صاحبزادہ فضل کریم کا قومی اسمبلی میں اہم خطاب

in Tahaffuz, July 2010, متفرقا ت

میڈم اسپیکر! آج جو نیشنل اسمبلی میں Resolution Lay ہوا ہے۔ اس پر میں اپنی بات کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہ ملک اسلام کے لئے معرض وجود میں آیا اور تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی فکر نے قیام پاکستان کی راہ کو ہموار کیا۔ اس وقت برصغیر کے مسلمانوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے۔ لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲﷺ اﷲ کے فضل وکرم سے دنیا کی تاریخ میں ایک ایسی مملکت معرض وجود میں آئی۔ جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ 1973ء کے آئین میں جو پاکستان کا متفقہ آئین کہلاتا ہے۔ اس کی آرٹیکل نمبر ون میں یہ بات درج ہے کہ حاکمیت اعلیٰ کا تصور اﷲ تعالیٰ کی ذات مقدسہ کا ہے اور اﷲ تعالیٰ کے تفویض کردہ اختیار اس Legislator ادارے کو حاصل ہیں۔ قانون سازی کے لئے جو اﷲ کی احکام کے مطابق وضع کرسکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 227 میں یہ بات موجود ہے کہ پاکستان کا کوئی قانون قرآن و سنت سے متصادم بن نہیں سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک عزیز پاکستان کی جو جغرافیہ سرحدیں ہیں۔ آئین‘ قانون کی رو سے کوئی قانون پاکستان میں نظام مصطفی کے نفاذ کے بغیر بن نہیں سکتا۔
جناب والا! اسلام دنیا میں ایک واحد دین ہے۔ جس نے عورت کے حقوق کے تحفظ کی بات کی ہے۔ نظام عدل کی بات کی ہے۔ رواداری کی بات کی ہے‘ بھائی چارے کی بات کی ہے۔ ایک دوسرے کو اپنے‘ اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے عمل کرنے کی بات کی ہے اور قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ
ترجمہ: دین کے معاملے میں کوئی جبر اور کوئی ظلم اور کوئی ستم نہیں اور پھر آگے قرآن عظیم میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ: تو تم مشاورت کرو دین کے معاملات میں اور اپنے گھر کی زندگی کے مسئلے میں۔
میڈیم اسپیکر صاحبہ! ہم نظام عدل کے حامی ہیں۔ پاکستان میں کوئی مسلمان نظام عدل کی خلاف ورزی کا تصور نہیں کرسکتا۔ نفاذ شریعت کے حامی ہیں۔ بلکہ قائداعظم نے یہ کہا تھا کہ برصغیر کے مسلمان‘ ہندوئوں کے ساتھ مشترکہ اس لئے نہیں رہ سکتے کہ ہمارا مذہب‘ تہذیب‘ تمدن اور کلچر بالکل الگ ہے اور ان کا تہذیب‘ تمدن اور کلچر بالکل الگ ہے۔ اس وقت کے علماء حق نے قائداعظم کا ساتھ دے کر‘ آج وقت نے بتادیا ہے کہ ان علماء اکرام کا موقف جو ہے وہ درست تھا۔ ان میں علامہ شاہ احمد نورانی‘ علامہ احمد سعید کاظمی‘ شیخ الاسلام‘ خواجہ قمر الدین سیالوی‘ مولانا عبدالحامد بدایونی جیسے اکابر علماء جو ہیں وہ اس وقت موجود تھے۔
میڈم اسپیکر صاحبہ! صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم‘ لیکن میں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سوات کے اندر جو نظام عدل کے سلسلے میں بات ہورہی ہے۔ میں نے پہلے عرض کیا کہ ہم نظام عدل کی مخالفت نہیں کرتے۔ لیکن ہمیں اس بات کی گارنٹی دی جائے اس ہائوس میں کہ برصغیر میں صوفیا نے اسلام کو پھیلایا۔ نوے لاکھ آدمیوں کو معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اﷲ علیہ نے کلمہ پڑھایا۔ کیا رحمان بابا کے دربار پر بم بلاسٹ کیا۔یہ شریعت ہے؟ کیا بونیر کے اندر اولیاء کرام کے مزارات کو ٹیک اوور کرنا‘ یہ شریعت ہے؟ تمام مسالک کی الگ‘ الگ شریعت ہے۔ ہم شریعت کی مخالفت نہیں کرتے لیکن جناب والا! اس ہائوس سے آپ کی وساطت سے وزیراعظم پاکستان اور صدر مملکت سے یہ گارنٹی لینا چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کی رو سے نظام عدل کے نفاذ کے بعد وہاں پہ موجود دیگر مسالک کے جو افراد ہیں۔ ان کے عقائد کا‘ ان کے افکار کا‘ ان کے نظریات کے تحفظ کی کیا ضمانت دیتے ہیں۔ اگر یہ ضمانت نہیں دی جاتی تو پھر میں دو ٹوک الفاظ میں یہ بات کہتا ہوں۔ محترم چوہدری نثار علی خان صاحب نے فرمایا کہ ہم اس کی سپورٹ کرتے ہیں۔ یقینا ہم اس کی سپورٹ کرتے ہیں۔ ہم جمعیت علماء پاکستان والے لوگ ہیں۔ لیکن اگر ایک مسلک کی شریعت کو دوسرے مسلک کے اوپر نافذ کیا تو پھر ہم ایسی شریعت کو نہیں مانیں گے۔ ہم اسی شریعت کو مانیں گے جو شریعت محمدیﷺ ہے۔ میں بس آپ سے یہی گزارش کرنا چاہتا تھا۔ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کردی۔
میڈم اسپیکر! چلو تشریف رکھیں۔ٹھیک ہے‘ شکریہ تشریف رکھیں۔
صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم‘ وقت چونکہ بہت کم ہے۔ وگرنہ میں اس سلسلے میں اور بھی کچھ بات کرنا چاہتا تھا لیکن ہم جی‘ صاحبزادہ فضل کریم صاحب آپ تقریر جاری رکھیں۔
جناب جمشید احمد خان دستی‘ پوائنٹ آف آرڈر
جناب قائم مقام اسپیکر دستی صاحب آخری آدھ گھنٹہ پوائنٹ آف آرڈر کے لئے ہے۔ یہ تو نہیں ہے کہ منسٹر صاحب آئے ہوئے تو ہم پوائنٹ آف آرڈر لے لیں اور منسٹر صاحب نہیں ہوں تو ہم نہیں لیں گے۔ ابھی اہم بزنس ہے آپ بیٹھ جائیں۔ آخری آدھ گھنٹہ میں ہم لے لیں گے۔ جی صاحبزادہ فضل کریم صاحب!
صاحبزادہ حاجی فضل کریم ! بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘ شکریہ جناب اسپیکر! میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ڈکٹیٹر کی حکومت کے خاتمے کے بعد صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایک سال میں دو خطاب کئے اور انہوں نے اچھی پارلیمانی روایات کو قائم کیا۔ صدر مملکت صاحب کے خطاب سے عوام الناس کے جو احساسات اور جذبات اور امنگیں تھی وہ کچھ پوری نہ ہوسکیں۔ صدر مملکت فادر آف دی نیشن ہوتا ہے۔ ان کے نظریات اور ان کی پالیسی کو حکومت نے فالو کرنا ہوتا ہے۔ آپ مجھ سے بہت بہتر جانتے ہیںکہ گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان میں امریکہ ڈرون حملے کررہا ہے۔ اقوام متحدہ کے رولز میں یہ بات موجود ہے کہ کسی بھی ملک کی داخلی سلامتی میں اقوام متحدہ کا رکن ملک مداخلت نہیں کرسکتا۔ میں یہی کہنے میں حق بجانب ہوں کہ انہوں نے اپنی تقریر میں امریکہ جو داخلی معاملات میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعہ سرحد میں مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے اس کا تذکرہ نہیں فرمایا۔ بلوچستان کی صورتحال کا تذکرہ انہوں نے فرمایا جس پر میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں لیکن اس کا حل انہوں نے نہیں فرمایا۔ جس پر ہمیں افسوس ہے۔ پاکستان کے اس وقت جو معروضی داخلی حالات ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ پاکستان کی سلامتی کو اس وقت خطرہ ہے۔ ایک طرف تو امریکہ پاکستان کی داخلی خود مختاری کو چیلنج کررہا ہے۔ افغانستان کی پٹی کے اندر جو پاکستان سے ملحقہ ہے بلوچستان اور سرحد کی وہاں پر ملٹی نیشنل کمپنیز پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کے لئے دہشت گردوں کی فنانشل سپورٹ کررہی ہیں۔ آج امریکہ اور مغربی طاقتیں پاکستان کو اقتصادی اور معاشی لحاظ سے تباہ و برباد کرنا چاہتی ہیں اور ان کی یہ ایک منصوبہ ہے کہ 56 ممالک اسلامیہ میں پاکستان واحد ایٹمی پاور ہے جو مسلمانوں کے لئے ایک متاع حیات ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جناب اسپیکر! کہ ایٹمی پاور کی بنیاد اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی اور ان کے اوپر بین الاقوامی پریشر تھا اور اس پریشر کو انہوں نے محسوس نہ کیا اور ایٹمی ری ایکٹر کی بنیاد رکھی اور تاریخ شاہد ہے کہ جب بل کلنٹن امریکہ میں ان پاور تھے تو بھارت نے بلاسٹ کیا تو پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم محترم میاں محمد نواز شریف نے بل کلنٹن کے پانچ اکنامک پیکیج کے جو ٹیلی فون آئے تھے اس کو مسترد کردیا اور پاکستان کو سپرپاور متعارف کروانے میں‘ جس کا سہرا ڈاکٹر عبدالقدیر کے سر پر تھا‘ میاں محمد نواز شریف نے اہم کردار ادا کیا۔
یوں اس خطے میں طاقت کا توازن بھارت کے مقابلے میں بہتر ہوگیا۔ اس کے بعد عالمی سازشوں کا جال بنا جاتا رہا۔ افغانستان کے اندر جنرل مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے خانہ جنگی شروع ہوچکی اور ان تمام برائیوں کی جڑ میرے نقطہ نظر سے اس وقت کے ڈکٹیٹر‘ آمر جنرل مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے خانہ جنگی شروع ہوچکی اور ان تمام برائیوں کی جڑ میرے نقطہ نظر سے اس وقت کے ڈکٹیٹر‘ آمر جنرل مشرف ہیں۔ آج اگر جنرل مشرف کو پابند سلاسل کیا جاتا اور ان کے اوپر آئین کی Violation کا پرچہ درج کیا جاتا تو آج سوات کے اندر گن پوائنٹ پر طالبان اور ان کے ساتھیوں کو پاکستان کی حکومت کو چیلنج کرنے کا موقع نہ ملتا۔ مجھے بڑے افسوس سے یہ بات کہنی پڑرہی ہے کہ بعض افراد دین کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان میں اور مغرب میں اسلام کے نظام حیات کو‘ اسلام کے ابدی نظام کو‘ اسلامی روایات کو اسلامی اقتدار کو چیلنج کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔
جناب اسپیکر! میں یہ عرض کروں کہ اس وقت جو صورتحال ہے وہ اس وقت اتنی گھمبیر ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ:
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
امریکہ تو پاکستان کا دشمن ہے ہی‘ مغرب تو اسلام کا دشمن ہے ہی لیکن میرا ان افراد سے یہ سوال ہے کہ کیا ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے مسلمانوں کا خون بہانا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مترادف ہے یا نہیں؟ کیا خودکش حملہ کرنا پاکستان میں لوگوں کی جان ‘ مال‘ عزت و آبرو کا تحفظ نہ کرنا‘ کیا یہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مترادف ہے یا نہیں؟ کیا پاکستان کی گورنمنٹ کی خودمختاری کو چیلنج کرنا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مترادف ہے یا نہیں؟ کیا پاکستان کے اندر اپنے نقطہ نظر کے مطابق اور اپنے نقطہ نظر کے افکار کی چھاپ لگانا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مترادف ہے یا نہیں؟
جناب اسپیکر! بالکل یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ طالبان جو کھیل کھیل رہے ہیں اس کا مقصد پاکستان کو نقصان ہوگا۔ میرے نقطہ نظر سے جو امریکہ کرنا چاہتا ہے پاکستان کو غیر مستحکم تو وہی کھیل اس وقت طالبان پاکستان کے اندر کھیل کر لوگوں کی جان و مال‘ عزت و آبرو سے کھیل رہے ہیں۔ سولہ کروڑ عوام اس کو مسترد کرتے ہیں اور کسی بھی طالبانائزیشن کی حکومت قائم کرنے کا جو ارادہ رکھتا ہے یہ ایوان اس کو مسترد کرتا ہے۔
جناب اسپیکر! صوفی محمد صاحب نے یہ کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ غیر اسلامی ہے‘ میرا ان سے یہ سوال ہے کہ اگر یہ پارلیمنٹ غیر اسلامی ہے‘ اسی پارلیمنٹ نے وہ قرارداد پاس کی جو مالا کنڈ میں نظام عدل کی صورت میں پیش ہوا تو صوفی محمد صاحب یہ فیصلہ کرلیں کہ غیر شرعی پارلیمنٹ کا پاس کیا ہوا قرارداد مالاکنڈ میں جو کیا گیا ہے تو پھر اس کی شرعی‘ آئینی اور قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ باتیں پاکستان کے وفاق کے خلاف ہیں‘ پاکستان کے نظریہ کے خلاف ہیں‘ آج بونیر کے اندر‘ مجھے صبح ٹیلی فون آیا کہ یہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی سازش ہے۔ یہ ایک گھنائونی سازش ہے‘ عالمی ایجنٹ ہیں۔ میں آپ کو بالکل دو ٹوک الفاظ میں یہ بات عرض کروں کہ آج کے اخبارات میں یہ آیا کہ طالبان نے بونیر میں دیگر مسالک کی مساجد پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ کیا یہ ملک فرقہ وارانہ فسادات کے لئے بنایا گیا تھا۔ ان علماء نے تو قائداعظم کو بھی کافر اعظم کہاتھا۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال کو بھی کافر اعظم کہا تھا‘ بعد میں کہا تھا کہ پاکستان کی اسٹیٹ نہیں بن سکتی اور اب یہ حکومت کی ایجنسیوں کا کام ہے کہ تحقیق کریں جو اس وقت پاکستان کی اسٹیٹ کے مخالف تھے آج پاکستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کرکے پاکستان کو تباہی اور بربادی کے کنارے پر پہنچا رہے ہیں۔
جناب اسپیکر! آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے قیام کے بعد 31 جید علماء جن میں تمام مکاتب فکر کے علماء شامل تھے‘ انہوں نے 22 نکات نظام مصطفی کے نفاذ اور مقام مصطفی کے تحفظ کے لئے ترتیب دیئے۔ وہ 22 نکات کیا مالا کنڈ میں جو قرارداد پیش کرنے کے بعد نظام عدل کا نفاذ ہوا ہے ان 22 علماء کے پیروکاروں کو اعتماد میں لیاگیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اسلام کے نظام عدل کے خلاف ہونے کا کوئی تصور نہیں کرسکتا۔ برصغیر پاک و ہند میں ایک ہی مطالبہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ پاکستان کا کوئی مسلمان سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد‘ کوئی عالم دین‘ کوئی مزدور‘ کوئی کسان اور کوئی آدمی جو پاکستان سے محب وطن ہے اور پاکستان سے تعلق رکھتا ہے اور چاہے اس کا تعلق کسی بھی پاکستان کی سیاسی یا مذہبی جماعت سے ہو تو وہ پاکستان میں قرآن و سنت کی حاکمیت کا اختلاف نہیں کرسکتا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی انتہا پسند کے پاس قرآن و سنت کی حاکمیت کا سرٹیفکیٹ دینا یہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ کیا اس پارلیمنٹ کے ذریعے میں صوفی محمد صاحب سے یہ پوچھ سکتا ہوں کہ جب آپ نے ایوب خان کے دور میں 1970ء میں الیکشن لڑا تھا تو وہ آپ کا فعل اسلامی تھا یا غیر اسلامی تھا۔ قرآن پاک کے اندر اﷲ ارشاد فرماتا ہے کہ وشاورہم فی الامر مشاورت کرو ‘ یہ کہنا کہ جمہوریت کااسلام میں تصور نہیں ہے۔ اﷲ کے رسول محمد مصطفیﷺ جن پر اﷲ وحی نازل فرماتے تھے‘ صحابہ رسول کے جھرمٹ میں بیٹھ کر سرکارِ مدینہ‘ سرور سینہ‘ محمد مصطفیﷺ صحابہ رسول سے مشاورت کرتے تھے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ ریاست مدینہ کا پہلا سربراہ محمد مصطفیﷺ نے ریاست مدینہ کے تصور کو اجاگر کرنے کے لئے اگر شورائی نظام میں مشاورت کی ہے تو یہ پارلیمنٹ بھی ایک شورائی نظام کے تحت ہے۔ یہاں پر ہر آدمی اپنی بات کرنے میںآزاد ہے۔
جناب اسپیکر! کہتے ہیں کہ سوات کے حالات خراب نہیں ہیں‘ اسی ہائوس کے‘ اسی ملک کے ایک منسٹر پیر نور الحق قادری کے بھائی‘ سابق سینیٹر مولانا عبدالمالک کے بیٹے‘ بھائی اور بھانجوں کو کس لئے شہید کیا گیا کہ ان کا تعلق صوفی ازم کے ساتھ تھا۔ Mysticism کے ساتھ تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ سوات کے اندر پیر سمیع اﷲ چشتی کو آج سے ایک ماہ قبل ٹارگٹ کلنگ کے ذریعہ شہید کیا گیا۔ ان کی لاش کو دفنا دیا گیا اور لاش کو دفنانے کے بعد دوبارہ باہر نکالا گیا۔ World Hook Up کے اوپر دکھایا گیا‘ تو کیا یہ شریعت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ شریعت نہیں ہے۔ ابھی چند روز پہلے پیر بسم اﷲ خان کو شہید کیا گیا۔
18 آدمیوں کو شہید کیا گیا جن کا صوفی ازم سے تعلق ہے۔ یہ تاریخی بات ہے‘ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اس خطے میں اسلام اگر آیا ہے تو صوفیاء کے ذریعے ہی آیا ہے‘ بزرگان دین کے ذریعے ہی آیا ہے‘ کسی عالم دین کے ذریعے نہیں آیا۔ صوفیاء نے وہ پیغام محبت دیا جس سے ہندو سکھ متاثر ہوکر اسلام قبول کیا کرتے تھے۔ ان کی محفلوں میں کفار و مشرکین بھی آیا کرتے تھے لیکن اپنے عمل سے‘ قول سے‘ فعل سے رواداری سے اور اپنے اخلاق سے ان کو متاثر کرتے اور وہ لوگ پھر اسلام میں شامل ہوتے۔
جناب اسپیکر! دو کروڑ اکیاسی لاکھ افراد کو صرف چھ آدمیوں نے مسلمان کیا ہے‘ تاریخ شاہد ہے ان میں داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اﷲ علیہ‘ یہ ہمارے بری امام سرکار جو یہاں تشریف فرما ہیں‘ جو اسلام آباد کی زینت ہیں انہوں نے کئی سو سال پہلے کہہ دیا تھا کہ ایک ایسی ریاست میری قبر کے نزدیک بنے گی جو مسلمانوں کا مقام سر سے بلند کردے گی۔ یہ وہی اﷲ والے ہیں جو اﷲ والے دین کی خدمت کرتے رہے اور پھر اسی دھرتی کے اندر شاہ عبداللطیف بھٹائی‘ عبداﷲ شاہ غازی نے خدمت کی‘ بابا بھلے شاہ کی فکر نے خدمت کی اور دیگر بزرگان دین نے خدمت کی اور میں سمجھتا ہوں کہ آج اولیاء اﷲ کا جو فیضان ہے اس کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ گورنمنٹ کی رٹ کا‘ مولانا فضل الرحمن نے یہ فرمایا کل کی تقریر میں کہ گورنمنٹ کی رٹ ختم ہوگئی۔ کاش مولانا فضل الرحمن یہ فرمادیتے کہ جو حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے والے لوگ ہیں میں ان کی مذمت کرتا ہوں اور اگر ان میں یہ اخلاقی جرأت نہیں تو ہم میں جمعیت علماء پاکستان والوں میں جو نون لیگ کے اتحادی ہیں‘ ہم میں یہ جرأت ہے کہ جو حکومت کی رٹ کو چیلنج کرے گا تو ہم حکومت کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کراس رٹ کو قائم کریں گے اور ہر دہشت گرد کا مقابلہ میدان عمل میں اتر کر کریں گے۔ جناب اسپیکر! میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اس خانہ جنگی کی طرف جارہے ہیں‘ لوگوں کو مسلح کیا جارہا ہے اور اگر خدانخواستہ‘ خاکم بدھن پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو پاکستان کے حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے اور یہ کہنا کہ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھیں۔ میں ان علماء سے کہتا ہوں کہ آپ اپنی مذہبی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان میں قرآن و سنت نظام کی ابتداء کریں۔ یہ سولہ کروڑ عوام کی پارلیمنٹ آپ کے پیچھے ہوگی لیکن وہ اسلام جو تلوار کے زور پر آپ لانا چاہتے ہیں ہم ایسے اسلام کو نہیں مانتے‘ نہیں مانتے‘ نہیں مانتے۔ ہم اس اسلام کو مانتے ہیں جس کا درس محمد مصطفی‘ احمد مجتبیﷺ نے اپنی زندگی مبارک میں دیا تھا۔ طائف کا میدان تھا اﷲ کے پیارے رسولﷺ پر کفار و مشرکین نے نعوذ باﷲ پتھر برسائے۔ نبی پاک کا جوتا مبارک لہو سے بھر گیا اور اﷲ سب کچھ جاننے والا ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے کہ رسول اﷲﷺ کا ارشاد ہے کہ دین اسلام رحمت کا پیغام ہے‘ اﷲ کسی حاکم کا‘ کسی عالم کا‘ کسی صوفی کا اور کسی پیر کا محتاج نہیں ہے۔ اﷲ حاکم اعلیٰ ہے اور حضرت محمد مصطفیﷺ رحمت عالم ہیں۔ میرے سرکار نے فرمایا کہ اﷲ نے مجھے جہانوں پر رحمت بنا کر بھیجا ہے اور پھر یہ ساتھ ارشاد فرمایا کہ ممکن ہے کہ اس بستی کے اندر اﷲ کی الوہیت کا اقرار کرلے اور محمد مصطفیﷺ کی رسالت کا اقرار کرلے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی بقاء پاکستان کی سلامتی اس کے اندر مضمر ہم غیروں کے ایجنٹ بننے کی بجائے ہم محمد مصطفیﷺ کے نظام کی آبیاری کے لئے اہم کردار ادا کریں۔ پاکستان اس وقت خوفناک صورتحال میں مبتلا ہے‘ پنوں عاقل چھائونی کے ذریعے آپ جانتے ہیں کہ ’’را‘‘ کے ایجنٹوں نے وہاں پر بھی اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلوچستان کی صورتحال آپ کے سامنے ہے اور ابھی میرے فاضل ممبر اسمبلی فرمارہے تھے کہ پاکستان کے ہلالی پرچم کو نذر آتش کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو نذر آتش کرتا ہے وہ اسلامی نظام کو نذر آتش کرتا ہے‘ دو قومی نظریہ کو نذر آتش کرتا ہے‘ علامہ اقبال کی فکر کو نذر آتش کرتا ہے‘ قائداعظم کے دیئے گئے پاکستان کو نذر آتش کرتا ہے۔ ہم اس ملک میں کسی کو قرآن و سنت کی حاکمیت کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کسی شخص کو بیرونی ایجنڈے کے اوپر عمل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تقریریں تو یہاں سب کر جاتے ہیں وقت نہیں ہے ورنہ بتاتا کہ بعض افراد نے جو تقریریں کی ہیں ان کے انٹرویوز اب بھی ریکارڈز پر ہیں‘ تاریخ ان کو لکھتی ہے کہ جب ایسٹ پاکستان ویسٹ پاکستان سے الگ ہوا‘ مکتی باہنی اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب ہوگئی تو کچھ علماء نے یہ کہا تھا کہ شکر ہے ہم پاکستان کے بننے کے گناہ میں شریک نہ تھے۔ یہ تاریخ کی بات ہے کہ پاکستان ٹوٹ رہا ہے دنیا کی ایک عظیم اسلامی ریاست جو قائداعظم کی قیادت میں معرض وجود میں آئی تو اس کے دولخت ہونے پر جنہوں نے یہ باتیں کیں آج وہی لوگ انہی کے پیروکار پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ آئو میں دعوت فکر وعمل دیتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ ہمارا سیاسی اختلاف ہے۔ یہ ہمارا جمہوری حق ہے‘ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی مسلمان چاہے اعمال کے لحاظ سے اتنا اچھا نہ ہو لیکن کوئی مسلمان چاہے اعمال کے لحاظ سے اتنا اچھا نہ ہو لیکن کوئی مسلمان قرآن و سنت کی حاکمیت کے خلاف ہونے کا تصور نہیں کرسکتا۔ وہ شریعت جس کی بنیاد دہشت گردی‘ قتل و قتال پر ہو‘ نہیں مانتے‘ وہ شریعت نہیں مانتے وہ اس شریعت کو مانتے ہیں جو مدینے والے آقا ﷺنے مدینے کی سرزمین پربیٹھ کر کفار و مشرکین کو معاف فرمادیا تھا اور فتح مکہ کے اندر عام معافی کا اعلان کردیا تھا اور فرمایا کہ میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔ اسلام تلوار کے زور پر نہیں پھیلا۔ اسلام حکمت‘ تدبر‘ فہم اور فراست کے زور پر پھیلا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مکاتب فکر‘ اہل علم علماء کو اعتماد میں لیا جائے۔ کوئی ایسا اسلام کہ جو ایک مخصوص برانڈ اور فرقے کی وساطت سے ہو‘ ہم اس کو چلنے نہیں دیں گے۔ وہی اسلام آئے گا جس میں تمام مکاتب فکر کے اہل علم علماء کو اس کا ادراک ہوگا اور میں مسلمانوں کے تمام مکاتب کے علماء کے اتحاد کا داعی بھی ہوں۔ اس لئے کہ جب متحدہ علماء کونسل بنی تھی تو تمام مکاتب علماء نے مجھے اس کا چیف آرگنائزر بھی بنایا تھا۔ آج بھی میں الحمدﷲ فرقہ وارانہ فسادات کے خاتمے کے لئے جب میں منسٹر تھا‘ مذہبی امور کا زکوٰۃ و عشر کا تو میں نے پنجاب میں پاکستان کی تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس بلایا تھا۔ جس اجلاس میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے تمام قائدین موجود تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ آج ملک عزیز میں Sectarian Violence ہے۔ آج لٹریچر کے اندر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے‘ آج لٹریچر میں سید الشہداء امام حسین کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے۔ تحریراً‘ تقریراً‘ آج لٹریچروں کے اندر خلفائے راشدین کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے اور مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ تحدیث نعمت کے طور پر میں یہ کہتا ہوں کہ جب علماء کا اجلاس لاہور میں‘ میں نے کال کیا تو اس کے ایک رہنما اصول مقرر کئے اور اس کا ضابطہ اخلاق بنایا۔ اس کے رہنما اصول مقرر کئے اور اس کا ضابطہ اخلاق بنایا۔ اس کے رہنما اصولوں میں سے ایک رہنما اصول یہ تھا کہ اپنے مسلک پر قائم رہو اور کسی کے مسلک کو چھیڑو مت‘ قانون کو ہاتھ میں نہ لو اور اپنے عقائد‘ افکار و نظریات کے مطابق میلاد النبی کے جلوس بھی نکالو‘ سیرت النبی کے جلسے بھی کرو اور ذوالجناح کے جلوس بھی نکالو لیکن کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ ان رہنما اصولوں کو اس وقت خدا کے فضل و کرم سے اس خادم نے تمام مکاتب فکر کے علماء سے وہاں پر دستخط کروا کر‘ اور یہ بھی جناب اسپیکر! میں عرض کرتا چلوں کہ وزیراعلیٰ پنجاب میں محمد شہباز شریف نے ایک Committee Constitute کی تھی جس کا نام متحدہ علماء بورڈ۔ اس کا میں اس وقت بھی چیئرمین تھا اور اب بھی چیئرمین ہوں۔ یہ تاریخ کی بات کررہاہوں کہ ایک ہزار سال میں کسی بھی اسلامی مملکت کے اندر ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی کا جو لٹریچر تھا وہ ضبط نہیں کیا۔
صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم یہ تاریخ کی بات کررہا ہوں کہ ایک ہزار سال میں کسی بھی اسلامی مملکت کے اندر ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی کا جو لٹریچر تھا‘ وہ ضبط نہیں کیا۔ میں چیئرمین بنا تو ستر کتابوں میں جو مسلمانوں کے درمیان انتشار اور افتراق کا سبب بنتی تھی۔ تمام مکاتب فکر کے اہل علم علماء کو ایک پلیٹ فارم پر بٹھایا‘ مناظرے کئے۔ بات کی‘ دلیل کی بات کی‘ الحمدﷲ کسی ایک مسلک والوں نے اعتراض نہیں کیا‘ ان ستر کتابوں کو ضبط کرنے میں بھی‘ تحدیث نعمت کے طورپر عرض کرتا ہوں کہ اس فقیر کا اہم کردار ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں اسو قت علماء کا Vision Up ہونا چاہئے۔ دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے۔ دنیا سائنسی علوم حاصل کررہی ہے۔ ہم اس ملک کو کہاں سے لے جارہے ہیں۔ ہم یہ تصور پیش کرنا چاہتے ہیں کہ بچیاں کالجوں اور اسکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتیں‘ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا۔
ترجمہ: علم حاصل کرو ماں کی گود سے لے کر لحد تک
سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص نے سورج کو پایا اور اس سے ہدایت نہیں کی کہ وہ شخص بھی گمراہ ہے۔ نبی پاکﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ فرمایا جس شخص نے ماں کی گود سے لے کر قبر کی لحد تک علم حاصل نہیں کیا وہ گمراہی میں رہا۔ علم انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ علم انسان کے وژن کو بڑھاتا ہے‘ علم انسان کی علمی استعداد کو بڑھاتا ہے‘ آج دنیا چاند کی تحقیق کررہی ہے۔ میں ثابت کرتا ہوں کہ نبی پاکﷺ پر اترنے والا قرآن‘ اترنے والا اسلام جس کی حقانیت آج پوری دنیا نے مان لی ہے۔ سرکار دوعالمﷺ سے پوچھا گیا۔ اﷲ نے قرآن کی وحی نازل کی اپنے محبوبﷺ پر کہ اے محبوب تم فرمادو۔
یہ فرمایا چودہ سو سال کے بعد امریکی سائنسدان کا جب زمین کی تباہی اور بربادی کا تصور پیش کرتا ہے تو وہ یہی بات کرتا ہے جب قیامت برپا ہوگی‘ زمین ریزہ ریزہ ہوجائے گی‘ پہاڑ پھٹ جائیں گے‘ چودہ سو سال پہلے محمد مصطفیﷺ نے جو دنیا کا سب سے بڑا سائنس دان ہے‘ جو دنیا کے امام المرسلین ہیں جو ریاست مدینہ کا تصور پیش کرنے والا ہے۔ جو انسانی حقوق کا داعی ہے‘ جنہوں نے عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا‘ جس نے غریبوں کے حقوق کا تحفظ کیا‘ جس نے یتیموں کے حقوق کا تحفظ کیا‘ جس نے جاگیرداری نظام کو چیلنج کیا‘ جس نے ادنیٰ اور اعلیٰ کے فرق کو ختم کیا‘ جس نے مدینہ کی سرزمین پر جلد اور سستا انصاف مہیا کیا۔ ایک منافق مسلمان اور یہودی کا نبی پاکﷺ کے پاس ایک کیس آیا تو ایک ظاہری مسلمان تھا اور ایک غیر مسلم تھا۔ اس مسلمان کا یہ خیال تھا کہ اسلامی ریاست کے سربراہ قاضی القضاء حضرت محمد مصطفیﷺ شاید میرے حق میں فیصلہ کردیں۔ کیس ٹرائل ہوا‘ ان دونوں نے اپنے بیانات دیئے‘ تو میرے اور آپ کے آقاو مولیٰ والضحیٰ کے چہرے والے رسول‘ والیل کی زلف والے رسول‘ اﷲ کی شان کے مظہر رسول‘ دنیا میں پیغام امن لانے والے رسول نے فیصلہ صادر فرمادیا کہ اے مسلمان تم ناحق ہو اور وہ غیر مسلم حق پر ہے۔ یہ ہے اسلام کا نظام عدل۔ یہ ہے اسلام کا نظام صداقت‘ ہم نظام عدل کو مانتے ہیں‘ نظام صداقت کو مانتے ہیں‘ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جو آدمی نظام عدل لے کر آیا‘ اس کے مقام کا بھی تو تحفظ کروناں… اس کے مقام کے متعلق جو کہتے ہیں کہ نبی جیسا دیکھتا ہے‘ ہم جیسا کھاتا ہے‘ ہم جیسا پیا ہے۔ نہیں نبی اور رسول‘ اﷲ کی شان کے مظہر ہوتے ہیں۔ کروڑوں انسان محمد مصطفیﷺ کی عظمت پر قربان کئے جاسکتے ہیں۔
جناب والا! میں آخر میں پھر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو تباہی سے بچالیں۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے‘ افغانستان کے اندر اس وقت آپ جانتے ہیں کہ اسرائیل کی بدنام زمانہ تنظیم موساد اور انڈیا کی را ہے‘ پنوں عاقل چھائونی تھرپارکر کے اندر اس وقت ہنگامے ہونے کا اندیشہ ہے۔ بلوچستان میں ان کی مداخلت ہے۔ خدارا حکومت کو تدبر کی پالیسی کی ضرورت ہے۔ میری گزارش ہے کہ حکومت کے وزراء یہاں پر تشریف فرما ہیں۔یہ مصلحتوں کو چھوڑ دیں‘ مصلحتوں کو بالائے طاق رکھیں‘ جو شخص قانون کو ہاتھ میں لے گا‘ اس کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے ہو یا مذہبی پارٹی سے ہو‘ اس کو تختہ دار پر لٹکادیا جائے‘ تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کرسکیں۔