خطیب اعظم علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, July 2010, شخصیات, عقیل احمد اکاڑہ

تحریک پاکستان کی داستان اپنے دامن میں ہجر ووصال کی کئی داستانیں لئے ہوئے ہے۔ اس تحریک کو‘ جس کی نظریاتی سرحدیں ہجرت مدینہ سے جاملتی ہیں۔ کامیاب بنانے کے لئے لوگوں نے جس طرح قربانیاں دیں‘ ہر مشکل اور ہر تکلیف کو برداشت کیا‘ اس سے یقیناً آنے والی نسلوں میں جذبہ حریت بیدار ہوتا رہے گا۔ ہندوستان سے پاکستان آنے والوں کی ایک قطار لگی ہوئی تھی اور جس طرح لوگ اک نئی ریاست میں مستقبل کے حسین خواب سجائے بڑے ذوق وشوق سے آرہے تھے۔ ان کو لفظوں میں پوری طرح بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارا خاندان مقامی تھا اور آنے والے مہاجرین کی بساط بھر خدمت بھی کررہا تھا۔ ہمارے خاندان کے سربراہ میرے دادا جان حاجی غلام محمد تھے جو حضرت شیر ربانی میان شیر محمد شرق پوری رحمتہ اﷲ علیہ کے مرید تھے۔ ہمارا تقریبا سارا خاندان اوکاڑہ کے نواح میں اک بستی رینالہ خورد میں مقیم تھا۔ میرے والد محترم صوفی محمد حنیف نقش بندی مرحوم اپنے والد کے ہمراہ شرق پور شریف جایا کرتے تھے۔
والد صاحب کے بچپن کے دن تھے‘ شرق پور شریف جاتے عرس کا موقع ہوتا علماء و مشائخ کی زیارت کرتے‘ تقاریر سنتے‘ نعتیں سنتے اور بس واپس آجاتے لیکن ایک چہرہ ان کو ہمیشہ ہی بڑا پیارا لگتا جو اپنی خوب صورت آواز میں جب نعت پڑھتا تو پورے مجمع پر اک سماں سا طاری ہوجاتا‘ کیف و سرور کے وہ جذبات جنم لیتے کہ بعض دفعہ بندہ اپنے ہوش و خرد سے بھی بیگانہ ہوجاتا۔ یہ سب کیوں کر تھا اس لئے کہ سجادہ نشین آستانہ عالیہ شرق پور شریف حضرت میاں غلام اﷲ شرق پوری رحمتہ اﷲ علیہ المعروف قبلہ ثانی صاحب کا وہ خوبصورت چہرے اور پیاری آواز والا نعت خواں منظور نظر تھا‘ ثانی صاحب کے وہ منظور نظر اور پسندیدہ نعت خواں حضرت علامہ مولانا حافظ محمد شفیع اوکاڑوی رحمتہ اﷲ علیہ تھے جو قبلہ ثانی صاحب کے فیض کی بدولت ہی عالمی مبلغ اسلام‘ خطیب عالم اسلام محبوب عوامی مذہبی و سیاسی رہنما اور جانے کن کن القابات سے پہچانے گئے۔ شرق پور شریف میں ان دنوںاک مدرسہ بھی تھا (اب بھی ہے) قبلہ ثانی صاحب مدرسہ کے لئے چندہ اکھٹا کرنے کے لئے اپنے مقرب اور مریدین کو مختلف مقامات میں عقیدہ مندوں کے پاس بھیجا کرتے تھے۔ ہماری خوش قسمتی کے ہمارے پاس رینالہ خورد میں حضرت اوکاڑوی صاحب تشریف لایا کرتے تھے کیونکہ قبلہ اوکاڑوی صاحب کا خاندان قیام پاکستان کے فورا بعد ہی اوکاڑہ شہر میں رہائش پذیر ہوگیا تھا اس وجہ سے اوکاڑہ اور اس کے گردونواح میں مولانا اوکاڑوی صاحب ہی شرق پور شریف کے نمائندہ بن کر جاتے۔ والد صاحب کی حضرت اوکاڑوی صاحب سے شرق پور کی وجہ سے اچھی شناسائی ہوچکی تھی۔ والد صاحب تقریبا ہر سال عرس کے موقع پر شرق پور شریف حاضر ہوا کرتے تھے۔ عرس میں اہل سنت کے مشہور اکابرین‘ مشائخ اور خلفائے شیر ربانی کے علاوہ مریدین اور معتقدین کی کثیر تعداد شرکت کرتی۔ ایک بار علمائے کرام میں سے ایک بڑے عالم تشریف نہ لاسکے‘ قبلہ ثانی صاحب نے یہ صورتحال دیکھ کر حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی رحمتہ اﷲ علیہ کو حکم دیا کہ آپ تقریر کریں۔ بحکم مرشد آپ تقریر کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ نوجوانی کے عالم میں اتنے بڑے اجتماع سے تقریر کیا تھی‘ حکمت و معرفت کے موتی تھے جو قبلہ اوکاڑوی صاحب کے شگفتہ لبوں سے جھڑرہے تھے۔ آپ کی تقریر سن کر ثانی صاحب بہت مسرور ہوئے اور آپ کو اپنے مبارک سینے کے ساتھ لگایا اور ساتھ ہی فرمایا‘ اب ہمارے گھر میں عالم ہے اب ہمیں فکر نہیں کہ علمائے کرام میں سے کوئی آئے یا نہ آئے۔ اک مرد باکمال کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کیا تھے اک سند تھی جو مولانا اوکاڑوی صاحب کو مل گئی۔ اک اعزاز تھا اک بشارت تھی جو اوکاڑوی صاحب کو عطا ہوچکی تھی۔ یہاں سے باقاعدہ آپ کے خطابات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ابتداء میں آپ اوکاڑہ کے گردونواح میں مختلف مقامات پر جمعہ پڑھانے جایا کرتے تھے بعد میں (منٹگمری) ساہی وال میں مسجد مہاجرین میں کراچی آمد تک جمعہ پڑھاتے رہے۔ راقم الحروف چند ان لوگوں سے ملا ہے جو خود وہاں اوکاڑوی صاحب کی اقتدار میں جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔ مسجد سے ملحقہ بیری والا چوک اور چوک سے ملحقہ گلیوں تک لوگ ہوتے۔ ساہی وال کی انتظامیہ نے یہ صورتحال دیکھ کرآبادی سے باہر ایک بڑا قطعہ اراضی مسجد کے لئے وقف کردیا جس کا نام مدینہ مسجد رکھاگیا لیکن مولانا اوکاڑوی صاحب اس مسجد کی تعمیر سے قبل ہی کراچی تشریف لے آئے۔ پنجاب بھر میں آپ خطابات کے لئے جایا کرتے تھے۔ ان ہی دنوں شاید 1950-51ء میں اوکاڑا کے قریب موضع پکاچک میں خلیفہ شیر ربانی حضرت گنج کرم پیر سید اسماعیل شاہ بخاری رحمتہ اﷲ علیہ تشریف لے آئے۔ آپ کے وجود مسعود کی وجہ سے وہ علاقہ پوری دنیا میں حضرت کرماں والاشریف کے نام سے مشہور ہوگیا۔ قیام پاکستان کے تھوڑا عرصہ بعد ہی ہمارا خاندان بھی رینالہ خورد سے اوکاڑہ منتقل ہوچکا تھا۔ اب دادا جان‘ والد صاحب‘ قبلہ اوکاڑوی صاحب آپ کے والد حاجی کرم الٰہی‘ آپ کے برادر اصغر صوفی محمد لطیف نقش بندی‘ قبلہ گنج کرم کو ملنے حضرت کرماں والا آیا کرتے تھے۔ والد صاحب حضرت اوکاڑوی صاحب اور صوفی لطیف صاحب عموما ایک ہی تانگہ میں سوار ہوتے اور صالحین کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک مرد صالح کو ملنے پہنچ جاتے۔ حضرت گنج کرم سراپا شفقت و محبت ان حضرت سے بڑی محبت فرمایا کرتے تھے۔ بالخصوص حضرت اوکاڑوی صاحب سے‘ وہ پیار سے آپ کو ’’حافظ جی‘‘ کہہ کر پکارا کرتے اور آپ سے فرمائش کرکے نعت رسول مقبول سنتے (واضح رہے کہ پنجاب میں حضرت اوکاڑوی صاحب کے نام سے اب بھی حافظ کا لفظ پکارا جاتا ہے) والد صاحب نے بتایا کہ جب ایک ولی کامل کی موجودگی میں اوکاڑوی صاحب بڑی محبت اور شوق سے محبت رسول کے جذبے سے سرشار ہوکر نعت سرور کونین پڑھتے تو طبیعتوں میں شادمانی اور لذت آتی۔ اشکوں کے تسلسل کے ساتھ ایک ایک دو دو گھنٹے اوکاڑوی صاحب نعت پڑھتے اور گنج کرم کے ساتھ ساتھ تمام حاضرین مجلس جھومتے رہتے۔
ایک بار عید سے چند روز قبل اوکاڑوی صاحب‘ والدصاحب اور دیگر چند اصحاب نے پروگرام بنایا کہ یہ عید قبلہ گنج کرم کی اقتداء میں ادا کی جائے گی۔ چنانچہ عید کے دن صبح کے وقت یہ تمام لوگ بس اسٹینڈ کی طرف آئے۔ عید کا دن تھا سواری غالبا بس یا تانگہ تاخیر سے ملا۔ اس دوران تقریبا پورے اوکاڑہ شہر میں نماز عید پڑھی جاچکی تھی۔ یہ لوگ بڑے پریشان ہوئے لیکن واپس نہ ہوئے بلکہ کرماں والا شریف ہی کی طرف روانہ ہوئے جب کرماں والا پہنچے تو حضرت گنج کرم پورے مجمع سے ہٹ کر ٹہل رہے تھے جیسے کسی کا انتظار کررہے ہوں جوں ہی اوکاڑہ سے آنے والے ان حضرات کو دیکھا متبسم چہرے کے ساتھ فرمایا۔ آئو بھی جلدی کرو اور صفوں میں کھڑے ہوجائو اور فورا ہی نماز عید پڑھانی شروع کردی۔ لوگ سمجھ گئے کہ حضرت صاحب کو کس کا انتظار تھا۔ قبلہ اوکاڑوی صاحب والد صاحب اور ان کے دیگر ساتھی حضرت گنج کرم کی اس کرامت پر نہایت ہی خوش ہوئے اور سکون کے ساتھ نماز عید ادا کی۔
1952-53ء میں جب تحریک ختم نبوت چلی تو اہل ایمان کی اپنے رئوف ورحیم آقائے کریمﷺ سے محبت اور وارفتگی قابل دید تھی۔ کتنے ہی لوگ ناموس مصطفیٰ کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرکے واصل بحق ہوگئے اور کتنے ہی لوگوں نے سلاخوں کے پیچھے سے اپنے سینکڑوں شب و روز آقاﷺ کی محبت میں نہایت صبرورضا سے بسر کئے۔
اوکاڑہ جس کوشہرت دوام ہمارے حضرت اوکاڑوی صاحب کی بدولت نصیب ہوئی۔ یہ مرد حق اس وقت اوکاڑا میں اس تحریک کے امیر دل تھے۔ پوری انتظامیہ آپ کو گرفتار کرنے میں مستعد تھی لیکن آپ نے جب چاہا اسی وقت گرفتار ہوئے۔ عیدگاہ اوکاڑہ میں بروز جمعہ نماز ادا کرنے کے بعد گرفتاری پیش کی۔ آپ کے ساتھ چند دیگر رفقاء کے علاوہ‘ راقم کے والد محترم کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ ان سب کو ساہیوال جیل میں قید کردیا گیا۔ اسی جیل میں اہل حدیث فرقے کے مشہور عالم دین معین الدین لکھوی سابق MNA جو ابھی تک بقید حیات ہیں وہ بھی تھے۔ جیل میں لکھوی صاحب کبھی درس حدیث دینے بیٹھ جاتے۔ ہمارے حضرت اوکاڑوی صاحب کے کانوں میں بھی آواز پڑتی وہ لکھنوی صاحب کے بیان کردہ احادیث سے مسلک حق اہل سنت و جماعت (بریلوی) کی تائید کرتے تو لکھنوی صاحب کو لاجواب ہونا پڑتا۔
والد صاحب تو تین ماہ بعد رہا کردیئے گئے لیکن حضرت اوکاڑوی صاحب دس ماہ قید رہے۔ اس دوران آپ کے دو صاحب زادے منیر احمد جس کی عمر تین برس تھی اور تنویر احمد جس کی عمر چودہ ماہ تھی دس روز کے وقفے سے یکے بعد دیگرے انتقال کرگئے۔ آپ کے گھر میں شدید کرب و الم کا عالم تھا۔ بوڑھے ماں باپ چھوٹے بہن بھائی اور جوان بیوی‘ کیا کیفیت ہوگی ان لوگوں کی بالخصوص آپ کی زوجہ محترمہ جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے دونوں جگر کے ٹکرے رحلت کرگئے ہوں اور جس کا ہمدرد اور غمگسار شوہر قید میں ہو۔ خوبصورت زندگی کے کتنے ہی سنہرے خواب من میں سجائے ہوں گے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس موقع پر انتظامیہ نے آپ کو آفر کی کہ اگر آپ معافی نامہ پر دستخط کردیں تو آپ کو رہا کردیا جائے گا۔ لیکن عزیمت اور اسقامت کے اس کوہ گراں نے جواب دیا کہ میرا جرم کیا ہے جو معافی نامے پر دستخط کروں۔ اس دوران آپ کی شیخ قبلہ ثانی صاحب نے آپ کی طرف مکتوب بھیجے جس میں ثابت قدمی اور صبر کی تلقین فرمائی تھی۔ اپنے مرشد کے حوصلہ افزا جملے سن کر آپ کے جذبہ ایمانی میں مزید تقویت آئی۔
1955ء میں آپ کراچی تشریف لے آئے۔ یہاں آپ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ حضرت گنج کرم پیر سید اسماعیل شاہ بخاری کرماں والا شریف کے حکم پر آئے تھے اور اس دوران تقریر اکثر فرمایاکرتے تھے کہ میں یہاں کسی کے بھیجنے پر آیا ہوں۔ دراصل اس وقت کراچی میں بدعقیدگی اور بدعملی کا طوفان برپا تھا۔ کہیں اہل بیت کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا جارہا تھا اور کہیں صحابہ کرام کا نام لے کر لوگوں کو راہ راست سے دور کیا جارہا تھا۔ سرزمین کراچی کو کسی دیدہ در کا انتظار تھا۔ اہل کراچی کسی مرد کامل کی راہ تک رہے تھے کہ کوئی عمل واخلاص کا ایسا پیکر آئے جو دین فروش مولویوں اور کاروباری پیروں سے نجات دلا کر ان کو صراط مستقیم پر گامزن کرے۔ ان کا تعقل بندگی رب ذوالجلال سے جو ٹوٹ چکا ہے‘ اس کو جوڑ دے۔ آقائے دوجہاںﷺکے ساتھ جو ان کا رشتہ غلامی کمزور ہوا ہے‘ اس کو مضبوط کردے۔ بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چلے‘ اہل نظر حضرت گنج کرم نے بہت اعلیٰ انتخاب فرمایا اور قبلہ اوکاڑوی صاحب کو حکم دیا کہ حافظ جی کراچی چلے جائیں جو مدینہ شریف کا دروازہ ہے۔ ہم نے لوگوں کوقرآن پڑھ کر سنانا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اوکاڑوی صاحب کی ہر تقریر میں قرآن ان کے سامنے ہوتا۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ آپ کے آنے سے کراچی والوں کے فکروعمل میں کیسا انقلاب آیا۔ 1956ء میں جماعت اہل سنت کی بنیاد آپ نے رکھی۔ پوری جمعیت علمائے پاکستان کو پورے پاکستان میں پذیرائی ایک طرف اور صرف کراچی میں ہمارے اوکاڑوی صاحب کی وجہ سے اسے جو مقام و مرتبہ ملا۔ وہ ایک طرف‘ اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ دعوت وتبلیغ کی غیر سیاسی تنظیم دعوت اسلامی کو کس کی وجہ سے بام عروج ملا‘ کس نے ابتداء میں اس کو ایک مرکز اور بنیاد فراہم کی؟ کراچی میں نعت خواں حضرات کو حوصلہ‘ پذیرائی اور مقام کس نے دلایا۔ دین متین کی سربلندی کا وہ کون سا موقع تھا جب قبلہ اوکاڑوی صاحب رہبر نہ بنے ہوں لیکن یاد ہرے کہ کراچی آکر جہاں دعوت وتبلیغ کا سلسلہ بھرپور طریقے سے جاری رہا‘ وہاں تکالیف اور مشکلات میں بھی اضافہ ہوا۔
1962ء میں اس قدر شدید آپ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور آپ کا اتنا خون بہایا گیا کہ منکرین حق سمجھے کہ آپ وصال کرچکے ہیں لیکن آپ سے اﷲ نے مزید کام لینا تھا۔ اس لئے حیات نو عطا ہوئی۔ اس کے بعد بھرپور توانائیوں اور بشارتوں کے ساتھ اک نئے عزم اور حوصلے سے میدان عمل میں آئے۔ لیکن اﷲ والوں کی زندگی میں سکون کہاں ہوتا ہے۔ راہ حق میں تکالیف کا سلسلہ موت تک جاری رہتا ہے۔ کہیں پتھرائو آپ پر کیا گیا کہیں جوتوں میں بلیڈر رکھے گئے اتنی اذیتیں جانے لوگ ان کو کیوں دیتے رہے؟
والد محترم 1976ء میں اوکاڑہ سے کراچی منتقل ہوگئے تھے۔ 1976ء سے قبلہ اوکاڑوی صاحب کے وصال تک کوئی دن یا رات ایسی نہ گزرتی‘ جب کسی پروگرام میں والد صاحب حضرت اوکاڑوی صاحب کے ساتھ نہ ہوں۔ کانفرنسز‘ سیمینار‘ جلسے‘ عوامی وسرکاری اجتماعات مختلف تہوار اور اس کے علاوہ سفر وحضر میں گھنٹوں اوکاڑوی صاحب کی رفاقت رہتی جس میں قبلہ اوکاڑوی صاحب نے والد صاحب کو اپنی زندگی کے بارے میں بہت کچھ بتایا۔ خصوصا بغداد شریف میں دربار غوث اعظم پر گیارہ روز قیام کا تذکرہ‘ حضرت خواجہ خواجگان خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی کا خاص روحانی کرم‘ محدث اعظم علامہ سردار احمد کا دربار داتا علی ہجویری پر ایک خاص پروگرام میں تہجد کے موقع پر آپ کو خاص رموز پر مطلع کرنا اور قبلہ غزالی زماں کا خاص علوم کے فیوضات کا انشراح فرمانا جبکہ قبلہ ثانی صاحب اور قبلہ حضرت گنج کرم کی جو اوکاڑوی صاحب پر نظر تھی اس کے بارے میں گزشتہ سطور میں بیان ہوچکا ہے۔
یہ سب ان بزرگوں کا فیضان کرم ہی تھا کہ آپ کی گفتگو میں وہ اخلاص اور دین کا درد نظر آتا‘ محبت رسول کی وہ مہک آتی جس سے سننے والے دیوانے مستانے ہوجایا کرتے تھے۔ خود قبلہ اوکاڑوی صاحب نے والد صاحب کو بتایا کہ ایک بار لاہور میں باغ بان پورہ میں میلاد النبی کا جلسہ تھا۔ پچھلی رات کا وقت تھا میں (یعنی اوکاڑوی صاحب) ولادت رسول کے پرکیف لمحوں کا ذکر کررہا تھا کہ ایک درویش کھڑا ہوگیا اور بلند آواز سے بولا کہ حضرت حضور سرور کونینﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دیوانہ وار درود پڑھتا از خود رفتہ ہوگیا۔
اسی طرح کراچی سمندر میں موجود جزائر بابا اور بھٹ میں والد صاحب بھی قبلہ اوکاڑوی صاحب کے ہمراہ جایا کرتے۔ حاجی کیمپ کے قریب تقریر کے بعد جب قبلہ اوکاڑوی صاحب نے اپنی مترنم آواز سے پنجابی کے مشہور اشعار پر مشتمل ایک کلام جس کو کرتا کہا جاتا ہے‘ پڑھا تو وہاں موجود لوگوں پر اک وجد سا طاری ہوگیا اور باوجود اس کے کہ ان میں اکثریت ان کی تھی‘ جو پنجابی سے ناواقف تھے۔ والد صاحب نے بتایا کہ میں حیران تھا کہ ان کو پنجابی سمجھ میں نہیں آئی لیکن یہ جھوم رہے ہیں اور ساتھ اشک بھی بہا رہے ہیں‘ نہ جانے ان کو اوکاڑوی صاحب کی آواز میں کیا سنائی دے رہا تھا۔ دنیائے سنیت میں ان کے خطبات کی وجہ سے فکر رضا کا احیاء ہوا جب ہی تو شیخ القرآن علامہ غلام علی اوکاڑوی آپ کے استاد محترم نے آپ کو مجدد مسلک اہل سنت کا لقب عطا کیا۔
راقم کے والد ماجد جب تک حیات رہے‘ کوئی دن ایسا نہ گزرتا کہ قبلہ اوکاڑوی صاحب کا ذکر خیر نہ کرتے ہوں۔ کسی روز قبلہ اوکاڑوی صاحب کی یادوں کا سلسلہ ایسا شروع ہوتاکہ گھنٹوں آپ کی باتوں گزر جاتے۔ والد محترم کو قبلہ اوکاڑوی صاحب کے ساتھ جو سنگت رہی‘ اس پر ناز تھا اور اکثر ان کو یاد کرکے آنسو بہایا کرتے تھے اور فرماتے کہ بیٹا اس پائے کا مفکر اور مدبر خطیب میری نظر سے نہیں گزرا بلکہ میدان خطابت میں آنے والے کئی نوجوان واعظ والد صاحب سے خطابت کے رموز سیکھا کرتے تھے۔ کیوںکہ ان کومعلوم تھا کہ ان آنکھوں نے خطیب اعظم پاکستان کے خطابت کا عروج دیکھا ہوا ہے۔
یہ چند معروضات ہیں‘ جب بھی میں لاہور سے اوکاڑا چھٹی گزارنے آتا تو والد صاحب سے سناکرتا تھا جس کو ایک مناسب انداز سے ہدیہ قارئین کررہا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے راقم کو یہ اعزاز عطا فرمایا ہے کہ وہ کراچی یونیورسٹی سے حضرت اوکاڑوی صاحب کی حیات و خدمات پر پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کررہا ہے۔ دربار اوکاڑوی کے تمام معتقدین سے میں درخواست گزار ہوں کہ مجھ کم ہمت اور کم علم کے لئے اس عظیم کام میں کامیابی کی دعا فرمائیں۔