(مسئلہ علم غیب پر غیر مقلد مولوی سے قلمی مناظرہ (تیسری قسط

in Tahaffuz, July 2010, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, علامہ مولانا عدنان سعیدی رضوی

چند منافقوں کے افتراء کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے رخ انور پھیر لیتے۔ جب آقا کریمﷺ یہ جانتے ہیں کہ موقع پر نہ عبداﷲ بن ابی موجود ہے‘ نہ اس کی حواری۔ اور منافق محض افتراء کررہے ہیں جس کی دلیل بھی ان کے پاس نہیں ہے پھر ناراضگی کا اظہار بھی ان سے جس کا کوئی قصور ہی ہیں ہے۔ کیا نبی کی یہی شان ہوتی ہے؟ سیدھی سی بات ہے کہ اتنا بڑا الزام سید المعصومینﷺ کے سامنے لگایا جارہاہے جو عصمت و صداقت و حیا کاپیکر ہیں‘ منافقین کی اس قسم کی بکواسات سن کر پریشان نہ ہوں گے اور پریشانی کے عالم میں گھر تشریف لے جاتے ہیں جسے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے محسوس فرمایا اور بیان فرمایا۔ اور آپ الٹا منافقین کی وکالت اور دفاع اور حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضورﷺ نے پہلے والا رویہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے کیوں تبدیل فرمایا۔ یہ تو واضح سی بات ہے کہ کسی شریف آدمی پر غلط الزام عائد کردیا جائے تو وہ پریشان ہوتا ہے اور اس کی پریشانی کو قریبی لوگ محسوس کرتے ہیں تو اگر حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے بھی محسوس فرمایا تو کیا حرج ہے۔ لیکن یہ شاخسانے کس نے نکالے ہیں کہ جو پریشانی کو محسوس کرے‘ وہ اس پریشانی میں ملوث بھی ہوتا ہے۔ یہ کیسی حماقت ہے کہ ایک عام شریف النفس پر کوئی غلط الزام لگے تو وہ پریشان ہو اور جب سید المعصومینﷺ پرالزام لگے تو وہ اس کو محسوس تک نہ کریں اور ویسے ہی خوش وخرم رہیں۔
سوال نمبر 9: اگر نبیﷺ کو نزول وحی سے پہلے عطائی علم کے ذریعے اس واقعہ کی پوری معرفت ہوتی تو اپنی بیوی کو چھوڑنے کے بارے میں حضرت علی اور حضرت اسامہ رضی اﷲ عنہما سے مشورہ نہ کرتے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا یہ کہنا کہ اﷲ آپ پر تنگی نہیں کی‘ عورتیں تو حضرت عائشہ کے علاوہ اور بھی بہت زیادہ ہیں کہ وہ بھی بہتان باندھنے والوں کی خبر پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نبیﷺ کو یہ مشورہ دے رہے تھے۔
الجواب: یہاں تمہیدا کچھ کہنا چاہوں گا۔ کہ حدیث شریف کے عربی زبان میں یہ الفاظ ہیں
ودعا رسول اﷲﷺ علی ابن ابی طالب و اسامہ بن زید حین استلبث الوحی یستشیر ہما فی فراق اہلہ
اور رسول ﷺ نے حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ عنہما کو بلایا آپﷺ ان سے اپنی اہلیہ مبارکہ سے فراق کے سلسلے میں مشورہ کرنا چاہتے تھے اس وقت وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس عبارت میں لفظ ’’فراق‘‘ آیا ہے جس کا ترجمہ عامۃ المترجمین نے جدائی‘ علیحدگی وغیرہ سے کیا ہے۔ اور آپ نے بھی اس لفظ کا ترجمہ ’’اپنی گھر والی کو چھوڑنے‘‘ سے کیا ہے۔ مگر یہ دیکھنا ہے کہ کیا فراق کا معنی صرف چھوڑنا ‘ جدا ہونا ہی ہے یا اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہے؟
تحقیق لفظ فراق
اس کا مصدر ’ ف ر ق‘‘ فرق ہوتا ہے اور یہ باب نصر ینصر سے بھی ہے اور ضرب یضرب سے بھی ہے اور سمع یسمع سے بھی ہے۔
فرق (ن ض) فرقا و فرقانا بینہما جدا کرنا۔ البحر سمندر کو پھاڑنا‘ فرقا الشعر ‘ بال میں مانگ نکالنا‘ الطائر‘ پرندہ کا بیٹ
کرنا‘ فرق (ن) فروقا‘ لہ الطریق‘ راستہ کا واضح ہونا‘ الامر لفلان‘ روشن ہونا فرقت الناقہ‘ اونٹی کا دروازہ والی ہونا‘ لہ عن الشی ئ‘ظاہر کرنا‘
فرق (س) فرقا‘ منہ ‘ گھبرانا‘ والفرق‘ توراۃ قرآن‘ الفرق ناپنے کا ایک برتن‘ الفاروق‘ ہر وہ چیز جو حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہو
(ملاحظہ ہو مصباح اللغات ص 630‘ مطبوعہ کراچی)
علامہ محمد بن ابی بکر بن عبدالقادر الرازی لکھتے ہیں۔
(القرآن) القرآن وکل مافرق بہ بین الحق والباطل فہو قرآن (مختار الصحاح ص 500‘ طبع موسسہ علوم القرآن بیروت)
علامہ ابن اثیر (المتوفی 606ھ) لکھتے ہیں:
وفی حدیث بدالوحی ’’فبحثت منہ فرقا‘‘ بالتحریک: الخوف والفزع یقال فرق یفرق فرقا ومنہ حدیث ابن بکر ’’ابائلہ تفرقنی‘‘ ای تخوفنی (بلفظہ النہایہ فی غریب الحدیث والاثر 3ص 438)
اور مزید لکھتے ہیں ومنہ الحدیث ’’محمد فرق بین الناس‘‘ ای یفرق بین المومنین والکافرین بتصدیقۃ وتکذیبۃ۔ و منہ الحدیث فی صفۃ علیہ الصلوٰۃ والسلام ’’ان اسمہ فی الکتب السابقۃ فارق لیطا‘‘ ای یفرق بین الحق والباطل
(بلفظہ النہایہ فی غریب الحدیث والاثر 3 ص 439)
مزید رقم طراز ہیںِ
وفی حدیث ابن عباس ’’فرق لی رای‘‘ ای بدا وظہر (بلفظہ النہایہ فی غریب الحدیث والاثر 3ص 440)
جناب! کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ الفروقۃ والفروقۃ والفارقۃ (مذکر ومونث) بہت گھبرانے والا۔ بزدل (مصباح اللغات ص 630) بھی آتا ہے۔ مگر جب باری حضرت امام العادلین امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی آتی ہے تو ترجمہ یہ نہیں کیا جاتا بلکہ حق و باطل کے درمیان فرق ڈالنے والے منارہ حق سے ترجمہ کیا جاتا ہے جو ان کے شایان شان ہے۔
علامہ احمد بن محمد بن علی المقری الفیومی (المتوفی 770) رقم طراز ہیں
قال ابن الاعرابی فرقت بین الکلامین (المصباح المنیر 2ص 445‘ مطبوعہ مصطفی البابی الحلبی مصر)
تو اس تقدیر پر ترجمہ یہ ہوا کہ ہماری حضرت سیدہ کائنات صدیقہ بنت الصدیق ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے بارے میں جب کلام حق و باطل مل رہا تھا اور سیدۂ کائنات حق کی مشعل راہ اور کسوٹی ہیں تو مشورہ اس بات پر تھا کہ سیدہ کائنات رضی اﷲ عنہ کے بارے میں حق و باطل کو جدا جدا کردیا جائے۔ سیدہ کائنات رضی اﷲ عنہا کے واقعہ سے جو خوف و ہراس پھیل رہا ہے اس کو ختم کردیا جائے حضرت سیدہ کائنات صدیقہ بنت الصدیق ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا جو واضح اور روشن راستہ تھا‘ اس کو باطل سے الگ کردیا جائے۔ سبحان اﷲ مصطفی کریمﷺ فرق بین الناس ہیں کہ کافروں کو مسلمانوں سے الگ کردیتے ہیں۔ قرآن فرقان ہے کہ حق و باطل کے درمیان مضبوط قلعہ ہے۔ فاروق اعظم فاروق ہیں بین الحق و الباطل تو حضرت سیدۂ کائنات صدیقہ بنت الصدیق ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہما فارقہ ہیں منافقین اور مومنین کے درمیان۔
آپ پڑھ چکے ہیں کہ فرق کا معنی ظاہر کرنا ہے تو مشورہ یہ تھا کہ سیدہ کائنات کے بارے میں حق کو ظاہر کیا جائے نہ کہ معاذ اﷲ چھوڑد یا جائے اور میرے آقا و مولیٰ کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام تو رحمتہ اللعالمین ہیں۔ حضرت سیدہ کائنات صدیقہ بنت الصدیق ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہما فرماتی ہیں کہ میرے آقا و مولیٰﷺ کا خلق قرآن ہی۔ تو میرے آقا و مولیٰ یکطرفہ طور پر منافقین کی افترا پر کیسے بلادلیل سیدہ کائنات کو چھوڑنے کا فیصلہ فرمادیں گے۔ کیا آپ نے یہ حدیث مبارکہ نہیں پڑھی۔
عن عائشۃ انہا قالت قال رسول اﷲﷺ اریتک فی المنام ثاث لیال جاء بک الملک فی سرقۃ من حریر یقول ہذا امرتک فاکشف عن وجہک فاذا انت‘ فاقول ان یک ہذا من عنداﷲ لمیضہ (مسلم 2ص 285‘ طبقات ابن سعد 8‘ص 67‘ البدایہ والنہایہ 3ص 30)
حضرت سیدہ کائنات رضی اﷲ عنہ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات امام الانبیائﷺ نے ارشاد فرمایا اے عائشہ (رضی اﷲ عنہا) میں نے تمہیں خواب میں تین رات دیکھا‘ میرے پاس فرشتہ آیا تجھے ریشمی کپڑے میں لپٹا ہوا تھا۔ کہتا تھا کہ یہ آپﷺ کی بیوی ہیں تو میں نے منہ سے کھولا  تو اس وقت تو یہی ہے تو میں نے کہااگر یہ اﷲ کی طرف سے ہے تو اﷲ اس کو ضرور کردے گا۔ حضرت سیدہ کائنات کا تو یہ مقام ہے کہ قبل از نکاح اس سعیدہ ازلیہ کو وحی کے ذریعے سے آقا کریمﷺ کی زوجیت میں دیا جارہا ہے (کیونکہ نبیﷺ کے خواب بھی من جانب الوحی تھے) اور آقا کریمﷺ حضرت ام المومنین سیدہ طیبہ طاہرہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو تحفہ بارگاہ الٰہیہ جل و علا سے تسلیم فرما رہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہوگیا کہ تحفہ رب العزت کو محض منافقین کے اتہامات کی وجہ سے چھوڑنے کے مشورے کئے جائیں۔ پھر اس مشورہ کے بارے میں بھی غور کریں کہ یہ مشورہ امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہ الکریم اور سیدنا اسامہ رضی اﷲ عنہما سے فرمایا جارہا ہے جبکہ یہ دونوں مبارک افراد موقع پر موجود ہی نہ تھے۔ صرف تین افراد سے مشورہ کی عبارات ملتی ہیں۔ اس سے معلوم یہ ہوا کہ مشورہ علیحدگی کے لئے نہ تھا بلکہ معاملہ کو صاف کرنے اور حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب میرے آقا و مولیٰ کریمﷺ اس مشورہ سے فارغ ہوتے ہیں تو ماینطق عن الہویٰ ان ہوالا وحی یوحیٰ کی زبان مبارک سے علیحدگی کا نہیں بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ فواﷲ ماعلمت علی اہلی الاخیر۔ تو ملا جی یہ فرمایئے کہ بقول آپ کے مشورہ تو تھا کہ چھوڑنے کے لئے پھر بقول آپ کے حضرت امیر المومنین علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہ نے بھی چھوڑنے کا مشورہ دیا۔ اب چاہئے تویہ تھا کہ اعلان بھی چھوڑنے کا کیا جاتا۔ متن حدیث بھی یہی تقاضا کررہا ہے کہ مشورہ چھوڑنے کی خاطر نہ تھا بلکہ معاملہ کو صاف کرنے کے لئے تھا۔
باقی رہا آپ کا یہ بہتان حضرت امیر المومنین سیدنا علی کرم اﷲ وجہ‘ کی ذات مقدسہ پر کہ انہوں نے بہتان باندھنے والوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ اﷲ نے آپ پر تنگی نہیں کی‘ عورتیں تو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے علاوہ اور بھی بہت زیادہ ہیں۔ یہ بھی آپ کا نرا افتراء ہے۔ آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ حضرت امیر المومنین علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہ نے عبداﷲ بن ابی کی بات پر تو اعتماد کرلیا‘ یہ جانتے ہوئے کہ وہ ملعون موقع پر موجود نہیں تھا مگر اپنی ماں جوکہ ام المومنین ہیں‘ ان سے بدظن ہوگئے تھے۔ دراصل بہت بڑا المیہ تھا منافقین کیونکہ ام المومنین سیدہ طیبہ طاہرہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی وجہ سے نبوت کو معاذ اﷲ داغدار کرنے کی سعی مذموم میں کوشاں تھے اور حضرت امیر المومنین بفس نفیس نبوت کے دفاع میں یہ بات فرما گئے نہ کہ معاذ اﷲ ام المومنین کو چھوڑ کر منافق کی بات پر اظہار اطمینان فرمایا۔ اتنا تو ہر صحابی رضی اﷲ عنہ جانتا تھا جو کہ اس وقت موجود تھا کہ سیدہ کائنات کے بہانے آقا کریمﷺ کو ایذا دی جارہی ہے پھر ایذا رسانوں کے حامی بن کر سیدہ طیبہ طاہرہ پر بدگمانی کرنا وہابیوں کا وطیرہ تو ہے مگر صحابی رضی اﷲ عنہ کا قطعا یہ وطیرہ نہیں ہوسکتا۔ ایک طرف سیدہ کائنات رضی اﷲ عنہا کی پاک دامنی ہو اور دوسری طرف منافقین کی بلا دلیل شرانگیزی۔ پاک دامنہ کو چھوڑ کر شرانگیزوں پر اعتماد‘ لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العظیم
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں