۱۱۴۔ ومن اظلم ممن منع مسجد اﷲ ان یذکر فیہا اسمہ و سعیٰ فی خرابہا‘ اولٰئک ماکان لہم ان یدخلوہا الا خآئفین‘ لہم فی الدنیا خزیٔ ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم O

اور اس سے زیادہ اندھیر والا کون ہے جس نے روک دیا اﷲ کی مسجدوں کو‘ کہ یاد کیا جائے‘ ان میں اس کا نام۔ اور کوشش کی ان کی ویرانی میں۔ وہی ہیں کہ نہیں ہے ان کو حق‘ کہ داخل ہوں ان میں مگر ڈرتے ڈرتے۔ انہیں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور انہیں کے لئے آخرت میں عذاب ہے بہت بڑا

(اور) ان اہل کتاب کا‘ یہودی ہوں یا عیسائی‘ اسی طرح ان مشرکین کا کیا منہ ہے کہ وہ دین کا یا جنت کا نام لیں۔ ان سب کو معلوم ہے کہ ’’ططوس رومی‘‘ نے بنی اسرائیل سے بیت المقدس میں جنگ کی تو ان کے جوانوں کو قتل کر ڈالا اور بچوں کو قیدی بنالیا۔ توریت کو جلا ڈالا۔ بیت المقدس کو کھود کر گرادیا۔ یہاں تک کہ اسلام آنے کے بعد‘ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی خلافت میں نئے سرے سے اس کی تعمیر کی گئی۔ اور جب بابل والا ’’بخت نصر‘‘ مجوسی نے اپنے زمانے میں بنی اسرائیل سے جنگ کی تھی اور بیت المقدس کوڈھایا تھا۔ تو چونکہ یہودیوں نے حضرت یحییٰ نبی ابن ذکریا نبی کو ان کے عہد میں شہید کر ڈالا تھا۔ اسی ضد میں بخت نصر کی مدد یہودیوں کے خلاف‘ بیت المقدس کو ڈھانے میں‘ عیسائیوں نے کی تھی‘ ابھی کتنے دن کی بات ہے کہ مشرکین مکہ مسلمانوں کو کعبہ میں نماز ادا کرنے نہیں دیتے تھے۔ حج سے روک دیا تھا۔ یہ بھی تو عبادت گاہ کی ویرانی ہے کہ اس میں کسی عبادت سے روک دیا جائے۔ یہ ہیں اعمال ان اہل کتاب اور بت پرستوں کے (اور) اب ان سے کہنے کی بات ہے؟ کہ (اس سے زیادہ اندھیر والا) غدار سرکش (کون) ہوسکتا (ہے) (جس) ظالم (نے) بالکل (روک دیا) خود (اﷲ) تعالیٰ (کی مسجدوں) اور عبادت گاہوں (کو)۔ کس چیز سے روکا؟ اس سے (کہ یاد کیا جائے ان) مسجدوں (میں اس) اﷲ تعالیٰ (کا نام) اس کا ذکر جلی ہو یا خفی۔ حلقہ میں ہو یا تنہا درس قرآن ہو‘ یا تعلیم حدیث‘ بیان موعظۃ و عبرت ہو یا تبلیغ فقہ و شریعت‘ توحید الٰہی کا بیان ہو یا نعت رسولﷺ کا چرچا ہو۔ ہر دینی کام جو استحقاق ثواب رکھتا ہو۔ اﷲ تعالیٰ کی وہ عبادت ہے اور اسی کے حکم و شریعت کی اطاعت ہے۔ اور ہر عبادت الٰہی‘ بلاشک و شبہ ذکر الٰہی ہے۔ جس نے کسی عبادت سے روکا (اور) اس طرح (کوشش کی ان) مسجدوں (کی ویرانی میں‘ وہی ہیں کہ) جنت میں جانا تو بہت دور رہا‘ (نہیں ہیں ان) ظالموں (کو) اس امر کا (حق کہ داخل ہوں ان) مسجدوں (میں) بھی (مگر) بس (ڈرتے ڈرتے)‘ چھپ کر کہ کوئی پہچان نہ لے ورنہ قتل کردیئے جائیں گے۔ چنانچہ یہ واقعہ کہ بہت المقدس کے ڈھانے کے بعد‘ باوجود اس کے قبلہ اہل کتاب اور مقام حج اہل کتاب ہونے کے‘ اب تک کوئی رومی اور عیسائی آزادی کے ساتھ اس میں نہ جاسکا۔ ٹیکس کا خوف‘ قتل کا خوف‘ ان کے بلاد قسطنطنیہ و روم و عموریہ نکل جانے کا ہر اس‘ الگ سے مسلط رہا۔ اور کعبہ سے تو بت پرست ایسا نکالے گئے‘ کہ اب ان کا وہاں سایہ بھی نہیں جاتا۔ ان حرکتوں پر جنت کی ٹھیکیداری کتنی بڑی ڈھٹائی ہے۔انہیں جنت سے تو واسطہ نہیں‘ البتہ (انہیں کے لئے) یہاں (دنیا میں) غلامی و قتل و قید و گمنامی اور طرح طرح کی (رسوائی ہے) اور آخرت کی پوچھو تو (انہیں کے لئے آخرت میں) وہاں کا (عذاب ہے) کیسا؟ (بہت) ہی (بڑا) جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔