خطیب اعظم مولانا محمد شفیع اوکاڑوی

in Tahaffuz, August 2010, شخصیات

اہل پاکستان اس اعتبار سے بڑے خوش سمت ہیں کہ انہیں ہردورمیں اپنے رہنما میسر ہوئے جنہوں نے اپنے کرداروعمل سے وطن وملت کیلئے ناقابل فراموش کرداراداکیا ان ہی میں سے ایک نامور شخصیت خطیب بے بدل عالم باعمل مولانامحمد شفیع اوکاڑوی ہیں‘آپ2فروری 1929ء کومشرقی پنجاب کے ایک دیندارتاجر گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کے آبائواجداد صدیوں سے قبل یمن سے تجارت کی غرض سے زمین ہندآئے اور یہی آباد ہوگئے۔
آپ نے بحیثیت طالب علم اپنے پیرومرشد کے ہمراہ تحریک پاکستان میں حصہ لیا آپ کے پیرومرشدحضرت پیر میاں غلام اللہ مشرقی پوری المعروف ثانی صاحب برادر شیرربانی میاں شیر محمد شرق پوری سلسلہ نقشبندیہ مجدیہ تھے آپ1947ء میں ہجرت کرکے پاکستان(اوکاڑا) آگئے ۔دارالعلوم اشرف المدارس اوکاڑا کے شیخ الحدیث مفسرقرآن علامہ غلام علی اوکاڑوی اوردارالعلوم  انوارالعلوم ملتان کے شیخ الحدیث غزالی دوران علامہ سید احمد سعید کاظمی سے تمام علوم اوردرس نظامی کی تکمیل پراسناد حاصل کیں۔
جامع مہاجرین ساہیوال میں نماز جمعہ کی خطابت شروع کی اور برلائی اسکول اوکاڑہ میں شعبہ اسلامیات کے انچارج رہے‘1952ء اور53کی تحریک ختم نبوت(مولوی قاسم کی متنازعہ عبارت جس میں کہاگیا کہ اگرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوء ینبی آجائے توختم نبوت پرکوئی اثر نہیں پڑتا۔
جب مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا تواسی عبارت کودلیل کے طورپرلے آیا پھرعلماء ومشائخ واہلسنّت نے تحریک چلائی جس کے نتیجے میں1973ء میرقادیانی گرو ہ اقلیتی قراردیاگیا۔
میں بھرپور حصہ لیا آپ کاپنجاب کی سرکردہ شخصیات میں شمار تھاآپ کودوران تحریک جیل میں بند کردیاگیا‘دس ماہ ساہیوال جیل میں اسیر رہے‘ اسی دوران آپ کے دوفرزند تنویر اورمنیر احمد جن کی عمریں بالترتیب تین سال اورایک سال تھی انتقال کرگئے بچوں کے انتقال کے سبب کچھ بااثر لوگوں نے ڈپٹی کمشنر ساہیوال سے سفارش کی کہ آپ کورہا کردیاجائے‘ڈپٹی کمشنر نے جیل میں مولانا سے علیحدہ ملاقات کی اور کہاکہ بچوں کی وفات کی وجہ سے آپ کے گھر کے حالات ٹھیک نہیں میرے پاس بہت سی سفارشیں ہیں آپ معافی نامے پردستخط کردیں آپ کامعافی نامہ عوام سے پوشیدہ رکھاجائیگا اور آپ کوآج ہی رہاکردیاجائیگا۔
آپ نے جواب میں کہاکہ میں نے ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جدوجہد کی ہے میرا عقیدہ ہے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں لہٰذ معافی مانگنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ بچے تو اللہ تعالیٰ کوپیارے ہوگئے اگرمیری جان بھی چلی جائے تب بھی اپنے عقیدے پرقائم رہونگا۔
آپ کے عزم کودیکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر برہم ہوگیا اورمزید سختی کی گئی آپ کودفعہ تین کے تحت نظر بندکردیاگیاملاقات وغیرہ پرپابندی لگادی گئی آپ نے صبر واستقلال سے تمام صعوبتیں برداشت کیں‘1955ء میں اہل کراچی کی دعوت پر کراچی تشریف لے آئے نئی تعمیر ہونیوالی سب سے بڑی مسجد نیو میمن بولٹن مارکیٹ کے خطیب وامام مقررہوئے۔
میمن مسجد کی امامت وخطابت کے بعد تقریباً تین سال جامع مسجد عید گاہ ایم اے جناح روڈ اوردوسال جامع مسجد آرام باغ اور بارہ سال نورمسجدنزد جوبلی سینما میں بلامعاوضہ خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
آپ کے خطابات عملی ذخائر سے بھرے ہوتے اورمشکل سے مشکل مسائل کواشعا روحکایات  کے سہارے آسان بنادیتے اوریہ گویا آپ کاکمال تھاآپ کی شیریں کلامی سننے والوں کے دلوں کو بھاتی تھی۔
بلکہ اقبال کی زبان یں من کوموہ لیتی تھی۔
صرف گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی تھے اپنے جوش خطابت میں بھی سلسلہ بیانی میں ربطہ رکھنے میں جوگرفت اورملکہ آپ کوحاصل تھا وہ آپ ہی کاخاصاہے۔
اورآج بھی خطباء وعلماء بننے والوں کیلئے مولانا محمدشفیع اوکاڑوی ایک انسٹیٹیوٹ (تربیت گاہ) کادرجہ رکھتے ہیں۔
آپ مسلسل چالیس سال تک تقریر فرماتے رہے
مولانا کی علمی استعدادحسن بیان خوش الحانس اورشان خطابت نہایت منفرد اورہردلعزیز تھی ماہ محرم کی مجالس اور خصوصاً شب عاشورہ میں پاکستان کاسبس ے بڑا اجتماع مولانا اوکاڑوی کے خطابت کاہوناتھا اہلبیت سے محبت والفت دیدنی تھی امام عالی مقام رضی اللہ عنہ اورآپ رضی اللہ عنہ کے رفقاء کے حوالے سے ان کے خطابات اوربیانات کوشہرہ آج بھی زندہ ہے۔
خطیب اعظم مولانا اوکاڑوی کواہلسنّت ہی نہیں بلکہ دیگر مکاتب فکر کے لوگوں میں بھی احترام کی نگاہ سے دیکھاجاتارہاہے۔
بھارت کے شیعہ ذاکر کلب صادق کے مطابق لکھنو کے گلی کوچوں میں محرم کاآغاز ہوتے ہی خطیب پاکستان کی آوازمیں فضائل ومناقب اہل بیت سے آج بھی گونجتی ہیں۔
تبلیغ دین کیلئے مولانا صاحب نے مشرقی وسطی کی ریاستوں ‘فلسطین‘ جنوبی افریقہ‘ ماریشس‘بھارت اوران کے علاوہ کئی ممالک کے دورے کئے۔
آپ کی عالمانہ تحقیقی فقہی بصیرت اورعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرمبنی متعددتصانیف ہیں ہرکتاب کے کئی کئی ایڈیشن شائع ہوئے اورآج بھی شائع ہورہے ہیں ان میں سے چند کتابیں یہ ہیں(1)سیرت رسول عبی علیہ الصلوہ وسلام پرلکھی گئی کتاب ذکر جمیل‘ذخرحسین دوحصے‘درس توحید‘شام کربلا‘امام پاک اوریزیدپلید‘برکات میلاد‘تعارف علماء دیوبند‘جہاد وقتل‘ مسئلہ یسر20تروایح ان کے علاوہ کئی اورکتابیں آپ نے تحریر کیں ان میں سے بعض کتابیںا نگریزی زبان میں بھی دستیاب ہیں۔
1956میں خطیب نے عظمت مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اورنظام مصطفےﷺ کی نفاذا ورعوام اہلسنّت ے حقوق کی پاسداری کیلئے جماعت اہلسنّت پاکستان قائم کی اس جماعت کے بانی اور پہلے مرکزی امیر ہوئے جماعت اہلسنّت اس وقت پوری دنیا میں اہلسنّت کی پہچان ہے۔
1964ء میںPECH سوسائٹی میں مسجد غوثیہ سے ملحق ایک دارالعلوم قائم کیا جوکہ جامع حنفیہ غوثیہ کے نام سے مشہور ہے۔
1965کی پاک بھارت جنگ کے موقع پرآپ نے ملک گیر دورے کئے اورفوجی دفاعی فنڈ میں خودہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے جمع کرائے تقاریر کے اجتماعات کے توسط سے لاکھوں روپے مالیت کاسامان واجناس جمع کیا‘ علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ متاثرہ علاقوں میںر وانہ ہوئے اورخود آپ نے ہاتھوں سے سامان تقسیم کیا۔
سیاسی میدان میں بھی اپنالوہا منوایا‘علامہ خواجہ قمر الدین سیالوی صدر جمعیت علماء پاکستان کی قیادت میں1970 کے انتخابات میں حصہ لیا بحیثیت ممبرقومی اسمبلی کامیاب قرارپائے‘آپ کی خطابت اورخدمت دین کی بدولت کراچی میں کئی افراد قومی اور صوبائی اسمبلی میں کامیاب ہوئے۔
1972ء میں سولجربازار میں ایک زمین جوکہ گزشتہ کئی سالوں1906ء سے مسجد کے لئے وقف تھی مولانا اوکاڑوی نے تعمیر مسجد کی بنیاد رکھی اور ساتھ ہی دارالعلوم بھی قائم کیا یہ مسجد ودارالعلوم جامع مسجد گلزارحبیب کے نام سے مشہور ومعروف ہے2006ء میں صاحبزادہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے جامع مسجد کے سوسال مکمل ہونے پریادگاری محلہ الخطیب شائع کیا۔
مولانا شفیع اوکاڑوی مجلس شوریٰ کے رکن نامزد ہوئے اور اسلامی قوانین خے تقریر کے لئے نمایاں خدمات انجام دیں اس کے علاوہ وزارت مذہبی امور کی قائم کمیٹی کے رکن‘ مرکزی محکمہ اوقاف کے نگران اعلیٰ قومی سیرت کمیٹی کے رکن اوریونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے رکن بھی رہے‘ آپ نے سنی تبلیغی مشن انجمن محبان صـحاب واہلحدیث تنظیمہ آئمہ خطباء ومساجد اہلسنّت انجمن محبان صـحابہ واہلبیت تنظیمہ آئیمہ خطباء ومساجد اہلسنّت اورقرآن وسنت کی عالمگیر تبلیغی جماعت دعوت اسلامی کے قیام وانصرام میں اہم کردادا کیااورآپ ہی کی مسجد گلزارحبیب سے مرکزی اجتماعات کاآغاز ہوا‘ آپ نے چالیس سال تک ہزاروں‘ اجتماعات سے خطابت فرمایا‘مولانا اوکاڑی نے سولہ مرتبہ سفر حج اورزیارت مدینہ منورہ کی سعادت حاصل کی‘دنیا بھرمیں تین ہزار سے زائدافراد نے آپ کے ذریعہ سے اسلام قبول کیا‘1974ء میں عارضہ قلب کی شکایت ہوئی مگر خاطرخواہ توجہ نہ کی گئی تبلیغی مشن میں مصروف عمل رہے 1975ء میں دوسری مرتبہ دل کادورہ پڑا‘1984ء ھ بمطابق 24اپریل1984ء کی صبح 55 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔
25اپریل کونشترپارک کراچی میں غزالی زمان علامہ احمد سعید کاظمی کی امامت میں  لاکھوں افراد کی موجودگی میں خطب اعظم کی نماز جنازہ ادا کی اوراسی دوران گلزارحبیب مسجد کے احاطہ میں آپ کودفن کیاگیا آپ کے صاحبزادے وجانشین خطیب ملت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کے مشن کواحسن انداز میں آگے بڑھارہے ہیں۔