قارئین کرام :گزشتہ قسط میں تبلیغی جماعت کے ہمنوا قادیانیوں کے بارے میں آپ نے جسٹس کرم شاہ ازہری کاتبصرہ ملاحظہ کیا اب آپِ جناب محمد حیا ت خان کاقادیانیت پرشاندارہ تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔
مذہب اسلام کے دوبنیادی اصول اللہ تعالیٰ کی وحدانیت  اورآنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پراعتقادرکھنا ہیں‘اسلام نے آکربنی  آدم کوبتایا کہ اصل مستحق عبادت کون ومکان کاپروردگار اورمالک وحاکم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں اورجوضابطہ حیات آپ نے دنیا کے سامنے کتاب ووحی الہٰی کے ذریعہ پیش کیا وہی صحیح اوردرست ہے اورانسانوں پر لازم ہے کہ اپنی فلاح  کے لئے اس پرعمل کریں‘تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے عروج وظاہری وباطنی کاراز ان دوبنیادی اصولوں پرعمل کرنے ہی میں مضمرتھا‘مخالفین اسلام اس بات کواچھی طرح سمجھتے تھے چنانچہ مسلمانوں کونیچا دکھانے کیلئے انہوں نے جو قدم اٹھائے ان میں سب سے پہلا انہی دو اصولوں کوہدف بناناتھا پہلے اصول کی مخالفت میں توانہیں چنداں کامیابی حاصل نہ ہوسکی کیونکہ اس اصول کے متعلق تبلیغ اسلام کااثر ہمہ گیر ہوچکاتھا اورانسانی ذہن اس حد تک نشوونماپاچکاتھا کہ معبود ان باطلہ اورمعبود حقیقی میں تمیز کرسکے اسے معبود حقیقی پرایمان رکھنے سے ہٹاکرمعبود ان باطلہ کی طرف لانا کوئی آسان کام نہ تھا‘اندریں حالات مخالفین نے اپنی تمام تر کوششیں اس بات پرمرکوز کردیں کہ اسلامی ایمان کے دوسرے ستون یعنی رسالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومتنزلزل کیاجائے اورجووالہانہ عقیدت اورمحبت مسلمانوں کوآپﷺ کی ذات مبارک سے تھی اس میں جس طرح بھی ہوسکے کمی کی جائے‘ ان کایہ خیال بھی کہ اس محاذ پرکامیابی سے انہیں اوّل الذکراصول پرخودبخودکامرانی حاصل ہوجائیگی‘ کیونکہ دنیا کواس اصول سے متعارف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی نے ہی کروایاتھااور آپﷺ کی رسالت کے اصول سے متزلزل ہونااورتوحید کے اصول سے ہٹ جانا گویالازم وملزوم تھے۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے فوراً بعد کاذب نبیوں کی ایک کثیر جماعت نے جزیرہ عرب میں سراٹھایا مگرخلیفہ اوّل کے بروقت اورسخت اقدامات کی وجہ سے ان سب کی سرکوبی ہوئی اور کوئی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا‘اس کے بعداگرچہ انفرادی طورپرمدعیان نبوت پیدا ہوتے رہے مگرزمانہ پرکوئی معتدبہ اثرڈالے بغیر دنیا سے اٹھ جاتے رہے منظم طریقہ سے اس اصول پرمحاذ آرائی تقریباً مفقود رہی تاکہ تیرہویں صدی ہجری میں مسلمانوںکاظاہری وباطنی تنزل تیزی سے شروع ہوا اوراس کے برعکس دوسرے عقائد والی قومیں ماوی لحاظ سے ابھرنا شروع ہوئیں اوررفتہ رفتہ تمام دنیا پرچھاگئیں اپنے اس ارتقا کی وجہ سے انہیں اسلام کے اصولوں پرکاری ضرب لگانے کے مواقع میسر آگئے کیونکہ مادی انحطاط کے ساتھ ساتھ مسلمانوں ذہنی انحطاط کابھی شکار ہوچکے تھے اورمخالفین کواپنے عزائم میں کامیاب ہونے کاا س سے بہتر  موقع نہیں مل سکتا تھا۔
مسلمانوں کے اس دورابتلا میں سرزمین ہند میں حکومت برطانیہ کے زیر اثر اس فتنہ نے سراٹھایا جوبعدمیں قادیانیت اور مرزائیت کے نام سے مشہو رہوا‘یہاں پرضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس فتنہ کے متعلق مختصر ساتبصرہ ہدیۂ ناظرین کیاجائے تاکہ اس بات صحیح اندازہ ہوسکے کہ اس فتنہ سے دنیائے اسلام کس درجہ کے ذہنی اوردینی تفرقہ کے خطرۂ عظیم سے دوچارہوئی۔ علمائے وقت نے اس فتنہ کوفروکرنے میں کتنا بڑا کارنامہ انجام دیا اوراس میں حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف کاکردار کتنا اہم اورعظیم الشان تھا۔
یہ تحریک قادیانیت حکومت برطانیہ کی سرپرستی میں شروع ہوئی اوراس کااصل مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کونشانہ بناکرمسلمانوں کے دلوں سے آپﷺ کی قدرومنزلت کونکالنا اوردین اسلام کے ارشادات اوران کے مطالب میں اس طرح کاردوبدل کرنا تھاکہ مخالفین کواپنے عزائم کی تکمیل میں امداد مل سکے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی ایک امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ آپﷺ کے بعدرسالت کاسلسلہ ختم کردیاگیا تھا‘آپﷺ مسلمہ طورپراللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں  اورآپﷺؐ کی شریعت اس دنیا کے لئے خدا کی آخری شریعت ہے ‘اس شریعت میں اتنی وسعت رکھی گئی ہے  کہ قیامت تک کے لئے پیش آنیوالے انسانی مسائل کاحل اس میں موجود ہے‘آپﷺ کے آخری نبی ہونے کی خبر قرآن کریم میں نہایت وضاحت اورغیر مبہم الفاظ میں دی گئی ہے۔
محمدصلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اورسب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں(ا حزاب۴۰)
اورمتعدداحادیث مبارکہ سے اس کی تائید ہوتی ہے مثلاً صحیح مسلم میں بروایت سعد رضی اﷲ عنہ حدیث طویل کے ضمن میں مذکورہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(حضرت علی رضی اﷲ عنہ ) سے فرمایا کیاتم اس بات پرراضی نہیں ہوکہ میرے ساتھ ایسے ہوجیسے موسیٰ کے ساتھ ہارون لیکن نبوت کالقب تمہیں نہیں مل سکتا ‘میرے بعد نبوت نہیں۔
مسلمانوں کے سارے مکاتب فکر ختم نبوت کے مسئلہ پراس وقت تک کاملاًمتفق تھے جب تک بانی قادیانیت نے اپنے نبی ہونے کادعویٰ نہیں کیا اس کی ابتداء بھی انہوں نے عجیب اندازمیں کی قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات کے سلسلہ میں یہ ذکر ہے کہ ان کویہودیوں نے سولی پرچڑھادیا اوریہ سمجھ لیا کہ وہ وفات پاگئے مگر وہ غلطی پرتھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پراٹھالیا‘ یہ تذکرہ سورۃ النساء میں ان الفاظ میں ہے۔
اوروہ کہتے ہیں ہم نے مسیح ابن مریم رسول اللہ کوقتل کردیا‘حالانکہ انہوں نے نہیں قتل کیااورنہ ہی صلیب پرچڑھایا مگراس کی شبیہ کو اورجوا اس میں اختلاف کرتے ہیں وہ بھی بے خبر ہیں ان کے پاس سوائے ظن کے اورکوئی دلیل نہیں انہوں نے ہرگزاسے قبول نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنے پاس اٹھالیا اور خدا غالب ہے حکمت والا۔ (النسائ۔۱۵۷۔۱۵۸)
صحیح مسلم کی احادیث مقدس میں آثارقیامت کے بیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ارشادات موجود ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قیامت سے کچھ عرصہ پہلے دنیا میں شروروفسادات بے انتہا ہونگے اوردجال نامی ایک شخص کاظہور ہوگا۔ جواپنے جادو اورشیطانی قوتوں کی امداد سے ایک وسیع قطعہ زمین پرقبضہ کرلے گا اورایمان رکھنے والوں پردائرہ حیات تنگ کردے گا اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے قریب آسمان سے اتریں گے اس حال میں کہ آپ کے دونوں ہاتھ دوفرشتوں کے کندھوں پرہونگے آپ آکردجال کوقتل کریں گے اوردنیا میں اسلام‘ایمان اورامن کابول بالاکریں گے اورپھر سات سال یہاں زندہ رہنے کے بعد وفات  پاکر مدینہ شریف میں حرم پاک میں دفن ہونگے آپ کے ظہور سے پہلے بنی فاطمہ میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کانام محمد ہوگا اورلقب مہدی وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ظہور کے وقت ان کا استقبال کرے گا اور پہلی نماز یہ حضرات ملکر پڑھیں گے ‘اس میں وہ عیسی علیہ السلام کی قیادت میں دنیا کفر والحاد کے اثراث سے پاک کرنے میں امداد دے گا۔
چونکہ ان احادیث مبارکہ میں صحیح سال کاتعین نہیں ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کئی ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے مہدی ہونے کادعویٰ کیامگر اس کے کہ وہ کسی عیسیٰ علیہ السلام کااستقبال کرتے جو وہ خود اس دنیا سے اٹھ جاتے رہے بانی قادیانیت نے ان مدعیان سے ذرا مختلف طریقہ اختیار کیا سب سے پہلے انہوں نے علمائے سلف کے اس عقیدہ کوغلط بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پراٹھائے گئے تھے اور وہی پھرزمین پرواپس آئیں گے‘ان کے نظریہ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ میں انتقال فرماگئے تھے اورقیامت سے پہلے  ظاہر ہونے والا شخص محض مثیل مسیح ہوگا ‘اس نظریہ کی اشاعت کے ساتھ ہی اس مثیل مسیح ہونے کادعویٰ کرکے خود کومسیح مدعود قراردیدیا‘ اس ابتداء سے وہ ظلی نبوت کی طرف بڑھنے اوربالاآخر اپنے اصلی نبی ہونے کااعلان کرکے امت مسلمہ کے اس اعتقاد پرضرب لگائی جس سے وہ تیرہ سو سال سے مکلف تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نہیں آئیگا۔
اب مرزا صاحب کے اس ارتقائے روحانی اوران کی تعلیمات کی تفصیل اجمالاً دی جاتی ہے۔
بانی قادیانیت اوران کی ابتدائی زندگی
تحریک قادیانیت کے بانی کانام مرزا غلام احمد تھا وہ برٹش انڈیا میں صوبہ پنجاب کے ضلع گورداسپورکے موضع قادیان میں ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوئے ان کے والد کانام غلام مرتضیٰ تھاجوسمرقندی مغل گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ان کاپیشہ طبابت اور زمیندارتھا ‘مرزا غلام احمد علوم مروجہ عربی‘فارسی اورطب کی تحصیل سے فارغ ہوکر۱۸۶۴ء میں ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے دفترمیں بطور اہل مدقریباً چارسال ملازمت کرتے رہے بعد ہ ملازمت چھوڑ کراپنے والد کاہاتھ بٹانا شروع کردیا ساتھ ساتھ مذہبی کتب کامطالعہ بھی جاری رکھا اورمذہبی مناظرات وغیرہ میں حصہ لیتے رہے جہاں تک معلوم ہوسکا ہے ان کے آباواجداد حنفی المذاہب مسلمان تھے اورخود مرزا صاحب بھی اپنی اوائل زندگی میں انہی کے قدم بہ قدم چلتے رہے اس وقت تک مرزا صاحب کے عقائد وہی تھے جو ایک صحیح العقیدہ سنی مسلمان کے ہونے چاہئیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کے بھی اس قدر قائل تھے جیسے دیگر مسلمان ان ایام میں مرزاصاحب حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے رفع آسمانی اور نزول کے عقیدہ پربھی ایمان رکھتے تھے۔
مثیل مسیح ہونے کادعویٰ
۱۸۵۷کی جنگ آزادی کے بعد اپنے سیاسی بالادستی کھودینے کی وجہ سے مسلمان سخت ذہنی پریشانی اورمایوسی کاشکار ہوچکے تھے اوراپنے اضمحلال سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ہرطرف منظر آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ کب کوئی مردخدآن کر انہیں اس ابتلا سے نجات دلائے‘اس تذبذب اوراضطراب کے زمانہ میں مسلمانوں کے ذہن پر جونفسیاتی کیفیت طاری تھی مرزاصاحب کوان کے رفیق حکیم نوردین نے اس سے فائدہ اٹھانے کامشورہ دیا ان کاخیال تھاکہ اگروہ خود کومثیل مسیح کالبادہ اوڑھ کرقوم کے سامنے پیش کریں تو ساری قوم دل وجان سے ان کاخیر مقدم کرے گی اوروہ احیائے ملت کے لئے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے سکیں گے۔
مرزا صاحب نے اپنے پیروکارحکیم نوردین کے مشورہ پرعمل کرتے ہوئے سب سے پہلے مثیل مسیح ہونے کادعویٰ کیا اورکہا۔
مجھے مسیح ابن مریم ہونے کادعویٰ نہیں اورنہ میں تناسخ کاقائل ہوں بلکہ مجھے توفقط مثیل مسیح ہونے کادعویٰ ہے جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے ایساہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے مثابہت رکھتی ہے
(اشتہارمندرجہ تبلیغ رسالت جلد دوم مولفہ میر قاسم علی قادیانی)
مثیل مسیح سے مسیح موعود
مرزا صاحب اپنے اس دعوے مثیل مسیح پرزیادہ عرصہ قائم نہ رہے بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھے اور سب سے پہلے حیات مسیح کے عقیدہ کوغلط بتاکروفات مسیح کااعلان کیا اورپھر اپنے مسیح موعود اورمہدی معہود ہونے کااعلان ان الفاظ میں کیا۔
میرا دعویٰ  یہ ہے کہ میں تو وہ مسیح ہوں جس کے بارے میں خدا ئے تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں اوروہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا تحفۂ گولڑویہ)
اب اعلانات کے بعد احادیث نزول مسیح کے مختلف پہلوئوں کواپنی ذات پردرست ثابت کرنے کیلئے مرزا صاحب نے استعارہ  اورتاویل سے کام لیا جیساکہ پہلے بیان کیاجاچکا ہے مسلم کی احادیث کے مطابق مسیح  موعود کی تشریف آوری ان حالات میں ہونی تھی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کانزول ملک شام یعنی دمشق میں شرقی منارہ پرہوگا۔
نزول کے وقت دوزردرنگ کی چادریں پہن رکھی ہوں گی‘
مسلمانوں کاامام ان سے نما زپڑھانے کی درخواست کرے گا تو فرمائیں امامکم منکم(تمہارا امام نماز تم میں سے ہے)اورصحیح اورمتواتر احادیث سے واضح ہے کہ یہ امام حضرت مہدی علیہ السلام ہونگے جوبنی فاطمہ  میں سے ہونگے۔
مرزاصاحب نے ان شرائط کی تکمیل اپنی ذات کے متعلق کی اوراپنی مسجد کو مسجد اقصیٰ اوراپنی ذات کوجناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامثیل ظاہرکیا۔
مسیح موعو دہونے تک
مرزاصاحب اپنے مسیح مودعو ہونے کے دعوے پرتقریباً دس سال قائم رہے اورپھر ختم نبوت کے معروف اسلامی نظریہ کو جس کے وہ خود بھی معتقد رہے تھے‘غلط قرار دیکر نومبر۱۹۰۱ء میں اپنی نبوت کااعلان کردیا۔
اپنے اس دعویٰ کے بعد مرزاصاحب کچھ عرصہ تک اپنے آپ کوظلی نبی ظاہر کرتے رہے ان کے کہنے کے مطابق اگرچہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کادروازہ کھلاتھا مگر نبوت صرف آپ ﷺ کے فیضان سے ہی مل سکتی تھی نہ کہ براہ راست جیسا کہ پہلے زمانہ میں ہواکرتاتھا‘یعنی آپﷺ کے بعد ایسے انبیاء پید اہونگے جن کی نبوت کی تصدیق آپﷺ اپنی مہر سے فرمائیں گے‘ ان انبیاء کی نبوت کامعیار آپﷺ کے نقش قدم پرچلنا اورآپﷺ کی شریعت کوقائم کرناہوگا۔
کچھ عرصہ اسی طرح ظل رہنے کے بعد مرزاصاحب آخراس منزل پرپہنچ گئے جس کے تصور سے کاملین بھی کانپتے تھے یعنی انہوں نے مستقل صاحب شریعت نبی اورخاتم النبین ہونے کادعویٰ کردیا اوران کے شبدیز قلم نے اس ادب گاہ کوبھی پھلانگ جانے کی جسارت کی جس کے نزدیک پھٹکنے سے نہ صرف جبرائیل علیہ اسلام کے پرجلتے تھے بلکہ مشائخ عظام کوآزادی سے سانس تک لینے کی جرأت نہ تھی۔
ادب گاہیست زیرآسماں ازعرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید وبایزیدآں جا
اپنی تصنیف حقیقت الوحی میں قرآن کریم کی وہ آیات جوآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازل ہوئی تھیں انہیں اپنی طرف منسوب کرکے اپنی ذات کوان کامصداق ظاہر کیا۔
مستقل نبوت کالبادہ اوڑھنے کے بعد یہ ضروری تھا کہ اس کے دیگر لوازمات بھی سامنے لائے جاتے چنانچہ مرزا صاحب نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ ان پروحی نازل ہوتی ہے اوروحی سے کہیں زیادہ الہامات تھے جو مرزاصاحب نے اپنے دعاوی کے ثبوت پیش کئے مرزاصاحب کے بہت سے الہامات پیش گوئیوں کی شکل میں ہیں جنہیں وہ اپنی صداقت کامعیار اورنشان قراردیتے رہے۔
مرزاصاحب اورقرآن وحدیث
قطعی نبی بننے اورصاحب وحی والہام ہونے کے دعویٰ کے بعد مرزا صاحب نے اپنی توجہ قرآن وحدیث کی طرف بڑھائی تاکہ ان میں اپنے مقصد کے حصول کے لئے ضروری ردوبدل کیاجاسکے بقول ان کے خدا نے مجھے مسیح مو عود بناکر بھیجاہے اورمجھے بتلایا ہے کہ فلاں حدیث سچی ہے اورفلاں جھوٹی اورقرآن کے صحیح معنوں سے مجھے اطلاع بخشی ہے(اربعین نمبر۴)اور
جوشخص حکم ہوکرآیا ہے اس کواختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کوچاہے خدا سے علم پاکرقبول کرے اورجس ڈھیر کوچاہے خدا سے علم پاکر ردکردے(تحفہ گولڑویہ)
قرآن وحدیث کے مطالب کوبدل ڈالنے کے اس خود ساختہ اختیار کومرزا صاحب نے مسلمانوں سے ہر مسئلہ پراختلاف کھڑا کرنے کے لئے استعمال کیا وہ نہ صرف امت محمدیہ کے مذہبی عقائد اوردینی نظریات ہی سے الگ ہوئے بلکہ اس کی اکثر وبیشتر قومی اقدار اورملی تقاضوں سے بھی علیحدگی اختیا رکرلی۔
اگروہ تمام مسائل یہاں بیان کئے جائیں جن میں مرزاصاحب نے امت مسلمہ سے اختلاف کیا تواس کے لئے کئی جلدیں درکارہونگی ان میں سے مختصر صرف چند ایک بطور نمونہ درج کئے جاتے ہیں۔
۱۔نزول ملائکہ
مرزاصاحب نے فرشتوں کوارواح کواکب قراردیا ہے ایام الصلح میں تحقیق فرمایا کہ فرشتے اگرزمین پرنازل ہوں توآسمان سے ستارے گرجائیں۔
۲۔روح انسانی
بروئے قرآن روح عالم امر سے ہے اورعالم امران موجودات کانام ہے جو حس اورخیال اورجہانت اورمکان سے ماورا ہیں لیکن مرزا صاحب نے اپنی تقریر جلسہ مذاہب لاہور مورخہ۲۷ دسمبر۱۸۹۶ء میں انسانی روح کے متعلق تحریر کیا ہے‘ ہم روزمشاہد ہ کرتے تھے کہ گندے زخموں میں ہزار ہا کیڑے پڑجاتے ہیں سویہی بات صحیح ہے کہ روح ایک لطیف نور ہے جو اس جرم کے اندر ہی پیدا ہوجاتا ہے جو رحم میں پرورش پاتا ہے اورجس کاخمیرابتداء سے نطفہ میں موجود ہوتاہے۔
۳۔یوم الدین کے متعلق کہا
اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے زمانہ کانام یوم الدین رکھا کیونکہ اس زمانہ میں دین کوزندہ کیاجائیگا۔
حالانکہ قرآن حکیم میں جانجا یوم الدین کے معنی روز قیامت کے لئے گئے ہیں۔
۴۔جہالت بالسیف
مرزاصاحب نے اس زمانہ میں جبکہ عیسائی حکومتیں خصوصاً انگلستان‘ فرانس اورروس اسلامی سلطنتوں کوتہہ  وبالا کررہی تھیں جہاد بالسیف کوتمام مسلمانوں پرحرام قرار دیا  اور اہل اسلام احادیث کے حوالہ سے جس مہدی اورمسیح کے منتظر تھے انہیں خونی مہدی اورخونی مسیح کہا(تبلیغ رسالت جلد نہم)
۵۔معراج جسمانی
مرزاغلام احمد ازالہ اوہام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج جسمانی کے متعلق لکھتے ہیں کہ معراج (معاذ اللہ) اس جسم کثیف  سے نہ تھی بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کاکشف تھا اوراس قسم کی کشفوں میں مؤلف (یعنی مرزا صاحب )خود صاحب تجربہ ہے۔
۶۔احترام انبیاء
عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں کئی طرح کے نازیبا کلمات استعمال کئے اورمسلمانوں سے کہا کہ میں عیسائی ناظرین کے مقابلے میں ان کے یسوع مسیح کے متعلق بات کررہاہوں جو ایک معبود باطل اورفرضی شخصیت ہے لیکن حضرت عیٰسی علیہ السلام نبی کے متعلق بات کرتے توبھی اندازگفتگو کچھ زیادہ مختلف نہ ہوتا(دافع البلاء مولف مرزاصاحب)
۷۔آل نبی کااحترام
مرزاصاحب نے اپنی تصنیفات اوراشتہارات میں جابجا اپنے آپ کو آل نبی وارث رسول اللہ اورجناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاروحانی بیٹاثابت کرنے کی اور اس سعی میں آل محمد صلبی اورخونی رشتہ کومقابلہ کم مرتبہ و کم پایہ دکھانا چاہا۔
۸۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورخلفائے راشدین کے متعلق قادیانیوں کی زبان درازی
مرزاصاحب کے اپنے ارشادات دربارۂ ائمہ اہل بیت اورصـحابہ کرام اس قدر ثقیل ہیں کہ انہیں مصلحتاً یہاں درج نہیں کیاجاتا۔
تمام امت محمدیہ پرکفر کافتویٰ
مرزاصاحب کے بتدریج ارتقائے نبوت کی داستان  مختصر اوپر بیان کی جاچکی ہیں احادیث مقدسہ کے مطابق مسیح موعود کے ظہور کے بعد تمام دنیا کے انسانوں نے  اسلام کی حقانیت کوتسلیم کرناتھا جن میں عیسائی‘ یہودی اورتمام دیگر عقائد رکھنے والے انسان بھی شامل ہونگے مگرمرزا صاحب نے جب دیکھاکہ ان کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کی تعداد بہت کم ہے توانہوں نے اپنے تمام نہ ماننے والوں کوکافرقراردیدیا۔فرمایا۔
خدائے تعالیٰ نے میرے اوپر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔
ارشاد مرزاصاحب مندرجہ رسالہ‘الذکر الحکیم نمبر4)
قادیانیت کے پس پردہ کارفرماقوتیں
یہ اندازہ لگانا کہ مرزا صاحب کی تحریک کے پس پردہ وہ کون سی اسلام دشمن قوتیں کارفرماتھیں مشکل نہیں ہے۔۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریز حکومت ہندوستانی مسلمانوں سے بدظن ہوچکی تھی مگر مرزاصاحب اوران کی جماعت پر ان کی خاص نظر عنایت  تھی‘مرزاصاحب نے دیگرمسلمانوں زعما اورعلماء کے خلاف قسم قسم کی درخواستیں اورمحضرنامے حکومت کوارسال کئے جن سے یہ بھی صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ حکومت برطانیہ کے خاص حاشیہ بردارتھے۔
اورجب دیکھاکہ آزادی ملک اورحصول اقتدار کی دوڑ میں ہندومسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار ہیں تو اپنی جماعت کے حق میں ہندوئوں کوہموارکرنے کے لئے ان کی پستکون اورشی منیوں  کی تعریف میں لکھنا اورلیکچردینا شروع کردیا اوراپنی کتاب شہادت القرآن میں حکومت برطانیہ کی اطاعت کونصف الاسلام قراردیا۔
مرزاصاحب کے دعاوی کاامت مسلمہ پر ردعمل
مسلمان کایہ ایمان ہے کہ وہ ایک ازلی ابدی عالم گیرملت بیضا کارکن ہے جس میں بے شمارانبیائے کرام معبوث ہوئے اورجناب محمدعربی ﷺ کے آخری نبی اوررسول ہیں ان کے دین میں چارچیزیں حجت ہیں کتاب اللہ ،حدیث نبوی ‘اجتہاد وسلف امت، جوبات ان چاروں کے میزان پر حق ثابت ہو،ان کے لئے وہی حق ہے اور جوباطل ہو، وہ باطل مرزا کی نبوت اس میدان پرحق ثابت نہیں ہوتی تھی اس لئے اسے ماننا مسلمان کے لئے ممکن نہ تھا۔
مسلمان کویہ بھی معلوم تھاکہ نبوت ایک بہت ہی ارفع واعلیٰ چیز ہے اورمحض چند پیش گوئیوں کی صداقت میزان ایمان نہیں ہوسکتی نبوت کادعویٰ کردینا آسان ہے مگر اس کے معیار پرپورااترناآسان نہیں خصوصا جب  دعویٰ اس فخر انبیاء کے بروزہونے کاہو جس کی تعریف میں خداخودرطب اللسان ہے اورجس کے زہدواتقا ایثار وسخا عبادات ومجاہدات اہل خانہ اورعوام الناس کے ساتھ حسن سلوک اورزندگی کے دیگر حسین پہلوئوں کابیان۱۴سوسال سے بھی مکمل نہیں ہوسکا اس ذات عالیٰ کے ساتھ مرزا صاحب کاموازنہ کرنا ہی گستاخی ہے۔
اس کے برعکس مرزاصاحب کافرمان تھاکہ وحی الہٰی کادروازہ ہمیشہ کھلا ہے اوروہ خود خدا کے رسول اورنبی ہیں کتاب اللہ کے وہی معنی درست ہیں جنہیں وہ درست کہیں حدیث نبوی کے جس  حصہ کووہ چاہیں لے لیں اورجسے چاہیں رد کردیں اجتہاد سلف وخلف ختم ہے  کیونکہ نبی(یعنی وہ خود)آگئے ہیں اوراجماع امت کے نام کی بھی کوئی چیز نہیں رہی کیونکہ ’’خداتعالیٰ ان سے کلام فرماتاتھا اورانہیں اپنی کتاب کی صحیح مفہوم اورحدیث کے صحیح یا بناوٹی ہونے پر مطلع کرتا ہے اس حقیقت کے وہ خود شاہد ہیں اورجوشخص ان کی شہاد ت پرایمان نہیں رکھتا اوران سے بیعت نہیں کرتا وہ خارج ازاسلام ہے۔
مرزا صاحب کے ان فرمانوں کومان لینے کانتیجہ یہ ہوتا کہ امت خیرالرسلﷺ کااپنا ایمان‘اپنی ہستی اوراپناوجودبالکل ختم ہوجاتا اس کے علوم وقوانین مقدس اقدارتاریخی شخصیتیں‘ ثقافت اوراس کانظام ومعاشرہ سب مٹ جاتے اس کی عقیدت اور فکر کا مرکز یکسر بدل جاتا جناب ختمی مرتبت تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وقیادت کی حیثیت ثانوی ہوکررہ جاتی ‘قرآن کی تفسیر اورحدیث کی تاویل فقہ اوراجماع کااستدلال اوراستنباط اس نہج پر چل نکلتے جو اسلامی روایت اوردرایت اورامت کے احساس عمومی کے خلاف ہی نہیں بلکہ انسانیت کے احساس عمومی کے بھی برعکس ہوتا ‘نہ صرف یہ بلکہ امت اسلامیہ اس تحریک قادیانیت کے محسن برطانوی حکومت کے سمندناز کی ننچیربن کے رہ جاتی۔
تبصرہ قادری‘الحمد للہ علی احسانہ۔اس فتنہ قادیانیت کے ردمیں اہلسنّت کے امام اعلیٰ حضرت مولاناامام احمد رضا خاں محدث بریلی اوردیگر علماء اہلسنّت کمربستہ رہے‘ ان حضرات میں سے خاص طورپرآفتاب گولڑہ پیرمہرعلی شاہ گولڑوی‘ مولاناشاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی‘حجتہ السلام شاہ حامدرضاخان‘ مفتی اعظم ہند مولانا مصطفے رضا خان‘ مولاناغلام دستگیر حنفی قصوری‘ مفتی غلام قادرحنفی پھروی‘قاضی فضل احمد حنفی لدھیانوی‘ مولانا فیض الحسن حنفی سہارنپوری‘ علامہ اصغرعلی حنفی لاہوری وغیرہ قابل ذکر ہیں انہوں نے تحریری وتقریری طورپرردمرزائیت میں وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں جس پر امت مسلمہ ہمیشہ فخر محسوس کرتی رہیں گی اس کے برعکس نام نہادتبلیغی جماعت کے اکابر پیشواہان دیوبند ہیں مولوی رشید احمد گنگوہی‘ اشرف علی تھانوی اور اس کاخلیفہ  عبدالماجد دریاآبادی وغیرہ قادیانی دجال کومرد صالح مانتے رہے اوراسکے صریح کفریات میں اپنی عادت کے مطابق تاویلات فاسدہ کرتے رہے اس وجہ سے علماء لدھیانہ مولوی رشید احمد گنگوہی سے مباحثہ کرتے رہے اورتھانوی نے توقادیانی دجال کے صریح کفریات پرپردہ ڈالنے کیلئے’’المصالح العقلیہ لاحکام النقلیہ‘‘ لکھ ڈالی اس کی تفصیل کیلئے ’’عقیدہ ختم نبوت کامقدمہ دیکھے‘ الغرض اس دجال کی حمایت کرنے والے اکابر دیوبند کے نقش پاء پرچلنے والی گمراہ کن تحریک‘ تبلیغی جماعت کی مرکزی دجل گاہ‘ بستی نظام کامرکز اس کی روداد عنقریب آئندہ قسط میں آپ کے سامنے پیش کی جائیگی۔