(مسئلہ علم غیب پر غیر مقلد مولوی سے قلمی مناظرہ (چوتھی قسط

in Tahaffuz, August 2010, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, علامہ مولانا عدنان سعیدی رضوی

ایک روز نبی اکرمﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے اس واقعہ افک کے بارے میں پوچھا تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے یہ جواب دیا کہ یارسولﷺ ہم ایک دن آپﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ دوران نماز آپﷺ نے اپنے نعلین مبارک اتار دیں تو ہم نے بھی اپنی جوتیاں اتار دیں جب حضورﷺ نماز پڑھا چکے تو پوچھا کہ تم نے جوتے کیوں اتارے۔ ہم نے عرض کیا کہ آقاﷺ آپ کی اتباع میں‘ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے نعلین (پاک) اتارنے کا کہا تھا کیونکہ وہ صاف نہ تھے۔ اب اس واقعہ سے سیدنا علی رضی اﷲ عنہ نے استدلال کرکے کیا ہی خوب جواب دیا سنئے‘ فرماتے ہیں‘ جب اﷲ تعالیٰ نے اس سے آپ کو مطلع کیا جو آپ علیہ السلام کی نعلین مبارک کے ساتھ تھی‘ اس کو اتارنے کا حکم دیا تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ ایسی بیوی سے قطع تعلق کا حکم نہ دے جو اس گناہ سے (معاذ اﷲ) ملوث ہو۔ (تاریخ الخمیس 1 ص 477‘ تفسیر الکبیر‘ مدارک التنزیل)
کیا حضرت سیدنا امیر المومنین کا یہ جواب آپ کے مطالعہ سے نہ گزرا تھا اور آپ کا مطالعہ صرف نفی علم غیب و رفع یدین و فاتحہ خلف الامام تک ہی محدود ہے۔ اور جو بات عظمت مصطفویﷺ پر دلالت کرے اس کو آپ جانتے تک نہیں۔
سوال نمبر 9A۔ اگر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا بھی یہی عقیدہ ہوتا کہ اﷲ تعالیٰ کے رسول علم غیب جانتے ہیں تو فرماتے حضور آپ کو علم عطائی کے ذریعے معلوم تو ہے تو انہوں نے یہ کلمہ نہ کہہ کر اس عقیدے کی نفی کی ہے۔
الجواب: جناب آپ صحابی رضی اﷲ عنہ اور وہابی میں کچھ فرق نظر نہیں آرہا۔ حضرت امیر المومنین علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہ صحابی تھے اور جانتے تھے کہ وشاورہم فی الامر کا حکم ﷲ جل شانہ‘ نے نبی اقدسﷺ کو دیا ہے لہذا مشورہ سنت نبویﷺ اور حکم خداوندی جل جلالہ ہے اور مشورہ نفی علم کو مستلزم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب میری آقا و مولیٰ کریمﷺ منبر اقدس پر بعد از مشورہ یہ اعلان فرماتے ہیں کہ فواﷲ ماعلمت علی اہلی الاخیر تو حضرت امیر المومنین علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مزید کچھ نہ کہا۔ اگر کوئی وہابی ہوتا تو پوچھ لیتا کہ ابھی تو آپ نے مشورہ کیا‘ وحی بھی نازل نہیں ہوئی اور بقول آپ کے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا عقیدہ بھی یہی تھا کہ معاذ اﷲ ثم معاذ اﷲ نبیﷺ غیب نہیں جانتے تو فورا سوال کرتے کہ حضورﷺ نہ آپ غیب جانتے ہیں نہ وحی آئی ہے۔ ابھی مشورہ ہوا اور وہ بھی نعوذ باﷲ چھوڑنے کا اور ابھی یہ اعلان فرمادیا کہ فواﷲ ماعلمت علی اہلی الاخیر۔
سوال نمبر 9B۔ اگر نبیﷺ کو اس واقعہ کی حقیقت کا علم پہلے ہی تھا تو علم ہونے کے باوجود کبھی علی ابن ابی طالب سے اور کبھی بریرہ رضی اﷲ عنہ سے اور کبھی اسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ سے اس واقعہ کے حوالے سے رائے لینا کیا معنی رکھتا ہے۔ کیا ہم اپنے لئے مناسب سمجھتے ہیں کہ اپنی بیوی کی پاکبازی کے پختہ یقین کے بعد لوگوں سے ان پر لگنے والے الزام کے بارے میں اس قسم کے صلاح مشورے کرتے پھریں تو پھر رسول اﷲ سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی حقیقت آپ کے علم میں نہیں تھی۔
الجواب: اس جواب میں آپ نے دو الزامات عائد کئے ہیں نمبر 1: جو حقیقت سے بخوبی واقف ہو‘ وہ کسی سے مشورہ نہیں کرتا اب چونکہ آقاکریمﷺ نے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا۔ اس لئے آپ نے عدم علمی کا بہتان باندھ لیا ہے نمبر 2: آپ کا یہ بہتان ہے اگر گھر والی پر پاکبازی کا پختہ یقین ہو تو پھر مشورہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی تو معلوم ہوا کہ نعوذ باﷲ پاکبازی پر پختہ یقین نہیں رہا۔
تحقیق لفظ مشورہ
سب سے پہلے تو ہم لفظ مشورہ کی تحقیق بیان کرتے ہیں۔ امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں ’’المشورۃ استخراج الرای ای بمراجعۃ البعض الی البعض‘‘ (مفردات راغب ص 270)
یعنی بعض کا بعض کی طرف رجوع کرکے ان کی رائے کو حاصل کرناہے۔ اس لئے یہ قطعا ضروری نہیں ہے کہ مشورہ کرنے والا حقیقت حال سے لاعلم ہو۔ یا تشکیک کا شکار ہو۔ بالخصوص جب مشورہ کرنے والی ذات اﷲ جل شانہ‘ یا رسول اقدسﷺ ہوں تو ایسا خیال ذہن میں لانا بھی جرم بن جاتا ہے۔ عام انسان کا باہم مشورہ کرنا تو تشکیک کی بناء پر ہوسکتا ہے مگر ان ذوات مقدسہ کو دوسروں سے مشورہ کی احتیاج نہیں ہوتی بلکہ یہ دوسروںکی عزت بخشنے اور سنت قائم فرمانے کے لئے ہوتا ہے۔
اﷲ جل شانہ کا ارشاد گرامی ہے:
واذ قال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ (البقرہ: 30)
اس آیہ مبارک کی تفسیر میں امام ابن جریر لکھتے ہیں
عن سعید عن قتادہ واذ قال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ‘ فاستشار للملائکۃ فی خلق آدم فقالو اتجعل فیھا من یفسد فیا ویسفک الدما (تفسیر ابن جریر 1ص 158 پ 1)
واذ قال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفہ کی تفسیر میں حضرت سید حضرت قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں فرشتوں سے مشورہ کیا تو وہ بولے اتجعل فیہا من یفسد فیہا ویسفک الدما۔ اسی طرح عرائس البیان میںہے۔ فعرفہم عند المشورۃ مع الملائکۃ خلوہم من الجنۃ (عرائس البیان 1ص 19) فرشتوں سے مشورہ کرتے وقت اﷲ تعالیٰ نے فرشتوں کے جذبہ محبت سے خالی ہونے کی بات انہیں بتادی تھی۔
مدارک میں ہے اولیعلم عبادۃ المشاورۃ فی امورہم قبل ان یقدموا علیہا وان کان ہو یعلمہ وحکمۃ‘ البالغۃ غنیا عن المشورۃ (تفسیر مدارک 1ص 32)
یا اس لئے فرشتوں سے انی جاعل فی الارض فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس بات کی تعلیم دے کہ وہ باہم مشورہ کرلیا کریں اگرچہ اﷲ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور اس کی حکمت بالغہ مشورہ سے غنی ہے۔ مزید حوالہ جات کے لئے ملاحظہ ہو۔ تفسیر جمل 1ص 38‘ تفسیر بیضاوی 1ص‘ تفسیر کثاف 1ص ‘ تفسیر کبیر 1ص 382‘ روح المعانی 1ص 203۔
اب ہمیں اتنا ہی بتائیں کہ مندرجہ بالا مفسرین اہل اسلام سے ہیں یا نہیں؟ ظاہری بات ہے کہ مشورہ طلب کرنا عدم علمی و مستلزم نہیں نہ ہی تشکیک اس سے لازم آتی ہے۔ اور متن قرآن مجید کتنا واضح ہے کہ اﷲ جل شانہ نے ملائکہ سے فرمایا کہ میں زمین پر اپنا خلقہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوںکو کیا مجال تھی کہ وہ جواب دیتے کہ وہ تو زمین میں فساد بپا کرے گا۔ ظاہر ہے کہ اﷲ جل شانہ‘ نے انہیں جواب کی اجازت بخشی تھی تو تب ہی وہ جواب دینے کے لائق ہوئے اور اپنی رائے دی۔ اسی لئے رائے لینے اور رائے دینے کی اجازت بخشنے کا نام ہی تو مشورہ ہے۔ مزید اور پڑھیئے میرے آقا و مولیٰﷺ فرماتے ہیں:
ان ربی تبارک و تعالیٰ استشارنی فی امتی ماذا فعل بھم فقلت ماشئت … رب الخ (الحدیث مسند احمد ج 5ص 395‘ کنزالعمال ج 6 ص 112‘ الخصائص الکبری ج 2ص 210)
بے شک میرے رب تبارک و تعالیٰ نے میری امت کے بارے میں مجھ سے مشورہ کیا کہ میں اس کے ساتھ کیا کروں۔ ان حوالہ جات سے یہ واضح ہوگیا کہ مشورہ طلب کرنا احتیاج و عجز کو قطعا مستلزم نہیں اور اﷲ جل شانہ کا ارشاد گرامی ہے۔ وشاورہم فی الامر (آل عمران 159)
فرشتوں کو کیا مجال تھی کہ وہ جواب دیتے کہ وہ تو زمین میں فساد بپا کرے گا۔ ظاہر ہے کہ اﷲ جل شانہ‘ نے انہیں جواب کی اجازت بخشی تھی تو تب ہی وہ جواب دینے کے لائق ہوئے۔ اور اپنی رائے دی۔ اسی لئے رائے لینے اور رائے دینے کی اجازت بخشنے کا نام ہی تو مشورہ ہے۔
اس کی تفسیر ملاحظہ کریں:
واخرج سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی سننہ عن الحسن فی قولہ وشاورہم فی الامر قال قد علم اﷲ انہ مابہ الیہم من حاجۃ ولکن اراد ان لیستن بہ من بعد
امام سعید بن منصور اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم اور بہیقی نے سنن میں حضرت امام حسن (بصری رحمتہ اﷲ علیہ) سے وشاورہم فی الامر کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ اﷲ عزوجل کو علم تھا کہ حضورﷺ کو صحابہ سے مشورہ لینے کی کوئی حاجت نہیں لیکن یہ ارادہ فرمایا کہ بعد والوں کے لئے سنت قائم ہوجائے (سنن صغیر للبہیقی ج 4ص 129‘ تفسیر در منثور ج 2ص 90 مطبوعہ مصر)
2: اخرج ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم عن قتادۃ فی قولہ وشاورہم فی الامر قال امر اﷲ بنییہ ان یشاور اصحابہ فی الامور وہو یاتیہ وحی السماء لانہ اطیب لانفس القوم وان القوم اذا شاور بعضہم بعضا واراد وبذالک وجہ اﷲ عزم لہم علی رشدہ (ابن جریر ج 4ص 100‘ در منشور ج 2ص 90)
امام ابن جریر اور امام ابن المنذر اور امام ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ رضی اﷲ عنہ سے اس آیت کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو حکم ارشاد فرمایا کہ اپنے صحابہ سے مشورہ کریں جبکہ آپﷺ کے پاس آسمان سے وحی آتی تھی کیونکہ مشورہ لوگوں کے اطمینان کا باعث ہوتا ہے کیونکہ جب لوگ ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں اور اس مشورہ سے اﷲ کی رضا کے طالب ہوتے ہیں اﷲ تعالیٰ انہیں ہدایت پر پختہ تر کردیتا ہے۔
3: واخرج ابن عدی والبیہقی فی الشعب بسند حسن عن ابن عباس قال لما نزلت وشاورہم فی الامر قال رسول اﷲﷺ اما ان اﷲ ورسولہ لغنیان عنہا ولکن جعلہا اﷲ رحمتہ لامتی فمن استشار منہم لم یعدم رشدا ومن ترکھا لم یعدم … غیا ؟ (شعب الایمان ج 6ص 76‘ رقم الحدیث 7542‘ دارلکتب العلمیہ بیروت‘ در منشور ج 2ص 90‘ مطبوعہ مصر)
امام ابن عدی اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جب وشاورہم فی الامر کا حکم نازل ہوا تو رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ اور اس کا رسول اس سے غنی ہیں لیکن اﷲ تعالیٰ نے مشورہ میری امت کے لئے رحمت بنادیا اور جو آدمی مشورہ کرتا ہے وہ ہدایت سے محروم نہیں ہوتا اور جو اسے ترک کردیتا ہے وہ گمراہی سے نہیں بچ سکتا۔
علامہ فخر الدین رازی لکھتے ہیں۔
(الخامس) وشاورہم فی الامر لتسفید منہم رایا وعلما لکن لکی تعلم مقادیر عقولھم
یعنی آپﷺ کو مشورہ کا حکم اس وجہ سے نہیں دیا گیا کہ آپﷺ ان سے کسی قسم کی رائے یا علم کا استفادہ کریں بلکہ اس لئے حکم ہوا کہ ان کے اقوال و افہام سامنے آئیں۔
(السادس) (وشاورہم فی الامر) لا لانک‘ محتاج الیہم ولکن لانک اذا شاورتہم فی الامر اجتہد کل واحد منہم فی استخراج الوجہ الاصلاح (تفسیر مفاتح الغیب‘ بمعروف کبیر ج 3ص 130)
اے حبیبﷺ آپ ان سے مشورہ فرمائیں اس لئے نہیں کہ آپ ان کے محتاج ہیں لیکن جب آپ ان سے مشورہ فرمائیں گے تو آپ کے غلاموں میں سے ہر شخص وجہ اصح کے استخراج میں کوشش کرے گا۔
اس تمامتر بحث کا حاصل یہ ہے کہ اﷲ جل شانہ‘ اگر کسی سے رائے طلب فرمائے تو معاذ اﷲ بطور احتجاج و عجز نہیں ہوتا اسی طرح میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ جب اپنے خادمین خاص سے مشورہ طلب فرمائیں تو اس مشورہ میں عاجز و محتاج نہیں ہوتے بلکہ بطور حاکم اپنے خدام خواص سے مشورہ فرمانا سنت مبارکہ کے اجراء و عزت افزائی کے لئے ہوتا ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ نے جو تاثر دیا ہے کہ اگر اس واقعہ کی حقیقت کا پہلے ہی علم ہوتا تو اس کے باوجود کبھی علی ابن ابی طالب سے کبھی بریرہ اور کبھی اسامہ بن زید سے (رضی اﷲ عنہم) اس واقعہ کے حوالے سے رائے لینا کیا معنی رکھتا ہے۔
مولوی صاحب آپ کی عبارت سے یہ تو تاثر ملتا ہے کہ نعوذ باﷲ من ذالک کہ میرے آقا و مولیٰﷺ بے علم و لاچار ہوکر کبھی حضرت علی کرم اﷲ وجہ الکریم سے اور کبھی سیدنا بریرہ رضی اﷲ عنہ سے اور کبھی سیدنا اسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ سے رائے لیتے ہیں۔ حالانکہ میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ کا مشورہ بے چارگی و عاجزی کی وجہ سے نہ تھا کہ میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ اس سے منجانب اﷲ غنی تھے۔ اور آپ نے کس جرات سے لکھ دیا کہ کیا ہم اپنے لئے مناسب سمجھتے ہیں کہ اپنی بیوی کی پاکبازی کے پختہ یقین کے بعد لوگوں سے ان پر لگنے والے الزام کے بارے میں اس قسم کے صلاح و مشورے کرتے پھریں تو رسول اﷲﷺ سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے… الخ
نعوذ باﷲ گویا ایک ماہ تک سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا کردار مبارک نعوذ باﷲ او رتو اور خود نبیﷺ کی نظر میں بھی مشکوک رہا۔ اور مشکوک بھی کس وجہ سے چند شرپسند منافقین کے محض افتزا کی وجہ سے اتنا تو طفل مکتب بھی جانتا ہے کہ کسی کے کردار کو مشکوک قرار دینا اور وہ بلا دلیل محض منافقین کی شرانگیزی اور اتہامات کی بناء پر۔ تو گویا اس شخصیت سے بدگمانی لازم آتی ہے جس کی طرف شک کیا جارہا ہے۔ اسلام میں بدگمانی حرام ہے اور میرے آقاو مولیٰ ﷺ کی طرف اس لفظ کی نسبت بھی کرنا حرام ہے اور آپ نے یہ خوب بڑھانکی کہ اگر اپنی بیوی کی پاکبازی کے بارے میں پختہ یقین ہو تو لوگوں سے مشورہ کی بھی ضرورت نہیں۔ اگر یہ پختہ یقین تشکیک سے داغدار ہوجائے تو تب لوگوں سے مشورہ کئے جائیں اگر آپ کی یہ عقلی بڑ عام آدمی کے لئے ہے تو بھی خلاف عقل ہے۔ اگر اس تمثیل کو میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ کے لئے گھڑا ہے جیسا کہ آپ کی تحریر سے عیاں ہے تو یہ عصمت نبویﷺ کے خلاف ہے۔ فرض کریں کہ اگر ایسا واقعہ آپ کے ساتھ ہوجائے اور آپ اپنے گھر سے مشکوک ہوجائیں تو کیا آپ کی غیرت یہ گوارا کرلے گی کہ لوگوں سی آپ مشورے کرتے پھریں؟ اسی لئے ہم نے کہا کہ یہ خلاف عقل ہے اور جو ہر عام انسان کے لئے بھی باعث نفرت ہو وہ آقا و مولیٰ کریمﷺ کی طرف کیسے منسوب ہوسکتی ہے۔
سوال نمبر 10: اگر حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو بھی اس قدر علم غیب ہوتا کہ اﷲ میری برأت میں آیتیں نازل فرمائے گا تو وہ پوری پوری رات رو کے نہ گزارتیں اور ان کی نیندیں نہ اڑ جاتیں۔
الجواب: یہ بھی محض آپ کے عقلی ڈکھوسلے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم غیر نبی پر علم الغیب کا اطلاق نہیں کرتے بلکہ اس کو کشف والہام کہا جاتا ہے۔ بہرحال اتنا فرمایئے کہ سیدہ کائنات کو یہ علم تھا کہ میرے شوہر سید الانبیائﷺ ہیں اور ان کی طرف وحی آتی ہے۔ اور یہ بھی مکمل علم تھا کہ وہ (حضرت عائشہ) بے گناہ ہیں اور اپنے مالک و مولیٰ جل و علاء پر بھی ایمان تھا کہ اﷲ جل شانہ انصاف کرے گا اور معاملہ کو صاف کرے گا تو پھر رات بھر کیوں روتی رہیں۔ مولوی صاحب کچھ تو سوچ سمجھ کر لکھا کریں اور ان محترم ہستیوں کا لحاظ رکھا کریں۔ گویا حضرت سیدہ کائنات رضی اﷲ عنہا کا معاذ اﷲ ثم معاذ اﷲ عقیدہ اﷲ عزوجل اور رسول اکرمﷺ سے اتنا اٹھ چکا تھا کہ ان کو اپنی صفائی کا یقین تک نہ رہا۔ اس لئے رونا شروع کردیا۔ یہ معاملہ آج کل ہوتا تو بات اور تھی مگر یہ معاملہ تو صاحب وحی کے ساتھ ہے۔ آج تو بے شک وحی نہیں آتی مگر میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ تو صاحب وحی ہیں۔ اسی طرح اﷲ جل شانہ سے بھی معاذ اﷲ اعتقاد نہ رہا کہ وہ معاملہ کو صاف کردے گا۔ وہ سیدہ کائنات جو رات دن صاحب وحی کی زبان اقدس سے وحی مبارکہ سنتی ہیں اپنے آقا و مولیٰﷺ کی عظمتیں سنتی ہیں کفار کی سرزنش و تردید سنتی ہیں۔ اپنے بارے میں معاذ اﷲ ان کا اعتقاد اٹھ جاتا ہ ے کہ میرے اوپر ظلم ہورہا ہے اور اﷲ جل شانہ اس کا نوٹس نہ لے گا؟ نبی اقدسﷺ کو ایذا دی جارہی ہے۔ میرے آقا و مولیٰ ﷺپریشان ہیں نعوذ باﷲ اﷲ تعالیٰ اس ذات کریمﷺ کو اس اذیت سے نجات نہ دے گا۔ یہ وہابی عقیدہ تو ہے مگر صحابی اس سے بری ہیں۔ ملاں جی آیئے آپ کو حضرت سیدہ کائنات کا عقیدہ بیان کروں کہ میری ماں کائنات کی سردار اس بدعقیدگی سے پاک ہیں۔ حضرت سیدہ کائنات فرماتی ہیں
واﷲ ماظننت ان ینزل فی شانی وحیا (صحیح بخاری‘ صحیح مسلم)
اور میں امید کرتی تھی کہ اﷲ جل شانہ میری برأت بیان فرمائے گا۔ اور سنئے ملاں جی کہ آپ نے خود ترجمہ حدیث میں لکھا ہے کہ ’’اور مجھے اﷲ کی قسم اس وقت مجھے اس بات کا علم تھا کہ میں بے گناہ ہوں اور بے شک رب ذوالجلال مجھے بے گناہ قرار دینے والے ہیں‘‘
اب فرمائیں کہ جب حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا‘ اﷲ کی قسم کھا کر فرما رہی ہیں کہ بے شک رب ذوالجلال مجھے بے گناہ قرار دینے والے ہیں تو پھر رات بھر کیوں روتی رہیں؟ ملاں جی آپ تو میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ کے علم پر حملہ آور ہورہے تھے مگر خود اتنے حواس باختہ ہوگئے کہ یہ تک یاد نہ رہا کہ جناب خود اس عبارت کا ترجمہ کیا نقل کر آئے ہیں اور اس عبارت کی روشنی میں ایسے لایعنی و گستاخانہ سوال کرنا کہ جس سے نبوت اور صحابیت پر زد پرے‘ اس کا کیا معنی ہے؟ اس لئے یہ ثابت ہوگیا کہ صحابی وصحابیہ (سیدہ عائشہ) کا عقیدہ مبارکہ یہی ہے جو ہم بحوالہ صحیح بخاری و صحیح مسلم نقل کر آئے ہیں اور وہابی عقیدہ وہ ہے جو آپ نے نقل کیا ہے۔ سبحان اﷲ جس شخص کی اپنی علمی پسماندگی اتنی حد تک گر چکی ہے کہ اس کو یہ علم تک بھی نہیں ہے کہ چند صفحات پہلے میں کیا لکھ آیا ہوں اور بعد کے صفحات میں اپنے ترجمہ پر اعتراض کررہا ہوں۔ وہ بھی قلم ہاتھ میں لے کر میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ کے خداداد علوم مبارکہ پر حملہ آور ہورہا ہے۔ حضرت ام المومنین کے مذکورہ بالا عقیدے کو غور سے پڑھیں کہ لفظ ’’وحی‘‘ موجود ہے۔ گویا کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا یہ عقیدہ مبارکہ تھا کہ اﷲ ان کے حق میں آیات نازل فرمادے گا اس کے برعکس وہابی کا عقیدہ بھی قارئین دیکھ لیں۔ مولوی صاحب سوال نمبر 10 میں لکھتے ہیں۔ اگر حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو بھی اس قدر علم غیب ہوتا کہ اﷲ میری برأت میں آیتیں نازل کرے گا تو وہ پوری پوری رات رو کے نہ گزارتیں اور ان کی نیندیں نہ اڑ جاتیں (بلفظہ عبارت مولوی عبدالماجد اہلحدیث) مولوی صاحب اتنی دیدہ دلیری کہ متن حدیث میں بھی تحریف کرتے ہیں۔ اب جبکہ ثابت ہوگیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو بھی علم تھا بلکہ وہ رضی اﷲ عنہا تو اپنے علم پر اس قسم کے ساتھ تاکید فرما رہی ہیں پھر ساری ساری رات کیوں روئیں؟ نمبر 2: جب آپ نے ترجمہ حدیث میں تسلیم کرلیا ہے کہ سیدہ رضی اﷲ عنہا کو بھی علم تھا اور اپنے قلم پر قسم اٹھا رہی ہیں اور ابھی نزول وحی بھی نہیں ہوا تھا۔ آپ نے اس کو علم غیب سے تعبیر کیا ہے تو ماشاء اﷲ اپنی ہی تحریر سے حضرت سیدہ کائنات کے علم مبارک پر علم غیب کا اطلاق کررہے ہیں اس کو کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ کہ نہ ماننے پر آئے تو نبیﷺ کے لئے علم غیب کی نفی کرکے خاصہ خداوند قدوس جل و علا قرار دے دیا اور ماننے پر آئے تو نبیﷺ تو کیا صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین تک لفظ علم غیب کا اطلاق کردیا۔
سوال نمبر 11: اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ جو تمام نبیوں کے بعد ساری مخلوق سے افضل ترین شخصیت ہیں وہ بھی عدم علم کی بناء پر حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے مطالبے پر نبیﷺکو کچھ نہ بتا سکے۔ گویا اﷲ تعالیٰ کے برگزیدہ ولی بھی یہ عطائی علم نہیں رکھتے تھے حالانکہ صداقت کا درجہ نبوت کے بعد ہے اور صالحیت سے پہلے ہے‘ فرماتے ہیں مجھے اﷲ کی قسم ہے میں نہیں جانتا کہ میں رسول اﷲ کو کیا جواب دوں اگر ان کا عقیدہ بھی ہوتا کہ حضورﷺ کائنات ماکان ومایکون کا علم رکھتے تھے لہذا ہمارے جواب دینے کی کیا ضرورت ہے۔
الجوابِ: یہ اعتراض بھی محض لایعنی اور غیر علمی ہے۔ آپ نے اسلام کے قانون شہادت نہیں پڑھے ورنہ اس اعتراض کی کوئی گنجائش تک نہ تھی۔ اسی طرح آپ کا علم فی علوم الحدیث بھی ناقص ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپ نے صرف رفع یدین‘ فاتح خلف الامام و تحت السرہ پر تو خوب محنت کی مگر عظمت مصطفیﷺ کی خاطر احادیث آپ کو نظر نہیں آتیں۔ یہ سلسلہ مہینہ بھر چلتا رہا ہے اور جناب کا مطالعہ صرف مسلم شریف کی ایک حدیث تک محدود ہے۔ اس واقعہ کی تفاصیل سے آپ یکسرنا آشنا ہیں ورنہ مختلف طرق دیکھنے سے ہمیں یہ حدیث بھی ملتی ہے کہ میرے آقا و مولیٰ سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اﷲ عنہ نے جو جواب فرمای اتھا اس جیسا جواب ماسائے انبیاء علیہم السلام نہ کوئی دے سکتا تھا نہ دے سکتا ہے۔ میرے آقاو مولیٰ سیدی صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ جوابا فرماتے ہیں:
واﷲ ماقیل لنا ہذا فی الجاہلیۃ فکیفبعد مااعزنا اﷲ بالاسلام (رواہ الطبرانی عن ابن عمر رضی اﷲ عنہما و فتح الباری ج 8ص 369)
خدا کی قسم یہ بات تو ہمارے حق میں زمانہ جاہلیت میں بھی نہیں کہی گئی پھر جبکہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اسلام سے عزت بخشی تو اس کے بعد یہ کیسے ممکن ہے۔ اﷲ اکبر یہ ہے شان صدیقیت کہ میرے آقا سیدی و سندی صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو ماہ بھر اس بہتان تراشی و افزا بازی سے جو قلبی و روحانی تکلیف پہنچی تو میرے آقا نے صبروتحمل سے وہ وقت گزار دیا۔ اس رضائے الٰہی کی خاطر آپ نے اس صبر جمیل کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ صدیق جیسا نہ کوئی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے پھر انعام الٰہی بھی وہ پایا جوکہ سیدنا صدیق اکبر کا ہی حصہ ہے کہ آپ کی نور نظر کی پاک دامنی کی شہادت قرآن دیتا رہے گا۔ سیدنا صدیق اکبر کی لخت جگر کی عفت و پاکدامنی کو ایمانیات میں شمار کیا گیا جو اس کا انکار کرے یا شک کرے‘ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور ایمان سے محروم رہے گا۔ اس موقع پر کیونکہ میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ موجود تھے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ ادب و احترام کی وجہ سے جواب نہیں دیتے۔ مگر جب صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے بات کی تو آپ نے وہ جواب مرحمت فرمایا جو ہم نقل کر آئے ہیں۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ بلا دلیل حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی طرف وہ بات منسوب کی جارہی ہے جس سے اس ذات مقدس کا دامن پاک ہے۔ کیا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی یہی شان ہے کہ ایک طرف تو فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں بھی ہمارے ساتھ ایسی جرأت کسی نے نہیں کی۔ اب جبکہ ہم مسلمان ہیں اور اﷲ عزوجل نے عزت بخش دی ہے تو اب یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے حتی کہ جب اسلام لے آئے اور حضور پرنورﷺ سے بیعت بھی کرلی۔ اپنی لخت جگر سیدہ کائنات کو آقا کریمﷺ کے دامن سے وابستہ بھی کرچکے اس کے بعد الزام لگا تو صدیق اکبر نعوذ باﷲ مشکوک ہوگئے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی طرف ایسے الزامات منسوب کرنے سے تو ڈوب مرنا صدہا بار بہتر ہے۔ اور اسی طرح آپ کی یہ تحقیق بھی عجیب ہے کہ اگر ان کا عقیدہ بھی یہ ہوتا کہ حضورﷺ ماکان و مایکون کا علم رکھتے تھے لہذا جواب دینے کی کیا ضڑورت ہے۔ گویا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو ماکان و مایکون کا علم ہو تو نہ اس کو کوئی بات پوچھنے کی ضرورت ہے اور نہ اس عالم ماکان و مایکون کو ہمیں جواب دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ وہ تو پہلے ہی جانتا ہے۔ سبحان اﷲ یہ بھی آپ کی انوکھی تحقیق ہے۔ ذرا صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث مبارکب پڑھ لیں انشاء اﷲ ایسی انوکھی تحقیقات کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں