پاکستان امن و سکون اور جمہوریت سے محروم کیوں ہے؟

in Tahaffuz, July 2010, متفرقا ت

نوٹ: ماہنامہ ’’جام نور‘‘ اپنے اس کالم میں عصر حاضر کے کسی بھی مسئلہ کے تحت ہندوستان کے نامور علمائے کرام و دانشوران قوم و ملت سے ان کی تحریری رائے لیتا ہے۔ موصول ہونے والی آراء خواہ وہ مثبت یا منفی پہلو پر ہوں‘ شائع کی جاتی ہیں تاکہ متعلقہ مسئلے کے دونوں پہلو ارباب علم و نظر اور عام قارئین تک پہنچ سکیں اور متعلقہ مسئلہ پر علمائے کرام و دانشوران قوم کی تحقیقی و تجزیاتی رائے کی روشنی میں مسئلے کے صحیح نتائج برآمد ہوسکیں۔ علماء و دانشوران کی سہولت کے پیش نظر مندرجہ بالا سوال سے متعلق چند ذیلی نکات بھی دیئے گئے تھے‘ تاکہ مندرجہ ذیل خطوط پر دلائل و براہین کے ساتھ وہ اپنا تحقیقی جواب دے سکیں… ادارہ
نکات
٭ پاکستان کا قیام اسلامی جمہوریت کی بحالی کے لئے ہوا تھا مگر اب تک وہاں جمہوریت کیوں نہیں قائم ہوسکی؟
٭ پاکستان پر اکثر فوجی جنرلوں نے حکومت کی‘ اس کی وجہ کیا ہے‘ کمزوری عوام کی ہے‘ لیڈروں کی ہے یا پاکستانی دستور کی؟
٭ پاکستان پر دہشت ازائش کا الزام کتنا درست ہے؟ نیز اس بدنامی سے بچنے کے لئے پاکستانی عوام‘ علمائ‘ حکومت اور میڈیا کو کیا کرنا چاہئے؟
٭ عصر حاضر میں پاکستان کے اندر بالخصوص جہاد اور دہشت گردی کے مفہوم گڈمڈ ہونے کی کیا وجہ ہے؟
٭ پاکستان اور دوسرے مسلم ممالک میں اسلامی جمہوریت کے قیام کی راہ میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں؟
’’میرے نزدیک عوام کو جھوٹ اور منافقت سے بے وقوف بنانے والے سیاست کاران عوامل کے ذمہ دار ہیں۔ نجی شعبے میں تعلیم نے جو طلبہ تیار کئے ان کے ذہن و فکر کی تحریک پاکستان اور اسلامی جمہوریت سے مطابقت نام کو نہیں تھی‘‘ (مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی (پاکستان)
محترم! ان دنوں اپنے والد گرامی علیہ الرحمہ کے 24 ویں سالانہ عرس مبارک کے انتظامی امور میں مشغول ہوں اور معمول کی مصروفیات بدستور ہیں اس لئے بہت دل جمعی سے نہیں لکھ سکوں گا۔ کوشش کرتا ہوں کہ اس تحریر میں آپ کے پانچوں نکات کا مختصراً احاطہ کرسکوں۔
تحریک قیام پاکستان کے قافلہ سالار اتنی مدت عمر نہ پاسکے کہ اس مملکت کے لئے جامع آئین تیار کرتے اور اس ملک کا اسلامی جمہوری بنیادوں پر سفر شروع کرتے۔ تاریخی حقائق بہت تلخ ہیں ’’غیروں‘‘ کے آلہ کار کچھ زیادہ سرگرم عمل تھے‘ وہ اس ملک کو مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی راہ میں ایسی رکاوٹ ہوئے کہ قومی دھارے کا رخ ہی بدل گیا۔ جو شریک سفر نہ تھے‘ وہ نمایاں ہوتے گئے‘ اور قومی مفادات غیر اہم ہوتے چلے گئے۔ اسلامی جمہوریت کی جگہ مغربی جمہوریت کے لئے راہیں ہموار کی جانے لگیں۔ ذہنی غلامی ظاہر ہونے لگی۔ چھوٹے ملک کی بڑی فوج نے دینی‘ مذہبی‘ عوامی اور سیاسی آزادی گویا سلب کرلی۔ افواج کے ذریعے ’’غیروں‘‘ کے ہدف جلد پورے ہوتے ہیں۔ آئین ہی کیا عدلیہ اور ہر ادارہ اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔ عسکری تشدد کے سامنے کوئی کہاں دیوار ہوسکتا ہے۔ میرے نزدیک عوام کو جھوٹ اور منافقت سے بے وقوف بنانے والے سیاست کاران عوامل کے ذمہ دار ہیں۔ تعلیم سے وابستہ لوگ ہی معمار ہوتے ہیں۔ یہاں من مانے نصاب بنائے گئے‘ نجی شعبے سے تعلیم نے جو طلبہ تیار کئے‘ ان کے ذہن و فکر کی تحریک پاکستان اور اسلامی جمہوریت سے مطابقت نام کو نہیں تھی۔ شرح خواندگی کو اہمیت نہیں دی گئی۔ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تو کیا پنپنے ہی نہیں دیا گیا۔ یہ ملک ہر لحاظ سے وسائل سے بھرپور اور عمدہ لوگوں سے معمور تھا یہاں صحیح ’’قیادت‘‘ کا فقدان ہے۔ اس بہترین ملک کو روز بروز نئے نئے بحرانوں سے شکستہ کیا گیا۔ سب سے زیادہ حملے اس ملک کی نظریاتی اساس اور یہاں کے عوام کی دینی و ملی غیرت و حمیت پر ہوئے‘ اس ملک کا اسلامی تشخص میں نمایاں ہونا غیروں کو نہیں بھایا۔ صیہونی یہودی ایک پاکستان ہی نہیں کسی بھی اسلامی ملک میں حقیقی جمہوریت اور خوشحالی نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ بساط پر خود اپنے مہرے بٹھاتے ہیں۔ ان کے ذریعے اپنی چالیس چلتے ہیں اور خود ہی انہیں اپنا نشانہ بھی بنائے رکھتے ہیں۔ عالم اسلام کا ایک المیہ صحیح سچی علمی اور سیاسی قیادت کا نہ ہونا ہے۔ پاکستان کو اچھی قیادت کم ہی ملی اور یہاں حزب اختلاف بھی محض دکھاوے کو رہی۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان پر دہشت کی افزائش کا ہر الزام یہاں کے اصل باشندوں سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا۔ پاکستان کو روس کے خلاف جارحیت میں امریکی مفادات کا حصہ بننے کی غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔ امریکی منصوبہ سازوں نے اپنے دہرے معیار اور شاطرانہ طرز عمل سے پاکستان کو بھی ہدف رکھا تھا لیکن اس کا احساس ہونے کے باوجود ’’ذمہ داروں‘‘ نے تحفظات کا اظہار نہیں کیا اور اب تو شاید وہ بے بس ہیں۔ تخریبی کارروائیاں دراصل خفیہ اداروں (ایجنسیز) کی عمل داری ہے‘ اپنے مفادات کی تکمیل کے لے انہوں نے جس ٹولے اور طبقے کو جب اور جس طرح چاہا‘ برتا ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان اور یہاں کے عوام تو خود دہشت کا نشانہ ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ اسلام اور ملت اسلامیہ ہی سب سے پہلے دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ آج بھی ’’وار آن ٹیرر‘‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے دنیا بھر کو میدان جنگ بنا دیا گیا ہے۔ دہشت گردی ہی کرکے ’’اسرائیل‘‘ نامی ملک قائم کیا گیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے‘ وہ مخفی نہیں۔ غلط پروپیگنڈے کا ایک تسلسل ہے اور نشانہ صرف مسلمان ہیں۔
پاکستان کو ’’بدنامی‘‘ سے دوچار کرنے والی اصل قوتیں بے نقاب کی جائیں تو آئینہ ایام میں غیروں کی ادائیں صاف نظر آئیں گی‘ لیکن اتنی جرات کسی میڈیا میں کہاں کہ وہ کمرشل نہ رہے۔ علماء تو نہیں ہاں بنام علماء غلط لوگ نمایاں کئے جارہے ہیں تاکہ بروں کے ساتھ اچھوں کا تاثر بھی ختم ہوجائے۔ زر اور زور کا راج اور رواج ہو تو حقائق پس پردہ ہی رہتے ہیں۔ بایں ہمہ مجھے مایوسی نہیں۔ ٹیکنالوجی کی بہتات خود مجرموں کے لئے مہنگی پڑرہی ہے۔ اس مملکت خدادا پاکستان کے خلاف غیروں کی یہ سازشیں دیرپا ثابت نہیں ہوں گی۔ یہاں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سے ہر محب وطن صدا لگا رہا ہے۔ ہر ذی شعور اپنی ذمہ داری سے آگاہ ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے اور کرانے والوں کو خفت و ذلت کا سامنا ہوگا۔
فی سبیل اﷲ جہاد اور دہشت گردی کے مفہوم کو جان بوجھ کر گڈمڈ کیا جارہا ہے‘ اور ایسا کرنے والے سازشی بخوبی جانتے ہیں کہ انہیں ان کی اس گھنائونی چال سے جز وقتی ہی سہ مگر فائدہ ہورہا ہے آپ ’’جام نور‘‘ کا جہاد نمبر شائع کرچکے ہیں اور عالمی ماحول پر خاصی نظر رکھتے ہیں۔ کیا آپ کے علم میں ہے کہ دہشت گردی کی کوئی متفقہ‘ معقول اور واضح تعریف کی گئی ہے؟ پاکستان کے باشندوں کی اکثریت چھوٹے چھوٹے مسائل میں جائز ناجائز آج بھی شوق سے دریافت کرتے ہیں۔ ٹی وی چینلز کے سوال و جواب کے پروگراموں میں فون کالز کی بھرمار رہتی ہے‘ ہر مجلس میں علماء سے استفسار ہوتے ہیں۔ دین سے بکمال واقف نہ ہونے کے باوجود عام آدمی کی طرف سے غلط بات کی حمایت نہیں ہوتی۔ کوئی ماڈرن ازم کا حامی ’’ملاں‘‘ ناخن پالش کے ساتھ وضو کو جائز کہہ دے تو لوگ اسے ملامت ہی کرتے ہیں۔ اس قوم کے لئے غلط پروپیگنڈا ہی کیا جارہا ہے اور اسی غلط کو سچ سمجھا جارہا ہے۔
دنیا بھر کے اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں اسلامی جمہوریت کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں بہت ہیں مگر بنیادی رکاوٹ صحیح اسلامی تعلیمات سے اکثریت کی ناواقفی ہے۔ حرمین شریفین مرکز اسلام ہیں مگر وہاں دینی امور ایک غلط گروہ کے حوالے کردیئے گئے ہیں ’’نجدی وہابی‘‘ گروہ ہی سے ’’الکائدہ‘‘ نامی بتائی جانے والی تحریک کے تانے بانے ملتے ہیں۔ عالم اسلام کی کوئی دینی علمی متفقہ قیادت بھی نہیں۔ بیشتر حکمران ’’روح اسلام‘‘ سے خالی ہیں۔ ملت اسلامیہ کو معاشی طور پر گھیر لیا گیا ہے۔ سازشوں کا جال بچھا ہے اور کسی ایک بھی موقف پر ملت کو جمع نہیں ہونے دیا جاتا۔ قرآن و سنت کے مقابل ابلیسی مشورے اہم گردانے جاتے ہیں۔ حکومت‘ معیشت‘ ثقافت اور سیاست سب اسلامی ہو تو ’’بہاریں‘‘ ہوسکتی ہیں۔ انگریز ڈیڑھ سو سال ہند میں رہا۔ اپنی زبان‘ لباس اور کلچر دے گیا‘ میڈیا یہ کام اب منٹوں میں کرتا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت علوم و معارف سے بے بہرہ ہے ’’غیر‘‘ ان کی اسی ناواقفی سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں‘ کتاب و حکمت کی روشنی عام ہوجائے تو ہر تاریکی دور ہوجائیگی۔
پاکستان کا قیام اگرچہ اسلام کے نام پر عمل میں آیا تھا لیکن حقیقت میں یہ ایک جوابی مذہبیت تھی۔ اگر اس میں کہیں کوئی خلوص اور للہیت تھی تو اس پر ہندو قوم پرستی کا ردعمل سے پیدا شدہ مسلم قوم پرستی حاوی ہوگئی تھی‘ جو اصلاً وطنی قوم پرستی سے مختلف نہ تھی۔ اس میں صرف اسلام کا ’’تڑکا‘‘ لگادیا گیا تھا ورنہ اس میں وہ تمام خرابیاں موجود تھیں جن کی مذمت حکیم الامت علامہ اقبال نے ’’ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے‘‘ کے زیر عنوان کیا تھا۔ مگر میرا خیال ہے کہ یہ مسلم قوم پرستی بھی اس نئے ملک اور اس کے باشندوں کے لئے اتنی بری چیز نہ ہوتی‘ جتنا نقصان اس نوزائیدہ نظام کو لسانی ‘ علاقائی اور نسلی عصبیتوں نے پہنچایا۔ منہ میں رام بغل میں چھری کے مصداق لوگ نعرے تو اسلام اور اسلامی اخوت و اتحاد کا لگاتے رہے‘ لیکن عملاً اپنی اپنی ’’محدود قومیتوں‘‘ کے فروغ میں لگے رہے۔ پاکستانی معاشرہ کا یہی تضاد اس کا سب سے بڑا ناسور ہے جوپہلے تو بنگلہ دیش کی صورت میں پھوٹا‘ پھر پھولتا چلاگیا اور آج تک اس نے پاکستان کو چین لینے نہیں دیا۔ پاکستان کی امن و سکون سے محرومی اور جمہوریت کی ناکامی کی بنیادیں وجہ اس کا یہی ذہنی تضاد ہے۔
یوں تو اس نئے ملک میں جمہوریت پسندی و روشن خیالی اور قدامت پسندی میں کشمکش اسی وقت شروع ہوگئی تھی‘ جب اس کا نقشہ بھی طے نہیں ہوا تھا۔ علمائے دین اور فرزندان مغرب (جدید تعلیم یافتہ طبقہ) پہلے دن سے ہی آمنے سامنے آگئے تھے لیکن یہ کشمکش اور دوری اس وقت مزید تیز ہوگئی جب قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے بعد لیاقت علی خاں جیسے قد آور قائدین سے پاکستان محروم ہوگیا۔ دینی قیادت مسلکوں میں بٹ گئی تو لادینی قیادت دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم کا شکار تھی۔ سیاسی عوامی قیادت کی اسی کمزوری اور انتشار کا فائدہ فوج کی طالع آزما جرنیلوں نے اٹھایا۔ اب اس ملک اور معاشرہ کوایک اور کشمکش کا سامنا ہوگیا جس کے لئے پاکستان کے عوام کی کمزوری بھی ذمہ داری ہے اور جرنیلوں کا ہوس اقدار بھی‘ لیکن اس کے سب سے بڑے ذمہ دار ملک کی سیاسی قائدین ہیں جو60 برسوں میں اپنا کوئی دوسرا قائداعظم تو کیا‘ لیاقت علی خان بھی نہیں پیدا کرسکے۔ جہاں تک پاکستانی دستور کا سوال ہے تو وہ فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہے۔ جب چاہا آئین کو معطل کردیا یا اس میں اپنی مرضی کے مطابق ترمیمیں کرڈالیں۔ آئین چاہے جیسا بھی ہو‘ وہ اسی وقت کارآمد ہے‘ جب تک اس کا احترام کیا جائے‘ کوئی بہتر سے بہتر آئین و قانون بھی اس قوم کو تباہی وبربادی سے نہیں بچاسکتی‘ جس کے اندر آئین کے احترام کا جذبہ ناپید ہو۔
پاکستان پر دہشت گردی کی افزائش کا الزام بالکل ہی بے بنیاد نہیں ہے‘ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس دہشت گردی کے فروغ میں وہ طاقتیں بھی شریک رہی ہیںجو آج دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ شور مچا رہی ہیں۔ پاکستان اور امریکہ نے افغانستان اور کشمیر میں اپنی جنگ جہاد کے پردے میں لڑنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کیا۔ جہاد کے نام پر ساری دنیا سے امداد حاصل کی۔ سعودی عرب جیسے مسلم ممالک سویت یونین کے خلاف اس جہاد میں پیش پیش تھے‘ لیکن جب ان جہادیوں کو ان ملکوں کی اصلیت کا ادراک ہوا تو جو کل تک مجاہدین اسلام تھے‘ وہی اب دہشت گرد ہوگئے۔ پاکستان کو اپنے دامن پر لگے اس داغ کو دھونے کے لئے ضڑوری ہے کہ سب سے پہلے پاکستانی عوام‘ علماء اور حکومت آپسی اختلافات کو دور کرکے ملک کو امن وامان کا گہوارہ بنانے کی جدوجہد کریں۔ تشدد کی راہ ترک کرکے پرامن جمہوری طریقوں سے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈیں۔ اس کے لئے انہیں اپنی اپنی ضد اور انا سے پیچھے ہٹنا ہوگا‘ ماضی کی تلخیوں کو بھلانا اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا ہوگا لیکن یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ یہ جہاد اکبر ہے۔ اس کے لئے اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے‘ اپنے وقار اور مفادات کی قربانیاں دینی ہوتی ہیں۔ جس کا پاکستان کی موجودہ قیادتوں میں بڑا فقدان نظر آتا ہے اور سچی بات یہی ہے کہ اسلامی ملکوں میں جمہوریت کے فروغ کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ اسی جذبہ کا فقدان ہے۔ اختلاف برداشت کرنے کی قوت سے عاری قیادتیں انتشار کا باعث بنتی ہیں۔ پھر ایک دوسرے کو کچلنے کے لئے طاقت کا استعمال ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایک طاقت حاوی ہوگئی تو ٹھیک ہے ورنہ قتل و غارت کا بازار گرم رہتا ہے۔