حجاب اورتہذیبی وثقافتی دہشت گردی

in Tahaffuz, July 2010, متفرقا ت, محمد اسماعیل بدایونی

ہاں بنی نوع انسان کی تاریخ میں ایک نیا باپ کھل گیا۔ اقوام و مذاہب عالم کے سمندروں میں طوفان حوادث نے تباہی و بربادی مچائی ہوئی ہے۔ عمل او رانکشاف کی دنیا میں ایک ہیجان برپا ہے۔ موت و حیات کی کشمکش شروع ہوگئی ہے۔ مظالم‘ ناانصافیاں‘ دہشت گردی‘ خونی ہنگامہ آرائی مشرق کو مغرب میں تبدیل کرنے کیلئے پنجہ آزما ہورہی ہیں۔
ہاں ایک شور اور ایک طوفان ہے جو پاکستان‘ ایران‘ امریکہ‘ فرانس اور یورپ میں اٹھ رہا ہے اور شمال کو جنوب اور جنوب کو شمال اور مشرق کو مغرب بنانے کے درپے ہے۔ صدیوں کے بعد اب شہادت گاہیں سنسان مقامات پر قائم ہوگئی ہیں دارورسن کی خونی اور وحشیانہ نمائش گاہیں سربازار کھل گئیں ہیں ۔ جانوں کی قیمت اور خون ریزی کے بازار بھی سجا دیئے گئے ہیں۔
اہل اسلام کا خون پانی سے بھی زیادہ سستا ہوچکا ہے سولی پر چڑھی ہوئی لاشیں یہ صدائیں لگا رہی ہیں۔
اے اسلام کے نام لیوائو!
اے روضہ رسول کے پاسبانو! خواب غفلت سے جاگو کیا دیکھتے نہیں آج مغرب نے کمرباندھی ہے کہ ممالک اسلامیہ کو نیست و نابود کردے ان کی تہذیب و تمدن کے سوتے خشک کردے ان کو ان کی اسلامی اقدار سے دور کرکے ان کو اپنے جیسا وحشی بنا دیں۔
عزیزان گرامی!
اسلامی تہذیب و ثقافت سے کسی کا کیا جاتا ہے جو وہ اس کے درپے ہیں۔
اگر مسلمان عورت خود کو حجاب میں محفوظ تصور کرتی ہے تو ان کاکیا بگڑتا ہے اور اگر عیسائی نن اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے اسکارف سر پر لینے پر آزاد ہے تو باپردہ عورتوں کو مطعون کیوں کیاجاتا ہے ان پر کفن پوش‘ دقیانوسیت کی پھبتیاں کیوں کسی جاتی ہیں میڈیا کے ذریعے ان کی ثقافت پر طعن و طنز کے تیر کیوں برسائے جاتے ہیں؟ کیا ان خواتین کو جینے کا کوئی حق نہیں؟
ذرا سوچیئے۔
یہ یہود و نصاری کیوں اسلامی تہذیب و ثقافت کو کچلنے کے درپے ہیں۔
دوستو! اور ساتھیو!
یہ آج صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے یہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے اس مسئلے سے پورا عالم اسلام دوچار ہے۔
مصر میں حجاب کی مخالفت
مصر میں ترقی و روشن خیالی کے داعی قاسم امین نے آزادی نسواں کے حق میں ایک کتاب 1899ء میں ’’تحریر المراۃ‘‘ کے نام سے شائع کی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام میں بے پردگی کی مخالفت نہیں۔
اس کتاب نے مصر کی اسلامی تہذیب و ثقافت کو کچلنے میں کیا کردار اد اکیا؟ اسکندریہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین اپنی کتاب ’’التجاھات الوطنیتہ فی الاداب المعاصر‘‘ میں لکھتے ہیں۔
اس دعوت تحریک کے نتیجے میں عورتوں میں بے پردگی اور بے حجابی آزادی و بے قیدی کا جو رجحان پیدا ہوا اس سے اسلامی خیال کے لوگ گھبرا گئے عورتوں کے خیالات میں جو انقلاب آرہا تھا قدیم آداب و رسوم باپ اور شوہر کے اقتدار کے خلاف بغاوت کا جو جذبہ پیدا ہورہا تھا اس کو انہوں نے شدت سے ناپسند کیا وہ استعجاب اورپریشانی کے عالم میں لباس کی تبدیلیوں اور تیزی کے ساتھ ڈھیلے ڈھالے اور ساتر مصری لباس کے مقابلے چست و کوتاہ مغربی لباس کو دیکھ رہے تھے جو اس تیزی کے ساتھ مقبول ہورہا تھا کہ جس کا ان کو پہلے سے کوئی اندازہ نہ تھا۔
(مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کش مکش‘ از ابوالحسن ندوی صفحہ 146‘ 147اناشر ‘ مجلس نشریات اسلام بحوالہ الاتجاہات الوطنیتہ فی الادب المعاصر ج 2صفحہ 235)
افغانستان میں حجاب کی مخالفت
1960ء سے قبل افغانستان میں اسلامی ثقافت اپنی آب و تاب کے ساتھ قائم تھی حجاب کا باحیا تصور یہاں موجود تھا لیکن اسلامی تہذیب و ثقافت کے دشمنوں کی آنکھ میں گلستان خار بن کر چبھنے لگا اور انہوں نے اس چمن کو روند ڈالا۔ ٹائمز آف انڈیا Times of Indiaکا یورپین نامہ نگار Ritchie Colderجس نے 1963ء کے افغانی جشن استقلال میں شرکت کی تھی اس اخبار کی 28جولائی 1963ء کی اشاعت میں لکھتا ہے۔ تین سال قبل یہاں افغانستان کی عورتیں پردہ میں تھیں اس وقت اگر ایسے مواقع پر اسے باہر نکلنے کی اجازت ملتی بھی تو اسے چادر میں ملفوف ہوکر آنا پڑتا جو اسے سر سے پیر تک ڈھکے رہتی اور نقاب اس کے چہرہ کو ڈھانپے ہوئے ہوتی جس میں دیکھنے کیلئے سوراخ بنے ہوتے۔
اب یہ سب نذر انقلاب ہوچکا ہے اب بھی جشن کے مجمع میں ایسی عورتیں خاصی نظر آتی ہیں جو اب الگ تھلگ رہنے والا برقعہ پہنے ہیں وہ ابھی اس کی خوگر نہیںہوئیں ہیں لیکن ان کو اپنا چہرہ کھلا رکھنے کی آزادی نصیب ہوچکی ہے اور اب عورتوں کی عظیم اکثریت بے نقاب ہوچکی ہے۔
(مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کش مکش‘ صفحہ 35بحوالہ ٹائمز آف انڈیا)
بخارا میں حجاب کی مخالفت
عورتوں کو گمراہ کرنے کیلئے سب سے زیادہ حجاب شکنی پر زور دیا گیا اور اپنی تمام تر توانائیاں پردے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ سب سے پہلے نظر بہکتی ہے پھر دل بہکتا ہے اور پھر نفس بہکتا ہے۔
اسلامی تہذیب و ثقافت کو صرف مصر اور افغانستان میں ہی کچلا نہیں گیا بلکہ بخارا میں بھی مغربی تہذیب کے نفاذ کی کوشش کی گئی۔
بخارا کے اندر جب روسی کمیونسٹ داخل ہوئے تو انہوں نے بنات اسلام کے سروں سے چادریں کھینچی ان کی عزت و آبرو کے گوہر کو لوٹا اور اس کیلئے انہوں نے معاشرے میں بگاڑ کیلئے ایسے ہتھکنڈے اپنائے کہ یہ نادان لڑکیاں ان کے جال میں پھنستی چلی گئیں۔
بخارا کی سڑکوں پر برقعوں کو جلایا گیا اور جن غیرت مند خواتین نے برقعہ اتارنے سے انکار کیاان کے سروں سے زبردستی برقعے نوچ لئے گئے۔
بخارا کا انقلابی شاعر تاق ابو القاسم لکھتا ہے۔
عیب  باشد کہ تو در پردہ و خلقے آزاد
حیف باشد کہ تو در خواب و جہانے بیدار
ترک چادر کن مکتب برودرس بخوان
شاخہ جہل ندارد ثمر جزادبار
کتنی بری بات ہے کہ تم پردے میں ہو اور دنیا آزاد ہے افسوس کے تم محو خواب ہوا اور دنیا بیدار ہے چادر چھوڑ و مکتب جائو اور تعلیم حاصل کرو۔ جہالت کی شاخ پر پسماندگی کے سوا کوئی پھل نہیں لگتا۔ (اف یہ پادری ص 337بحوالہ عبرت نامہ بخارا)
افغانستان کے ہمسایہ ملک بخارا میں 18مارچ 1921ء کو ایک بڑی تقریب میں برقعوں کا ڈھیر نذر آتش کردیا گیا پردہ ترک کروانے کیلئے مسلمان عورتوں پر تشدد سے کام لیا گیا۔ اس تقریب میں پانچ ہزار مسلمان عورتیں آئیں تھیں جنہوں نے مزاحمت کی اور پردہ ترک کرنے سے انکار کیا ان کے سروں سے برقعے نوچ کر الائو میں ڈال دیئے گئے۔ رشتہ داروں کی منت سماجت اور ترغیب سے بالآخر انہیں بے پردگی اختیار کرنا پڑی۔
جبراً پردہ اتارنے کی مہم روسی عورتوں نے انجام دی 18مارچ کو قومی دن کی حیثیت حاصل ہوگئی اور ہر سال یہ رسم دہرار کا منائی جانے لگی۔
(روزنامہ نوائے وقت ملتان 18اپریل 1996ء )
غالباً ایسے ہی ایک جلسے کا حال اعظم ہاشمی مرحوم نے اپنے سفرنامہ ہجرت میں لکھا ہے وہ لکھتے ہیں۔
(ایک دن) کمیونسٹ پارٹی نے نماز مغرب کے بعد (بخارا کی) تمام بڑی بڑی مساجد میں جلسے منعقد کئے۔ اہل محلہ کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی پردہ نشین بہو‘ بیٹیوں اور بیویوں کو لے کر مسجد میں آئیں مسلح پولیس کے سپاہی ایک سرخ فوجی کی سرکردگی میں گھر گھر گئے اور مردوں اور عورتوں کو جانور کی طرح ہانک لائے۔ مسجد کے دروازے پر دو کمیونسٹ کھڑے تھے جو مستورات کے سروں سے برقعے‘ چادریں اور دوپٹے اتار اتار کر مسجد کے صحن میں ڈھیر کررہے تھے رات کے دس بجے سب لوگوں کے سامنے سارے ڈھیر کو آگ لگا دی گئی اس کے بعد تقریریں شروع ہوگئیں کمیونسٹ مقررین یکے بعد دیگرے پردے کے خلاف آتشیں تقریریں کرتے اور منہ سے جھاگ اڑاتے رہے۔ ایک باشقرستانی یہودی کمیونسٹ نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔
پردہ مردوں کے ظلم کی نشانی ہے اب عورتیں آزاد ہوگئیں ہیں وہ دفتر میں نوکری کرسکیں گی۔ فرغانہ کے غیور باشندے اس حقیقت کو پاچکے ہیں۔ ان کی عورتیں آزادی کی نعمت سے بہرہ مند ہوچکی ہیں۔ نکاح اور طلاق کا جھنجھٹ اب باقی نہیں رہا وہ مردوں کے ظلم سے آزاد بڑے آرام و سکون کی زندگی بسر کررہی ہیں۔
(اف یہ پادری‘ صفحہ 337بحوالہ سمر قند و بخارا کی خونی سرگزشت)
ایران میں حجاب کی مخالفت
ایران میں رضا شاہ پہلوی کے دور میں برقعہ پہننے پر پابندی عائد تھی۔ ایران میں رضا شاہ پہلوی نے 1935ء میں برقع ممنوع قرار دے دیا۔
(ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ جلد 3ص 226)
یہ عین وہی زمانہ تھا جب برصغیر پاک و ہند میں اکبر آلہ آبادی اور علامہ اقبال اس روشن خیالی صلیب کے سامنے سینہ سپر تھے۔
اکبر الہ آبادی لکھتے ہیں۔
بے پردہ کل جو نظر آئیں چند بیبیاں
اکبر زمین میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
اور علامہ اقبال کہتے ہیں
اس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک
ہے جس کے تصور میں فقط بزم شبانہ
لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازہ تجدید
مشرق میں ہے تقلید فرنگی کا بہانہ
ترکی میں حجاب کی مخالفت
یہودیوں کی کٹھ پتلی کمال پاشا نے ترکی کو جدید ترکی میں تبدیل کرنے تہذیب کو ثقافت کو جس طرح کچلا وہ تاریخ کے صفحات پر واضح ہے اس نے ترکی کو ٹوپی اور سر کے ہر لباس حجاب‘ اسکارف کو خلاف قانون قرار دیا اور ہیٹ کا استعمال لازمی قرار دیا۔
آئیے دور حاضر میں اس ترکی کی روشن خیالی کا مطالعہ کرتے ہیں ۔
جاوید چوہدری اپنے کالم زیرو پوائنٹ میں لکھتے ہیں۔
میڈم مروے کا تعلق فضیلت پارٹی سے تھا وہ 18اپریل 1999ء کے الیکشن میں ترک پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئی مئی میں حلف برداری کا موقع آیا تو مروے سر پر اسکارف لے کر پارلیمنٹ چلی گئیں یہ جدید ترکی کی 76سالہ تاریخ کا حیران کن واقع تھا۔ کیونکہ جب 29اکتوبر 1923ء کو ترکی آزاد ہوا تو کمال اتا ترک نے عربی رسم الخط دینی تعلیم اور اذا ن کے ساتھ سر ڈھانپنے اور حجاب لینے پر پابندی لگا دی تھی کمال اتا ترک کا کہنا تھا اگر ہم ترکی کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے سیکولر ثابت کرنا ہوگا اس وقت سے ترکی میں عورت کا ننگا سر اور سیکولر ازم ایک ہوچکے ہیں لیکن مئی 1999ء میں مروے نے اسکارف کے ساتھ پارلیمنٹ میں داخل ہوکر سیکولر ازم کے ترک فلسفے کو چیلنج کردیا مروے کی اس حرکت میں پارلیمنٹ میں زلزلہ آگیا سیکولر ارکان نے آسمان سر پر اٹھا لیا ترکی میں سیکولر ازم کی ضامن فوج نے بھی مروے کی جسارت کا سنجیدگی سے نوٹس لیا لہذا صدر سلیمان ڈیمرل نے مروے کی رکنیت اور شہریت دونوں منسوخ کردیں۔ یہ ایک سیکولر اسٹیٹ کا ایک ایسے آزاد شہری سے انتقام تھا جو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا تھا 29اکتوبر 2003ء کو یہ صورت حال ایک بار پھر شدت کے ساتھ سامنے آئی اس دن ترک قوم نے اپنا 80واں یوم آزادی منایا‘ قومی دن کی روایات کے مطابق صدر ارکان پارلیمنٹ اور حکومتی عہدیداروں کے اعزاز میںایک دعوت کرتا ہے جس میں ارکان کی بیگمات بھی شریک ہوتی ہیں لیکن اس بار کیونکہ ترکی میں طیب اردگان کی سربراہی میں ایک اسلامی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی حکومت ہے اور اس پارٹی کے زیادہ تر عہدیداروں کی بیگمات سروں پر اسکارف باندھتی ہیں لہذا صدر کے لئے ان تمام حضرات کو دعوت دینا مسئلہ بن گیاصدر نے طویل غور و خوص کے بعد اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ انہوں نے حکومت پارلیمنٹ کے ارکان اور حکمران پارٹی کے چیدہ چیدہ ممبروں سے درخواست کی کہ آپ تقریب میں بیگمات کو نہ لائیں۔ صدر کے اس فارمولے کی زد میں وزیراعظم طیب اردگان بھی آگئے کیونکہ ترکی کی خاتون اول بھی سر پر اسکارف لیتی ہیں اس اقدام پر جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے صدارتی تقریب کا بائیکاٹ کیا اور صدر احمد نجات سیزا نے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا۔
(روزنامہ جنگ لاہور 8نومبر 2003ئ)
انہی میڈم مروے کو اکچی کاایک انٹرویو ماہنامہ امپیکٹ انٹرنیشنل 2001ء مارچ میں شائع ہوا اس کے چند اہم اقتباس ہم یہاں پیش کردیتے ہیں۔
سوال:جب آپ ترکی کی پارلیمنٹ میں حجاب کے ساتھ پہلی دفعہ داخل ہوئیں تو آپ کیا سوچ رہی تھیں؟
جواب:ترک جمہوریت کی 76سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ دو عورتیں جو حجاب لیتی تھیں ترک پارلیمنٹ میں منتخب ہوگئیں۔ نسرین اونال ایسی دوسری پارلیمنٹ تھیں انہیں اسکارف اتارنے پر مجبور کردیا گیا سب سے پہلے ہونے کی وجہ سے بڑا مشکل مرحلہ تھا۔ گو کہ میں ان 70فیصد ترک خواتین کی نمائندگی کررہی تھی جو اسکارف پہنتی ہیں لیکن ملک میں ایک اقلیتی اشرافیہ ایک طویل عرصے سے حکومت کررہا ہے جو لوگ اس طبقے سے متعلق ہیں وہ کھلے ذہن کے مہذب جمہوری نہیں کہ ان لوگوں کا احترام کرسکیں جو ان کی طرح کپڑے نہیں پہنتے اور ان کی طرح سوچتے نہیں۔ مجھے ان کی جانب کی طرف سے مخالفت کی توقع تھی لیکن مجھے اس کا تصور نہیں تھا کہ یہ اتنی تہذیب دشمن اور ظالمانہ ہوگی۔
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا۔
میں اب اپنی نمائندگی نہیں کرتی میں ترکی کی مظلوم قدامات پسند خواتین کی آواز ہوں جو 25سال سے موجود ہیں اور ان سے اس لئے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے کہ وہ حجاب پہننا چاہتی ہیں انہیں مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے کیریئر اور مذہب میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں ان کی کوئی آواز نہیں ہے میں ان کی آواز کو ممبر پارلیمنٹ کی حیثیت سے جہاں تک لے جاسکوں لے جانا چاہتی ہوں۔
(ماہنامہ ترجمان القرآن اپریل 2001ء مضمون اسکارف بمقابلہ بندوق‘ اردو ترجمہ مسلم سجاد)
عزیزان گرامی!
حجاب ان روشن خیالوں کیلئے کیا مسائل پیدا کررہا ہے جو یہ اس کی مخالفت میں زمین آسمان ایک کردینے کے درپے ہیں۔
یہ اسلامی تہذیب و ثقافت کی اس درجہ کیوں مخالفت کررہے ہیں ہم آگے اس کو تفصیلاً بتائیں گے۔
فرانس میں اسکارف کی مخالفت
فرانس کے وزیر داخلہ چارلس پاسقوا اور وزیر تعلیم فرینکواٹس باٹرو Francois bayrwنے تمام پبلک اسکولوں میں زیر تعلیم مسلمان طالبات پر حجاب پہننے پر پابندی لگا دی۔
اور پھر فرانس میں اسکارف اوڑھ کر تعلیم حاصل کرنے پر ان کو اسکول سے خارج کردیا گیا ان پر تعلیم کے دروازے بند کردیئے گئے۔
فرانسی وزیر داخلہ نے اپنی پارلیمنٹ کو بتایا کہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اسلامی عقائد کو ہمارے معاشرتی رسم و رواج کا حصہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
عزیزان گرامی! آپ نے ملاحظہ کیا کہ اسلامی تہذیب و ثقافت کو کچلنے کے لئے پوری دنیا یہود و نصاریٰ اور ان کے مہروں نے اپنی پوری طاقت استعمال کی۔
لیکن اس تہذیبی و ثقافتی دہشت گردی پر کسی روشن خیال اور ترقی پسند نے اپنے قلم یازبان سے مذمت نہیں کی۔
آخر کیوں ؟
کیا مسلمانوں کو اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق نہیں۔
دوستو!
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ حجاب‘ اسکارف فرانس کے سیولر نظام سے متصادم نہیں۔ اور اگر ہے تو وہاں عیسائی بچے صلیب اور یہودی طالب علم اپنے سروں پر مخصوص ٹوپی کیوں پہنتے ہیں۔
روزنامہ نوائے وقت کی درج ذیل رپورٹ ملاحظہ فرمائیے۔
یاد رہے کہ فرانس کے اسکولوں میں بچیوں کو صلیب لٹکانے اور سر پر مخصوص ٹوپی پہننے کی اجازت ہے عیسائیوں اور یہودیوں کی مخصوص مذہبی علامات ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور 5نومبر 1994ء )
ملت اسلامیہ کی باوقار بیٹیو!
پردہ ان کو کیوں کھٹکتا ہے اس لئے کہ حجاب ان کے دیگر مقاصد کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے ‘ فحاشی‘ لہو و لعب‘ موسیقی‘ فلم اور خاندانی انتشار کے راستے میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔
لازمی سی بات ہے جب عورت بے پردہ ہوگی تو اس کے چہرے پر غلیظ نظریں بھی پڑیں گی اور جب میڈیا کے ذریعے فحاشی و عریانیت کا سیلاب اور حکومتوں کے ذریعے زنا کاری کے پرمٹ جاری ہوں گے اور آزادانہ اختلاط کن فتنوں کو جنم دے گا وہ آپ پر پوشیدہ نہیں او راس کے جو خوفناک نتائج بن بیاہی کنواری مائوں کی صورت میں جو نکلیں گے اس کیلئے مغرب کی مثال آپ کے سامنے موجود ہے۔
عزیزان گرامی!
اس دہشت گردی میں مغرب کے اہل قلم ہی نہیں بلکہ اس غیر ملکی ثقافت کو عام کرنے کیلئے اور ان کو پھیلانے کیلئے ملک کے بڑے بڑے ادباء اہل قلم اور مصنفین رضاکارانہ طور پر اپنی خدمت پیش کررہے تھے۔ اور اس مہم کو تیز کرنے میں قلمی مزدوروں کی بھی کمی نہ تھی۔
ان کے لئے تو میں اتنا ہی کہوں گا
کہاں مقام سخن اور کہاں سیاست شب
کہاں یہ اشک کہاں تاجران جشن طرب
کہاں رجز کی بلندی کہاں سلے ہوئے لب
کہاں زمان و مکاں اور کہاں عراق و عرب
حدود شام و سحر سے نکل گئے کچھ لوگ
ذرا سی دھوپ میں اگر پگھل گئے کچھ لوگ
اور ان ہی قلمی مزدوروں نے یہ تاثر دیا کہ کلچر کا تعلق مذہب سے نہیں ایک ادیب یوں رقم طراز ہیں۔
مسلم کلچر نام کی کوئی چیز نہیں۔ ہر مسلمان کا کلچر دوسرے سے مختلف ہے تمام مسلمان ممالک میں دینی اعتقادات بے شک ایک ہیں لیکن ان کا کلچر ایک نہیں ہوسکتا۔
(احمد ندیم قاسمی روزنامہ جنگ 15دسمبر 1991ء )
یہ تہذیب و ثقافت کو زمین سے وابستہ کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسلامی اخوت کا شفاف آئینہ چکنا چور ہوگیا اس افسوسناک حقیقت کا ادنیٰ سا منظر ہر سال پاکستان میں دیکھا جاتا ہے کہ یوم آزادی کے دن پاکستان کے مسلمان سندھی ‘ ہندو سندھیوں سے یکجہتی کیلئے کنٹرول لائن کی طرف جاتے ہیں وہ ان حد بندیوں کو توڑ دینا چاہتے ہیں لیکن دوسرے صوبوں کے پنجابی‘ پٹھان‘ مہاجر کا وجود انہیں برداشت نہیں۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔
اسی طرح ایک اور قلمی مزدور اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں۔
عصر حاضر میں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی معاشرے میں جلباب یا دوپٹے کے بغیر راہ چلتی عورت کو کوئی تنگ نہیں کرتا تو کیا وہاں بھی چادر اور دوپٹہ اوڑھنا ضروری ہو جائے گا۔ میں تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ اکثر غیر ملکی مہذب معاشروں میں مسلمان عورتیں کسی محرم کے بغیر بلا خوف و خطر طویل سفر اختیار کرسکتی ہیں اور کوئی نامحرم ہمسفر اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔
(روزنامہ جنگ 4تا 7جولائی 1985ء میں عورت‘ پردہ اور جدید زندگی کے مسائل پر پروفیسر وارث میر کے مضامین)
وارث میر صاحب کے مضمون پر میں کیا تبصرہ کروں روزنامہ جنگ کی یہ رپورٹ ملاحظہ کیجئے۔
اس وقت مہذب دنیا میں ہر 45سیکنڈ کے بعد ایک عورت کو بے آبرو کردیا جاتا ہے۔  (روزنامہ جنگ 12نومبر 1995ء )
اس بات کا اعتراف تو پردے کی مخالف بے نظیر بھٹو نے بھی کیا ہے لکھتی ہیں۔
ہماری ابتدائی کلاس میں ہمیں زنا بالجبر کے خطرات کے متعلق جو لیکچر دیئے جاتے تھے ریڈ کلف میں سن کر وحشت ہوتی تھی میں نے امریکہ آنے سے قبل زنا بالجبر کے بارے میں کبھی سنا تک نہیں تھا اور اب اس امکان کی وجہ سے میں اگلے چار سال کبھی رات کو اکیلی گھر سے باہر نہیں نکلی۔ (دختر مشرق از بے نظیر بھٹو‘ ص 86)
محترمہ کے اس بیان سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاںہوگئی کہ پاکستان میں جس جرم کے متعلق بے نظیر نے سنا تک نہیں تھا امریکہ کے بے لگام معاشرے میں ایک ہولناک حقیقت تھا۔
عزیزان گرامی!
یہ اسلامی تہذیب و ثقافت کو اس لئے مٹانا چاہتے ہیں کہ کہیں ان کے حر ص و ہوس کے بے قابو نفس کیلئے عورت ایک دل لبہانے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی ان کے ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انہیں سیکولر نظام کی پرواہ نہیں بلکہ اپنی بدمست جوانی کی سفلی خواہشات کی پرواہ ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں اسلامی تہذیب و ثقافت اپنے اندر کتنا بڑا ظرف رکھتی ہے۔
عزیزان گرامی!
اسلامی تہذیب کو دیکھنا ہوتو یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا منظر نگاہوں کے سامنے لے آئیے ہم یہاں صرف چند ایک اقتباس پیش کرتے ہیں کہ کس طرح یورپ کی خواتین کیلئے اسلامی ثقافت‘ حجاب کی اہمیت تھی۔
رابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے۔
سسلی کے پایہ تخت میں تین ہزار سے زیادہ جامہ باف تھے ان کی تیارکردہ عبائوں‘ قبائوں‘ اور چادروں پہ قرآنی آیات بھی ہوتی تھیں جنہیں عیسائی بادشاہ اور پادری فخر سے پہنتے تھے سسلی میں عیسائی عورتیں نقاب اوڑھتی تھیں۔
(از غلام جیلانی برق یورپ پر اسلام کے احسانات صفحہ 125مطبوعہ شیخ غلام علی سنز)
مزید آگے لکھتے ہیں۔
اسلامی تہذیب نے حیات مغرب کے ہر پہلو پر اثر ڈالا ان لوگوں کے لباس بدل گئے طور طریقے تبدیل ہوگئے تعمیرات میں مشرقیت آگئی عورتوں کا احترام بڑھ گیا اور انہوں نے حریص نگاہوں سے بچنے کیلئے نقاب اوڑھ لئے۔
(یورپ پر اسلام کے احسانات صفحہ 150بحوالہ رحلتہ ابن جبیر)
جو عیسائی لڑکیاں شاہی محل میں داخل ہوتی ہیں۔ وہ مسلم کنیزوں کی نیکی‘ پاکیزگی اور نماز سے متاثر ہوکر مسلمان ہوجاتی ہیں۔  (ایضاً صفحہ152)
آئیے اس زندہ حقیقت کو دور حاضر میں ملاحظہ فرمائیے۔
حجاب اور نو مسلم خواتین
نو مسلم ہندو دوشیزہ کملاداس جن کا اسلامی نام ثریا ہے ایک انٹرویو میں اس سوال پر کہ آپ کو اسلام میں سب سے زیادہ پرکشش بات کیا لگی؟ کہا
’’مجھے مسلمان عورتوں کا برقعہ بہت پسند ہے‘ میں پچھلے 24برسوں سے پردے کو ترجیح دے رہی ہوں‘ جب کوئی عورت پردے میں ہوتی ہے تو اس کو احترام ملتا ہے کوئی اس کو چھونے اور چھیڑنے کی ہمت نہیں کرسکتا اس سے عورت کو مکمل تحفظ ملتا ہے۔ ‘‘
(ہفت روزہ ’’نئی دنیا‘‘ نئی دہلی 28دسمبر 1999ء )
ثریا نے اب برقعہ کا استعمال شروع کردیا ہے وہ پردے کے بغیر زندگی کو آزادی نہیں سمجھتی بلکہ ایسی آزادی کو عورت کیلئے زہر قاتل سمجھتی ہے اس نے اس سوال پر کہ کیا برقعہ آپ کی آزادی کو متاثر نہیں کرتا ؟ کہا:
’’مجھے آزادی نہیں چاہئے ‘ اب تو آزادی میرے لئے ایک بوجھ بن گئی ہے مجھے اپنی زندگی کو باضابطہ اور باقاعدہ بنانے کیلئے گائیڈ لائن کی ضرورت تھی‘ ایک خدا کی تلاش تھی جو تحفظ دے پردے سے عور ت کو مکمل تحفظ ملتا ہے‘ پردہ تو عورت کے لئے بلٹ پروف جیکٹ ہے۔‘‘
(ہم کیوں کفر سے اسلام میں داخل ہوئیں۔ ص 116)
نو مسلم عیسائی خولہ لگاتا کہتی ہیں۔
پہلے مجھے حیرت ہوتی تھی کہ مسلم بہنیں برقعے کے اندر کیسے آسانی سے سانس لے سکتی ہیں۔ اس کا انحصار عادت پر ہے جب کوئی عورت اس کی عادی ہوجاتی ہے تو کوئی دقت نہیں ہوتی‘ پہلی بار میں نے نقاب لگایا تو مجھے بڑا عمدہ لگا۔ انتہائی حیرت انگیز‘ ایسا محسوس ہوا گویا میں ایک اہم شخصیت ہوں‘ مجھے ایک ایسے شاہکار کی مالکہ ہونے کا احساس ہوا جو اپنی پوشیدہ مسرتوں سے لطف اندوز ہو‘ میرے پاس ایک خزانہ تھا جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہ تھا‘ جسے اجنبیوں کو دیکھنے کی اجازت نہ تھی۔
(ہم کیوں کفر سے اسلام میں داخل ہوئیں۔ 204)
نو مسلم دوشیزہ صونی رولڈ کی سرگزشت۔
میں نے سر ڈھانکنا شروع کیا تو میرے باپ کا تبصرہ یہ تھا کہ ’’بڈھی کھوسٹ لگنے لگی ہو‘‘ یہ تبصرہ آج کل عام ہے لوگ سر پر اسکارف باندھنا ترک کرچکے ہیں اس لئے شاید وہ مجھے عجوبہ سمجھتے ہیں بہرحال میں تو اپنے آپ کو عجوبہ نہیں سمجھتی ہوں میں مسلمان ہوں اور اس طرح میں ناروے میں غیر ملکی سی ہوگئی ہوں۔ میرے مسلم احباب زیادہ تر عرب یا پاکستانی ہیں‘ اس ماحول میں مجھے گرم جوشی‘ تدبر اور دانائی ملتی ہے‘ ایسی دانش جو ناروے کے انفرادیت پرست ماحول سے کوسوں دور ہے۔
(ہم کیوں کفر سے اسلام میں داخل ہوئیں۔ ص 226)
عزیزان گرامی!
انہیں اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں اسلام عالم مذہب نہ بن جائے اور وہ خواب جو یہودی دنیا پر حکومت کرنے کا دیکھ رہے چکنا چور نہ ہوجائے۔ اس لئے اسلامی تہذیب و ثقافت کو کچلنے کی یہ مہم جاری و ساری ہے۔
بنات اسلام!
کیا پردہ ایک ظلم ہے؟
کیا حجاب ایک جبر ہے؟
کیا برقعہ ایک قید خانہ ہے؟
اگر یہ ظلم ہے تو ہر عورت کے ساتھ ظلم ہے۔ اگر یہ جبر ہے تو ہر عورت کے ساتھ جبر ہے اگر یہ قید خانہ ہے تو ہر عورت کیلئے قید خانہ ہے۔
خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی‘ یہودی ہو یا مشرک ۔
لیکن! ذرا سوچئے!
ظلم و ستم‘ جبر و قید خانے کا پروپیگنڈہ صرف مسلم ممالک میں کیوں؟
مسلم خواتین اس پروپیگنڈے کا شکار کیوں؟
کیا عیسائیت میں ننیں اپنے سروں کو اسکارف سے ڈھانپ کر نہیں رکھتیں۔
اگر یہ جبر ہے تو یہ ایک عیسائی نن پر بھی جبر ہے؟
لیکن یہ نن خواہ برطانیہ کی ہو یا فرانس کی‘ اٹلی کی ہو یا جرمنی کی جب سر پر اسکارف لیتی ہے تو پورا یورپ اسے جھک کر سسٹر یا مدر کہتا ہے لیکن یہی اسکارف ترکی‘ انڈونیشیا‘ ملائیشیا ‘ سعودی عرب اور پاکستان کی عورت سر پر رکھ لیتی ہے تو اسے نفرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اسے جاہل‘ گنوار‘ غیر ترقی یافتہ اور فنڈ امنٹلیسٹ کہا جاتا ہے۔
بنات اسلام!
کیا اسکارف ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟
کیا پردہ روشن خیالی کیلئے خطرہ ہے؟
کیا حجاب وسعت فکر کیلئے زنجیر ہے؟
عزیزان گرامی!
اس وقت پورے یورپ میں چھوٹے بڑے 7لاکھ چرچ اور مذہبی اسکول ہیں۔ امریکہ کے اندر ایک لاکھ 22ہزار چرچ ہیں۔ ان 8لاکھ 22ہزار چرچوں میں 26لاکھ ننیں (سسٹر ز اینڈ مدرز ) ہیںاور یہ تمام ننیں اپنے سروں پر اسکارف لیتی ہیں اور برقعہ نما ڈھیلا ڈھالا گائون پہنتی ہیں اگر ان کے گائون اور اسکارفوں کے باوجود وہاں ترقی ہوئی تو مسلم دنیا ترقی نہیں کرسکتی؟
بنات اسلام! یہ حجاب کے خلاف تہذیبی و ثقافتی دہشت گردی اس لئے ہے کہ تم سے تمہاری قوم کا مستقبل وابستہ ہے۔
تمہاری گود سے صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم کی صورت میں فلاح امت کی صبحیں پھوٹ سکتیں ہیں۔
تمہاری غیرت ارتقاء و بقا کی تاریخ رقم کرسکتی ہے۔
تمہاری حیا‘ زندگی کے چمن میں بہار کے شگوفے کھلا سکتی ہے۔
تمہارے رتجگے ملت کا مقدر جگا سکتے ہیں۔
دختران ملت!
اس جنگ میں تمہارا کردار بھی بہت اہم ہے تمہیں اپنی پاک تہذیب و ثقافت میں نقب لگانے والوں کو بے نقاب کرنا ہے خود بھی اسلامی تہذیب پر عمل پیرا رہنا اور دیگر مسلمان دوشیزائوں کو بھی اسلامی ثقافت سے ہم آہنگ کرنا ہے تمہارے سر سے چادریں اور تمہارے چہروں سے نقاب کھینچنے کیلئے اگر مغرب کے ہاتھ بڑھتے تو ہم ضرور کاٹ ڈالتے۔ تمہارے برقعوں کو جلانے کیلئے اگر کوئی آگ سلگا تا تو ہم اسے اسی آگ میں جلا ڈالتے۔
ہمیں کمینے دشمن سے واسطہ ہے جس نے ذرائع ابلاغ کے زریعے۔ نام نہاد ادیبوں کے ذریعے… عقل سے پیدل دانشوروں کے سہارے… اور روشن خیال حکمرانوں کے بل بوتے پر تمہاری تہذیب و ثقافت پر شب خون مارنے کی تیاری کی… یہ شب خون‘ یہ حملہ تمہارے سروں سے چادریں اپنے ہاتھوں سے نہیں کھینچے گا بلکہ تمہارے ذہنوں کو اس روشن خیالی کیلئے میڈیا کے ذریعے اور زار و صحافت کے ذریعے… عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی جیسی عورتوں کے ذریعے تمہارے ذہنوں کو پراگندہ کرکے نوچے جائیں گے بس فرق اتنا ہوگا پہلے تمہیں بے آبرو کرنے کیلئے ہاتھ اٹھایا کرتے تھے اور آج تم بے آبرو ہونے کیلئے خود تیار ہوگی۔
سازش بہت ہولناک ہے میرا قلم اس کو لکھنے سے عاجز ہے اس جنگ کو تمہارے بھائی ایک حد تک لڑ سکتے ہیں… یہ جنگ تمہیں خود لڑنی ہوگی۔ اور اگر تم اس جنگ میں ثابت قدم رہیں تو قسم خدا کی تمہاری قوم پھر بام عروج پر اپنا جھنڈا لہرا ئے گی۔
تمہیں ہمت نہیں ہارنی‘ جنگ شروع ہوچکی اب ہمت کے ساتھ استقامت کے ساتھ اس کے مقابلے کیلئے تیار رہو ۔
شکست ظلمت ہمت شکن مبارک ہو
یہ فتح روشنی فکر و فن مبارک ہو
مبارک اہل قلم کو قلم کی آزادی
صداقتوں کا دوبارہ چلن مبارک ہو