اعلیٰ حضرت احمد رضا محدث بریلی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں ’’محمد رسول اﷲﷺ کو خاتم النبیین ماننا‘ ان کے زمانہ میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا قطعا محال و باطل جاننا فرض اجل و جزء ایقان ہے۔ ولکن رسول اﷲ و خاتم النبین نص قطعی قرآن ہے۔ اس کا منکر‘ نہ منکر بلکہ شک کرنے والا نہ شاک کہ ادنیٰ ضعیف احتمال خفیف سے توہم خلاف رکھنے والا قطعا اجماعا کافر ملعون مخلدفی النیران ہے۔ نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے عقیدہ ملعونہ پر مطیع ہوکر اسے کافر نہ جانے وہ بھی‘ جو اس کے کافر ہونے میں شک و تردد کو راہ دے وہ بھی کافر ہے (المبین ختم النبین)
قارئین کرام! اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ شرعی سے آپ نے منکر ختم نبوت کا شرعی حکم تو معلوم کرلیا اور گزشتہ قسط میں آپ نے تبلیغیوں سے ملنے جلنے والی پارٹی قادیانیوں کے سرغنے کے احوال بھی ملاحظہ کئے۔ اب آیئے اس ختم نبوت کے مسئلہ پر اس قسط میں جسٹس کرم شاہ الازہری کا حقائق کشا تبصرہ بنظر غائر پڑھیئے۔
اگرچہ بدقسمتی سے امت اسلامیہ کئی فرقوں میں بٹ گئی ہے۔ باہمی تعصب نے بارہا ملت کے امن و سکون کو درہم برہم کیا اور فتنہ و فساد کے شعلوں نے بڑے المناک حادثات کو جنم دیا لیکن اتنے شدید اختلافات کے باوجود ساری فرقے اس پر متفق رہے کہ حضورﷺ آخری نبی ہیں اور حضورﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ چنانچہ گزشتہ تیرہ صدیوں میں جس نے بھی نبی بننے کا دعویٰ کیا اس کو مرتد قرار دے دیا گیا اور اس کے خلاف علم جہاد بلند کرکے اس کی جھوٹی عظمت کو خاک میں ملا دیا گیا۔ مسیلمہ نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے نتائج کی پرواہ کئے بغیراس کے خلاف لشکر کشی کی اور تب چین کا سانس لیا جب اس جھوٹے نبی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بے شک اس جہاد میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان بھی شہید ہوئے۔ جن میں سینکڑوں حافظ قرآن اور جلیل المرتبت صحابہ تھے لیکن حضرت صدیق رضی اﷲ عنہ نے اتنی قربانی دے کر بھی اس فتنے کو کچلنا ضروری سمجھا۔ آپ نور صدیقیت سے دیکھ رہے تھے کہ اگر ذرا تساہل برتا تو یہ امت سینکڑوں گروہوں میں نہیں سینکڑوں امتوں میں بٹ جائے گی۔ ہر امت کا اپنا نبی ہوگا اور وہ اسی کی شریعت اور سنت کو اپنائے گی۔ اسی طرح اس رحمت للعالمین ﷺکے زیر سایہ اسلام کے پلیٹ فارم پر انسانیت کے اتحاد کی ساری امیدیں ختم ہوجائیں گی اور انی رسول اﷲ الیکم جمیعا کا سہانا منظر کبھی بھی نظر نہیں آئے گا۔ ناظرین کو یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے کہ مسیلمہ حضورﷺ کی نبوت کا منکر نہیں تھا بلکہ اپنے دعویٰ نبوت کے ساتھ ساتھ وہ حضورﷺ کی رسالت کو بھی تسلیم کرتا تھا۔ چنانچہ حضور خاتم الانبیاء و المرسل کی ظاہری زندگی کے آخری ایام میں اس نے جو عریضہ ارسال خدمت کیا تھا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔
من مسیلمۃ رسول اﷲ انی محمد رسول اﷲ
یعنی یہ خط مسیلمہ کی طرف سے جو اﷲ تعالیٰ کا رسول ہے محمد رسول اﷲ ﷺکی طرف لکھا جارہا ہے
علامہ طبری نے اس امر کی بھی تصریح کی ہے کہ اس کے ہاں جو اذان مروج تھی اس میں اشہد ان محمد رسول اﷲ بھی کہا جاتا تھا۔ بایں ہمہ حضرت صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس کو مرتد اور واجب القتل یقین کرکے اس پر لشکر کشی کی اور اس کو واصل جہنم کرکے آرام کا سانس لیا۔
اسلام کی تیرہ صد سالہ تاریخ میں جب بھی کسی سرپھرے‘ طالع آزما یا فتنہ پرداز نے اپنے آپ کو نبی کہنے کی جرات کی اس کو قتل کردیاگیا۔
انگریز کی غلامی کے دور میں ملت اسلامیہ کو جس طرح دوسرے کئی مصائب سے دوچار ہونا پڑا‘ اسی طرح ایک جھوٹی نبوت قائم کرکے امت میں انتشار پیدا کیا گیا۔ وہ مدعی نبوت بظاہر عیسائیت کا رد کرتا تھا اور پادریوں سے مناظرے کرتا تھا۔اس کے باوجود انگریز کا پرلے درجے کا وفادار تھا۔ ملکہ انگلستان کی شان میں اس نے ایسے تعریفی پمفلٹ لکھے کہ کوئی باغیرت مسلمان ان کو پڑھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ انگریز کی اسلام دشمنی اظہر من الشمس ہے جنہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کا تختہ الٹا‘ سلطنت عثمانیہ کو پارہ پارہ کردیا۔ ایسی ظالم اور اسلام دشمن حکومت کو اپنی وفاداری کا یقین دلانا‘ اسلام سے غداری نہیں تو اور کیا ہے۔ انگریز نے اس کی نبوت کو اپنی سنگینوں کے سایہ میں پروان چڑھنے کا موقع دیا اور اس کو قبول کرنے والوں کے لئے بے جا نوازشات کے دروازے کھول دیئے۔ ہر مرزائی کے لئے کسی استحقاق کے بغیر اچھی سے اچھی ملازمتیں مختص کردی گئیں۔ سیاسی میدان میں بھی ان کے آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ بے شک وہ شخص عیسائیت کے خلاف لکھتا اور بولتا تھا لیکن انگریز نے اس کے ذریعہ امت مسلمہ میں ایک نئی امت پیدا کرکے اور ان کے متفقہ علیہ بنیادی عقیدہ میں تشکیک پیدا کرکے جو مقصد عظیم حاصل کیا‘ وہ بہت بڑا کارنامہ تھا اور اپنے دور رس نتائج کے اعتبار سے بڑا اہم تھا۔ اگر ایسا شخص عیسائیت کے خلاف کچھ بولتا ہے تو بولا کرے۔ اس سے انگریزی سیاست کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ عیسائیوں کی مخالفت ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے وہ انگریزی استعمار کی خدمت پوری دل جمعی سے انجام دے سکتا تھا۔ اگر وہ عیسائیوں کے خلاف کچھ نہ کرتا تو اس کی بات کوئی آدمی سننے کے لئے تیار نہیں تھا۔
مرزا غلام احمد کی نبوت کا پیغام لے کر جب مرزائی مبلغ اسلامی ممالک میں گئے‘ وہاں ان کا جو حشر ہوا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ کئی ممالک میں تو انہیں مرتد قرار دے کر توپ سے اڑا دیا گیا۔ عالم اسلام کے تمام علماء نے بالاتفاق اس مدعی نبوت کو مرتد اور خارج از اسلام قرار دیا۔
یہ عرض کرنے کا مقصد صرف اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ ان بنیادی عقیدوں میں سے ایک ہے جن پر گونا گوں اختلافات کے باوجود تیرہ صدیوں تک امت کا کلی اتفاق اور قطعی اجماع رہا ہے جس طرح ایک مسلمان کے لئے اﷲ تعالیٰ کی توحید‘ قیامت‘ حضورﷺ کی رسالت کسی دلیل کی محتاج نہیں‘ اسی طرح ختم نبوت کا مسئلہ بھی کبھی زیر بحث نہیںآیا اور اس کے ثبوت کے لئے کسی مسلمان کو کسی دلیل یا بحث و تمحیص کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی لیکن مرزا قادیانی نے وہ کام کردکھایا جس کی جرات آج تک شیطان کو بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر شرح و بسط سے لکھا جائے تاکہ حضورﷺ کا امتی کسی غلط فہمی کے باعث اپنے آقائے کریم سے کٹ کر نہ رہ جائے۔ رہے وہ لوگ جو شکم کو ایمان پر ترجیح دیتے ہیں اور مال و دولت کے حصول کے خاطر اپنا دین بدلنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے بلکہ اسے کمال ہوشمندی سمجھتے ہیں ایسے لوگوں کا علاج کسی کے پاس نہیں‘ ہمیں ان کے لئے ملول نہیں ہونا چاہئے۔ نہ ایسے ابن الوقتوں کی خدا کو ضرورت ہے اور نہ اس  کے رسول کو:
ہمارا دعویٰ بلکہ ہمارا غیر متزلزل عقیدہ اور ایمان یہ ہے
’’حضور سرور عالم سیدنا محمد رسول اﷲﷺ سب سے آخری نبی ہیں۔ حضورﷺ کی تشریف آوری کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ حضورﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ اور جو شخص اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جو بدبخت اس کے دعویٰ کو سچا تسلیم کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے اور اسی سزا کا مستحق ہے جو اسلام نے مرتد کے لئے مقرر فرمائی ہے‘‘
اسی عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے ہم ایسے دلائل پیش کریں گے جو قطعی اور یقینی ہیں اور جن میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ سب سے پہلے ہم قرآن کریم سے استدلال کرتے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہیں۔
ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین وکان اﷲ بکل شئی علیما
اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرمﷺ کا اسم گرامی لے کر فرمایا ہے کہ محمد (فداہ ابی وامی) اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں یعنی انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔ جب مولا کریم جو بکل شئی علیم ہے نے یہ فرمایا نے کہ محمدﷺنبیوں کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں تو حضورﷺ کے بعد جس نے کسی کو نبی مانا‘ اس نے اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تکذیب کی اور جو شخص اﷲ تعالیٰ کے کسی ارشاد کو جھٹلاتا ہے وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔
خاتم النبیین کا جو معنی یہاں کیا گیا ہے اہل لغت نے اس کا یہی معنی لکھا ہے۔ اس وقت میرے پاس علم لغت کی دوسری کتب کے علاوہ الصحاح للجوہری اور لسان العرب لابن منظور موجود ہیں جن کا شمار لغت عرب کی امہات الکتب میں ہوتا ہے۔ آئو ان کے مطالعہ سے اس لفظ کی تحقیق کریں۔ ایک چیز پیش نظر رہے کہ صحاح کے مولف علامہ حماد بن اسماعیل الجوہری کا سن ولادت 332ھ اور سال وفات 393ھ یا 398ھ ہے اور لسان العرب کے مولف علامہ ابوالفضل جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور الافریقی المصری کا سن ولادت 630ھ اور سال وفات 711ھ ہے۔ یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ فتنہ انکار ختم نبوت سے صدہا سال پہلے یہ کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان کے متعلق یہ نہیں کہاجاسکتا کہ انہوں نے مذہبی تعصب یا ذاتی عقیدہ کے باعث یہ لکھا ہے تاکہ ان کا قول حجت نہ رہے بلکہ ان کی نگارشات اور ان کی تحقیقات اہل لغت کے اقوال عین مطابق ہیں۔ پہلے صحاح کی عبارت ملاحظہ فرمایئے۔
ختم اﷲ لہ بخیر خدا اس کا خاتمہ بالخیر کرے
وختتمت القرآن : بلغت آخرہ۔ یعنی میں نے قرآن آخر تک پڑھ لیا۔
اختتمت الشیٔ‘ نقیض افتحتہ: افتتاح کی نقیض اختتام ہے۔
والخاتم والخاتم بکسر التا‘ وفتحہا واختام والخاتام کلہ بمعنی وخاتمۃ الشیٔ آخری یعنی خاتم خاتم‘ ختام‘ خاتام سب کا ایک ہی معنی ہے اور کسی چیز کے آخرکو خاتمتہ الشیٔ کہتے ہیں۔
ومحمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام نبیوں سے آخر میں تشریف لے آئے۔
علامہ ابن منظور لسان العرب میں لکھتے ہیں۔
ختام الوادی‘ اقصاہ و ختام القوم وخاتمہم وخاتمہم آخرہم و محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام
وادی کے آخری کونہ کو ختام الوادی کہتے ہیں۔ قوم کے آخری فرد کو ختام خاتم اور خاتم کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے حضورﷺ کو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے۔ لسان العرب میں التہذیب کے حوالے سے لکھا ہے۔
والخاتم والخاتمہ من اسماء النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم وفی التنزیل العزیز ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین ای آخرہم ومن اسمائہ العاقب ایضا ومعناہ آخر الانبیاء
یعنی خاتم اور خاتم نبی کریمﷺ کے اسماء گرامی میں سے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے کہ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۔ یعنی سب نبیوں سے پیچھے آنے والا۔ اور حضور کے اسماء میں سے العاقب بھی ہے اس کا معنی آخر الانبیاء ہے۔
اہل لغت کی ان تصریحات سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ خاتم کی تآء پر زیر ہو یا زبر اس کا معنی آخری ہے۔ اس معنی کی تائید کے لئے اہل لغت نے ایک دوسری آیت سے بھی استدلال کیاہے۔
وختامہ سک ای آخرہ مسک
یعنی اہل جنت کو جو مشروب پلایا جائیگا اس کے آخر میں انہیں کستوری کی خوشبو آئے گی۔
ختم نبوت کے منکرین اس موقع پر یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ خاتم کا جو معنی آپ نے بیان کیا ہے۔ (آخری) وہ یہاں مراد نہیں بلکہ اس کا دوسری معنی مراد ہے اور یہ معنی بھی ان لغت کی کتابوں میں موجود ہے جن کا حوالہ آپ نے دیا ہے۔ جب ایک لفظ کے دو معنی ہوں تو وہاں ایک معنی مراد لینے پر بضد ہونا اور دوسرے معنی کو ترک کردینا تحقیق حق کا کوئی اچھا مظاہرہ نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم بھی اس آیت کو مانتے ہیں اور اس کے معنی اپنی طرف سے نہیں گھڑتے تاکہ ہم پر تحریف قرآن کا الزام لگایاجائے بلکہ لغت عرب کے مطابق ہی اس کا مفہوم بیان کرتے ہیں۔ کسی کو ہم پر اعتراض کا حق نہیں پہنچتا۔
صحاح اور لسان العرب دونوں میں خاتم کا معنی مہر یا مہر لگانے والا مذکور ہے۔ آیت کا یہی معنی ابلغ اور شان رسالت کے شایان ہے کہ حضورﷺ انبیاء پر مہر لگانے والے ہیں جس پر حضورﷺ نے مہر لگادی وہ نبوت کے شرف سے مشرف ہوگا اور جس پر مہر نہ لگائی‘ وہ نبوت کے منصب پر فائز نہیں ہوسکتا۔
اس کے متعلق گزارش ہے کہ بے شک لغت کی کتابوں میں خاتم کا معنی مہر یا مہر لگانے والا مرقوم ہے لیکن انہوں نے تصریح کردی ہے کہ مذکورہ آیت میں خاتم النبیین کامعنی آخر النبیین ہے۔ یہاں فقط یہی معنی مراد ہے اور یہ لوگ اگر مصر ہوں کہ یہاں خاتم کا دوسرا معنی مراد ہے تو اس سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مطالعہ کرتے ہوئے غوروتدبر سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے مہر سے مراد ڈاکخانہ کی مہر یا کسی افسر کی مہر سمجھی ہے کہ لفافہ یا کارڈ پر مہر ٹھپہ لگایا اور اسے آگے بھیج دیا یا کسی کی درخواست پر اپنی مہر ثبت کی اور اسے مناسب کارروائی کے لئے متعلقہ دفتر روانہ کردیا۔ حالانکہ مہر کا جو مفہوم اہل لغت نے لیا ہے وہ قطعا اس کے خلاف ہے۔ کاش انہیں بے جا تعصب اس امر کی اجازت دیتا کہ وہ ائمہ لغت کی عبارتوں میںغور کرتے۔
آیئے! ہم آپ کی خدمت میں یہ عبارتیں پیش کرتے ہیں تاکہ آپ کسی صحیح فیصلہ پر پہنچ سکیں۔ لسان العرب میں ہے :
ختمہ یختمہ ختما وختاما‘ طبعہ فہوم مختوم ومختم شدد للمبالغۃ
یعنی ختم کا معنی مہر لگانا ہے اور جس پر مہر لگادی جائے اس کو مخترم اور مبالغہ کے طور پر مختتم کہتے ہیں۔
اس کے بعد لکھتے ہیں:
ومعنی ختم وطبع فی اللغۃ واحد وہوا التغطیۃ علی الشی والاستیثاق عن ان لایدخلہ شیٔ کما قال جل وعلا ام علی القلوب اقفالہا
اس عبارت کا ترجمہ ذرا غور سے سنئے یعنی ختم اور طبع کا لغت میں ایک ہی معنی ہے اور وہ یہ کہ کسی چیز کو اس طرح ڈھانپ دینا اور مضبوطی سے بند کردینا کہ اس میں باہر سے کسی چیز کا داخلے کا امکان ہی نہ ہو۔
پہلے زمانہ میں خلفائ‘ امرائ‘ سلاطین وغیرہ اپنے خطوط کولکھنے کے بعد کسی کاغذ کے لفافہ اور کپڑے کی تھیلی میں رکھ کر سربمہر کردیتے کہ جو کچھ لکھا جاچکا‘ اب اس کو سربمہر کردیا گیا ہے تاکہ اس مہر کی موجودگی میں اس میں کوئی ردوبدل نہ کردے۔ اگر کوئی ردوبدل کرے گا تو وہ پہلے مہر توڑے گا اور جب مہر توڑے گا تو پکڑا جائے گا۔ اس پر احکام سلطانی میں تغیر و تبدل کرنے اور امانت میں خیانت کرنے کے سنگین الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس صورت میں خاتم النبیین کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلے انبیاء کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ حضورﷺ کی تشریف آوری کے بعد یہ سلسلہ بند ہوگیا اور اس پر مہر لگادی گئی تاکہ کوئی کذاب‘ دجال اس میں داخل نہ ہوسکے۔ اگر کوئی شخص زبردستی اس زمرہ میں گھسنا چاہے گا تو پہلے مہر توڑے گا اور جب مہر توڑے گا تو پکڑا جائے گا اور اسے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔
قرآن کریم کے الفاظ کا مفہوم سمجھنے میں عربی زبان کی لغات سے بھی بڑی مدد ملتی ہے۔ لیکن اس سلسلے میں بھی قول فیصل اور حرف آخر حضورﷺ کی بیان کردہ تشریح ہوتی ہے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ اﷲ تعالیٰ کی تعلیم سے ارشاد فرماتے ہیں۔
آیئے اب احادیث نبویہ کا بغور مطالعہ کریں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ حضور خاتم الانبیائﷺ نے خاتم النبیین کے کلمات کا کیا مفہوم بیان فرمایا ہے۔
خاتم النبیین کے معنی کی وضاحت کے لئے بے شمار صحیح احادیث کتب حدیث میں موجود ہیں۔ سب کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں فقط چند یہاں احادیث تحریر کی جاتی ہیں جن کے دلوں میں ہدایت کی سچی طلب ہوگی‘ مولا کریم اپنے حبیب رئوف رحیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے طفیل ہدایت کی راہیں ان کے لئے کھول دے گا اور اس کی توفیق ان کی دست گیری کرے گا۔
حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی ہے۔ لوگ اس عمارت کے اردگرد پھرتے اوراس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی‘ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں (بخاری کتاب المناقب باب خاتم النبیین)
اگر آپ اس ایک حدیث پر غور کریں گے تو بلاغت نبوی کے اعجاز کا آپ کو اعتراف کرنا پڑے گا۔ جب ایک عمارت مکمل ہو جاتی ہے اور اس میں کوئی خالی جگہ نہیں رہتی تو کوئی ماہر سے ماہر انجینئر بھی اس میں ایک اینٹ کا اضافہ نہیں کرسکتا۔ ہاں اس کی ایک ہی صورت ہے کہ پہلے اینٹوں میں سے کوئی اینٹ توڑ کر وہاں سے نکال لی جائے اور پھر اس خالی کرائی ہوئی جگہ پر کوئی نئی اینٹ لگا دی جائے۔ حضور کریمﷺ کی تشریف آوری سے قصر نبوت مکمل ہوگیا۔ اب اس میں کسی اور نبی کی گنجائش نہیں۔ بجز اس کے کہ سابقہ انبیاء میں سے کسی نبی کو وہاں سے نکالا جائے اور اور مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے جگہ بنائی جائے۔ کیا کوئی عقل سلیم اس کو گوارا کرے گی۔
قصر نبوت کی اس توڑ پھوڑ کو کیا اﷲ تعالیٰ کی غیرت برداشت کرے گی؟ ہرگز نہیں یہ ایک حدیث ہی اتنی جامع اور اتنی معنی خیز اور اتنی بصیرت افروز ہے کہ ختم نبوت کے لئے مزید کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اس حدیث کو امام بخاری کے علاوہ امام مسلم نے کتاب الفضائل باب خاتم النبیین میں اور امام ترمذی نے کتاب المناقب اور ابو دائود وطیاسی نے اپنی مسند میں مختلف اسناد سے نقل کیا ہے۔
رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے چھ باتوں میں انبیاء پرفضیلت دی گئی ہے (۱) مجھے جو امع الکلم سے نوازا گیا یعنی الفاظ و مختصر اور معانی کا بحر بے پیداکنار (۲) رعب کے ذریعے میری مدد فرمائی گئی (۳) میرے لئے غنیمت کا مال حلال کیا گیا (۴) میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنا دیا گیا اور اس سے تیمم کی اجازت دی گئی (۵) مجھے تمام مخلوق کے لئے رسول بنایا گیا اور (۶) میری ذات سے انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیا (مسلم‘ ترمذی‘ ابن ماجہ)
حضرت انس ابن مالک سے مروی ہے:
رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا اور میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔
سرور عالمﷺ کی اس تصریح کے بعد جس کی کوئی تاویل ممکن نہیں کسی کا نبوت کا دعویٰ کرنا اور کسی کا اس باطل دعوے کو تسلیم کرنا سراسر کفر اور الحاد ہے۔
حضورﷺ نے فرمایا اﷲ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو۔ اب میں آخری نبی ہوں اور اور تم آخری امت ہو‘ وہ ضرور تمہارے اندر ہی نکلے گا (ابن ماجہ)
اس حدیث سے جس طرح حضورﷺ کا آخر الانبیاء ہونا ثابت ہورہا ہے اسی طرح حضورﷺ کی امت کا آخر الامم ہونا بھی ثابت ہورہا ہے۔
امام ترمذی نے کتاب المناقب میں یہ حدیث روایت کی ہے۔
اگر میرے بعد کسی کا نبی ہونا ممکن ہوتا تو عمر بن الخطاب نبی ہوتے۔
امام بخاری اور امام مسلم نے فضائل صحابہ کے عنوان کے نیچے یہ ارشاد نبوی نقل کیا:
رسول اﷲﷺ نے غزوہ تبوک پر روانہ ہوتے وقت حضرت کرم علی اﷲ وجہ کو مدینہ طیبہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا۔ آپ کچھ پریشان ہوئے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہے جو موسیٰ کے ساتھ ہارون کی تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
آخر میں ایک اور حدیث سماعت فرمایئے اور اسی کے ذکر پر احادیث کی نقل کا سلسلہ ختم ہوت اہے
حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ…میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبین ہوں‘ میری بعد کوئی نبی نہیں (ابو دائود۔ کتاب الفتن)
علامہ ابن کثیر متوفی 774ھ متعدد احادیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔
یعنی اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول کریمﷺ نے سنت متواترہ میں بتایا ہے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تاکہ ساری دنیا جان لے کہ جو شخص بھی حضورﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب ہے‘ جھوٹا ہے‘ دجال ہے‘ گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔ علامہ سید محمود آلوسی متوفی 127ھ روح المعانی میں لکھتے ہیں۔
یعنی حضورﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایسا عقیدہ ہے جس کی تصریح قرآن و سنت نے کی ہے۔ جس پر امت کا اجماع ہے۔ پس جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہوجائے گا اور اگر اس نے توبہ نہ کی اور اس دعویٰ پر مصر رہا تو اس کو قتل کیا جائے گا۔
علامہ ابن حیان اندلسی متوفی 745ھ اپنی تفسیر بحر محیط میں رقم طراز ہیں۔
یعنی جس شخص کا یہ نظریہ ہو کہ نبوت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور اسے اب بھی حاصل کیا جاسکتا ہے‘ یا جس کا یہ عقیدہ ہو کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے وہ زندیق ہے اور واجب القتل ہے۔ آج تک جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا‘ مسلمانوں نے ان کو قتل کردیا۔ ہمارے زمانے میں بھی فقراء میں سے ایک شخص نے شہر مالقہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو اندلس کے بادشاہ نے غرناطہ میں اس کا سر قلم کردیا اور اس کی لاش کو سولی چڑھا دیا‘ وہ اسی حالت میں لٹکا رہا‘ یہاں تک کہ اس کا گوشت گل کر گر پڑا۔
ان مذکورہ بالا اقتباسات سے امت کا ختم نبوت کے عقیدہ پر اجماع ثابت ہوگیا اور ہر زمانے کے علماء نے مدعی نبوت کو گردن زدنی قرار دیا۔ آخر میں ہم ختم نبوت پر عقلی دلیل پیش کرتے ہیں۔
ختم نبوت کے عقلی دلائل
قدرت کے کام حکمت سے خالی نہیں ہوتے
جب حضور نبی کریمﷺ کی نبوت جملہ اقوام عالم کے لئے اور قیامت تک کے لئے ہے‘ جب حضورﷺ پر نازل شدہ کتاب بغیر کسی ادنیٰ تحریف کے جوں کی توں ہمارے پاس موجود ہے۔ جب سرور عالمﷺ کی سنت مبارکہ اپنی ساری تفصیلات کے ساتھ اس کتاب کی تشریح و توضیح کررہی ہے‘ جبکہ شریعت اسلامیہ روز اول کی طرح آج بھی انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں ہماری رہنمائی کررہی ہے۔ جب قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ آج بھی اعلان کررہی ہے
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا
تو پھر کسی اور نبی کی بعثت کا کیا فائدہ ہے اور اس سے کس مقصد کی تکمیل مطلوب ہے۔ آفتاب محمدی طلوع ہوچکا۔ عالم کا گوشہ گوشہ اس کی کرنوں سے روشن ہورہا ہے۔ تو پھر دن کے اجالے میں کسی چراغ کو روشن کرنا قطعا قرین دانشمندی نہیں ہے۔
مزید غور فرمایئے۔ نبی کی آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں ہوتا کہ نبی آیا۔ جس نے چاہا مان لیا اور جس نے چاہا انکار کردیا اور بات ختم ہوگئی بلکہ نبی کی بعثت کے بعد کفر اور اسلام کی کسوٹی نبی کی ذات بن کر رہ جاتی ہے۔ کوئی کتنا نیک‘ پاکباز‘ پارسا اور عالم باعمل ہو‘ اگر وہ کسی سچے نبی کی نبوت کو تسلیم نہیں کرے گا تو اس کا نام مسلمانوں کی فہرست سے خارج کردیا جائے گا اور کفار و منکرین کے زمرہ میں اس کا نام درج کردیا جائے گا۔ اور یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔
اب ذرا عملی دنیا میں مرزا صاحب کی آمد کا جائزہ لیجئے۔
مسلمانوں کی تعداد کم سے کم اعدادوشمار کے مطابق سوا ارب سے زائد ہے۔ یہ سب اﷲ تعالیٰ کی توحید پر ایمان رکھتے ہیں۔ قرآن کریم کو خدا کا کلام یقین رکھتے ہیں۔ تمام انبیاء جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے۔ ان کی نبوت اور صداقت کا اقرار کرتے ہیں۔ قیامت کی آمد کے قائل ہیں۔ عملی طور پر غافل و کاہل سہی‘ لیکن احکام خداوندی اور ارشادات نبوی کے برحق ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ ضروریات دین میں سے ہر چیز پر ان کا ایمان ہے اور امت میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں ایسے بندگان خدا بھی ہر زمانہ میں موجود رہے ہیں جو شریعت پر پوری طرح کاربند‘ عبادت کے سختی سے پابند رہے ہیں‘ ان کے اخلاص و للہیت پر فرشتے رشک کرتے ہیں اور ان کے کارہائے نمایاں پر خود ان کے خالق کو ناز ہے۔
اسی پاک امت میں آکر مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کردیا۔ ان کی آمد سے پہلے تو یہ سارے کے سارے مسلمان تھے۔ چلو بعض میں عملی کوتاہیاں ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن کم از کم نعمت ایمان سے تو وہ بہرہ ور تھے۔ اب حقیقت حال یہ ہے کہ پچاس سالہ کوششوں کے باوجود چند لاکھ کی نفری نے مرز اجی کو نبی مانا اور باقی سوا ارب نے ان کو دجال اور کذاب قرار دیا۔ نبی کو ماننا اسلام ہے اور انکار کفر ہے۔ مرزا صاحب نے اپنا سبز قدم جب دنیائے اسلام میں رکھا تو یہ بہار آئی کہ سارے کے سارے مرتد قرار پائے اور اسلام سے محروم ہوکر کفر میں مبتلا ہوگئے۔ صرف گنتی کے چند آدمی مسلمان باقی رہے۔ ان میں بھی غالب اکثریت بلیک مارکیٹ کرنے والوں‘ رشوت لینے والوں‘ اقربا نوازی اور مرزائیت پروری کی قربان گاہ پر لاکھوں حق داروں کے حقوق بھینٹ چڑھانے والوں کی ہے۔ ان میں اکثر بے نمازی‘ داڑھی منڈے اور آوارہ مزاج لوگ ہیں۔ ہر قسم کی رزیل حرکتیں کرنے والوں کا ایک لشکر جرار ٹھاٹھیں مارتا ہوا آپ کو نظر آئے گا۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ دنیائے اسلام کے لئے عملی طور پر مرزا صاحب کی آمد برکت کا باعث بنی یا نحوست کا۔
اﷲ تعالیٰ کی حکمت اس کو پسند نہیں کرتی کہ مرزا صاحب کو سچا نبی بنا کر بھیجا جائے تاکہ اسلام کے سارے ہرے بھرے پیڑ اپنے خنک سائیوں‘ میٹھے پھلوں‘ رنگین اور مہکتے ہوئے پھولوں سمیت اکھاڑ کر پھینک دیئے جائیں اور چند خاردار جھاڑیوں کے جھرمٹ پر ’’گلشن اسلام‘‘ کا بورڈ آویزاں کردیا جائے۔ متقیوں‘ پرہیز گاروں‘ عالموں اور عاشقوں کی امت پر کفر کا فتویٰ لگا دیا جائے اور چند زاع صفت طالع آزما افراد کو مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیا جائے۔
مرزا صاحب کے امتی بڑی ڈینگیں مارتے ہیں کہ ہم دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام پہنچا رہے ہیں ہماری کوششوں سے یورپ میں اتنی مسجدیں تعمیر ہوئیں اتنے لوگوں کو ہم نے کلمہ پڑھایا۔
گزارش ہے کہ تم تو مرزا صاحب کو اس لئے نبی کہتے ہو کہ انہوں نے چند کافروں کو کلمہ پڑھایا۔ ہم اولیاء کرام کے زمرہ سے آپ کو ایسے ایسے مبلغ دکھاتے ہیں جنہوں نے ہزاروں لاکھوں کافر کو کفر کی ظلمتوں سے نکال کر ہدایت کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ خواجہ خواجگان سلطان الہند معین الحق والدین اجمیری رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے لاکھوں مشرکوں کے زنار توڑے اور ان کی پیشانیوں کو بارگاہ رب العزت میں شرف سجود بخشا۔ داتا گنج بخش ہجویری نے اس کفرستان میں راوی کے کنارے پر توحید کا جو پرچم گاڑا تھا‘ وہ آج بھی لہرا رہا ہے اور لاکھوں خفتہ بختوں کو خواب غفلت سے جگا رہا ہے۔ مشائخ چشت اور دیگر اولیاء کرام نے اسلام کی جو تبلیغ کی اور جو فرشتہ صفت مرید بنائے ان کے مقابلہ میں ساری امت مرزائیہ کی تبلیغی کوششوں کی نسبت سمندر اور قطرہ کو بھی نہیں۔ ان کارہائے نمایاں کے باوجود ان حضرات نے نہ نبوت کا دعویٰ کیا‘ نہ مہدیت کا‘ نہ مسیحیت کا‘ نہ ظلی کا‘ نہ بروزی کا بلکہ اپنے آپ کو غلامان مصطفی ہی کہا اور اسی کو اپنے لئے باعث صد افتخار اور موجب سعادت دارین سمجھا۔
مرزا قادیانی کو اپنی نبوت تک پہنچنے کے لئے بڑا دور کا چکر کاٹنا پڑا۔ آخرکار آپ کی کمند فکر یہاں آکر رکی کہ یہ تو احادیث سے ثابت ہے کہ عیسٰی بن مریم آئیں گے۔ میں کیوں نہ اپنے آپ کو مسیح موعود کہنا شروع کردوں تاکہ مجھے لوگ مسیح مان لیں لیکن اس میں مشکل یہ پیش آئی کہ حضرت مسیح تو زندہ ہیں‘ ان کی زندگی میں میں مسیح کیسے بن سکتا ہوں۔ خیال آیا کہ پہلے مسیح کو مردہ ثابت کرو‘ جب وہ مردہ قرار پاگئے تو پھر میرے لئے میدان صاف ہوجائے گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنا سارا زور وفات مسیح علیہ السلام ثابت کرنے پر لگادیا۔
بے شک رحمت عالمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت سے قبل حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے۔ جن احادیث میں نزول مسیح کے متعلق تشریح کی گئی ہے وہ اس کثرت سے مروی ہے کہ معنوی طور پر وہ درجہ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ آیئے آپ بھی ان احادیث کی جھلک ملاحظہ کیجئے۔ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ نبی برحق نے کوئی مبہم پیش گوئی نہیں کی۔ کسی ایسے مسیح کی آمد کی اطلاع نہیں دی جس کی پہچان نہ ہوسکے اور جس شاطر کا جو جی چاہے وہ آنے والا مسیح بن بیٹھے۔ بلکہ نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو اس کا نام بتایا‘ اس کی والدہ کا نام بتایا‘ اس کے لقب سے خبردار کیا‘ اس وقت اور مقام کی نشاندہی کی جس وقت اور جس مقام پر وہ نزول فرمائے گا‘ جو کارہائے نمایاں وہ انجام دے گا‘ اس کی تفصیل بیان فرمادی اور اس کے مدفن کا بھی مقام عطا فرمادیا اور اس کا حلیہ بھی بیان کردیا۔ اب اگر وہ احادیث صحیح ہیں جن میں حضرت عیسٰی کی آمدکی خبر دی گئی ہے تو ان تفصیلات کو بھی من و عن صحیح اور سچ تسلیم کرنا پڑے جو ان کے متعلق بتائی گئی ہیں اور اگر کوئی شخص ان تفصیلات کو مانے سے انکار کردے گا تو پھر اسے ان تمام احادیث کو بھی ساقط الاعتبار قرار دینا پڑے گا جن میں ان کی آمد کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ تحقیق اور انصاف کا یہ کیسا معیار ہے کہ ایک روایت کی مفید مطلب آدھی بات تو مان لی اور اسی روایت کی دیگر تفصیلات کو نظر انداز کردیا۔
ان کثیر التعداد احادیث میں سے چند احادیث جن میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نزول کا ذکر ہے۔
پہلی حدیث جسے امام بخاری‘ امام مسلم‘ امام ترمذی اور امام احمد رحمہم اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتب حدیث مں روایت کیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا اس خدا کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے‘ ضرور اتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم عادل حاکم کی حیثیت سے‘ پھر وہ صلیب کو توڑ دالیں گے اور خنزیر کو مار ڈالیں گے اور جنگ کا خاتمہ کردیں گے اور مال کی اتنی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی لینے والا نہ ہوگا (اور دینداری کا یہ عالم ہوگا) کہ اپنے پروردگار کی جناب میں ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔
امام بخاری نے کتاب المظالم باب کسر الصلیب میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں:
اس وقت تک قیامت برپا نہ ہوگی جب تک عیسٰی بن مریم کا نزول نہ ہو۔
مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت ابی ہریرہ سے منقول ہے۔
حضور علیہ السلام نے خروج دجال کے ذکر کے بعد فرمایا۔ اس اثناء میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کررہے ہوں گے صفیں درست کررہے ہوں گے اور نماز کے لئے اقامت کہی جاچکی ہوگی کہ حضرت عیسٰی بن مریم نازل ہوں گے اور مسلمانوں کی امامت  کرائیں گے اور دشمن خدا دجال ان کو دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے اگر آپ اس کو اپنی حالت پر ہی چھوڑ دیں تو وہ از خود پگھل کر مر جائے ‘ مگر اﷲ تعالیٰ اس کو ان کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور آپ اپنے نیزے میں اس کا خون لگا ہوا لوگوں کو دکھائیں گے۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میرے اور ان (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور یہ کہ وہ اترنے والے ہیں پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ ان کا قد درمیانہ‘ ان کی رنگت سرخ و سپید‘ دو زردرنگ کے کپڑے پہنے ہوں گے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے‘ حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام پر لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔ خنازیر کو مار ڈالیں گے۔ جزیہ ختم کردیں گے اور اﷲ تعالیٰ ان کے زمانہ میں اسلام کے بغیر تمام ملتوں کو ختم کردے غا اور وہ (مسیح) دجال کو قتل کردیں گے اور وہ زمین میں چالیس سال قیام فرمائیں گے پھر وہ وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔
(ابو دائود‘ کتاب الملاحم‘ باب خروج الدجال‘ مسند احمد مرویات ابی ہریرہ)
حضرت جابر بن عبداﷲ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے سنا: عیسٰی بن مریم علیہ السلام اتریں گے۔ مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا کہ حضور تشریف لایئے اور امامت فرمایئے۔ تو آپ فرمائیں گے نہیں تم میں سے بعض دوسروں کے امیر ہیں۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی تکریم کے طور پر ہے۔
(مسلم‘ بیان نزول عیسٰی علیہ السلام بن مریم‘ مسند احمد‘ مرویات جابر بن عبداﷲ)
حضرت نواس بن سمعان نے دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ اس اثناء میں اﷲ تعالیٰ مسیح بن مریم کو بھیج دے گا اور وہ دمشق کے مشرقی حصہ میں سفید مینار کے پاس زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے پروں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے تو یوں محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں اور جب سر اٹھائیں گے تو موتیوں کی طرح قطرے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گی وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابن مریم دجال کا پیچھا کریں گے اور لد کے دروازے پر اسے جاکر پکڑیں گے اور قتل کردیں گے۔
(مسلم ‘ ذکر الدجال‘ ابو دائود‘ کتاب الملاحم‘ ترمذی‘ ابواب الفتن)
حضور نبی کریمﷺ کے غلام ثوبان سے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ سے بچالیا۔ ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا دوسرا وہ جو عیسٰی بن مریم کے ساتھ ہوگا۔
(نسائی‘ کتاب الجہاد‘ مسند احمد‘ مرویات ثوبان)
آپ نے ان احادیث کا مطالعہ فرمالیا۔ ان میں مسیح موعوع کا حلیہ‘ نام‘ والدہ کا نام‘ مقام اور وقت نزول‘ آپ کے کارہائے نمایاں سب کے سب مذکور ہیں۔ خدا کی شان ملاحظہ ہو کہ یہ شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے‘ اس کا نام بھی عیسٰی نہیں‘ حالانکہ ہزاروں مسلمان اس نام کے موجود ہیں۔ اس کی والدہ کا نام بھی مریم نہیں‘ حالانکہ ہزاروں مسلمان عورتیں اس نام کی اب بھی ہیں اور خود قادیان میں اس نام کی کئی لڑکیاں ہوں گی۔ صلیب کو توڑنا‘ خنزیر کو قتل کرکے عیسائیت کو نیست و نابود کرنا تو کجا میاں جی ساری عمر عیسائی حکومت کے جھوٹی چک بنے رہے اور اس کی خیرات پر پلتے رہے اور اس کی اسلام کش سرگرمیوں پر تعریف و توصیف کے قصیدے لکھتے رہے۔ ساری دنیا کو دارالسلام بنا کر جزیہ ختم کرنا تو بڑی دور کی بات‘ خدائے مصطفے نے یہ بھی پسند نہ فرمایا کہ قادیان کا خطہ پاکستان کا حصہ بنے۔ اب بھی جو لوگ انہیں مسیح موعود مانتے ہیں۔ ان کی نادانی قابل صد افسوس ہے۔
تبصرہ قادری: اس جامع ترین تبصرے کے بعد ہمارے قارئین کرام کو یہ جاننا مشکل نہیں رہا کہ مرزا پہلے مدعی مجددیت و مہدیت ہوا پھر مدعی مسیحیت و عیسوئیت ہوا اور بالاخر بروزی وظلی نبوت کا لبادہ اوڑھا اور طرح طرح سے ختم نبوت کے متفق علیہ عقیدے پر کاری ضربیں لگاتا رہا لیکن یہ جان کر آپ حیران و سرگرداں رہ جائیں گے کہ دنیا بھر میں چلت پھرت کے ذریعے تبلیغ دین کا ڈھنڈورا پیٹنے والی تبلیغی جماعت کے نام نہاد مبلغین کے پیشوا اور دیوبند کے بڑے بڑے گرو گھنٹالوں نے ہمیشہ اس مرزا ملعون کی تائید کی بلکہ مولوی قاسم نانوتوی کی تحزیر الناس میں خاتم النبیین کی نئی گھڑی ہوئی تعریف مرزا کے اعلان نبوت کا ذریعہ بنی اور پھر اس کے بعد دیوبند کے قطب عالم مولوی رشید احمد گنگوہی اور دیوبندیوں کے بلکہ وہابیوں کے خصوصی حکیم صاحب اشرف علی تھانوی جنہوں نے قوم کی عورتوں بنات حوا کو بہشتی زیور کے نام سے بے حیائی کا عظم تحفہ دیا ہے۔ یہ دونوں ساری زندگی قادیانی دجال کو مرد صالح اور مسلمان شمار کرتے رہے اور اس کے کفریات کی تاویلات اور اپنے کفریات کی تحریرات میں عمریں برباد کرکے سوئے جہنم سدھارے اور تبلیغی گشتوں کا وبال چھوڑ گئے۔