حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, August 2010, شخصیات

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی محبتوں کا دروازہ ہر خاص و عام کے لئے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ آپ کی بخش و عطا کے بڑے عجیب انداز تھے۔ ملتان کا ایک زمیندار حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے غائبانہ عقیدت رکھتا تھا۔ مولانا عارف اسی شہر کی ایک مسجد میں امامت کیا کرتے تھے۔ اتفاق سے انہیں اجودھن میں کوئی کام تھا جب وہ سفر پر روانہ ہونے لگے تو زمیندار نے انہیں دوسو سفید تنکے (چاندی کے سکے) دیتے ہوئے کہا۔
’’جب آپ اجودھن پہنچیں تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں یہ حقیر نذر پیش کردینا اور عرض کرنا کہ یہ گناہ گار دعا وں کا طالب ہے‘‘
جب مولانا عارف اجودھن پہنچے تو شیطانی فریب میں مبتلا ہوگئے۔ خیال آیا کہ زمیندار نے کوئی تحریر تو دی نہیں ہے پھر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو کیسے پتہ چلے گا کہ نذرانے کی رقم کتنی ہے؟ یہ سوچ کر مولانا عارف نے سو تنکے اپنے پاس رکھ لئے اور باقی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں پیش کردیئے۔
’’مولانا! یہ کیا ہے؟‘‘ چاندی کے سکے دیکھ کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے پوچھا۔
’’ملتان میں ایک زمیندار آپ کا عقیدت مند ہے اسی نے یہ رقم بطور نذر بھیجی ہے اور دعا کی درخواست کی ہے‘‘
مولانا عارف کی بات سن کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ مسکرانے لگے۔ ’’خدا اس زمیندار کا بھی بھلا کرے اور آپ کا بھی کہ آپ نے حق برادری ادا کردیا‘‘
مولانا عارف حضرت بابا رحمتہ اﷲ علیہ کے اشارے کو سمجھنے سے قاصر رہے اور رسمی انداز میں کہنے لگے ’’میں ذاتی کام سے اجودھن آرہا تھا۔ اس لئے مجھے آپ کی خانقاہ تک پہنچنے میں کوئی زحمت نہیں ہوئی۔‘‘
’’مولانا! زحمت تو ہوئی کہ آپ نے نذرانے کی رقم کو آدھا آدھا کرلیا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بدستور مسکراتے رہے ’’حق برادری اسی کو کہتے ہیں‘‘
اس انکشاف پر مولانا عارف شرم و ندامت کے پسینے میں نہا گئے۔ بہت دیر تک سر جھکائے بیٹھے رہے پھر اپنے پیرہن کی جیب سے سو تنکے نکالے اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے رکھتے ہوئے عرض کرنے لگے۔
’’شیخ! مولویوں کی ہمت اہل سلوک کی ہمت کے برابر نہیں ہے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے تمام رقم لوٹاتے ہوئے فرمایا ’’مولانا! یہ بھی تمہارا ہے تاکہ بھائی کو کوئی نقصان نہ پہنچے‘‘
مولانا عارف نے یہ کشف و سلوک دیکھا تو اپنا سارا سامان اور نقدی خانقاہ کے درویشوں میں تقسیم کردی۔ پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں سے لپٹ کر رونے لگے۔
’’شیخ! جب محبت کی نظر کی ہے تو اس دل کی کثافتیں بھی دھو ڈالئے‘‘
پھر اہل دنیا نے دیکھا کہ سو تنکوں کی خیانت کرنے والا روحانی دولت سے مالا مال تھا۔ مولانا عارف کا شمار حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے خلفاء میں ہوتا ہے۔ آپ پیرومرشد کے حکم پر سیستان تشریف لے گئے تھے۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی دعائوں سے لاکھوں انسان فیضیاب ہوچکے تھے۔ کسی کی خاطر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے تو اﷲ کے کرم سے اس پر سیم و زر کی بارش ہوگئی۔ کسی پتھر پر اﷲ کا کلام دم کردیا تو سونا بن گیا مگر خود حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زندگی بڑی عسرت میں گزر رہی تھی… اور یہی حال ان درویشوں کا بھی تھا جو آپ کی نگرانی میں سلوک کی منزلیںطے کررہے تھے؟ مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ لنگر خانے کے لئے لکڑیاں جمع کرکے لایا کرتے تھے… جنگ سے ’’دیلہ‘‘ کی ذمہ داری حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کے سپرد کی گئی تھی (دیلہ ایک قسم کا پھل ہے جس پر نمک اور سرکہ لگا کر اچار بنایا جاتا تھا اور اسے سالن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا) حضرت حسام الدین کاہلی رحمتہ اﷲ علیہ پانی بھر کر لایا کرتے تھے اور وہی برتنوں کی صفائی بھی کیا کرتے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ ترکاری پکایا کرتے تھے… یہ تھی اس مرد جلیل کی معاشرتی زندگی جس کے بارے میں سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا تھا۔
’’قطب! اس شاہین کو زیر دام لائے ہو جس کا مقام (آشیانہ) آسمان کی انتہائی بلندیوں پر ہے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کثیر الاولاد تھے۔ تین بیویاں تھیں۔ سید قیام الحق کے انتقال کے بعد ان کی بہو سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے عقد کرلیا تھا تاکہ اس نیک خاتون کی کفالت ہوسکے۔ ہمشیرہ بی بی ہاجرہ اور ان کے صاحبزادے علی احمد صابر کلیری رحمتہ اﷲ علیہ بھی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے ہی زیر کفالت تھے۔ ان حضرات کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد بھی اس درویش کی کٹیا میں آپڑے تھے۔ وسائل ناپید تھے اور مسائل بے شمار پھر بھی اتنے بڑے خاندان کا ہنسی خوشی زندگی بسر کرنا‘ ایک عجوبہ روزگار کرامت ہے۔
ایک بار خاتون بیگم حاضر خدمت ہوئیں۔ ان کی آنکھوں سے اشک جاری تھے۔
’’بی بی! کیوں روتی ہو؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شریک حیات سے پوچھا۔
’’بھوک کی شدت سے میرا بچہ قریب المرگ ہے‘‘ خاتون بیگم کی آواز گھٹ کر رہ گئی۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرہ مبارک پر ایک لمحے کے لئے عکس ملال ابھرا۔ پھر فرمانے لگے ’’یہاں سب بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ مرضی مولا یہی ہے اسے لے جاکر دفن کردو‘‘
خاتون بیگم سنبھل گئیں’’مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے میں تو صرف اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئی تھی‘‘
’’مجھے خبر ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اہل صبر کے لہجے میں فرمایا ’’میں بیماری کے متعلق جانتا ہوں مگر علاج میرے پاس نہیں ہے، مسیحا کے دروازے پردامن پھیلائو۔ وہ چاہے گا تو اپنے بندوں کو شفا بخش دے گا‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ عام باپوں کے مقابلے میں ہزار درجہ بہتر باپ تھے مگر اولاد کی محبت میں آپ نے اپنی درویشانہ روش ترک نہیں کی۔ آپ کسی سے قرض لے کر یعنی بچے کی بھوک مٹا سکتے تھے اور اپنی روحانی طاقت سے پتھر کے ٹکڑے کو بھی سونے میں تبدیل کرسکتے تھے مگر آپ نے قرض کے لئے ہاتھ بھی نہیں پھیلایا اور روحانی طاقت کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔ یہ صبر اور شکر کا اعلیٰ مقام ہے جس پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنی روحانی عظمتوں کے ساتھ جلوہ افروز تھے۔ بعد میں یہ گراں وقت بھی گزر گیا مگر آزمائش میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ثابت قدم رہے اور ازواج و اولاد کو بھی صبر کی تلقین فرماتے رہے۔
اولاد کے سلسلے میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر اس سے بھی زیادہ مشکل وقت وہ تھا جب آپ کے گیارہ بارہ سالہ فرزند حضرت عبداﷲ رحمتہ اﷲ علیہ کو شہید کردیا گیا تھا۔ اجودھن کا حاکم حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے پرخاش رکھتا تھا اور اس پرخاش کی وجہ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اجودھن کے عوام حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ حاکم اجودھن کو یہ بات سخت ناگوار تھی۔ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اور آپ کے متعلقین کو کسی نہ کسی بہانے اذیتیں پہنچاتا رہتا تھا پھر ایک دن چند فسادیوں نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے نوعمر صاحبزادے حضرت عبداﷲ کو قتل کردیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ حاکم اجودھن کے کہنے پر یہ قتل کیا گیاتھا۔ اس اندوہناک واقعے پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا دل خون ہوگیا مگر آپ نے دنیاداروں کی طرح گریہ وزاری نہیں کی۔ بس خاموشی سے چند آنسو بہائے اور بیٹے کو اپنے ہاتھ سے قبر میں اتار دیا۔
تدفین کے بعد اہالیان خاندان اور مریدین نے عرض کیا ’’آپ حاکم اجودھن کے حق میں بد دعا کردیجئے کہ یہ سب کچھ اسی کی سازشوں کا نتیجہ ہے‘‘
’’میں نے تو اسے کوئی دکھ نہیں پہنچایا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے لہجے سے سوگواری جھلک رہی تھی۔
’’وہ تو آپ کو مسلسل اذیتیں دے رہا ہے‘‘ اہالیان خاندان نے شکوہ کیا۔
’’ایک انسان دوسرے انسان کو وہی کچھ تو دے سکتا ہے جو اس کے پاس ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا صبر قابل دید تھا۔ ’’میں بھی اسے وہی دے رہا ہوں جومیرے پاس ہے‘‘
متعلقین نے بہت کوشش کی کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حاکم اجودھن کے لئے بددعا کردیں مگر آپ یہی فرماتے رہے ’’میں نے اپنے لئے صبر مانگا ہے۔ خدا مجھے صبر دے دے‘‘
حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ مسلسل صبر کرتے رہے اور حاکم اجودھن آپ کو مسلسل اذیتیں پہنچاتا رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اجودھن چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں یا دوسرے دنیادار علماء کی طرح اس کے دربار میں حاضری دیا کریں۔ حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ مرد حق پرست تھے۔ایک کے آگے جھکے تو ساری دنیا کی نفی کردی۔آپ نے اپنے بیٹے حضرت عبداﷲرحمتہ اﷲ علیہ  کی موت کا صدمہ برداشت کرلیامگر حاکم اجودھن کی طرف دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔ آخر اس بدنما حاکم نے ایک عجیب چال چلی۔ اس نے ایک سوال نامہ ترتیب دیا اور اسے لے کر ملتان کے علمائے کرام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سوال نامہ یہ تھا۔
’’ایک شخص خود کو عالم کہتا ہے، ہمیشہ مسجد میں رہتا ہے، وہاں گانا سنتا ہے اور رقص کرت اہے‘‘
اگرچہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نہایت عالم و فاضل انسان تھے لیکن آپ نے کبھی خود کو عالم نہیں کہا۔ سماع سنتے تھے مگر اپنی خانقاہ میں۔ آپ نے کبھی عامیانہ انداز میں رقص نہیذں کیا۔ کبھی کبھی وجود اور حال کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ اسی کیفیت کو اس دروغ کو حاکم نے رقص کا نام دے دیا تھا۔
یہ سوال نامہ ترتیب دے کر حاکم اجودھن نے علمائے ملتان سے دریافت کیا تھا کہ ایسے شخص کے بارے اسلام کا کیافیصلہ ہے؟
علماء نے سوال نامہ پڑھا اور حاکم اجودھن سے پوچھا ’’یہ کون شخص ہے جس سے اس قسم کی حرکات سرزد ہوتی ہیں‘‘ تم نے اپنے سوال نامے میں اس کا نام نہیں لکھا‘‘
’’وہ اجودھن میں رہنے والے ایک شخص فرید الدین مسعود رحمتہ اﷲ علیہ ہے‘‘ حاکم کا لہجہ گستاخانہ تھا۔
’’ادب سے ان کا نام لے‘‘ ایک عالم نے حاکم اجودھن کو جھڑک دیا۔
’’تو جھوٹ بولتا ہے‘‘ دوسرے عالم غضب ناک ہوگئے‘‘ اس تہمت طرازی پر خدا سے ڈر‘‘ یہ کہہ کر ان عالم نے حاکم اجودھن کا ترتیب دیا ہوا سوال نامہ پھاڑ دیا‘‘
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں