داتا دربار پر حملہ ہمارے ایمان پر حملہ ہے

in Articles, Tahaffuz, August 2010, متفرقا ت

یکم جولائی رات ساڑھے دس بجے منبع رشد و ہدایت‘ مرکز تجلیات وروحانیت‘ تاجدار اولیاء حضور سیدی سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش لاہوری علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار پر تین خودکش حملے ہوئے۔ سبز عمامہ اور سفید لباس میں ملبوس ایک نوجوان بیگ لئے محافظین کا حصار توڑ کر اندر مزار شریف کی طرف بھاگا‘ وہاں کا ایک خدمت گار اس کے پیچھے بھاگا‘ حملہ آور نے دو گرنیٹ مارے مگر وہ ناکارہ ہوگئے۔ حملہ آور بوکھلا کر وضو خانے کی جانب بھاگا اور اپنے آپ کو بارودی مواد سے اڑا دیا جبکہ دو خودکش حملے مزار کے صحن میں اس وقت ہوئے جب اجتماعی دعا مانگی جارہی تھی۔ حملہ آور بہت بڑے پروگرام کے تحت پورے مزار شریف کو بم سے اڑانے کے لئے آئے تھے مگر ان کے عزائم خاک میں مل گئے۔ الحمدﷲ بڑا نقصان چھوٹے نقصان میں بدل گیا۔
کچھ لوگوں کے ذہنوں میں یہ شیطانی وسوسہ آیا ہوگا کہ حملہ آور سبز عمامے اور سفید لباس میں کیوں بھیجا گیا۔ کیا یہ سازش تھی؟ ہاں یہ سازش اس معنی میں تھی کہ بھولی بھالی عوام کے دلوں میں سبز عمامہ کے خلاف زہر بھرا جائے اور جو سبز عمامہ اس وقت مسلک حق اہلسنت کی پہچان ہے‘ اس پہچان کو بدنام کیا جائے تاکہ لوگوں کا سبز عمامے اور سبز عمامے والوں پر سے اعتماد ختم ہوجائے۔
دوسری سازش یہ تھی کہ اگر کوئی سادے لباس میں بم باندھ کر داتا صاحب علیہ الرحمہ کے مزار کی جانب ہاتھوں میں بیگ لئے بھاگتا تو یقینا اس کو گیٹ سے آگے نہ بڑھنے دیا جاتا مگر بمبار بہت چالاک تھا‘ وہ جانتا تھا کہ اس حلئے کا انتخاب کیا جائے جو داتا صاحب علیہ الرحمہ کے چاہنے والوں کا ہے تاکہ ناپاک عزائم میں کامیابی مل سکے۔ اس لئے حملہ آور نے اس امن پسند لباس کو سہارا بنایا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس گروہ کا کام ہے؟ اس کے کئی جوابات ہوسکتے ہیں۔ پہلا جواب یہ ہے کہ ابھی کچھ ہفتے قبل لاہور میں قادیانیوں مرتدوں کے مرکز پر حملہ ہوا۔ یہ حملہ کروایا گیا یا خود قادیانیوں مرتدوں نے اپنے آپ کو مظلوم ثابت کروانے اور پاکستانی سادہ لوح مسلمانوں سے ہمدردی پانے کے لئے خود ہی اپنے خلاف کارروائی کروائی ہو؟ اور بعد میں داتا صاحب علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر حملہ کروایا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کیونکہ ہر باطل فرقہ مسلک حق اہلسنت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ سارے باطل فرقے ایک طرف ہیں‘ وہ تمام کے تمام گستاخ و بے ادب ہیں مگر ایک مسلک حق اہلسنت باادب اور محب اولیاء ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے سماء ٹی وی چینل‘ ایکسپریس نیوز اور آج ٹی وی چینل پر مزارات اولیاء کے خلاف پورے پروگرام کے تحت زہر اگلا جارہا تھا۔ مزارات اولیاء کے دشمن بکواس کرتے چلے جارہے تھے کہ اس کے چار ہی دن بعد داتا صاحب علیہ الرحمہ کے مزار پر حملہ ہوا‘ لہذا یہ بات بھی خارج از امکان نہیں ہے کہ داتا صاحب علیہ الرحمہ کے مزار پر حملہ مزارات اولیاء کے دشمنوں اور وہاں حاضری دینے والوں پر مشرک اور بدعتی ہونے کا فتویٰ لگانے والوں نے کروایا ہو۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے شہباز شریف کی حکومت کو بدنام اور ناکام ثابت کرنے کے لئے خفیہ ایجنسیز کے ساتھ مل کر یہ حملہ کروایا ہو۔ ویسے بھی گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان حملوں سے کیا غرض ہے۔ اسے تو اپنی کرسی مضبوط کرنے اور مال جمع کرنے سے کہاں فرصت ہے وہ تو بے چارہ کبھی بیان بھی دیتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شراب کے نشے میں دھت ہوکر بیان دے رہا ہے۔
میاں محمد نواز شریف سے ہماری گزارش ہے کہ وہ زرداری جیسے ایمپائر کو اپنے ساتھ ملا کر بیٹنگ نہ کریں‘ ان سے ان کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے اور میاں صاحب نے اپنی آستین میں جو وزیر قانون رانا ثناء اﷲ جیسے سانپ پال رکھے ہیں‘ ان کو جلدازجلد باہر نکال پھینکیں جو کالعدم فسادی تنظیموں کی سرپرستی کرتے ہیں‘ ان کی حمایت کرتے ہیں اور چندہ فراہم کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب سانحہ داتا دربار کے شہداء کے لئے فی کس دس لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کریں اور دربار کا جو حصہ متاثر ہوا ہے‘ اس کو جلدازجلد تعمیر کیاجائے۔ مزارات اولیاء کے خلاف بکواس کرنے والے چینلز کو لگام دی جائے۔ بکواس کرنے والے اینکرز پر پابندی عائد کی جائے اور حملہ کرنے والوں کے سرپرستوں کو جلدازجلد بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔
حملہ آور یا حملہ کروانے والا کوئی بھی ہو‘ اس کے دن گنے جاچکے ہیں جس طرح صوبہ سرحد میں حضرت عبدالرحمن بابا اور حضرت پیر بابا رحمہم اﷲ کے مزار پر بم دھماکہ کرنے والے حملے کے کچھ ہی عرصے بعد چن چن کر مار دیئے گئے۔ انشاء اﷲ اسی طرح حضور داتا صاحب علیہ الرحمہ کے مزار پر حملہ کروانے والے بھی الٹی گنتی گننا شروع کردیں۔ شرپسندوں کو اﷲ تعالیٰ کے کامل ولی سے دشمنی و عداوت لے ڈوبے گی۔ ان کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو‘ دنیا ان کا عبرت ناک انجام دیکھے گی۔
یاد رہے داتا صاحب علیہ الرحمہ کو داتا گنج بخش کسی انسان نے نہیں بلکہ رب تعالیٰ نے بنایا ہے۔ حق تعالیٰ بھی داتا ہے اور سید علی ہجویری بھی داتا ہیں مگر دونوں برابر نہیں کیونکہ رب تعالیٰ اپنی ذاتی قدرت سے داتا ہے اور سید علی ہجویری علیہ الرحمہ رب تعالیٰ کی عطا سے داتا ہیں لہذا ذاتی اور عطائی چیز برابر نہیں ہوسکتی‘ بندہ اور خالق برابر نہیں ہوسکتے تو پھر شرک بھی نہیں ہوسکتا۔
ہم اہلسنت داتا صاحب کو اﷲ تعالیٰ کا بندہ اور کامل ولی سمجھ کر ان سے فیض حاصل کرنے ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ مزار شریف پر سجدہ تعظیمی کرنا‘ بھنگ وچرس‘ بے پردہ عورتوں کا ہجوم‘ ڈھول بجانا اور ناچنا یہ سب حرام ہے۔ اہلسنت کے امام شاہ احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ اپنی کتاب فتاویٰ رضویہ میں ان تمام خرافات کو حرام قرار دیتے ہیں۔ مزید فرماتے ہیں کہ جاہلوں کے فعل کو اہلسنت پر نہ تھوپا جائے۔
اس حملے کے بعد حضور داتا صاحب علیہ الرحمہ کی دو کرامتیں دیکھنے میں آئیں۔ پہلی کرامت یہ دیکھی گئی کہ حملہ آور پورے مزار شریف کو بم سے اڑا کر صفحہ ہستی سے مٹانے کے ناپاک ارادے سے مزار شریف کے اندر داخل ہوئے تھے مگر وہ بری طرح ناکام ہوئے اور ان کے عزائم خاک میں مل گئے۔
دوسری کرامت یہ کہ آپ علیہ الرحمہ نے حملہ آور گروہ کی سرپرستی کرنے والے مخصوص فرقے کے لوگوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔
٭ جامع مسجد  نور (جوبلی، کراچی) اہلسنت وجماعت سنی حنفی بریلوی مسلک کی ہے۔ اس مسجد کے نام سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ حضورﷺ کو نوری بشر ماننے والوں نے ہی یہ مسجد بنائی اور اس کا نام رکھا۔ خطیب اعظم علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ نے بیس برس اس مسجد میں امامت فرمائی۔ یہی وہ مسجد نور ہے جہاں سے بارہ ربیع الاول کے دن خطیب اعظم علیہ الرحمہ کی قیادت میں جلوس نکلتا تھا مگر افسوس 9 جولائی 2010ء شب معراج کی محفل دعوت اسلامی کے زیر اہتمام جاری تھی کہ کالعدم تنظیم کے مسلح غنڈوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو افراد زخمی ہوئے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حملہ آور کالعدم جماعت کے کارکنوں کو پھرگرفتار کیا جائے اور قرارواقعی سزا دی جائے اور مسجد نور اہلسنت وجماعت سنی حنفی بریلوی مسلک کے حوالے کی جائے۔
کالعدم تنظیم کی جانب سے نور مسجد جوبلی کراچی میں کی جانیوالی دہشت گردی کا منظر دیکھنے کیلئے وزٹ کیجئے: