حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, July 2010, د ر خشا ں ستا ر ے

اس کام سے فارغ ہونے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے سوچا کہ کل کسی وقت مٹی کو ہموار کردیں گے مگر اسی رات آپ نے پیر ومرشد کو خواب میں دیکھا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ فرما رہے تھے۔
’’مولانا! ہم نے تمہاری خاطر یہ نشان گوارہ کرلیا۔ بس اب قبر کو اسی طرح چھوڑ دو‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حکم شیخ کے مطابق مٹی کو ناہموار رہنے دیا۔ بعد میں دیگر بزرگان چشت کے مشورے سے قبر مبارک پر ایک پختہ سائبان بنادیا گیا تاکہ بارش سے یہ مٹی محفوظ رہ سکے۔
آٹھ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی مزار مبارک نہ صرف کچا ہے بلکہ کھلا ہوا بھی ہے۔ زائرین دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے جس طرح قبر مبارک کو ناہموار چھوڑ رکھا وہی صورتحال آج بھی برقرار ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں یہ سادگی کسی بزرگ کے مزار پر نظر نہیں آئے گی۔ بعد میں نواب خورشید جاہ حیدرآبادی نے قبر کے چاروں طرف سنگ مرمر کا جالی دار کٹہرا تعمیر کرادیا تھا جسے 1947ء کے فسادات میں شرپسند ہندوئوں نے توڑ دیا تھا۔ جب ہلاکت و بربادی کا یہ طوفان تھما تو جدید ہندوستان کے سیاسی دیوتا گاندھی نے اظہار عقیدت کے طور پر اس جنگلے کو دوبارہ تعمیر کرادیا۔ ایک پتھر پر گاندھی  کا نام بھی کندہ ہے۔
٭…٭…٭
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ 635ھ میں ہانسی سے اجودھن تشریف لے گئے۔ اکثر تذکرہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہانسی میں خلق خدا کا ہجوم رہنے لگا تھا۔ اس لئے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ گوشہ تنہائی کی تلاش میں اجودھن چلے گئے۔ بعض لوگوں کے نزدیک ہانسی اور اس کے قریبی علاقوں میں رشد و ہدایت کا کام مکمل ہوچکا تھا۔ اس لئے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس علاقے کا انتخاب کیا جہاں کفر و ظلمت کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے یا اسلام کی روشنی برائے نام پہنچی تھی۔ اجودھن روانہ ہونے سے پہلے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے محبوب ترین مرید شیخ جمال الدین ہانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو خلافت دی۔
جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ہانسی کو خیرباد کہا تو اس سفر میں دو بیویاں نجیب النساء اور خاتون بیگم… کم سن بچے… حقیقی چھوٹے بھائی حضرت شیخ نجیب الدین متوکل … بھانجے حضرت علی احمد صابر کلیری رحمتہ اﷲ علیہ … سرہنگا مجذوب اور چند عقیدت مند آپ کے ہمراہ تھے ۔ عارفوں کا یہ مختصر سا قافلہ بظاہر بڑی بے سروسامانی کے عالم میںہانسی سے نکلا تھا مگر ان کا سالار جماعت صابرین کا سرخیل تھا۔ اس لئے ہر مسافر کا دل غنی تھا اورآنکھ مادی اسباب سے بے نیاز۔
٭…٭…٭
برصغیر پاک و ہند کے بیشتر صوفیاء میں اجودھن کے متعلق یہ روایت مشہور ہے کہ جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ادھر کا رخ کیا تو یہ علاقہ اہل ہنود سے بھرا ہوا تھا اور ہندوستان کے نقشے میں کفرستان کا درجہ رکھتا تھا۔  اسی لئے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے تبلیغی و ہدایت کی غرض سے اجودھن کو اپنا مرکز قرار دیا۔ آج یہی جگہ ’’پاک پٹن‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔
472ھ سے 635ھ یہ علاقہ مسلسل تاجداران دہلی کے تصرف میں رہا۔ اس طرح تاریخی حوالوں کی روشنی میں یہ کہنا غلط ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی ہانسی سے روانگی کے وقت یہ علاقہ کفرستان کا درجہ رکھتا تھا۔ ہندوئوں کی اکثریت کے باوجود یہاں مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
٭…٭…٭
الغرض عارفوں کا یہ مختصر سا قافلہ جب اجودھن پہنچا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے آبادی سے دور مغرب کی جانب سایہ دار درختوں کے نیچے قیام فرمایا۔ یہاں قریب ہی ایک ویران سی مسجد تھی جس میں کبھی کبھی ایک خدا کے نام لیوا سجدہ بندگی ادا کیا کرتے تھے۔ اس قافلے کے سامان رسد کا یہ حال تھا کہ ہانسی سے جد قدر اشیائے خوردنی لے کر چلے تھے‘ وہ سب کی سب اجودھن پہنچتے پہنچتے ختم ہوگئی تھی۔ اگر کچھ غذا بچ گئی تھی تو اسے بچوں کے لئے محفوظ کردیا گیا تھا۔ قافلے کے باقی افراد نے درخت کے پتوںکواپنی غذا بنالیا کچھ فاصلے پر جنگلی پھل بھی موجود تھے مگر سالار قافلہ کا حکم تھا کہ جب حق کے راستے میں خیمہ زن ہوگئے تو پھر یہ اضطراب کیا اور ضروریات شکم سے مجبور ہوکر یہ جستجو کیسی؟ً
خدا خود میر سامان است ارباب توکل را
(جو خدا پر بھروسہ کرتے ہیں‘ خدا ان کے لئے خود ہی میر سامان بن جاتا ہے)
گزرنے والے ادھر سے گزرتے اور یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ یہ اجنبی کیسے عجیب لوگ ہیں؟ نہ ان کے یہاں چولہوں سے دھواں اٹھتا ہے… نہ ان کے دست طلب کسی کے سامنے دراز ہوتے ہیں… نہ ان کے چہروں پر ملال و افسردگی کا رنگ نمایاں ہوتا ہے‘ اور نہ ان کی آنکھوں میں بھوک اور طلب کا کوئی ہلکا سا عکس ابھرتا ہے۔
دیکھنے والے دیکھتے کہ فقراء کی یہ جماعت دنیا کی ہر ضرورت سے بے نیاد ہوکر تلاوت قرآن حکیم میں مشغول رہتی ہے۔ نماز پڑھتی ہے اور پھر جو وقت سجدۂ شکر ادا کرنے سے بچ جاتا ہے‘ اس میں اپنے بوسیدہ لباسوں کو پیوندوںسے سجاتی ہے۔
آخر یہ گراں وقت گزر گیا اور خدا نے چند اہل ثروت کو اس طرف متوجہ کیا۔ اجودھن کے صاحب حیثیت افراد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگے ’’اگر ہماری یہ حقیر نذر قبول کرلی جائے تو ہم اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادت سمجھیں گے‘‘
آخر اہل ثروت کی بہت منت و سجامعت کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ صرف اتنی نذر قبول کرنے پر آمادہ ہوگئے جو درویشوں کو زندہ رکھ سکے… اگرچہ اﷲ نے غیب سے رزق کے دروازے کھول دیئے تھے لیکن خود حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا یہ حال تھا کہ ابلی ہوئی کاریاں استعمال کرتے تھے جن میں نمک تک نہیں ہوتا۔ اس واقعہ کے بعد اجودھن کے عام لوگ بھی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی موجودگی کو محسوس کرنے لگے تھے اور انہیں اس بات پر اعتبار آگیا تھا کہ یہ وہ خرقہ پوش نہیں ہیں جو درویشی کے پردے میں دنیا کمانے کی خواہش رکھتے ہیں نتیجتاً اجودھن کے باشندے آہستہ آہستہ مرکز چشتیہ کے گرد جمع ہونے لگے۔
٭…٭…٭
ایک دن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ درخت کے نیچے اپنے ساتھیوں اور مریدوں سے محو گفتگو تھے کہ ایک ہندو عورت اپنے سر پر دودھ کا برتن رکھے ہوئے ادھر آنکلی۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے رسم درویشی کے مطابق اس بت پرست عورت کی خیروعافیت دریافت کی۔ ہندوئوں کی نظر میں وہ ایک نیچ ذات سے تعلق رکھنے والی عورت تھی اس لئے کوئی شخص بھی اس سے انسانی لہجے میں گفتگو نہیں کرتا تھا۔ آج جب اس نے ایک دوسرے مذہب کے ماننے والے بزرگ شخص کی طرف سے برابری کا سلوک دیکھا تو اپنی حالت زار بیان کرنے لگی۔
’’میرا تعلق اجودھن میں بسنے والے ’’گوالوں‘‘ کے خاندان سے ہے۔ باپ دادا دودھ فروخت کرکے اپنا پیٹ پالا کرتے تھے‘ میرا شوہر مرچکا ہے‘ اور میں برسوں سے دودھ فروخت کرکے اپنے بچوں کی پرورش کررہی ہوں۔ پہلے زندگی پرسکون تھی‘ مگر کچھ دنوں سے ایک عجیب و غریب مصیبت کا شکار ہوں‘‘ یہ کہہ کر گوالن ادھر ادھر دیکھنے لگی ‘جیسے وہ کسی سے خوفزدہ ہو۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے عورت کی ذہنی کشکمش کو محسوس کرتے ہوئے فرمایا ’’تم بے خوف و خطر اپنے دل کی بات کہہ ڈالو۔ ہم لوگ مسلمان ہوتے ہوئے بھی تمہارے غم گسار ہیں۔ ہمارا مذہب دنیاکے ہر مظلوم کی حمایت کرتا ہے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی شفقت و محبت کا مظاہرہ دیکھ کر ہندو عورت نے وہ راز کہہ ڈالا جسے بیان کرتے ہوئے اس کی زبان کانپ رہی تھی ’’کچھ دن سے ایسا ہورہا ہے کہ یہاں کے چندجوگی اور جادوگر مجھے پریشان کررہے ہیں۔ وہ روزانہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سارا دودھ انہیں دے دیا جائے۔ کچھ دن تک تو میں نے ایسا ہی کیا مگر جب ان سے دودھ کی قیمت طلب کی تو جوگیوں نے بڑی بے رحمی سے جواب دیا کہ وہ لوگ جو چیز خریدتے ہیں اس کی قیمت ادا نہیں کرتے۔ میں نے آئندہ دودھ دینے سے انکار کیا تو وہ لوگ شراپ (بددعا) دینے لگے۔
’’اگر تو ہمیں دودھ نہیں دے گی تو تیرا دودھ اس قابل نہیں رہے گا کہ کوئی دوسرا خرید سکے‘‘
’’میں نے جادوگروں کی اس دھمکی کو کوئی اہمیت نہیں دی اور واپس چلی آئی پھر جب دوسرے دن دودھ فروخت کرنے گائوں پہنچی تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی۔ دودھ کے تمام برتن کیڑوں سے بھرے ہوئے تھے۔ میں نے اسے اتفاق سمجھا مگر دوسرے دن بھی یہی واقعہ پیش آیا۔ مجبور ہوکر میں دوبارہ ان جوگیوں کے پاس گئی اور ان سے رو رو کر التجا کی کہ نصف دودھ لے لیں اور باقی میرے بچوںکے لئے چھوڑ دیں‘ مگر ان ظالموں پر میری گریہ وزاری کا کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر ایک دن ان جادوگروں کے چیلے میرے گھر آئے اور بڑے سفاکانہ انداز میں کہنے لگے۔
’’گرو کا حکم ہے کہ اگر تو ہمیں دودھ فراہم نہیں کرے گی تو پہلے تیرے سارے جانور مرجائیں گے پھر ہم تیرے بچوں کو اپنے قہر وغضب کا نشانہ بنائیں گے۔ تو جن بچوں کی خاطر در بدر بھٹکتی ہے وہ کچھ دن بعد اس دنیا میں نہیں رہیں گے‘‘
آخر بچوں کی محبت نے مجھے مجبور کردیا۔ میں کئی ماہ سے ان ظالموں کو دودھ فراہم کررہی ہوں اور گائوں والوں سے قرض لے کر اپنی زندگی کے دن پورے کررہی ہوں۔ آخر گائوں والے بھی کہاں تک قرض دیں گے؟‘‘یہ کہہ کر دودھ فروش عورت اپنے دامن سے آنسو خشک کرنے لگی۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ایک مظلوم عورت کے دکھوں کی داستان سن کر فرمایا ’’صبر کرو! تمہاری مصیبت کے یہ دن گزرنے ہی والے ہیں‘‘
اچانک دودھ فروش عورت گھبرائے ہوئے لہجے میںکہنے لگی ’’خیر! میری تو جس طرح گزرے گزر جائے گی مگر تم لوگ بہت شریف ہو۔ آج تمہیں ان درختوں کے نیچے دیکھا تو چلی آئی۔ میری طرح تم لوگ بھی غریب ہو۔ میں تمہیں یہی بتانے آئی تھی کہ کہیں وہ ظالم جادوگر ادھر کا رخ نہ کریں اور پھر تم ان کی جفاکاریوں کا نشانہ بن جائو‘‘
عورت کی سادہ دلی قابل دید تھی۔ وہ اپنی پریشانیوں کو بھول کر درویشوں کو جادوگروں کے ممکنہ اقدام سے بچانے آئی تھی۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اس دودھ فروش عورت کے خلوص سے بہت زیادہ متاثر ہوئے اور فرمانے لگے۔ تم ایک سادہ دل عورت ہو۔ ہم فقیران بے نوا تمہارے اس خلوص کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ویسے تم بھی یاد رکھو کہ جب تک اﷲ کی طرف سے کوئی مصیبت انسان کا مقدر نہ بن جائے‘ اس وقت تک دنیا کی کوئی طاقت اسے ذرا برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اگر تم جوگیوں اور جادوگروں کے بجائے اپنے دل میں خدا کاخوف پیدا کرلو تو تم خود بھی محفوظ رہوگی‘تمہارے بچے بھی اورتمہارے جانور بھی۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں