء اہلسنت نے بحیثیت جماعت تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ صرف چند حضرات پیچھے رہ گئے۔ مگر علمائے دیوبند نے جماعتی طور پر پرزور مخالفت کی اور اگر کسی نے کچھ کیا تو انفرادی طور پر کیا۔ تحریک پاکستان کے محرم راز ’’تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علمائ‘‘ کے مصنف چوہدری حبیب احمد سے اگر فیصلہ کرالیا جائے تو اچھا رہے گا۔ وہ کہتے ہیں علمائے دیوبند نے تقریبا ستانوے فیصدی قیام پاکستان کی مخالفت کی جبکہ میں کہتا ہوں‘ علمائے اہلسنت نے ساڑھے ننانوے فیصد قیام پاکستان کی حمایت کی۔
کالم نگار نے ملک میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو جلا دینے والی دہشت گردی کی آگ کو صلیبی جنگوں کے خلاف مزاحمتی تحریک کہا اور اس میں مصروف لوگوں کو مجاہدین کہا۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ تمام تحریک خودکش دھماکوںپر مبنی ہے‘ جنہیں علمائے دیوبند اور مفتیان سعودی عرب بھی اعلانیہ حرام کہہ چکے ہیں۔ اگر علمائے دیوبند کا اس سلسلے میں کوئی خفیہ فتویٰ ہے تو کالم نگار کو چاہئے ‘اسے منظر عام پر لائیں ورنہ زبانی فتویٰ اور زبان صحافت میں اتنا فرق کیوں ہے۔ اگر پاکستان میں مسجدوں میں نمازیوں کو‘ اسکولوں میں بچوں کو‘ اسپتالوں میں مریضوں کو‘ حالت افطار میں روزہ داروں کو‘ گزر گاہوں میں مسافروں کو‘ اور ٹریننگ سینٹروں میں سپاہیوں کو جلاکے راکھ کرنے والے واقعی داستان حریت رقم کررہے ہیں تو علمائے دیوبند کو یہ سہرا کھل کر اپنے سر لینا چاہئے تاکہ قوم کی آنکھیں مزید کھل جائیں۔
امریکہ مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے۔ جیسے آج اسے دشمن نہ سمجھنا غلطی ہے‘ ایسے ہی کل اسے دوست سمجھنا بھی غلطی تھا جس کا خمیازہ آج بھگتنا پڑرہا ہے۔ ہماری تو یہ واضح رائے ہے کہ پاکستان کی بقاء اسی میں ہے ‘ اسے امریکہ اور اس کے حواریوں سے بچایا جائے‘ مگر جدوجہد کا طریقہ کار ایسا ہو کہ کہیں عینک کے حصول کی خاطر آنکھ ہی نہ نکل جائے۔