(امام احمد رضا علیہ الرحمہ پر الزامات کا جائزہ (حصہ اول

in Tahaffuz, August 2010, خلیل احمد رانا

امام احمد رضا محدث بریلی علیہ الرحمہ پر کئی ایک جھوٹے‘ بے بنیاد اور من گھڑت الزام و اتہام لگائے گئے ہیں‘ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ:
’’والجدیر بالذکر ان المدرس الذی کان یدرسہ مرزا غلام قادر بیگ کان اخاللمرزا غلام احمد المتنبی القادیانی‘‘
(احسان الٰہی ظہیر‘البریلویہ (عربی) مطبوعہ لاہور ص 20)
ترجمہ: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کا استاد مرزا غلام قادر بیگ‘ مرزا غلام احمد قادیانی کا بھائی تھا۔
(احسان الٰہی ظہیر‘ البریلویہ (اردو) ‘ مطبوعہ لاہور‘ ص 41)
عرب کے ایک نجدی قاضی عطیہ محمد سالم نے کتاب ’’البریلویہ‘‘ پر تقدیم لکھی اور قاضی ہونے کے باوجود بغیر تحقیق کے کہا!
’’بریلویہ کے بانی کا پہلا استاذ‘ مرزا غلام قادر بیگ‘ مرزا غلام احمد قادیانی کا بھائی تھا‘ لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ قادیانیت اور بریلویت دونوں استعمار کی خدمت میں بھائی بھائی ہیں‘‘ (عطیہ محمد سالم‘ تقدیم البریلویہ‘ عربی‘ مطبوعہ لاہور ص 4)
بغض اور حسد ایسی روحانی مہلک بیماریاں ہیں کہ جب انسانی دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں تو انسان میں حق و انصاف کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ تحقیق اور حق کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں اور انسان شکوک و شبہات کی عمیق دلدل میں پھنس کر راہ حق اور صراط مستقیم سے کوسوں دور ہوجاتا ہے۔
احسان الٰہی ظہیر غیر مقلد بھی ایسی خطرناک بیماریوںکا شکار ہوا اور ایک صالح عاشق رسول پر بے جا بہتان لگایا۔ دنیا مین تو تعصب کے اندھے حواری واہ واہ کردیں گے‘ مگر میدان محشر میں احسان الٰہی ظہیر ار اس کے حواریوں کے پاس اس بہتان کا کیا جواب ہوگا؟
قارئین کرام! امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کے ابتدائی کتب کے استاذ مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی علیہ الرحمہ اور مرزا غلام قادر بیگ گورداسپوری دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے استاذ کو مرزا غلام احمد قادیانی کا بھائی کہنا تحقیق و مطالعہ سے یتیم‘ سراسر ظلم عظیم اور بغض رضا کا سبب ہے۔ یہ دھاندلی اسی وقت تک چلتی ہے جب تک حقیقت سامنے نہ ہو‘ لیکن جب سحر طلوع ہوتی ہے تو اندھیرے بھاگنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر اعلیٰ حضرت کے استاذ گرامی مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ و الرضوان اور فرقہ قادیانیت کا بانی اور انگریزوں کا ایجنٹ مرزا غلام قادر بیگ دونوں کی سوانحی جھلکیاں پیش کی جارہی ہیں۔ قارئین اندازہ لگاسکیں گے کہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی بن حکیم مرزا حسن جان بیگ علیہ الرحمہ
حضرت مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ بن حکیم مرزا حسن جان بیگ لکھنوی رحمہم اﷲ تعالیٰ علیہ‘ یکم محرم الحرام ۱۲۴۳ھ/ 25 جولائی 1827ء کو محلہ جھوائی ٹولہ لکھنؤ (یوپی ‘ ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد نے لکھنؤ سے ترک سکونت کرکے بریلی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ آپ کی رہائش بریلی شہر کے محلہ قلعہ میں جامع مسجد کے مشرقی جانب تھی۔ آپ کا رہائشی مکان بریلی شریف میں اب بھی موجود ہے۔ آپ کے بھائی مولانا مرزا مطیع اﷲ بیگ بریلوی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے مولانا مرزا محمد جان بیگ رضوی علیہ الرحمہ نے خاندانی تقسیم کے بعد 1914ء میں پرانے شہر بریلی میں سکونت کرلی تھی مگر مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کی سکونت محلہ قلعہ ہی میں رہی۔
آپ کا خاندان نسلاً ایرانی یا ترکستانی مغل نہیں ہے بلکہ مرزا اور بیگ کے خطابات اعزاز‘ شاہان مغلیہ کے عطا کردہ ہیں۔ اسی مناسبت سے آپ کے خاندان کے ناموں کے ساتھ مرزا اور بیگ کے خطابات لکھے جاتے رہے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نست حضرت خواجہ عبیداﷲ احرار نقشبندی علیہ الرحمہ سے ملتا ہے۔ حضرت احرار رحمتہ اﷲ علیہ نسلاً فاروقی تھی۔ اس طرح آپ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے جاملتا ہے۔
مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر اور اس کے والد‘ حضرت خواجہ عبیداﷲ احرار سے بیعت تھے۔ اس لئے بابر اور اس کے جانشین‘ حضرت خواجہ احرار کی اولاد سے فیض روحانی حاصل کرتے رہے۔ لیکن جلال الدین اکبر کے دور میں یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور اس خاندان کے بزرگ واپس وطن لوٹ گئے۔ مغل بادشاہ نور الدین جہانگیر نے اپنے دور میں اپنے خاندانی بزرگوں سے رجوع کیا‘ لہذا اس خاندان کے بزرگ تاجکستان سے پھر ہندوستان آگئے۔
امام احمد رضا خاں بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے اجداد کرام بھی شاہان مغلیہ سے وابستہ رہے ہیں۔ اسی زمانے سے ان دونوں خاندانوں کے قریبی روابط رہے ہیں۔ مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کے حقیقی بھائی مولانا مرزا مطیع اﷲ بیگ علیہ الرحمہ کے پوتے مرزا عبدالوحید بیگ بریلوی کی دو ہمشیرگان‘ امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کے خاندان میں بیاہی گئیں۔ ایک حضرت مفتی تقدس علی خان رحمتہ اﷲ علیہ کے تایا زاد بھائی حافظ ریاست علی خاں مرحوم کو اور دوسری فرحت علی خاں کے فرزند شہزادے علی خاں مرحوم کو۔
مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کے بھائی مولانا مرزا مطیع اﷲ بیگ جب جامع مسجد بریلی کے متولی مقرر ہوئے تو آپ نے مسجد سے ملحقہ امام باڑے سے علم اور جھنڈے وغیرہ اتروادیئے۔ آپ کے اس فعل سے بعض جاہل شرپسند رافضی لوگ آپ کے خلاف ہوگئے تو اس وقت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے دادا مولانا رضا علی خاں رحمتہ اﷲ علیہ نے فتویٰ دیا تھا کہ متولی مسجد صحیح العقیدہ سنی حنفی ہیں اور عمارت مسجد سے امام باڑہ کو ختم کرنا شرعا جائز ہے۔ یہ فتویٰ کرم خوردہ آج بھی بریلی شریف میں مولانا مرزا مطیع اﷲ بیگ علیہ الرحمہ کے پوتے مرزا عبدالوحید بیگ کے پاس موجود ہے۔
مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ اور امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کے والد ماجد مولانا نقی علی خاں رحمتہ اﷲ علیہ کے درمیان محبت و مروت کے پرخلوص تعلقات تھے۔ اس لئے مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ نے امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کی تعلیم اپنے ذمہ لے لی تھی۔ آپ کے دیگر تلامذہ آپ کے مطب واقع محلہ قلعہ متصل جامع مسجد بریلی ہی میں درس لیا کرتے تھے‘ مگر صغرسنی اور خاندانی وجاہت کی وجہ سے امام احمد رضا علیہ الرحمہ کو ان کے مکان پر ہی درس دیتے تھے (۱)
امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے ابتدائی کتابیں‘ میزان‘ منشعب وغیرہ مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ سے پڑھیں (۲)
مولانا عبدالمجتبیٰ رضوی لکھتے ہیں:
’’اردو اور فارسی کی ابتدائی کتب آپ (مولانا احمد رضا علیہ الرحمہ) نے مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی علیہ الرحمہ سے پڑھیں‘‘ (۳)
پروفیسر محمد ایوب قادری (کراچی)‘ بریلی کے اسلامی مدارس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مولانا محمد احسن نے بریلی کے اکابر وعمائد کے مشورے اور معاونت سے ایک مدرسہ باسم تاریخی ’’مصباح التہذیب‘‘ ۱۲۸۶ھ/1872ء میں قائم کیا… اس مدرسہ کے پہلے مہتمم مرزا غلام قادر بیگ تھے‘‘ (۴)
مولوی محمد حنیف گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں:
’’اس مدرسہ (مصباح التہذیب) کے پہلے مہتمم مرزا غلام قادر بیگ تھے اور مولوی سخاوت حسین‘ سید کلب علی‘ مولوی شجاعت‘ حافظ احمد حسین اور مولوی حافظ حبیب الحسن درس دیتے تھے‘‘ (۵)
ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
’’میں نے جناب مرزا صاحب مرحوم ومغفور (مولانا مرزا غلام قادر بیگ) کو دیکھا تھا۔ گورا چٹا رنگ‘ عمر تقریبا اسی سال‘ داڑھی سر کے بال ایک ایک کرکے سفید‘ عمامہ باندھے رہتے۔ جب کبھی اعلیٰ حضرت کے پاس تشریف لاتے‘ اعلیٰ حضرت بہت ہی عزت و تکریم کے ساتھ پیش آتے‘ ایک زمانہ میں جناب مرزا صاحب کا قیام کلکتہ امر تلالین میں تھا‘ وہاں سے اکثر سوالات کے جواب طلب فرمایا کرتے تھے۔ فتاویٰ رضویہ میں اکثر استفتا ء ان کے ہیں۔ انہیں کے ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت نے رسالہ مبارکہ ’’تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین‘‘ (1305ھ/1887ئ) تحریر فرمایا ہے‘‘ (۶)
اس رسالہ کا ایک ایڈیشن مطبوعہ مطبع اہل سنت و جماعت بریلی‘ بار دوم 1330ھ راقم الحروف (خلیل احمد) کی نظر سے بھی گزرا ہے۔ اور ایک ایڈیشن 1415ھ / 1994ء میں مرکزی مجلس رضا لاہور نے بھی شائع کیا۔
فتاویٰ رضویہ جلد سوئم‘ مطبوعہ مبارک پور (ہندوستان) کے صفحہ 8 پر ایک استفتاء ہے جو مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ نے 21 جمادی الآخر 1314ھ کو ارسال کیا تھا۔
فتاویٰ رضویہ ‘ جلد گیارہ‘ مطبوعہ بریلی (ہندوستان) بار اول کے صفحہ 45 پر ایک استفتاء ہے جو مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ نے کلکتہ دھرم تلا نمبر 1 سے 5 جمادی الآخر 1312ھ کو ارسال کیا تھا۔
مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کے دو فرزند اور دو دختران تھیں‘ دونوں دختران فوت ہوگئیں۔ بڑی دختر کے ایک پسر اور چھوٹی دختر کی اولاد بریلی شریف میں سکونت پذیر ہے۔ فرزند اکبر مولانا حکیم مرزا عبدالعزیز بیگ علیہ الرحمہ اور دوسرے فرزند حکیم مرزا عبدالحمید بیگ علیہ الرحمہ تھے۔
مولانا ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
’’خدا کے فضل سے (مولانا غلام قادر بیگ) صاحب اولاد ہیں۔ ایک صاحبزادہ جن کا نام نامی عبدالعزیز بیگ ہے‘ دینیات سے واقف اور طبیب ہیں… بریلی کی جامع مسجد کے قریب مکان ہے‘ پنج وقتہ نماز اسی مسجد میں ادا کیا کرتے ہیں‘‘ (۷)
مولانا حکیم مرزا عبدالعزیز بیگ پہلے رنگون (برما) میں رہے‘ پھر کلکتہ میں طبابت کی‘ ایام جوانی میں کلکتہ ہی میں سکونت رکھی‘ چنانچہ مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ کبھی کبھی اپنے فرزند اکبر کے پاس کلکتہ تشریف لے جاتے تھے‘ پھر حکیم مرزا عبدالعزیز بیگ آخری ایام میں کلکتہ سے ترک سکونت کرکے بریلی شریف آگئے تھے اور وفات تک اپنے آبائی مکان میں سکونت پذیر رہے۔ آپ بڑے ہی علم و فضل والے‘ عابد ‘ تہجد گزار‘ متقی اور صاحب کرامت بزرگ تھے (۸)
مولانا حکیم مرزا عبدالعزیز بیگ علیہ الرحمہ کا وصال 15/14 شعبان 1374ھ کی درمیانی شب کو بریلی شریف میں ہوا (۹) اور آپ لاولد فوت ہوئے (۱۰)
دوسرے صاحبزادے مرزا عبدالحمید بیگ پہلے ریاست بھوپال میں رہے‘ پھر پیلی بھیت کے اسلامیہ انٹر کالج میں ملازم رہے‘ وہیں آپ کا وصال ہوا‘ مجرد تھے۔
مرزا محمد جان بیگ رضوی کی بیاض کے مطابق مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی کا وصال یکم محرم الحرام 1336ھ / 18 اکتوبر 1917ء کو 90 سال کی عمر میں ہوا اور محلہ باقر گنج واقع حسین باغ بریلی میں دفن ہوئے۔ آپ کے بھائی مرزا مطیع اﷲ بیگ علیہ الرحمہ بھی وہیں دفن ہیں۔(۱۱)
حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب علیہ الرحمہ نے ’’حیات مولانا احمد رضا خاں بریلوی‘‘ مطبوعہ سیالکوٹ اور ’’حیات امام اہل سنت‘‘ مطبوعہ لاہور میں مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی علیہ الرحمہ کا جو سن وفات 1883ء تحریر کیا ہے‘ وہ درست نہیں ہے۔
مرزا غلام قادر بیگ بن مرزا غلام مرتضیٰ
مرزا بشیر احمد بن غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
’’مرزا غلام مرتضیٰ بیگ جو ایک مشہور اور ماہر طبیب تھا۔ 1876ء میں فوت ہوا اور اس کا بیٹا غلام قادر اور اس کا جانشین ہوا۔ مرزا غلام قادر لوکل افسران کی امداد کے واسطے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور اس کے پاس ان افسران جن کا انتقامی امور سے تعلق تھا‘ بہت سے سرٹیفکیٹ تھے۔ یہ کچھ عرصہ تک دفتر ضلع گورداسپور میں سپرنٹنڈنٹ رہا‘ اس کا اکلوتا بیٹا صغر سنی میں فوت ہوگیا اور اس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنیٰ بنالیا تھا‘ جو غلام قادر کی وفات یعنی 1883ء / 1301ھ تقریبا سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا تھا… اس جگہ یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مرزا غلام احمد جو مرزا غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا‘ مسلمانوں کے ایک بڑے مشہور مذہبی سلسلہ کا بانی ہوا‘ جو احمدیہ سلسلہ کے نام سے مشہور ہوا‘‘ (۱۲)
مولوی ابو القاسم رفیق دلاوری دیوبندی لکھتے ہیں:
’’ان دنوں مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے بھائی غلام قادر دینانگر (ضلع گورداسپور) کی تھانے داری سے معزول ہوکر عملہ کے پیچھے جوتیاں چٹخاتے پھرتے تھے‘‘ (۱۳)
مولوی رفیق دلاوری دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’مرزا غلام مرتضیٰ نے 1876ء میں 80 سال کی عمر میں دنیائے رفتنی و گزشتنی کو الوداع کہا۔ ان کی سب سے بڑی اولاد مراد بی بی تھیں‘ جن کی شادی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے بھائی محمد بیگ یعنی بیگم طال عمرہا کے حقیقی چچا سے ہوئی تھی۔ ان سے چھوٹے غلام قادر تھے‘ جنہوں نے اپنی حیات مستعار کے پچپن مرحلے طے کرکے 1883ء میں سفر آخرت کیا۔ ان سے شاہد جنت نامی ایک لڑکی تھی… اور سب سے چھوٹے مرزا غلام احمد صاحب تھے‘‘ (سیرۃ المہدی) (۱۴)
مرزا غلام قادر بیگ کے نام انگریزی حکومت کا ایک مکتوب:
دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہ‘ آپ کا خط 2 ماہ حال کا لکھا ہوا ملاحظہ این جانب میں گزرا
’’مرزا غلام قادر آپ کے والد کی وفات کا ہم کو بہت افسوس ہوا‘ مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریز کا اچھا خیرخواہ تھا اور وفادار رئیس تھا۔ ہم خاندانی لحاظ سے آپ کی اسی طرح عزت کریں گے جس طرح تمہارے باپ کی کی جاتی تھی۔ ہم کسی اچھے موقع کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پا بحالی کا خیال رکھیں گے‘‘
المرقوم 29 جون 1876ء
الراقم سر رابرٹ ایجرٹن صاحب
فنانشل کمشنر پنجاب (۱۵)
سندخیرخواہی مرزا غلام مرتضیٰ ساکن قادیان
’’میں (مرزا غلام احمد قادیانی) ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا‘ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن کی تاریخ ’’رئیسان پنجاب‘‘ میں ہے اور 1857ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کی مدد کی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیات خوشنودی حکام ان کو ملی تھی‘ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں‘ ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات پر میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر‘ خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ الخ
پروفیسر محمد ایوب قادری لکھتے ہیں:
’’یہ تحریر مرزا غلام احمد قادیانی کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ یہ خاندان سرکار برطانیہ کا ہمیشہ وفادار رہا ہے اور 1857ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کے والد غلام مرتضیٰ اور بڑے بھائی مرزا غلام قادر نے سرکار برطانیہ کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے اشتہار ’’واجب الاظہار‘‘ از مرزا غلام احمد قادیانی (قادیان 1897ئ) نیز ’’کشف العطائ‘‘ از مرزا غلام احمد قادیانی‘ (قادیان 1906ئ) (۱۶)
خلاصہ کلام
1۔ ماہ نامہ ’’سنی دنیا‘‘ بریلی‘ مضمون ’’مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی‘‘ مضمون نگار‘ مرزا عبدالوحید بیگ‘ شمارہ جون 1988ء ص 37
2۔ مولانا ظفر الدین بہاری‘ حیات اعلیٰ حضرت‘ مطبوعہ کراچی‘ ج 1ص 32
3۔ مولانا عبدالمجبتیٰ رضوی‘ تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ‘ مطبوعہ لاہور 1989ء ص 394
4۔ پروفیسر محمد ایوب قادری‘ مولانا محمد احسن نانوتوی‘ مطبوعہ کراچی 1966ء ص 82
5۔ مولوی محمد حنیف گنگوہی‘ ظفر المحصلین باحوال المصنفین‘ مطبوعہ کراچی 1986ء ص 295
6۔ مولانا ظفر الدین بہاری‘ حیات اعلیٰ حضرت ‘ مطبوعہ کراچی‘ ج 1ص 32
7۔ مولانا ظفر الدین بہاری‘ حیات اعلیٰ حضرت ‘ مطبوعہ کراچی ج 1‘ص 32
8۔ ماہنامہ ’’سنی دنیا‘‘ بریلی‘ شمارہ جون 1988ء ص 40
9۔ مولوی عبدالعزیز خان عاصی (متوفی 14 اپریل 1964ئ) تاریخ روہیل کھنڈ و تاریخ بریلی‘ مطبوعہ کراچی 1963ء ص 299-300
10۔ ماہنامہ سنی دنیا‘ بریلی‘ شمارہ جون 1988ء ص 40
11۔ ماہنامہ سنی دنیا‘ بریلی شمارہ جون 1988ء ص 40
12۔ سیرت المہدی‘ مطبوعہ قادیان ضلع گورداس پور (مشرقی پنجاب‘ انڈیا) 1935ء ص 135
(نوٹ): 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں احمدیہ سلسلہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔
13۔ مولوی ابوالقاسم محمد رفیق دلاوری‘ رئیس قادیان‘ مطبوعہ مجلس ختم نبوۃ حضوری باغ روڈ ملتان 1337ھ/ 1977ء جلد اول‘ ص 11
14۔ مولوی ابوالقاسم محمد رفیق دلاوری‘ رئیس قادیان‘ مطبوعہ ملتان 1977ء ج 1‘ص 11
15۔ مرزا بشیر احمد بن غلام احمد قادیانی‘ سیرت المہدی‘ طبع قادیان 1935ء حصہ اول‘ ص 134
ایضا: پروفیسر محمد ایوب قادری‘ جنگ آزادی 1857ء مطبوعہ کراچی 1976ء ص 512
16۔ پروفیسر محمد ایوب قادری‘ جنگ آزادی 1857ء مطبوعہ کراچی 1976ء ص 508-509