تازیانہ عبرت کس کیلئے؟فیصلہ کیجئے

in Tahaffuz, August 2010, ابو اسامہ علامہ ظفر القادری بکھروی, متفرقا ت

قسط نمبر1
نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم امابعد!
حضرت شیخ الحدیث علامہ مولانا پیر سائیں غلام رسول قاسمی قادری نقشبندی مدظلہ جو اہل علم حضرات میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں‘ آپ نے تفضیلی  شیعوں کے ردمیں ایک نہایت ہی محققانہ اورلاجواب کتاب’’ضربہ حیدری‘‘تصنیف فرمائی‘تفضیلیت کامسئلہ آج کل کئی اہل علم اہل سنت حضرات میں بڑی تیزی کے ساتھ سرایت کرتاجارہاہے لہٰذا اس مسئلہ کی وضاحت کیلئے بہت ضروری تھاکہ ایک ایسی عالمانہ کتاب منظرعام پرلائی جائے جس سے اجماع امت کاعقیدہ واضح ہواس کتاب کے چار ایڈیشن شائع ہوئے اورعلمائے اہلسنّت کی ایک کثیر تعداد نے اس کتاب کوبہت سراہااوراس پراپنی گراں قدرتصدیقات ثبت فرمائیں‘ عالمی مبلغ اسلام امام المناظر ین حضرت علامہ سعید احمد اسعدمدظلہ نے اسکوچوتھی بار اپنی زیر نگرانی شائع کیا اوراس پر30علماء اسلام کی تصدیقات حاصل کیں‘ لیکن ماہنامہ ’’سوئے حجاز‘‘لاہور مارچ2010ء کے شمارہ میں اس کے ایڈیٹر مولاناخلیل الرحمان قادری صاحب نے اس کتاب مستطاب پرچنداعتراضات واردکئے جن کے تفصیلی اورجامع جوابات ہم اس مقالہ میں اہل علم حضرات اوربالخصوص ایڈیٹر ماہنامہ‘‘سوئے ہجاز‘‘کی خدمت میں پیش کریں گے‘ خلیل الرحمن صاحب کاموقف جمہور اہلسنّت کامؤقف نہیں ‘یہ عقیدہ تفضیلی شیعوں کاتوہوسکتا ہے اہلسنّت وجماعت کانہیں‘ ہاں قادری صاحب کواہلسنّت میں کوئی ایک آدھ آدمی ایسا مل سکتا ہے جس کاعقیدہ یہ ہو جوقادری صاحب کاہے مگر جمہور اہلسنّت کایہ عقیدہ نہیں۔
رسول اللہﷺ ارشادفرماتے ہیں!
ان اللہ لاجمع امتی اوقال امہ محمد علی ضلالہ وبداللہ علی الجماعہ ومن شذ شذ الی النار
ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ میری امت کو(یافرمایا)امت محمدﷺ کوگمراہی پر جمع نہیں کرے گا‘ جماعت پراللہ تعالیٰ کادست حفاظت ہے‘ جوشخص جماعت سے علیحدہ ہو وہ دوزخ میں داخل ہوا(جامع ترمذی مترجم۲/۳۳باب الزم الجاعۃ)
جوآدمی جماعت  علیحدہ ہو جمہور سے کٹ گیا وہ گمراہ ہوا تاریخ اسلام میں بہت سارے اہل علم ایسے گزرے ہیں کہ صرف اپنے علم پر بھرسہ کربیٹھے اورتفردات کاشکار ہوگئے ‘تووہ گمراہی میں چلے گئے‘سردست ابن تیمیہ حرانی کاحوالہ کافی ہے‘قادری صاحب نے بھی تفردات کاشکار ہونے والے لوگوں کاراستہ اپنانے کی کوشش کی ہے‘ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت انہیں شرح صدر کے ساتھ جمہور کاساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔اب اصل مسئلہ کی طرف توجہ فرمائیے۔
قادری صاحب لکھتے ہیں’’باب مدینہ العلم‘‘(سید نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خصوصیت)
سوئے حجاز صحفہ۳۹مارچ۲۰۱۰اس کے بعد صحفہ۴۰‘۱۴ پر لکھتے ہیں ہماری مہکم رائے ہے کہ مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کا’’باب مدینہ العلم‘‘ہونا ان کی فضلیت اور خصوصیت ہے جس کی تین توجیہات ہوسکتی ہیں۔
اولاً: مولائے کائنات صحابہ کرام رضی الہ عنہ میں سب سے اعلم ہیں اورآپ کا ہونا یقیناً آپ کی خصوصیت ہے۔
ثانیہ: حدیث مدینہ العلم کے متن میں علم سے مراد خاص علم ہے یعنی علم الاسرار جس کامطلب یوں ہوا کہ میں محمدﷺ علم الاسرارکاشہرہوں اورحضرت علی رضی اللہ عنہ اس شہر علم الاسرار کادروازہ ہیں‘ گویاحضرت علی رضی اللہ عنہ کی وساطت کے بغیر کوئی علم الاسرار حاصل نہیں کرسکتا ہے۔
ثالثاً: ظاہری اعتبارسے بھی علم نبویﷺ کافیضان امت کوبالواسطہ طورپر سب سے بڑھ کرمولائے کائنات رضی اللہ عنہ کے ذریعے ہی پہنچا‘ خودحضور  ﷺ نے بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمادیاتھا!
عن حبشی بن جنادہ قال رسول اللہ ﷺ علی منی وانا من علی انا من علی ولایودی عنی الانااوعلی(الصواعق المحرقہ)

جواب:
قادری صاحب کامؤقف جوگزشتہ سطور میں ہم نے بیان کیا ہے اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضلیت کابیان توضرور ہے اوراس سے کوئی بھی انکاری نہیں ہے‘ مگر یہ جوفرمایا کہ حضرت علی  رضی اللہ عنہ صـحابہ میں اعلم ہیں اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق‘ حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہم سے بھی اعلم ہیں۔
یہی وہ تفرد ہے جو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے اوراسی کوتفصیل کہتے ہیںاور اگر یہ تفضلیت نجہیں ہے تو اورکیا ہے؟اگر اس حدیث سے جممہور اہلسنّت نے یہ سمجھا ہے جو کچھ قادری صاحب نے سمجھا ہے تواس کابیان ضروری تھا ‘قادری صاحب صرف اپنی محکم رائے بیان کررہے ہین‘ جوکہ صرف انہی کے گروہ کے رائے ہے‘ اگر وہ ضرب حیدری پرلکھی جانے والی جدی علماء اہلسنّت تقاریز ہی کوپڑھ لیتے توجمہوبر علماء اسلام کی رائے معلوم ہوجاتی تو ایسی بات نہ کرتے۔
آئیے: اب یہ بات حضرت علی  رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ صحابہ میں افضل واعلم ہیں یا کوئی اوتوجو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے وہ مولائے کائنات کی بات ضرور مانے گا اوران کی محبت میں غلو کرنے والا ان کی بات کاانکارکرے گا۔
۱)حدثنا اسمعیل ابن ابراہیم انبانامنصور بن عقبدالرحمن یعنی الغدانی الاشل عن الشعبی حدیثنی ابوجیفتہ الذی کان علی یسمیہ وھب الخیر قال‘قال لی علی حضرت ابا جیفتہ الاخـرک بافضل ھذہ الامہ بعد نیبھا؟قال قمت بلی قل ولم اکن اری ان احد افضل منہ قال افضل ھذہ الامہ بعد نبیھاابوبکر وبعدابی بکرعمر(مسنداحمد۱/۱۰۷رقم الحدیث۳۵ طبع بیروت بیت الافکار)
اسی مضمون کی مختلف الفاظ سے حدیث۸۳۴‘۸۳۶‘۸۳۷‘۸۷۸‘۸۷۹‘۸۸۰‘۹۰۸‘۹۰۹‘۹۲۶‘۹۳۲‘۱۳۰‘۱۰۳۱‘۹۲۳‘
۱۳۰‘۰۳۲‘‘۱۰۴۰‘۱۰۵۴‘۰۲۰‘میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوام موجود ہیں(مسند احمد ج اول طبع بیروت الافکار)
ترجمہ: حضرت ابوجیفہ  نے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھانبیﷺ کے بعدسب سے افضل کون ہے؟ان سے ان کی رائے پوچھی اورجواب دیا اس امت میں نبیﷺ کے بعد جو سب سے افضل ہے ابوبکر اورابوبکر کے بعد عمر(رضوان اللہ علیہم)
اسی مضمون کی روایات سنن ابن ماجہ مترجم ص۶۳ مصنف ابن ابی شیبہ ج۸ص۵۷۴پرموجود ہیں۔
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ھذا متواترعن علی فعلن اللہ الرافضہ مااجھلم یعنی یہ حدیث سید ناعلی رضی اللہ عنہ سے تواتر کے ساتھ منقول ہے‘ اللہ کی لعنت ہو یہ کیسے جاہل ہیں۰تاریخ الخلفاء ص۳۸)
۲حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں!
لااجداحدافضلنی علی ابی بکر وعمرالاجلدتہ حدالمفتری ‘یعنی میں جسے پائوں گا کہ مجھے ابوبکر وعمر(رضوان اللہ علیہم)ے افضل کہتا ہے اسے الزام تراشی کی سزا کے طورپر۸۰ کوڑے ماروں گا(دارقطنی‘الصواعق المحرقہ ص۶۰)
ان دونوں روایتوں کوسامنے رکھیں تو بات واضح ہوجاتی ہے اور اگریہ مسئلہ دورحاضر کے جدید علماء کرام کے سامنے رکھاجائے تواکثریت علماء اہلسنّت کاعقیدہ دہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے‘ضرب حیدری جو اپنے موضوع کے اعتبار سے انتہائی جدید اورشاندار کتاب ہے کومناظراسلام حضرت علامہ مولانا سعید احمد اسعدمدظلہ جامعہ امینیہ رضویہ فیصل آباد نے دوبارہ شائع کیا ہے‘ اس پر درج ذیل علماء کرام کی تصدیقات موجود ہیں۔
۱)حضرت علامہ عبدالرشید رضوی جھنگ
۲)حضرت شیخ الحدیث مناظر اسلام محمد اشرف سیالوی صاحب سرگودھا
۳)مناظر اسلام پیرسید عرفان شاہ مشہدی
۴)علامہ ابوالفضل عبدالرحیم سکندری شاہ پورچاکرسندھ
۵)علامہ سعید احمد اسعدفیصل آباد
۶) مفتی محمد طیب ارشد سرائے عالمگیر
۷)حضرت علامہ محمد عبداللطیف جلالی جامعہ نعیمیہ لاہور
۸) حضرت علامہ مفتی محمد فضل رسول سیالوی سرگودھا
۹)علامہ محمدمختیاراحمدقاسمی دائود سندھ
۱۰)علامہ حافظ خادم حسین رضوی جامعہ نظامیہ لاہور
۱۱)علامہ مفتی شیر محمدخان(بھیرہ شریف)
۱۲)علامہ سید ارشد سعید کاظمی (ملتان)
۱۳)مولانا غلام محمد سیالوی(ناظم امتحان تنظیم المدارس)
۱۴)پیر سید عظمت علی شاہ بخاری(کیلیانوالہ شریف)
۱۵)علامہ پیر سید محمد نوازشاہ کرمانی(پنڈدادنخان)
۱۶پیر سید شبیر احمد (کھیوڑہ)
۱۷)علامہ مفتی محمد ایوب ہزاروی(ہری پور)
۱۸)پیر میاں جمیل احمد شرقپوری
۱۹)حضرت علامہ محمد منشاء تابش قصوری جامعہ نظامیہ(لاہور)
۲۰) پیر سید شبیر حسین شاہ(حافظ آبادی)
۲۱)مفتی عبدالکریم نقشبندی(شیخوپورہ)
۲۲)علامہ محمد محب اللہ نوری(بصیرہ پوراوکاڑہ)
۲۳)ڈاکٹر مفتی غلام سرورقادری
۲۴) علامہ مفتی محمد صدیق قادری
۲۵)علامہ مفتی ڈاکٹر محمداشرف آصف جلالی(لاہور)
۲۶)پیر صوفی نورمحمد(انگلینڈ)
۲۷)علامہ محمد اظہر محموداظہری(حضرواٹک)
۲۸)علامہ ملک اللہ دتہ اعوان (فاضل بھیرہ)حویلیاں(ہزارہ)
۲۹)علامہ حافظ محمدعمرفاروق سعیدی(مانسہرہ)
۳۰) علامہ محمد نصیر احمد اویسی(گوجرانوالہ)
اتنے مستند علماء اہلسنّت کی تقریر جوحضرات شیخ الحدیث غلام رسول قاسمی صاحب مدظلہ کے حق میں ہیں اوردوسری طرف خلیل الرحمن قادری صاحب کاعقیدہ دیکھیں تو ان کومفتی محمد خان قادری اور پروفیسر طاہر القادری کے محدودحلقے کے سوا کوئی قبول نہیں کررہااورجن کااہلسنّت ہونا انتہائی مشکوک ہے۔
اب زرملاحظہ فرمائیں کہ سلف صالحین کاعقیدہ کیاتھا؟
۱)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمام صحابہ مہاجرین وانصار علیہم الرضوان کااس بات پراجماع ہے کہ نبی کریمﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکرصدیق تھے(صحیح بخاری۱/۵۲۳‘ابودائود۲/۲۸۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں!
ہم حضورﷺ کے دورمیں تمام صحابہ میں سے اس امت میں نبی ﷺ کے بعد افضل جانتے تھے ابوبکرصدیق کوپھر عمر کوپھرعثمان کورضوان اللہ علیہم‘ اسکو روایت کیا ابن عساکرنے(مرام الکلام ص۱۴۶ازعلامہ پرہاروی بحواہ ضرب حیدری ص۱۵۷)
۳) امام بیقہی نے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہم سے اجماع نقل کیا ہے کہ ابوبکر وعمررضوان اللہ علیہم سب سے اعلیٰ ہیں اس امت میں نبیوں کے بعد ‘اس پر صـحابہ وتابعین کا اجتماع ہے(فتح الباری شرح بخاری۷/۱۳)
اتفق اھل السنتہ ان افضلھم ابوبکر ثم عمر‘یعنی اہل سنت کااس پراتفاق ہے کہ صحابہ کرام میں سب سے افضل ابوبکر ہیں پھرعمررضی اللہ عنہم(شرح مسلم نووی۲/۲۷۲)
۵) علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!
اجمع اھل السنتہ ان افضل الناس بعد رسول اللہﷺ ابوبکر ثم عمر ثم عثمان ثم علی رضوان اللہ علیھم اجمعین۔یعنی لوگوں میں افضل ابوبکرہیں پھرعمر پھرعثمان پھرعلی ہیں۔تاریخ الخلفاء ص۳۷)
۶)علامہ ابن حجر مکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ شیخیں کی افضلیت پرپوری امت کااجماع ہے(الصواعق المرقہ ص۵۹)
۷)حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں افضلیت صدیق اکبر پر صحابہ کااجماع منعقد ہوگیا(ازالہ الخفائ۱/۳۱۱)
یہ صرف چند حوالے ۃیش کئے ہیں صلف صالحین کے ورنہ اس کے لئے ایک دفتردرکارہے۔
یہاں ایک غلط فہمی کوبھی دورکیے دیتے ہیں کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ ہیں توافضل مگرعلم کے لحاظ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی اعلیٰ ہیں (جیسے خلیل الرحمن صاحب کاعقیدہ ہے)خود حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
مجھے اس ذات کی رقسم جس نے دانے کوپھاڑ کرپودانکالا او ایک ذرے سے انسان کوپیدا کیا‘اگررسول اللہﷺ نے مجھے خلیفہ مقرر کیاہوتاتو میں آپ کے فرمان کی خاطر جہاد کرتا‘اگرمیرے پاس تلوارنہ ہوتی تواپنی چادرسے ہی مخالفین پرحملہ کرتا اورابوبکر کومنبررسولﷺ کی ایک سیڑھی بھی نہ چڑھنے دیتا‘لیکن آپﷺ نے میرے مرتبے اورابوبکر کے مرتبے کوخوب سمجھ کرفیصلہ دیا‘اورفرمایا ‘ابوبکرکھڑے ہوجائوں اورلوگوں کونمازپڑھائو اورآپ نے مجھے نماز پڑھانے کاحکم نہیں دیا‘ لہٰذا رسولﷺ  جس شخص کوہمارا دینی پیشوابنانے پرراضی ہیں ہم اسے اپنا دنیاوی پیشوا بنانے پر کیوں راضی نہ ہو۔الصواعقالمحرقہ ص۶۲)
لہٰذا دینی پیشوا علم میں اعلیٰ ہوتا ہے اگرحضرت علی رضی اللہ عنہم میں سب سے اعلم ہوتے تو نبی ﷺ انہیں سب کاامام مقرر فرماتے اورآج تمام اہلسنّت کایہی اجماعی عقیدہ ہوتامگر یہ تو رافضیوں اورتفضیلیوں کاعقیدہ ہے اہلسنّت کانہیں اورہم اہلسنّت ہیں۔
امام العقائد حضرت امام ابوالحسن اشعری فرماتے ہیں وتقدیمہ لہ دلیل علی انہ اعلم الصحابہ واقراہم۔یعنی نبی کریمﷺ کاصدیق اکبر کوآگے کھڑا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ صدیق اکبر تمام صحابہ میں سے زیادہ علم والے اوربہتر قاری تھے(البدائیہ والنہایہ۵/۲۵۷)
اسی طرح الصواعق المحرقہ ص۱۷پر ہے‘ابوبکر اعلم الصحابہ اسی طرح بخاری ومسلم ومشکوہ میں ہے!کان ابوبکر اعلمنا‘لہٰذاقادری صاحب کااپنی محکم رائے دینا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابہ میں اعلم ہیں درست نہیں۔
’’باب مدینہ العلم‘‘ میں جوکچھ بیان ہو اس سے کیا مرادہے‘ حضرت ملاعلی قاری علیہ الرحمہ(مرقاۃ۱۱/۳۴۵)میں فرماتے ہیں‘ ای باب من ابواب العلم‘یعنی باب العلم سے مراد علم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے‘ اس حدیث کی شرح میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں!
’’شک نیست کہ علم آنحضرت ازجناب صـاہہ دیگر نیز آمدہ ومخصوص بمرتضیٰ نیست‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریمﷺ کاعلم دوسرے صحابہ کے ذریعے بھی ہم تک پہنچا ہے اوریہ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کاخاصہ نہیں(الشعہ اللمعات۴/۶۷۷)
ثانیاً کے تحت قادری صاحب نے جولکھا ہے کہ خاص علم مراد ہے تو حضرت صاحب کومعلوم ہوناچاہئے کہ یہ جزوی فضلیت ہے اس کوکلی بناکر پیش کرنا کیا معنی؟لہٰذا اپنے بیان سے ہی آپ کااستدلال درست نہیں‘ پھرقادری صاحب نے ثالثاً کے تحت لکھا!ظاہری اعتبار سے بھی علم نبویﷺ کافیضان امت کوبالواسطہ یابلاواسطہ طورپر سب سے بڑھ کرمولائے کائنات کے ذریعے ہی پہنچا۔
زراقادری صاحب کوئی پوچھے کہ اس میں فضلیت والی بات تو ہے اعلم اورخصوصیت والی کونسی بات ہے؟ پھر جو روایت لکھی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا‘علی مجھ سے ہے اورمیں علی سے ہوں‘ ذرا اس روایت کوبھی پڑھ لیتے تو اس سے جواستدلال کیا ہے اس کی حیثیت بھی آپ پر واضح ہوجاتی ‘حضورﷺ  ارشادفرماتے ہیں!
’’ابوبکر منی وانامنہ‘‘یعنی ابوبکر مجھ سے ہے او رمیں ابوبکر سے ہوں۔کنزالعمال۱۱/۲۴۸‘الصواعق المحرقہ ص۲۹)
اس کے بعد قادری صاحب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوتمام صحابہ پر اعلم ہونے کی جودلیل دی اس میں الفاظ ہیں’’اکثرھم علماً‘‘ اس کوآپ نے ترجمہ کرتے وقت اعلم بنادیا اوردوسری روای تمیں بھی اکثر ھم علم ہے وہاں بھی ترجمہ اعلم کابناکر پیش کیاگیا یہ فضلیت ہے خصوصیت نہیں۔
پھرقادری صاحب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے قاضی ہونے سے اعلم ہونے پر استدلال کیا ہے ہم بھی مانتے ہیں کہ ان کی خصوصیات میں سے یہ بھی ایک ہے‘ باقی جو روایات لکھی ہیں حلیتہ الاولیا سنن الکبری نسائی اورمستدرک حاکم سے توعرض ہے امام حاکم توکٹرشیُہ ہیں اورامام نسائی کواسماء الرجال میں شیعہ کہا ہے ان کی خصائصعلی پڑھ کرآپ بھی متاثر ہیں امام نسائی نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کوخصائص بناکر پیش کیامگر علمائے اہلسنّت نے انہیں رد کردیا‘ابونعیم اصبہانی صاحب حلیتہ الاولیا بھی مائل بہ شیعہ ہیں اوران سے ایسی روایات اہلسنّت کے ہاں مقبول نہیں۔
اسی طرح قادری صاحب نے لکھا ‘علی رضی اللہ عنہ قرآن کے ساتھ اورقرآن علی کے ساتھ  ہے اورخود ہی لکھا کہ اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ کوفضلیت ہے‘ چلے تو خصائص ثابت کرنے اوردکھانے لگے فضلیتیں۔
اس کے بعد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی(ازالہ الخفائ) علیہ الرحمہ کاحوالہ دیا توعرض ہے کہ اس میں حضرت ابوبکر صدیق اورعمرفاروق رضوان اللہ علیہم سے اعلم ہونے کا بیان کہاں ہے؟
اب سنیے اسی ازالہ الخفائ۱/۳۱۱ پرشاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں!
افضلیت صدیق اکبر پرصـحاب کااجماع ہوگیا
اس کے بعد پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ کی طرف سے یہ منسوب کرنے کی کوشش کی کہ وہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کوشیخیں سے اعلم مانتے ہں اور حوالہ دیا تصفیہ مابین سنی وشیعہ ص۸۹ کا‘یہ قبلہ پیر صاحب پربہت بڑا بہتان ہے پر صاحب اپنی اسی کتاب کے صفحہ نمبر۱۹ پرفرماتے ہیں!
بغدازپیغمر کوئی شخص ابوبکر سے افضل نہیں کیونکہ اس نے مقاتلہ مرتدین میں نبی کاساکام کیاہے
اب ذرا شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی شرح مشکوہ‘اشعتہ اللعمات ج۷ص۴۵۷‘۴۵۸پر اسی حدیث کی شرح ملاحظہ فرمائیں جس کاترجمہ خلیل الرحمن قادری صاحب کے استاذ جناب مفتی محمد خان قادری اوران کے استاذ شیخ الحدیث شرف ملت حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمتہ اللہ علیہ نے کیا ہے۔
عن علی رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ ان دارالحکمتہ وعلی بابھارواہ الترمذی وقال ھذا حدیث غریب وقال روی بعضھم ھذا الحدیث عن شریک ولم بذکروفیہ عن الصنابحی ولانعرف ھذا الحدیث عن احدامن الثقات غیرشریک۔
ترجمہ-:حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روای تہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا! ہم حکمت کامحل ہیں اورعلی اس کادروازہ ہیں(۱)ترمذی‘ اورفرمایا یہ حدیث غریب ہے یہ بھی فرمایا بعض محدثین نے اس حدیث کوشریک سے روایت کیا اورانہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ ضابحی سے مروی ہے(۲) ہمیں شریک کے علاوہ کسی ثقہ روای سے یہ معلوم نہیں ہے(۳)۔
(۱)یہ الفاظ مشہور ہیں اس میں شک نہیں ہے کہ نبی کریمﷺ کاعلم دوسرے صـحابہ کرام سے بھی آیا ہے اور حضرت علی علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ساتھ خاص نہیں ہے‘ یہ تخصیص کسی خاص وجہ کی بنا پر ہوگی کہ ان کے ذریعے وسیع اورعظیم علم لوگوں تک پہنچے گا جیسے حدیث شریف میں آیا ہے کہ اقضاکم علی تم میں سب سے زیادہ فیصلہ کرنے والے علی ہیں رضی اللہ عنہ اصل میں یہ حدیث ابوالصلت عبدالسلام ابن صالح ھروی سے مروی ہے  وہ اگرچہ شیعہ ہیں لیکن سچے ہیں اورصـحابہ کرام کی تعظیم میں کوتاہی نہیں کرتے۔
۲)جیسے کہ بعض روایات میں آیا ہے۔
۳)اس سلسلے میں طویل گفتگو ہے جس کاکچھ حصہ(عربی) شرح میں مذکورہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی  اللہ عنہ سے یہ الفاظ مروی ہیں۔
انامدینہ العلم وابوبکر اساسھاوعمر حیطانھاوعچمان سقفاوعلی بابھا لاتقوفی ابی ابکر وعمر وعثمان وعلی الاخبر۔
ترجمہ-: ہم علم کاشہر ہیںابوبکر اس کی بنیاد ہیں عمر اسکی دیواریں ہیں عثمان اس کی چھت ہیں اورعلی اسکادروازہ ہیں تم ابوبکر ‘عمرعثمان اورعلی کے بارے میں سوائیے خیر(اچھی بات) کے کچھ نہ کہو(حافظ شیرویہ بن شہردار ودیلمی‘فردوس الاخبار(بیروت)۱/۴۶)
شعتہ اللعمات اردواج ۷ ص۴۵۷۔۴۵۸۔
ترجمہ علامہ محمدعبدالحکیم شرف قادری‘ مفتی محمدخان قادری۔
آخر میں جناب خلیل الرحمن قادری سے گزارش ہے کہ قادری سلسلہ میں مقتدرہستیوں سے ہی پوچھ لیں یا کم از کم پیران پیرحضرت شیخ عبدالقادرجیلانی علیہ الرحمہ سے پوچھ کربتادیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرات شیخیں سے اعلم وافضل ہیں‘ اللہ رب العزت حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائیں(جاری ہے)