حدیث شریف:
عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ الرجب شہر اﷲ من اکرم شہر اﷲ اکرمہ اﷲ فی الدنیا والاخرہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ماہ رجب المرجب اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے جو ایماندار اس کی عزت و تکریم کرے گا اﷲ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں تکریم سے نوازے گا۔
نبی کریمﷺ نے حدیث کے راوی حضرت سعید خدری رضی اﷲ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ ہم انہیں دوست رکھتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے۔
ماہ رجب کے روزے
حدیث شریف میں ہے کہ جس ایماندار نے ماہ رجب کا ایک روزہ رکھا‘ وہ اﷲ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا حق دار بن گیا۔ جس نے دو روزے رکھے اس کا ثواب شمار سے باہر ہے۔ جس نے تین روزے رکھے‘ وہ دوزخ سے ستر ہزار سال کی راہ پر دور رہے گا۔ جس نے پانچ رکھے اس کا چہرہ قیامت کے دن آفتاب کی طرح روشن ہوگا۔ جس نے چھ روزے رکھے‘ میزان پر اس کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا۔ سات روزے رکھنے والے کے لئے دوزخ کے دروازے بند ہوں گے۔ آٹھ روزے رکھنے والے کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہوں گے‘ جس دروازہ سے چاہے داخل جنت ہو۔ نو روزے رکھنے والا قبر سے کلمہ پڑھتا باہر آئے گا اور بلا رکاوٹ جنت میں جائے گا۔ دس روزے رکھنے والے کو دو سبز بازو عطا کئے جائیں گے جو جواہرات سے مزین ہوں گے۔ اس کے باعث وہ پل صراط سے بجلی کی طرح گزر جائے گا۔ گیارہ والا قیامت میں صاحب فضل و کمال ہوگا۔ بارہ والا بھی افضل ترین ہوگا‘ تیرہ والا عرش کے سائے میں اور چودہ روزے رکھنے والے کو اﷲ تعالیٰ ایسی کرامات سے نوازے گا کہ اس کے سوا کوئی اور نہیں پاسکے گا۔ پندرہ والا درجہ شہادت پر فائز ہوگا۔
ماہ رجب کے نوافل پر انعام خداوندی
حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اکیلا ہی بارگاہ رسالت مآبﷺ میں حاضر ہوا۔ آپﷺ نے فرمایا ’’سلمان کیسے آنا ہوا؟‘‘ عرض کیا حضور آپ کی محبت لے آئی۔ آپ مسکرائے اور فرمایا لوگوں کو یہ بشارت سنادو کہ جو کوئی ایمان دار ماہ رجب کی کسی بھی رات میں دس رکعت اس طریقہ سے ادا کرے کہ بعد از فاتحہ سورۃ الکافرون ایک بار اور سورہ اخلاص تین تین بار پڑھے تو اﷲ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرمادے گا اور ہر رکعت کے بدلے ساٹھ ہزار سال کی عبادت کا ثواب عطا فرمائے گا اور ہر سورۃ کے عوض موتیوں کا ایک محل جنت میں دیا جائے گا اور تمام نمازیوں اور حاجیوں کی تعداد کے برابر اس کے نامہ اعمال میں ثواب درج ہوگا اور نماز کی فراغت کے ساتھ ہی اسے بخشش کی بشارت دی جائے گی۔ نیز عرش سے فرشتہ ندا کرے گا کہ اے اﷲ کے ولی تجھے آتش دوزخ سے محفوظ کردیا گیا ہے۔
ماہ رجب میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کرنی چاہئے۔ خصوصا سورہ طٰہٰ‘ سورہ الم‘ تنزیل اور سورہ یٰسین شریف۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس نے سورہ اخلاص ماہ رجب میں ایک بار پڑھی‘ اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
من تاب فی الرجب کتب لہ ثواب ادم و دائود علیہما السلام و جب لہ رضوان اﷲ اکبر
جو شخص ماہ رجب میں گناہوں سے توبہ کرے اس کے نامہ اعمال میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت دائود علیہ السلام کا ثواب درج کیا جائے گا اور اسے اﷲ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوگی۔
فضائل لیلتہ الرغائب
لیلتہ الرغائب ماہ رجب المرجب کی پہلی جمعرات کو کہتے ہیں‘ جس کے معنی ہیں بہت زیادہ عطیہ ربانی۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کی جماعت لئے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یہ رات آپ کی امت کے گنہ گاروں کے لئے مغفرت و بخشش کی ہے‘ البتہ سات آدمیوں اس کی برکات سے محروم رہیں گے وہ یہ ہیں:
سود کھانے والا‘ متکبر‘ والدین کا عاق شدہ‘ نافرمان بیوی‘ بے صبری کا مظاہرہ کرنے والا‘ ہم جنس پرست اور بے نمازی‘ البتہ یہ اپنی ان قبیح حرکات و افعال سے توبہ کرلیں تو رحمت الٰہیہ کے مستحق بن سکتے ہیں۔
اس رات کو عبادت کرنے والے پر کبھی عذاب نہیں ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی ایماندار رجب المرجب کی پہلی جمعرات کو روزہ رکھے اور بعد از نماز مغرب بارہ رکعت چھ سلام کے ساتھ ادا کرے‘ ہر رکعت میں بعد از فاتحہ تین بار سورہ قدر اور بارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر نماز مکمل کرکے یہ درود شریف
اللھم صل علی محمد ن النبی الامی و علیٰ آلہ
ستر مرتبہ پڑھ کر سجدے میں سبوح قدوس ربنا و رب الملٰئکۃ والروح ستر بار کہے پھر سجدے سے سر اٹھا کر ستر بار رب اغفر وارحم وتجاوز عما تعلم فانک انت العلیٰ العظیم پڑھے اور حسب اول عمل دہرائے بعدہ جو بھی دعا کرے گا۔ اﷲ تعالیٰ شرف قبولیت سے نوازے گا۔
حکایت: ماہ رجب کی تعظیم کے باعث ایمان عطاہوگیا
ماہ رجب کی عظمت و رفعت حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر نبی کریمﷺ تک مسلمہ ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے عہد میں ایک شخص کسی حسینہ پر عاشق تھا۔ وہ سال بھر اس کی ملاقات کا طالب رہا۔ اتفاقاً ماہ رجب کی چاند رات اس کی معشوقہ اسے خلوت میں ملی‘ آدمی زنا کرنا چاہتا تھا کہ عورت سے دریافت کرنے لگا یہ کون سا مہینہ ہے؟ اس نے کہا لوگ رجب کا چاند دیکھ رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی رجب المرجب کی تعظیم و توقیر کے طور پر اس نے زنا کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ فلاں مقام پر جائیں اور میرے بندے کی زیارت کریں۔ آپ اس کے پاس گئے وہ کہنے لگا کہ حضرت کیسے تشریف لائے؟ آپ نے حکم الٰہی کی بابت بتایا‘ وہ شخص یہ سنتے ہی ایمان لے آیا۔ سبحان اﷲ! ایک کافر نے ماہ رجب کی توقیر کی تو اﷲ تعالیٰ نے اسے ایمان کی دولت سے سرفراز فرمادیا۔
٭ ومن تعمل من الصالحات من ذکرا وانثنی وہو من فاولٰئک یدخلون الجنۃ ولایظلمون نقیرا
مومن مرد ہوں یا عورتیں جو بھی کوئی ان میں سے نیک عمل کرے گا اﷲ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس پر ذرّہ بھر ظلم نہیں ہوگا۔
٭ لیس الانسان الا ما سعی وان سعیہ سوف یریٰ
بے شک انسان کے لئے وہی مقدر ہے جس کی وہ کوشش کرے گا اور یقینا بہت جلد اپنی کوشش کا ثمردیکھ لے گا۔
٭ ان اﷲ لایضیع اجرا العاملین
بے شک اﷲ تعالیٰ عاملین کے عمل کو ضائع نہیں فرمائے گا۔