سید احمد رائے بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے جہاد کی حقیقت

in Tahaffuz, July 2010, ا سلا می عقا ئد, ابو الحسنین مفتی محمد عارف محمود خان قادری رضوی, عقا ئد ا ہلسنت

ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے نتیجے میں ہندوستانیوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً ان کے خلاف بے چینی اور بغاوت کا ماحول پیدا ہوتا رہا‘ جو 1857ء میں ایک منظم پیمانے پر میرٹھ کی چھائونی سے شروع ہوکر ہندوستان کے دیگر خطوں میںبھی پہنچ گیا۔ اس سلسلے میں ہندو قوموں کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں اور علمائے کرام کی کوششیں بھی مسلسل آزادی کے حصول تک جاری رہیں۔ متعصب تاریخ نگاروں نے جب ان حالات اور ماحول کا نقشہ اپنے طور پر پیش کیا تو حقائق کے ماتھے پر سیاہی پوت کر تعصب اور تنگ نظری سے کام لیتے ہوئے مسلمانوں کے کردر کو بالکلیہ ختم کردینے کا ناپاک جرم کیا۔ اس پہلو کا دوسرا رخ یہ سامنے آیا کہ سواداعظم اہلسنت سے خارج علماء جنگ آزادی کا سارا کردار اپنے نام کرنے لگے اور علمائے اہلسنت کے مقتدر مجاہدین آزادی کو انگریز نوازوں کی فہرست میں شمار کروانے لگے یا پھر اپنی جماعت کا فرد بنا کر علمائے اہلسنت کے عظیم کارناموں کے نشانات پر مٹی ڈالنے کی ننگی جرات ہی کر بیٹھے۔ اب ان حالات میں ضروری ہے کہ اصل واقعات سے قوم کو روشناس کرایا جائے اور بازار سیاست کے دلالوں کے سامنے حقیقی صورتحال پیش کردی جائے تاکہ آج جو غدار وطن کا بدنما داغ اقتدار کے زور پر ہماری پریشانیوں پر مڑھا جارہا ہے‘ اس کا بے بنیاد ہونا معلوم ہوجائے۔
سید احمد اور شاہ اسماعیل کے تعلق سے پورا دیوبندی مکتب فکر مسلسل تحریر و تقریر کے ذریعہ یہ ذہن دینے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی اور جہادی سرگرمیوں میں سارا رول ان ہی کا ہے اور انہوں نے ہی مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف جہاد کے لئے وعظ کے ذریعہ منظم کرنے کے بعد جنگیں کیں اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے‘ جبکہ سچائی اس کے برعکس ہے۔ بلکہ یہ دونوں اور ان کے دیگر حامی و متبعین انگریزوں کے وظیفہ خوار اور مکمل ہم نوا تھے۔ اس سلسلے میں خود افراد خانہ کی بیشمار شہادتیں موجود ہیں‘ جن میں سے چند ایک ہدیہ قارئین ہیں۔
سیاسی مصلحت کی بناء پر سید احمد صاحب نے اعلان کیا کہ سرکار انگریز سے ہمارا مقابلہ نہیں اور نہ ہمیں اس سے کچھ مخاصمت ہے۔ ہم صرف سکھوں سے اپنے بھائیوں کا انتقام لیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ حکام انگلشیہ بالکل باخبر نہ ہوئے اور نہ ان کی تیاری میں مانع آئے (حیات طیبہ‘ مطبوعہ مکتبتہ الاسلام‘ ص 260)
’’سید صاحب کے پاس مجاہدین جمع ہونے لگے‘ سید صاحب نے مولانا شہید کے مشورے سے شیخ غلام علی رئیس الہ آبادی کی معرفت لیفٹیننٹ گورنر ممالک مغربی شمالی کی خدمت میں اطلاع دی کہ ہم لوگ سکھوں سے جہاد کرنے کی تیاری کرتے ہیں‘ سرکار کو تو اس میں کچھ اعتراض نہیں ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے صاف لکھ دیا کہ ہماری عملداری میں امن میں خلل نہ پڑے تو نہیں‘ آپ سے کچھ سروکار نہیں‘ نہ ہم ایسی تیاری میں مانع ہیں۔ یہ تمام بین ثبوت صاف اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ جہاد صرف سکھوں سے مخصوص تھا‘ سرکار انگریزوں سے مسلمانوں کو ہرگز مخاصمت نہ تھی‘‘ (حیات طیبہ‘ مطبوعہ مکتبتہ الاسلام‘ ص 523)
اس تعلق سے مولانا جعفر تھانیسری کی تحریر اس طرح ہے
’’سید صاحب کا انگریزی سرکار سے جہاد کرنے کا ہرگز ارادہ نہیں تھا۔ وہ اس وقت آزاد عمل داری کو اپنی ہی عمل داری سمجھتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ سرکار انگریز اس وقت سید صاحب کے خلاف ہوتی تو ہندوستان سے سید صاحب کو کچھ بھی مدد نہ ملتی‘ مگر سرکار انگریزی اس وقت دل سے چاہتی تھی کہ سکھوں کا زور کم ہو‘‘ (حیات سید احمد شہید‘ ص 293)
سرسید بھی اس واقعات کی طرف عنان قلم موڑتے ہوئے بالکل ملتی جلتی باتیں لکھتے ہیں‘ جن سے سید احمد رائے بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے جہادی کارناموں کا سراغ بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔
سید احمد صاحب نے پشاور پر پھر سکھوں کا قبضہ ہونے کے بعد اپنے ان رفیقوں سے جو جہاد میں جان دینے پر آمادہ تھے‘ یہ کہا کہ تم جہاد کے لئے بیعت شروع کرلو‘ چنانچہ کئی سو آدمی نے اسی وقت بیعت کی اور یہ بات تحقیقی ہے کہ جو شخص شیر سنگھ کے مقابلے میں لڑائی سے بچ رہے تھے‘ ان میں صرف چند آدمی اپنے پیشوا سید احمد صاحب کی شہادت کے بعد مولوی عنایت علی اور ولایت علی ساکن پٹنہ ان کے سردار ہوئے‘ لیکن انہوں نے جہاد کے فرائض انجام دینے میں کچھ کوشش نہیں کی اور جب پنجاب پر گورنمنٹ انگریز کا تسلط ہوا تو مولوی عنایت علی اور ولایت علی مع اپنے اکثر رفیقوں کے 1847ء میں اپنے گھروں کو واپس بھیج دیئے گئے‘ پس اس سے ہم کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ خاص پٹنہ یا بنگالہ کے اور ضلعوں شے بلکہ عموما ہندوستان سے روپے اور آدمی اس وہابیت کے پہلے تین زمانوں میں ضرور سرحد کو بھیجے گئے تھے۔ لیکن میری رائے میں یہ بات بہت کھلی ہوئی ہے کہ ان میں سے کوئی آدمی انگریز گورنمنٹ پر حملہ کرنے کے واسطے ہرگز نہیں گیا تھا اور نہ ان سے یہ کام لیا گیا اور نہ تین زمانوں میں سے کسی کو اس کا کچھ خیال ہوا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی نیت بغاوت کی جانب مائل ہے‘‘ (مقالات سرسید حصہ نہم 145-146)
مزید شواہد کے لئے اور آگے کی عبارت بھی ملاحظہ کریں۔
’’جب مولوی عنایت علی اور ولایت علی 1847ء کو ہندوستان لوٹ آئے تو اس وقت سید احمد صاحب کے چند پیروکار سرحد پر باقی رہ گئے تھے اور یہ بات بھی صحیح ہے کہ ان دو شخصوں نے پٹنہ اور اس کے قرب و جوار کے آدمیوں کو اس کی ترغیب دینے میں ہرگز کوتاہی نہیں کی کہ وہ جہاد میں شریک ہوں اور یہ اس کام کے واسطے روپیہ جمع کریں۔ چنانچہ وہ برابر بڑی سرگرمی سے کوشش کرتے رہے اور جس بات کا اب تک ان کو دل سے خیال تھا‘ اس کا اظہار انہوں نے 1851ء میں اس طرح صحیح ہے‘ کیا کہ وہ پھر ہندوستان سے سرحد کی جانب چلے گئے‘ مگر ڈاکٹر ہنٹر صاحب نے خیال کیا کہ یہ لوگ دوبارہ سرحد کو انگریزوںپر حملہ کی نیت سے گئے تھے اور انہوں نے بجائے سکھوں کے انگریزوں پر جہاد کیا تھا۔ حالانکہ جب ان لوگوں کو انگریزوں سے کسی طرح کی شکایت نہ تھی تو پھر ان کا ارادہ کسی طرح پر صحیح نہیں ہوسکتا‘‘ (ایضاً ص 147)
اس پر تھوڑی اور روشنی ڈالتے ہوئے سرسید اک رواں قلم سرخ لکیر کھینچتا ہوا نظر آتا ہے جس سے سید احمد رائے بریلوی کا کردار پوری طرح لہولہان نظر آتا ہے۔
اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ یہ وہابی اپنے مذہب میں بڑے پکے‘ نہایت سچے ہوتے ہیں اور اپنے اصول سے کسی حال میں منحرف نہیں ہوتے اور جن شخصوں کی نسبت میں یہ لکھ رہا ہوں‘ وہ اپنے بال بچوں اور مال و اسباب کو گورنمنٹ انگریزی کی حفاظت میں چھوڑ گئے تھے اور ان کے مذہب میں اپنے بال بچوں کے محافظوں پر حملہ کرنا نہایت ممنوع ہے‘ اس لحاظ سے اگر وہ انگریزوں سے لڑتے اور لڑائی میں مارے جاتے تو وہ بہشت کی خوشبوئوں اور شہادت کے درجہ سے محروم ہوجاتے‘ بلکہ اپنے مذہب میں گناہ گار خیال کئے جاتے (ایضا ص 148)

مذکورہ اقتباسات کی بنیاد پر دیوبندی جماعت کے پیشوا سید احمد رائے بریلوی کو انگریز نوازوں کی پہلی فہرست اور بانیوں میں شمار کرنا تاریخی سچائی ہے اور اس میں کوئی جرم نہیں کہ انہیں انگریزوں کا کھلا ہوا معاون اور ناصر گردانا جائے‘ جبکہ ان شکستہ حالات ‘ فریاد کناں ماحول میں علمائے اہلسنت اپنے وطن کی آزادی کے لئے پوری طرح انگریزی افواج کے خلاف صف آراء اور تحریر و تقریر کے ذریعہ عام ہندوستانیوں کو انگریزوں کے خلاف متحد کررہے تھے‘ جس کے نتیجے میں قیدوبند کی صعوبتوں کے ساتھ جان و مال کے اتلاف کا شکار بنتے رہے۔
انگریز نوازی کے ایسے واقعات سے خود سید احمد کے ماننے والوں ہی کی کتابیں شور محشر جیسا ماحول پیش کرتی ہیں اور بعد کے متبعین کی جھوٹی کہانی کا کھلا مذاق اڑاتی ہیں۔ سوانح احمدی‘ مخزن احمدی‘ نقش حیات‘ الدرالمنثور وغیرہ کی عبارتیں بھی سید صاحب کے جہاد کو انگریز مخالف برسر پیکار طاقتوں کے خلاف بتاتی ہیں مگر اس جماعت کے شرپسندوں نے تاریخ نگاری کی روایت پر فرنگی ظلم کرتے ہوئے تاریخ سازی کی نئی طرح ایجاد کرکے یہ بتادیا کہ جھوٹی شہیدی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اب جھوٹی تاریخ کا سبق بھی عام کریں گے۔ حالانکہ سید احمد کے عہد کے قریبی مورخین وہی باتیں لکھتے رہے جو علمائے اہلسنت بتاتے رہے ہیں۔ مگر بعد کے مورخین نے اپنی جماعت کے اکابرین کا دامن الجھتا دیکھ کر دروغ گوئی سے تاریخ کے صفحات پاٹ دیئے۔
سید احمد کے جہادی پہلو کے سلسلے میں مندرجہ ذیل اقتباس بھی کافی واضح ہے۔
’’سرکار انگریز گو منکر اسلام ہے‘ مگر مسلمانوں پر کوئی ظلم اور تعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرائض مذہبی اور عبادات لازمی سے روکتی ہے‘ ہم ان کے ملک میں اعلانیہ کہتے ہیں اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع و مزاحم نہیں ہوتی‘ بلکہ اگر ہم پرکوئی ظلم و زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کو تیار ہے‘ پھر ہم سرکار انگریز پر کس سبب سے جہاد کریں اور اصول مذہب کے خلاف بلاوجہ طرفین کا خوف گرادیں‘‘ (حیات سید احمد شہید‘ ص 171)
فرانس کے مشہور مستشرق گارسن وتاسی کی کتاب تاریخ ادب اردو کی تلخیص طبقات الشعرائے ہند‘ ص 295‘ مطبوعہ 1848‘ میں سید صاحب کے تعلق سے موجود ہے کہ
’’بیس برس کا عرصہ ہوا کہ وہ سکھوں کے خلاف جہاد کرتا ہوا مارا گیا‘‘
یہی بات دوسرے لفظوں میں نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے ترجمان وہابیہ میں بھی لکھی ہے کہ
’’حضرت شہید کا جہاد انگریزوں کے خلاف نہ تھا‘‘
(ترجمان وہابیہ‘ ص 12-88)
یہی حال شاہ اسماعیل کا بھی تاریخ کے صفحات پر نظر آتا ہے۔ خود وہابی نظریات کے حامل قلم کاروں اور ان کے عہد کے قریبی تذکرہ نگاروں نے ان کی انگریزی سے قربت اور وفاداری کے لڈو ہر خاص و عام کو بانٹے ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 1857ء کے وقت وہابی‘ دیوبندی جماعت کا وجود ہی نہیں تھا۔ لہذا یہ کہناکہ اکابر دیوبند نے جنگ آزادی میں اہم رول ادا کیا۔ انگریزوں کے خلاف جہاد کا بگل بجایا‘ شدید ترین ناانصافی اور زیادتی ہے۔ اس کے برعکس علامہ فضل حق خیرآبادی‘ مفتی صدر الدین آزردہ‘ مولانا کفایت علی کافی مراد آبادی‘ مولانا فیض احمد عثمانی بدایونی‘ مولانا احمد اﷲ شاہ مدراسی‘ مولانا وہاج الدین مراد آبادی‘ مولانا لیاقت علی الہ آبادی اور دوسرے علمائے کرام نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا اور عام مسلمانان ہند کو بیدار کیا۔ مگر علمائے سو کا یہ طبقہ پوری چاپلوسی کے ساتھ انگریزی حمایت میں قولاً و عملاً سرگرم رہا‘ جس کی گواہی خود افراد خانہ نے ہی دے دی ہے۔ کلکتہ کے جلسہ عام میں جب ایک شخص نے شاہ اسماعیل سے پوچھا کہ انگریزوں کے خلاف آپ جہاد کا فتویٰ کیوں نہیں دیتے تو شاہ صاحب نے فرمایا:
’’ان پر جہاد کرنا کسی طرح واجب نہیں‘ ایک تو ان کی رعیت ہیں‘ دوسرے مذہبی ارکان کے ادا کرنے میں وہ ذرا بھی دست درازی نہیں کرتے۔ ہمیں ان کی حکومت میں ہر طرح آزادی ہے‘ بلکہ ان پر کوئی حملہ آور ہو تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں‘‘ (حیات طیبہ‘ طبع قدیم ص 364)
مرزا حیرت دہلوی کی یہ بھی تحریر ملاحظہ ہو:
’’مولوی اسماعیل نے اعلان کررکھا تھا کہ انگریزی سرکار پر نہ جہاد مذہبی طور پر واجب ہے نہ ہمیں اس سے کچھ مخاصمت ہے‘‘ (حیات طیبہ ص  201)
اس تعلق سے سرسید نے بھی انتہائی واضح الفاظ استعمال کرکے انگریز نوازی کا سرا پول کھول دیا۔
’’اس زمانے میں مجاہدین کے پیشوا سید احمد صاحب تھے۔ مگر وہ واعظ نہ تھے ۔واعظ مولوی محمد اسماعیل صاحب تھے‘ جن کی نصیحتوں سے مسلمانوں کے دلوں میں ایک ایسا ولولہ خیز اثر پیدا ہوتا تھا جیسا کہ بزرگ کی کرامت کا اثر ہوتا ہے۔ مگر اس واعظ نے اپنے زمانہ میں کبھی کوئی لفظ اپنی زبان سے ایسا نہ نکالا جس سے ان کے ہم مشربوں کی طبیعت ذرا بھی برافروختہ ہو‘ بلکہ ایک مرتبہ کلکتہ میں سکھوں پر جہاد کرنے کا وعظ فرما رہے تھے۔ اثنائے وعظ میں کسی شخص نے ان سے دریافت کیا کہ تم انگریزوں پر جہاد کرنے کا وعظ کیوں نہیں کہتے‘ وہ بھی تو کافر ہیں؟ اس کے جواب میں مولوی اسماعیل دہلوی نے کہا کہ انگریزوں کے عہد میں مسلمانوں کو کچھ اذیت نہیں ہوتی اور چونکہ ہم انگریزوں کی رعایا ہیں۔ اس لئے ہم پر اپنے مذہب کی رو سے یہ بات ہے کہ انگریزوں پر جہاد کرنے میں ہم کبھی شریک نہ ہوں‘‘ (مقالات سرسید حصہ نہم ص 141,42)
یہ تمام شواہد سید احمد رائے بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کو انگریزوں کا ایجنٹ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں‘ مگر جماعت وہابیہ کو یہ سچائی کسی طور پر ہضم ہوتی نظر نہیں آتی اور وہ اپنے اس جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے علمائے اہلسنت کی پاک باز‘ محب وطن اور انگریز دشمن شخصیات کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں تاکہ ان کا مکروہ کردار عام لوگوں کے سامنے نہ آسکے۔